Here is what others are reading about!

کہیں دیر نہ ہو جائے

میں چشمِ تصور میں دیکھ رہا ہوں کہ پشاور کے شہداء جنت الفردوس میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ درِ دوزخ پر کھڑے طالبان اور پھانسی یافتگان گر گِرا کے شہداء سے معافی مانگ رہے ہیں اور مالکِ دوزخ ان پر گناہوں کہ کوڑے برسا رہا ہے ۔ چشم تصور اور چشم حقیقت کا سفر کچھ زیادہ طویل نہیں ہوا کرتا۔ گناہگاروں اور ان کی حامیوں نے اب بھی  اپنا جائزہ نہ لیا  تو چشمِ تصور کو چشم حقیقت بننے میں دیر نہیں لگے گی۔

16دسمبر2014 کا وہ بھیانک دن کون بھول سکتا ہے جب سفاک دہشت گردوں نے 145سے زائد اسکول کے بچوں اور اساتذہ کو خون سے نہلا دیا تھا اور اسی رات ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے لال مسجد کے ایک مولوی صاحب نے اس واقع کی مزمت کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا ۔ یہ سلسلہ رکا نہیں۔ پھروو وقت بھی آیا جب مولانا کے زیر تربیت کچھ طالبات نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے عالمی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ ابو بکر البغدادی کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور اس بات کی گزارش کی کہ وہ یہاں آکر اپنے ’’جہاد‘‘کو شروع کریں !شاید سمجھنے والے سمجھ گئے ہوں کہ مولانا نے آرمی پبلک اسکول کے سانحے کی مذمت کیوں نہیں کی تھی ۔

داعش اور ISISجس کی وہ اندھی تقلید کرتے ہیں ، اسی داعش کے ہاتھوں کبھی عراق کے کیڈٹ کالج کے 1300 بچوں کی گردنیں کاٹ دی جاتی ہیں تو کبھی شام کی نہتی اور مظلوم عوام پر کیمیکل بم استعمال کئے جاتے ہیں، کبھی سعودیہ عرب میں دورانِ نماز جمعہ خود کش حملہ کیا جاتا ہے تو کبھی یمن میں کسی نمازِ جنازہ کے اجتماع کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔آج لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ کیسے لوگ ہیں جنہوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی زندہ نہیں چھوڑا! تو اس کا مختصر جواب یہی ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کل نواسہ رسول ﷺ کے چھ ماہ کے بیٹے علی اصغر کو بھی گلے پر تیر مار کے شہید کر دیا تھا ۔         
ایک بندہ اڑاؤ  تو جنت ملے گی، دو بندے مارو تو حور بھی ملے گی ،تین مارو تو ساتھ غلام بچے بھی ملے گے،ایک گروہ کو مار ڈالو تو جنت کا ٹھیکہ ہی تمہارا ہو جائےگا۔کیا کہنے ان طالبان کے،یہ وہ اسلام ہے جو وہ پیش کر رہے ہیں۔یہ وہ تعلیم ہے جو اپنی نسلوں میں ڈال رہے ہیں اور اپنے ’’بچے ‘‘‘پال رہے ہیں۔ارے بچے کیا وہ درندے پال رہے ہیں۔درندوں کی بھی وہ قسم جس سے دوسرے جانور بھی ڈرتے ہیں۔

کیا بگاڑا تھا ان معصوم بچوں نے ان کا ،وہ تو اپنے گھر سے پڑھنے کے لئے نکلے تھے،ہنسی خوشی اس امید پر کہ واپس جائیں گے تو امی انتطار کر رہی ہو گی،بہن راہ تک رہی ہو گی،بھائی گلے لگنے کو تیار ہو گا اور ابو باہر کی سیر کا پروگرام بیٹھے انتظار کر رہے ہونگے۔لیکن کیا ہوا؟؟؟ان درندوں نے انہیں مار ڈالا ،ایک ماں کا بچہ نہیں مارا ،ایک گھر اجاڑ دیا،جس سے آگے نسل چلنی تھی وہ نسل ختم کر دی ایک انسان کا قتل نہیں کیا ،ایک نسل کو مار ڈالا،انسانیت کو مار ڈالا۔

ان کو درندے کہنا بھی شاید درندگی کی بے عزتی ہے ،یہ وہ دندناتے درندے ہیں جو انسان کو اپنا شکار بناتے ہیں ،انسان کہیں دیکھ لیں اس کو مار ڈالنا ان پر فرض ہو جاتا ہے۔جہنم کی آگ بھی ان جیسے بے غیرتوں کو قبول نہ کرے ۔

مولانا صاحب !ہمیں ایسے اسلام اور ایسی شریعت کی کوئی طلب اور کوئی چاہ نہیں جس میں مظلوم انسانوں کے گلے کاٹے جائیں ؟ اپنے آپ کو عالم فاضل کہنے والے مولانا صاحب کیا آپ اس قرب اور تکلیف کا اندازہ کر سکتے ہیں جو آپ کے دہشت گردوں کی حمایت میں آنے والے بیانات سے شہداء کے لواحقین کو ہوتی ہے ؟

پشاور کے یہ معصوم بچے  جب خدا کے سامنے پیش ہوئے ہونگے تو ہر کوئی اپنی داستان سنا رہا ہوگا۔اے خدا تو دیکھ رہا ہے نہ ان ظالموں نے کیا سلوک کیا تیرے معصوم بندوں کے ساتھ انہوں نے تیرے بندوں کو کیسے مار ڈالا۔ لیکن میں کس کو سناوں؟ کس سے بولوں؟کس کے کندھے سر رکھ کر رو دوں ؟

میں یہ کس کے نام لکھوں جو اَلَم گزر رہے ہیں
مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں

(Visited 641 times, 1 visits today)

Syed Oun Abbas Jafferi is social media activist and a freelance writer based in Karachi. He’s coordinating Bazmay Talaba at FM93 Karachi.

3 Comments

  • hassanalam764@yahoo.com'

    Hassan Alam

    January 3, 2016 at 4:38 pm

    You People are doing amazing job.Sometimes your posts really hurts me but when I think about it I really understand that it was nothing but truth that’s why it hurt me ! I was an India hater and I was very aggressive before but Bol Platoon posts make me think that things are not like that what it looks like or what they show us through media.Keep your good work up and I will always be your greatest supporter.

    Reply
  • hassankhanmd@hotmail.com'

    Dr Muhammad Hassan Auj

    January 3, 2016 at 11:20 pm

    the beautiful elaboration in the context of the hereafter, makes it a naked nail biting piece, such a brave pen you have, who is following your thoughts, the want you it to,, i am sure you gonna go a really long way

    Reply

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے