Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Urdu Articles
  • /
  • اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟

اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟

عالمِ گیتی پر ایک”نیا سال” دستک دے رہا ہے۔  نا جانے کیوں ایک ہندسے کے  بدلنے کو قسمت  کے بدلنے پر محمول کرلیا جاتا ہے۔ہم یوں سوچتے ہیں جیسے ’’نیا سال‘‘ ان سب  تاریکیوں کو، جو اس ’’پرانے سال‘‘ میں ہمیں اپنے ہی  وجود سے اوجھل کئے رکھی تھیں، اجالوں میں بدل دینے پر قادر ہے ۔ خود فریبی کا ایک ایسا  عالم ہے جو مسلسل ہے ۔  شاید ہماری سوچ کبھی تنہا نہیں رہ سکتی۔ غور و فکر کے توازن سے اُستوار یا پھر خود فریبی  کی آمیزش سے  بیکار۔میں ہندسوں کے اس بدلاؤ پرگمان کی جانے والی تبدیلیوں پر یقین نہیں رکھتا۔نئے  سال میں بھی مجھے دفترلیٹ جانا ہے۔نئے سال  میں بھی مجھے اپنے آپ سے نہ پورے ہونے والے وعدے کرنے ہیں۔نئے سال  میں بھی مجھے رات کو کافی پیتے ہوئے، اپنے دن کے بے مقصد گزر جانے کا نوحہ کرنا ہے۔ نئے  سال میں بھی مجھے  یہی سب سوچنا ہے جو میں آج سوچ رہا ہوں۔  بزبان فیضؔ یہی مطلوب ہے کہ ” اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟ ”۔ فیضؔ کے اس جملےنے ہمیشہ مجھے نئے سال کی اُن fantasies سے دور رکھا جو  یہ خواب دکھاتی ہیں کہ نئے سال کا سورج ایک نئے دور کا سورج ہے۔ میں خواب نہیں دیکھتا۔  خواب  ٹوٹتے ہیں تو دکھ دیتے ہیں۔

2014 کا سورج ڈوبنے کو آیا تو اس کے وجود پر 144 معصوم بچوں کے لہو کی سرخی تھی۔ سیاسی لیڈروں کے اکٹھ نے یہ خواب دکھایا کہ بس بہت ہؤا یہ ظلم و ستم ۔ عسکری قوت کے وعدوں نے یہ سُجھایا کہ نفرتیں بیچنے کا کھیل تمام ہؤا۔شدت پسندی کے خلاف متحد عوام الناس  کےمظاہروں کے بعد سوچنے لگا کہ بھیڑ قوم بن گئی۔ شاید  بچوں کا خون رنگ لے آیا۔ طلوعِ صبحِ نو کے ساتھ  طلوعِ دورِ نو کی امید بندھ گئی ۔ لیکن اِس ’’نئے سال‘‘ نے کس طرح ان سب  خوابوں کو جھٹلایا، وہ سب بہت بھیانک ہے ۔درد، تکلیف اور خون۔ ۔  ماہ با ماہ، روز بروز۔

جنوری ۔ 9جنوری کی شب  راولپنڈی کی ایک امام بارگاہ میں دھماکہ کر کے8 شیعہ مسلمانوں  کو شہید کردیا گیا۔  صرف 8؟ نہیں یہ کافی نہیں۔ 30 جنوری کو شکار پور میں شیعہ امام بارگاہ میں پھر سے حملہ کرکے 53 افراد کو شہید کر دیا گیا۔ ’’نیا سال‘‘ شروع ہو چکا تھا۔

فروری– پاکستان میں بسنے والے شیعہ مسلمانوں کی طبعی عمر دیگر مسلمانوں سے نسبتا کم ہے۔ ثبوت حاضر ہیں۔ 13 فروری کو  پھر سے پشاور میں ایک امام بارگاہ پر حملہ کر کے19شیعہ مسلمانوں  کو شہید کر دیاگیا۔ یہ ’’نئے سال‘‘ کا دوسرا مہینہ تھا۔

مارچ– 15مارچ کو پنجاب کے دارالحکومت  لاہور کے علاقہ یوحناآباد میں دو چرچوں پر  حملہ کر کے 14 مسیحیوں کو شہید اور 70 کو زخمی کر دیاگیا۔ پاکستان میں اقلیتوں کو اس قدر حقوق دئیے کئے  جاتےہیں کہ بعض اوقات مر جانے کا حق  بھی ازخودفراہم کیا جاتا ہے۔  یہ ’’نئے سال‘‘ کا تیسرا مہینہ تھا۔

اپریل– میں بلوچ نہیں لیکن میرے اماں ابا مجھے نظرانداز کرتے ہیں  تو میں چیختا ہوں۔سمجھنے والے سمجھ  جائیں گے کہ 68 سال کی نظر اندازی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے قوم پرستوں نے11پریل کو 20 پنجابی مزدوروں کو تربت میں کیوںہلاک کر دیا ۔ یہ ’’نئے سال‘‘ کا چوتھا مہینہ تھا۔

مئی– 13مئی کو اسماعیلی مسلمانوں کی بس پر حملہ کر کے 46 افراد کو  شہید کر دیا گیا۔اس روز معلوم ہؤا کہ نفرت کسی بھی  تعلیم یافتہ انسان کو سعد عزیز بنا سکتی ہے ۔ ابھی قوم پرستوں کی سیرابی بھی باقی تھی اس لئے 29 مئی کو یونائٹڈ بلوچ آرمی نے 23  مسافروں کو بس سے اتار کر شہید کر دیا۔ یہ ’’نئے سال‘‘ کا پانچواں مہینہ تھا۔

جون–  شیعہ اور اوپر سے ہزارہ۔ مملکتِ خداداِ پاکستان  میں  اس دوہرے جرم کی پاداش میں  7جون کو کوئٹہ کے باچا خان چوک پر 5 شیعہ  ہزارہ مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔ یہ ’’نئے سال‘‘ کا چھٹامہینہ تھا۔

جولائی– 6 جوالائی کو کوئٹہ میں پاسپورٹ آفس کے باہر ایک عورت سمیت  4  افراد کو شیعہ ہزارہ مسلمان ہونے کے جرم میں شہید کر دیا گیا۔ گرمی کے ساتھ ساتھ حرارات ایمانی بھی عروج پر تھی۔یہ ’’نئے سال‘‘ کا ساتواں مہینہ تھا۔

اگست– آزادی کا مہینہ۔ 16 اگست کو اٹک میں ایک خود کش حملہ میں وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ  اور ڈی ایس پی شوکت شاہ سمیت 20 افراد کو شہید کر دیا گیا۔ یہ ’’نئے سال‘‘ کاآٹھواں  مہینہ تھا۔

ستمبر– شدت پسندوں کا آخری دم تک پیچھا کرنے کا سفر عالم تصور میں جاری تھا ۔  18 ستمبر  کو پشاور ایئر بیس بادابر پرحملہ میں29 افراد شہید کر دئیے گئے۔ یہ ’’نئے سال‘‘ کا نوواں مہینہ تھا۔

اکتوبر– 23 اکتوبر کو 9 محرم کے روز جیکب آباد میں دھماکے سے 22 افراد شہید ہوئے جبکہ ایک روز پہلے بولان میں  امام بارگاہ پر حملہ کر کے 12 شیعہ مسلمانوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ کربلاکا مقتل آج بھی سجتا ہے۔ حسین آج بھی شہید کئے جاتے ہیں۔ یہ ’’نئے سال‘‘ کا دسواں مہینہ تھا۔

نومبر– 20 نومبر کی شب جہلم میں احمدیوں کی چپ بورڈ فیکٹری کو   توہین قرآن کے الزام میں جلا کر نذر آتش کر دیا گیا۔ پس ِخنجر آزمائی کوئی اور نہیں تھا۔ حملہ آور ہم میں سے ہی تھے۔  یہ ’’نئے سال‘‘ کا گیارواں مہینہ تھا۔

دسمبر– 13 دسمبر کو پارہ چنار میں 25 افراد کو شہید کر دیا گیا  ۔ابھی کچھ دن باقی تھے۔ 29 دسمبر کو مردان میں  نادرہ آفس کے باہر دھماکےمیں 26 افراد کو شہید کر دیا گیا۔  یہ ’’نئے سال‘‘ کا آخری مہینہ تھا۔

یہ ’’نیا سال‘‘ آج ختم ہو رہا ہے۔ مجھے ایسا ’’نیا سال‘‘ پھر سے نہیں دیکھنا۔  میرے کانو ں میں آج بھی اپنے وطن کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ایک سال پہلے کئے گئے  وہ بلند بانگ دعوے گونجتے ہیں جن میں شدت پسندوں کی کمر توڑنے کی باتیں کی گئی تھیں۔ نفرتوں کے عفریت کمر ٹوٹنے سے نہیں مرا کرتے۔ عفریت کو مارنا ہو تو اس  کا سر کچلا جاتا ہے۔ کیونکہ سر ہی منبع ہے اس  سوچ کا جو  اسے ڈسنے کا حکم صادر کرتی ہے۔ وہ سوچ میرے اور آپ کے درمیان نہایت سکون سے پنپ رہی ہے۔ ہماری مسجدوں  کے منبروں  پر بیٹھے ملاؤں کے دئے جانے والے کفر اور قتل کے فتووں میں۔ ہمارے مدرسوں میں سکھائے جانے والے فساد فی سبیل اللہ کےحوروں بھرے تصور میں۔ ہمارے سکول کے نصاب میں پڑھائے جانے والے  غاصبوں کی بہادری کے جھوٹے قصوں میں ۔ ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز میں جڑ پکڑنے والی پس پردہ  شدت پسندتنظیموں  کے عروج میں۔ یہ سب ’’پرانے سال‘‘  بھی تھا اور’’نئے سال‘‘بھی ۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ کچھ بھی تو نہیں۔

اے  نئے  سال  بتا  تجھ  میں  نیا  پن  کیا  ہے

ہر  طرف خلق  نے  کیوں  شور  مچا  رکھا ہے

آسماں  بدلا ہے  افسوس   نہ   بدلی  ہے   زمیں

ایک  ہندسے  کا  بدلنا  کوئی  جدت  تو   نہیں

تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی

ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی

(Visited 1,052 times, 1 visits today)

Arsalaan Qamar is theologian and a freelance writer based in Rawalpindi. His interests are minority rights and social issues. He can be reached out on Twitter @ArsalaanQamar

2 Comments

  • rizvionline5@gmail.com'

    Rizvi

    April 3, 2016 at 3:20 am

    اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے

    ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے

    آسماں بدلا ہے افسوس نہ بدلی ہے زمیں

    ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں

    تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی

    ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی

    Reply

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے