Here is what others are reading about!

کفرا ن نعمت

ایک منٹ ٹھرئیے!  زرا سا لمبا سانس لیجیے اور سوچئے کہ بطور مسلمان ہماری کیا خواہشات ہیں ؟ مثال کے طور پر میں ایک مسلمان ہوں,  ہر مسلمان کی طرح میری یہ خواہش ہے کہ میں خواب میں آقا ﷺ کا دیدار کرلوں,  ذرا سا اس خواہش کو بڑھاؤں تو دل کرتا ہے کہ کاش میں رسول کریم ﷺ کو براہ راست دیکھ پاتا  اور آپ کا صحابی بن پاتا۔  ظاہر ہے کہ اس خواہش کی تکمیل ممکن نہیں۔  اسی کاش کو مزید لمبا کرلوں تو دل کرتا ہے کہ کاش میرا جنازہ رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم پڑھا دیں ۔ اللہ!!  ایسی بے سود اور کبھی نا پوری ہونیوالی خواہش ہے کہ لوگ سن کر ہنسیں۔  آقا علیہ السلام کو عالم فانی سے کوچ کئے 1500 سال بیت گئے۔ اور آ ج میں ایک نجاست زدہ کیڑا ان سے اپنا جنازہ پڑھوانے کی خواہش کر رہا ہوں۔  مزید کہوں تو میری خواہش ہے کہ کاش مجھے کفن کیلئے نبی محترم ﷺ کا کرتہ میسر ہو۔

قارئین! یہ ایسی خواہشات ہیں کہ جنکی تکمیل کے بارے میں سوچنا بھی آج مشکل ہے۔ آقا کو خواب میں دیکھ پانے والابھی ولی قرار پاتا ہے۔ مگر سوچ کو کون روکے؟دل تو کہتا ہے کہ کاش میں اس زمانے میں پیدا ہوتا۔ کاش آقا کو براہ راست دیکھ پاتا۔  کاش وہ میرا جنازہ پڑھاتے۔  کاش مجھے کفن کیلئے کرتہ عنایت کرتے۔  کاش وہ مجھے لحد میں اپنے ہاتھوں سے اتارتے ۔ کاش وہ میرے لیے مغفرت کی دعا فرماتے۔ کاش،  کاش کاش،  آج ایسا ممکن نہیں۔ لیکن ہر سچے  مسلمان کی یہ ایسی خواہشات ہیں جنکا پورا ہونا آج ممکن نہیں۔

حضرات گرامی!  یاد رہے مدینہ میں ایک ایسا  شخص گزرا ہے جسکی یہ تمام خواہشات پوری ہوئیں۔ اس نے آقا ﷺ کا دیدار کیا۔ آپ سے بیعت بھی ہوا۔ خود کو مسلمان اور صحابی بھی کہا۔ جب مرا تو رسول کریم نے اسکا جنازہ بھی پڑھایا اسکو کفن کے واسطے اپنا بابرکت کرتا بھی دیا۔ دفن کرنے کیلئے اسکو لحد میں بھی اپنے ہاتھوں سے اتارا ……………. لیکن اسکے بارے میں خدا نے آقا سے فرمایا: ” اگر تو اس شخص کیلئے ستر بار بھی استغفار کرے , میں تب بھی اسکو معاف نہیں کروں گا”

 قارئین!  اس شخص کا نام عبداللہ بن ابی سلول تھا,  یہ امدینہ میں منافقوں کا سردار تھا، میں سوچتا ہوں کہ کیا وجہ ہوئی جو یہ شخص صحابی کے درجے سے گر کر جہنم کے سب سے نچلے درجے میں جا پڑا؟ یقین مانئے مجھے صرف ایک وجہ نظر آتی ہے,  اور وہ ہے “ناشکری” , کفران نعمت۔ یہ شخص کفران نعمت کی بیماری کا شکار تھا, اور قدرت کا  یہ اصول ہے کہ جو اسکی نعمت کی ناشکری کرتا ہے اس سے وہ نعمت چھین لی جاتی ہے،  اس شخص کو قدرت نے کائنات کی سب سے بڑی نعمتوں سے نوازا تھا،  لیکن اس نے انکی ناشکری کی اور دوجہان میں رسوا ہوگیا۔

ذرا تصویر کو بدلتے ہیں۔ پاکستان کی سمت آتے ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کو خدا نے پاکستان کی صورت میں عظیم نعمت سے نوازا تھا،  ہم نے اس کی ناشکری کی۔  ہم نے اس عظیم ملک کے ساتھ عظیم بیوفائیاں کیں۔دھوکے کئیے۔  ذاتی مفادات کو مدنظر رکھا (71 ء میں اسکا کچھ نتیجہ بھی دیکھ لیا)۔  ہمیں خدا نے ہر طرح کی معدنیات سے نوازا۔ ہم انہی پر اپنے بھائیوں کے خلاف سانپ بن کر بیٹھ گئے۔  خدا نے ہمیں مسلمان بنایا۔ ہم بلوچی،  پنجابی،  سندھی اور پٹھان بن گئے۔ ہم کشمیری بن گئے۔  خدا نے نعمتوں کا وارث کیا اور ہم ناشکری کرتے چلے۔ ہم پر ہندوستان میں ظلم ہوتا تھا،  ہمیں وہاں مذہبی آزادی نا تھی، مگر جیسے ہی ہم آزاد ہوئے ہم نے وہی پابندیاں اپنے غیر مسلم بھائیوں پر لگا دیں، کفران نعمت کا نتیجہ دیکھئیے آج ہم آپس میں ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے درپے ہیں۔

ہم کفران نعمت کی بیماری میں اسقدر بڑھ چکے ہیں کہ جہاں ایک طرف ایدھی (جو دنیا میں لاوارثوں کا وارث ہے) کو لوٹ لیتے ہیں۔ تو دوسری طرف 1122 کو جعلی کالز کر کے کئی مستحقین کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں ۔ خدا ہمیں نیا سال عطا کرتا ہے نئی مہلت ملتی ہے اور ہم اسکو ون ویلنگ میں ضائع کر ڈالتے ہیں۔

بحثیت قوم ہم کفران نعمت کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ اور یہ بیماری اب کینسر کی صورت اختیار کرتی چلی جارہی ہے۔ خدارا سمجھیے۔  پہلا مخاطب میں خود ہوں۔ اگر ہم نے اپنی ناشکریاں نا چھوڑیں تو ہم بھی عبداللہ بن ابی سلول کی طرح صحابی جیسے بڑے مقام سے دوز خ کے سب سے نچلے درجے میں جا پڑیں گے۔ پھر خواہ جنازہ رسول خدا بھی پڑھا دیں۔ خدا معاف نا کرے گا۔

(Visited 753 times, 1 visits today)

Taha Sharif is freelance writer based in Faisalabad. His areas of interests are social and human rights issues. He can be reached out on Twitter @tahashrf

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے