Here is what others are reading about!

حقیقت پسندی

قدرت کا ایک ہی قانون ہے جو زندہ چیزوں میں رائج ہے اور غیر زندہ چیزوں میں بھی۔ وہ یہ کہ ہر مطلوب چیز ک حاصل کرنے کی ایک قیمت ہے۔ جب تک وہ قیمت ادا نہ کی جائے، مطلوب چیز حاصل نہیں ہوتی۔

یہاں ابھرنے کیلئے پہلے دبنا پڑتا ہے۔ یہان ترقی کے درجے پر پنپنے کے لئے عدم ترقی پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ یہاں دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کیلئے دوسروں سے مغلوبیت  کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایک بات بظاہر سادہ سی ہے مگر انسان اپنی عملی زندگی میں اکثر بھول جاتا ہے کہ ہم اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں ہیں بلکہ خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ہیں۔ ہمارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم خدا کے بنائے ہوئے قوانین کو جانیں اور اس کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کریں۔

حقیقت پسندی اورآئیڈیلزم میں توازن ایک انسان کا مطمع نظر ہونا چاہئے۔زندگی حقیقت پسندی  سے محروم ہوجائے تو بے مقصد ہوجاتی ہے اورقدم اٹھاتے وقت اگرحقائق کی تکذیب کی جائے تو المیے جنم لیتے ہیں۔انسانی تاریخ اس حقیقت پر مہرتصدیق ثبت کر تی آگے بڑھ رہی ہے۔میرے نزدیک دونوں میں کوئی تضاد نہیں اورتوافق ممکن ہے ۔ آئیڈیل کاتعلق مقصد سے ہے اور حقیقت پسندی کاحکمت عملی سے ۔آئیڈیل منزل ہے اور حقیقت پسندی زاد راہ۔ سفرکبھی آئیڈیل کے سفینے پرطے نہیں ہوتے، اس کے لیے سیارۂ حقیقت چاہیے۔دنیابھرکے ادیب اورشعرا اس امر کورومانویت کارنگ تودے سکتے ہیں، لیکن کبھی اس امرواقعہ کاانکار نہیں کرسکتے کہ چناب کی بپھری موجوں پرکچے گھڑے سے سفرممکن نہیں ہے۔

خوش فہمی درحقیقت ایک بہت بری لت ہے ،جب لگ جاتی ہے تو انسان خود فراموش ہو جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت پسندی سب سے بڑی نعمت ہے ،جسے ملتی ہے ،وہ کبھی اخروی خسارے میں نہیں رہتا۔حقیقت پسندی کے بغیر انسان ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ خدا نے جو دنیا بنائی ہے اس میں ایسا ممکن نہیں۔ حقیقت پسندانہ سوچ انسان کو صحیح راستہ دکھاتی ہے۔

 انسان کی ترقی کا راز محنت اور حقیقت پسندانہ سوچ میں ہے۔  شہد جمع کرنے والی مکھی سارے دن اڑانیں بھرتی ہے تاکہ وہ ایک ایک پھول کا رس نکالے  اور شہد جمع کرے۔ مشاہدہ سے معلوم ہوا ہے کہ شہد کی مکھی صبح جب اپنے سفر پر نکلتی ہے تو اندھیرے میں روانہ ہوتی ہے تو مگر شام کو جب آخری بار چلتی ہے تو اس کا یہ سفر اندھیرے سے اجالے کی طرف ہوتا ہے۔ شہد کی مکھی وقت کے اس  فرق کو ملحوظ رکھتی ہے۔ یہ قدرت کا سبق ہے۔ اسی طرح قدرت بتاتی ہے کہ زندگی میں ہمارا قدم حقائق کی بنیاد پر اٹھنا چاہئے نہ کہ خوش فہمیوں اور موہون امیدوں کی بنیاد پر آنے والے لمحات اپنے نظام کے تحت آئیں گے نہ کہ ہماری خوش فہمیوں کے تحت۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ ہم روشن مستقبل اور شاندار انجام کی طرف بڑھ رہے ہونگے۔  وگرنہ   نتیجہ  کچھ یوں بھی  ہو سکتا ہے کہ

وائے خوش فہمی کہ پرواز یقیں سے بھی گئے

آسماں چھونے کی خواہش میں زمیں سے بھی گئے

(Visited 392 times, 1 visits today)

Farah Sohail is a statistician, teacher and a mother. Her areas of interests are social and general issues.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے