Here is what others are reading about!

بھیڑ چال

گئے وفتوں کی بات ہے، کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اسکا ایک وزیر بہت عقلمند اور معقول شخص تھا، جس پر بادشاہ کا بھرپور اعتماد تھا۔ ایک دن بادشاہ نے اس سے سوال کیا کہ “بھیڑچال” کے کیا معنی ہیں۔ وزیر نے جواب دیا کہ معنی تو بہت سادہ سے ہیں، مگر یہ بتائیے کہ آپکو لفظی مطلب بتاؤں یا عملی مظاہرہ کر کے دکھاؤں۔ بادشاہ نے عملی مظاہرے کی فرمائش کی۔ جواباً وزیر نے طویل رخصت کا سوال کر ڈالا۔

رخصت لے کر وزیر نے دارالخلافہ چھوڑا اور دور دراز کے ایک گاؤں میں ایک درویش کے بہروپ میں ڈیرہ ڈال دیا۔ گاؤں والے اپنے علاقے میں ایک درویش کی موجودگی پر خوش ہوگئے۔وہ سبکے سلام اور عزت و احترام کا جواب تو دیتا، لیکن مراسم اس نے صرف دو افراد سے ہی پیدا کئے۔ ایک موچی، دوسرے مسجد کا پیش نماز۔  یہ ان دونوں حضرات  سے روزانہ ملاقات کرتا اور دونوں کی خدمت میں دو دو درہم پیش کردیتا، جنہیں یہ ایک اللہ والے کی  طرف سے ہدیہ سمجھ کر قبول کر لیتے۔  کافی دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہا۔  بالآخر ایک دن موچی نے درویش بابا سے کہا کہ اتنے عرصے سے آپ روزانہ مجھے ہدیہ دے رہے ہیں، کچھ مجھے بھی خدمت کا موقع دیں۔ گرچہ میں سوائے جوتے بنانے کے اور کچھ نہیں جانتا، مگر آپ نے مجھ سے خدمت لی تو میرے لئے باعث ِ اعزاز ہو گا۔ درویش نے اسکی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے اس سے ایک جوتا بنانے کی درخواست کی۔ مگر ساتھ ہی شرط یہ رکھی کہ جیسے میں کہوں ویسا ہی کرتے جاؤ اور یہ کام انتہائی رازداری کے ساتھ انجام دینا۔ موچی بخوشی یہ ذمہ داری قبول کرنے پر راضی ہو گیا۔

اولاً درویش نے اسے یہ حکم دیا کہ ایک جوتا تیار کرو جو اعلٰی ترین معیار کے چمڑے کا ہو، مگر اسکی لمبان کم ازکم دو گز ہو۔ موچی اس عجیب و غریب قسم کے فرمان پر حیرت زدہ تو ہوا مگر چونکہ وہ درویش کے حکم کی پابندی کا وعدہ کرچکا تھا سو کچھ نہ بولا اور رات کے اندھیرے میں کمال ِ رازداری کے ساتھ اس حکم کی بجاآوری کا سامان شروع کردیا۔  دن بھر وہ اپنے معاش میں مصروف رہتا اور رات بھر ایک اللہ والے کی خاطر اس خاص قسم کی چلہ کشی میں مگن۔  چند روز کی شبانہ روز محنت کے بعد ایک عظیم الجثہ اور کائنات میں اپنی نوعیت کا انوکھا پاپوش تیار ہو گیا۔ موچی، درویش بابا کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے کام کی تکمیل کے بارے میں بتایا۔  بابا ( جو دراصل ایک مالدار وزیر تھا) نے اپنے کمربند میں سے ہیرے جواہرات کی ایک پوٹلی نکالی اور موچی کو دیتے ہوئے اپنے حکم نامے کا اگلا مرحلہ جاری کیا۔ اور وہ یہ تھا کہ ان تمام جواہرات کو انتہائی نفاست اور ترتیب سے جوتے میں جڑ دو۔  ساتھ ہی اپنی جیب سے عطر کی ایک بوتل بھی نکال کر موچی کو دی اور کہا کہ جب جوتا مکمل ہو جائے تو یہ تمام کا تمام عطر اس پر انڈیل دینا۔

موچی کی پریشانی اپنے عروج پر تھی کہ یہ کیسا ملنگ ہے جو عجیب و غریب قسم کا کام کروا رہا ہے۔ مگر اسے تو اپنے دام سے کام تھا، سو خاموشی سے اپنے کام میں لگا رہا۔  چند راتوں کی مزید محنت کے بعد درویش کی سوچ اور معیار کے مطابق جوتا تیار ہو گیا۔ چنانچہ اس رات نماز ِ عشاء کے بعد درویش بجائے مولوی صاحب کی خدمت میں درہم پیش کرنے کے، موچی کے ساتھ اسکے گھر اپنی مصنوع دیکھنے چلا گیا۔  ادھر پیش نماز کو دھڑکا لگا کہ شاید بابا ناراض ہوگئے کہ  درہم بھی نہ دئے اور خود بھی غائب ہو گئے!!! پوری رات انہوں نے آنکھوں میں گزاردی، جبکہ آدھی رات کو درویش، موچی کی مدد سے اس دیو ہیکل جوتے کو اپنی کٹیا میں لے آیا اور موچی کو اس کارنامے پر اچھا خاصا انعام و اکرام دے کر رخصت کیا۔

وہاں نماز ِ فجر میں پیش نماز نے درویش بابا کو پکڑ لیا کہ آپ عشاء کے بعد بغیر ملاقات کئے غائب ہوگئے۔ میں پوری رات تشویش کے عالم میں جاگتا رہا ہوں۔ بتایئے سب خیریت تو ہے؟ درویش نے بھی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے ٹال مٹول سے کام لیا۔ مگر انکے بے حد اصرار پر بابا نے رازداری کا وعدے لیتے ہوئے اپنی پریشانی کا ذکر مولانا صاحب کے گوش گزار کیا۔

درویش نے بتانا شروع کیا کہ کل رات جب میں گھر لوٹا تو ایک عجیب واقعہ ہوا۔  برسوں سے میں بستی بستی جنگل جنگل خدا کی عبادت میں مشغول رہا ہوں اور ہمیشہ اس سے اپنے گھر کو رونق بخشنے کی التجا کی ہے۔ کل رات خدا نے میری سن لی اور میرا مہمان بن گیا۔ تمام رات میرا محبوب میری نظروں کے سامنے رہا اور میں جی بھر کے اسکا دیدار کرتا رہا۔ عجیب رات تھی کہ عاشق اور معشوق کے درمیان کوئی حجاب نہ رہا اور میں اپنے رب سے باتیں کرتا رہا۔  جب صبح کا وقت قریب آیا تو خدا نے مجھ سے اجازت چاہی اور کہا کہ اب آسمان پر واپس جانے کا وقت آگیا ہے۔  میں نے اسے روکنے کی ہزار کوشش کی مگر وہ نہ مانا۔  میں اسکے پاؤں پڑ گیا مگر اس نے میری ایک نہ سنی اور جانب ِ آسمان پرواز شروع کردی۔  میں خدا کو تو نہ روک پایا، مگر اسکا ایک جوتا اسکے پیر سے اتر کر میرے ہاتھوں میں رہ گیا۔ گو خدا تو نہ رکا مگر خوشی اس بات کی ہے کہ میرے رب کا پاپوش اس وقت میرے پاس ہے۔

مولانا صاحب ہمہ تن گوش تھے اور درویش کی ایک ایک بات پر یقین کی سیڑھیاں طے کرتے جارہے تھے۔ حیرت کے عالم میں پھٹی ہوئی آنکھوں کے ساتھ گلے کو تر کرتے ہوئے انہوں نے پاپوش ِ مبارک کی زیارت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، جسے بابا نے یکسر مسترد کردیا۔  فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ میرے محبوب کے جوتے کو کسی کی نظر لگے۔ مگر مولوی صاحب کی ضد کے آگے انہیں ہاتھ ڈالنا پڑے۔  بالآخر وہ مولوی صاحب کو اس وعدے کے ساتھ اپنی کٹیا تک لے آئے کہ اس واقعے کا ذکر کسی سے نہیں کریں گے۔

ڈرتے ڈرتے وہ درویش کے پیچھے پیچھے اسکی کٹیا میں داخل ہوئے، جو خدا کے جوتے کی خوشبو سے معطر تھی۔  جسم پر کپکپی طاری تھی اور سانس بے قابو ہوئے جارہی تھی۔ پردہ ہٹا کر جو دیکھا تو خدا کے عین شایان ِ شان ایک خوبصورت اور عظیم جوتا نظر آیا۔ مولوی صاحب جوتے پر جاگرے اور وہ بوسہ گری شروع کی کہ جوتے کے اگر ہاتھ ہوتے تو وہ مولانا صاحب کے آگے جوڑ کر جان چھوڑنے کی درخواست کرتا۔ بہت مشکل کے بعد مولانا صاحب جوتے سے جدا ہوئے۔ درویش نے ایک بار پھر یاددہانی کروائی کہ کسی سے اسکا ذکر نہیں ہونا چاہیئے ورنہ خدشہ ہے کہ خدا ناراض ہو جائیگا۔ مولوی صاحب حواس باختگی کے عالم میں وہاں سے بھاگے اور سیدھا اپنے گھر جا کر دم لیا۔ سانس پھولا ہوا، پسینے میں شرابور مولوی صاحب کو دیکھ کر انکی زوجہ بھی پریشانی کا شکار ہو گئیں۔ پوچھا کہ کیا معاملہ ہے، مگر عہد بندی کی مجبوری کے تحت مولانا صاحب مہر بہ لب رہے۔ زوجہ نے بھی ناشتے کو اس راز کی افشائی سے مشروط کردیا۔ مولوی صاحب بھی اس وقت تک کچھ سنبھل چکے تھے، سوچا کہ اسے بتا دیتا ہوں، اس نے کسے بتانا ہے!!! چنانچہ ناشتے کے دسترخوان پر مولانا صاحب نے تمام قصہ اپنی زوجہ کے اس شرط پر گوش گزار کیا کہ کسی تیسرے کو اس بارے میں خبر نہیں ہونی چاہیئے۔ زوجہ نے بھی پیمان بندی کی اور کان لگا کر سب کچھ سنا۔ مگر اپنی زنانیت کے ہاتھوں مجبور بیچاری مولون اس راز کے بوجھ کو اٹھانے کی سکت سے محروم تھی۔

ظہر کے وقت مولانا صاحب نماز پڑھانے مسجد کی جانب چلے، جبکہ مولون صاحبہ روٹیاں لگوانے تندور کی جانب۔ روٹیاں لگوانے کے دوران اس سے رہا نہ گیا اور اس نے تندورچن کو خدا کے جوتے کا قصہ من وعن سنا کر ہی دم لیا اور ساتھ ہی کسی اور کو نہ بتانے کا وعدہ بھی لے لیا۔ تندورچن اپنا تندور سمیٹ کر جب اپنے گھر کو چلی تو سب سے پہلے اپنے خاوند سے جوتے کے قصے کے بارے میں دریافت کیا۔ اسکو لا علم پاکر تمام قصہ مع چند مصالحوں کے سنا ڈالا۔ تندورچی اپنے کوچے میں نکلا اور پڑوس کے دوستوں سے اس بارے میں پوچھا۔ کسی کو بھی اس بارے میں علم نہ تھا، سو وہ سب واقعے کی تصدیق کی نیت سے ایک گروہ کی شکل میں درویش کی کٹیا کی جانب چل کھڑے ہوئے اور بغیر اجازت اپنا مدعا حاصل کرنے کٹیا میں داخل ہو گئے۔ اندر جا کر جو دیکھا تو درویش کو جوتے کی چمک کاری میں مصروف پایا۔ تمام زائرین جوتے پر ٹوٹ پڑے اور اپنے نصیبوں کی یاوری پر نمائش ِ دنداں کرنے لگے۔ جسکی جیب میں جو کچھ تھا، وہ سب کا سب پاپوش ِ خدا کی نذر کردیا۔ اب جو یہ گروہ یہاں سے رخصت ہوا تو یہ محض چند لوگ نہ تھے، بلکہ ایک خبر رساں ادارہ بن چکا تھا۔ ایک گلی سے دوسری گلی، گلی سے محلہ، محلے سے دوسرے محلے اور ہوتے ہوتے بات پورے شہر میں جنگل کی آگ کی مانند پھیل گئی۔

اب کیا تھا، درویش کی کٹیا ایک زیارتگاہ بن چکی تھی، جہاں زائرین کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ پورا شہر امڈ آیا تھا۔ جھونپڑی میں نذرانوں کے ڈھیر لگ چکے تھے اور اطراف میں نیاز کی دیگیں چڑھنا شروع ہو گئیں۔ اب جوتے کی حفاظت ایک سنگین مسئلہ بن گیا، جسکا حل یوں نکالا گیا کہ بستی کا شیشہ گر شیشے کی ایک خوبصورت سی الماری بنا کر لایا اور جوتے کو اس میں سجا کر زیارت کے لئے ایک اونچے مقام پر رکھ دیا گیا۔ دیگر شہروں اور دور دراز کے علاقوں سے زائرین آتے رہے اور کچھ ہی وقت میں درویش کو نذرانوں کی صورت میں اتنی رقم مل گئی کہ وہ ایسے سینکڑوں جوتے تیار کرنے کا کارخانہ لگوا سکتا تھا۔ چلتے چلتے بات بادشاہ کے دربار میں بھی پہنچی اور بادشاہ نے بھی اس تبرک کی زیارت کا قصد فرمایا۔ چنانچہ شاہی سواری بڑے طمطراق کے ساتھ چلی اور متعلقہ بستی میں پہنچی۔ بادشاہ حفظ ِ مراتب کے تحت اپنی سواری سے اترا اور پابرہنہ ہو کر باادب پاپوش کی جانب چلا۔ آنکھوں میں آنسو اور جیب میں جواہرات کا نذرانہ لے کر جب بادشاہ پاپوش کی بوسہ گری کو جھکا تو ساتھ ہی کھڑے درویش کے بہروپ میں اسکے وزیر نے کہا،

“حضور! یہی بھیڑچال ہے۔”

یہ تو تھی ایک کہانی۔۔۔ جو حکایات اور پند و نصائح کی قدیم کتابوں میں ملتی ہے۔  لیکن کہانیاں بھی یونہی تو نہیں بن جایا کرتیں! انکے پیچھے بھی کچھ خاص اوقات میں پیش آئے کچھ خاص حقیقی واقعات ہوتے ہیں۔ان واقعات کو کہانی کی صورت میں پیش کرنا دراصل آنے والے زمانوں کے افراد کے لئے ہوتا ہے، تاکہ وہ ماضی کے ان واقعات کی روشنی میں اپنا جائزہ لے کر تجزیہ کریں اور سبق حاصل کرتے ہوئے نقصان سے بچیں اور فائدہ اٹھائیں، اس لئے کہ تاریخ مختلف صورتوں میں مختلف ادوار میں اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے۔

مذکورہ بالا کہانی بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے جو دیکھا جائے، تو آج کے ہمارے معاشرے کی عکاس ہے۔ اگر میں اپنی بھیڑ چال کے راستوں کی نشاندہی کرنے لگ جاؤں تو ایک لا متناہی کتاب کا سلسلہ شروع ہو جائیگا۔ اس لئے میں فہرست مرتب کرنے کے بجائے اپنے قاریئین کو دعوتِ فکر دیتا ہوں کہ عقل کی بتی کو روشن کرتے ہوئے اور مشاہدے کی حس کو زرا سا بیدار کرتے ہوئےاپنی ذات، اپنے افعال اور اپنے گردو پیش کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھنے کی کوشش تو کریں کہ ہم کہاں کہاں اور کس کس طرح بھیڑ چال کا شکار ہیں۔ گھربار، دوست احباب، پسند نا پسند، پہننا اوڑھنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا، مذہبی رسومات، سیاسی افکار، حالاتِ حاضرہ،   تعلیم، نوکری ، کاروبار، تفریح، فیشن۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ میں ہماری اپنی عقل  اور اصل کا کتنا عمل دخل ہے اور کتنا اندھی تقلید کا۔

آگے بڑھنے اور تیزی سے بھاگتی ہوئی دنیا کے ساتھ چلنے کے لئے ہمیں  بہروپیوں کے تخلیق کردہ  فرضی مقدس جوتوں سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔  اور اصلی جوتے ان شاطر العقل   لوگوں کے کے سروں پر برسانا ہوں گے جو  ہمارے درمیان شرفا کا روپ دھارے ہماری خیرخواہی کا ڈھونگ رچا کرہمیں  ہی بھیڑوں کے ریوڑ کی طرح ہانکتے ہیں اور ہم بھی انکے اشاروں پر ناچتے ہوئے تباہی کی دلدل میں دھنستے جارہے ہیں۔ ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا ہوگا کہ اس نے ہمیں عاقل پیدا کیا تھا۔ ہمیں نادم ہونا پڑے گا کہ ہم خدا کی عظیم ترین نعمت کا کفران کرتے رہے۔ ہمیں اپنے شعور کر بیدار کرتے ہوئے اسے بلند سے بلند تر کرنا ہوگا۔  یہی ہماری راہِ نجات کی کرن ہے، وگرنہ ۔۔۔۔ ریوڑ کے رخ پر تو ہم چل ہی رہے ہیں۔۔۔۔

 

(Visited 1,368 times, 1 visits today)

Qamar Raza Rizvi is a photographer & a journalist based in Islamabad. He writes for Islam Times & Tahera. He writes on current affairs, social and moral issues.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے