Here is what others are reading about!

انگلش میڈیم کی سفاکی

پاکستان کو قائم ہوئے ۶۸ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔پاکستان کا قیام اﷲ کی مشیت کا ثمرہ اور برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی عظیم رہنما قائداعظم محمد علی جناح کی مخلصانہ قیادت اور فقیدالمثال قربانیوں کا عطیہ ہے ۔یہ ملک پاکستان اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی تمام سازشوں اور پیشہ دوانیوں کے باوجود انشاء اﷲ قائم و دائم رہے گا ۔اس امانت کی حفاظت ملکی حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی ذمہ داری ہے ۔

آج ملک کو چھوٹے اور بڑے کئی خطرات لاحق ہیں اور انھیں خطرات میں ایک اہم خطرہ انگلش میڈیم تعلیمی نظام بھی ہے ۔اسے اردو زبان کی بد بختی کہے یا ہماری جو آج انگلش میڈیم تعلیمی نظام اردو میڈیم تعلیمی نظام کو دیمک کی طرح چٹ کر رہا ہے ۔مگر افسوس کے آج کل کے انگریزی زبان کے حواری اس احساس سے عاری ہیں ۔اگر اردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی بات کی جائے تو وہ یہ راگ الاپنا شروع کردیتے ہیں کہ انگریزی زبان کی مخالفت اپنی جگہ بجا ہے مگر اس کے مقابلے میں اردو زبان کو تقدس دینا محض اِک واہمہ ہے ۔اگر تعلیم مادری زبان میں دینا لازمی ہے تو پشتو،پنجابی،سندھی اور پنجابی ذیادہ موزوں زبانیں ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ انگریزی علم و فنون کی زبان ہے اور زمانے کے ساتھ انگریزی بطور زبان سیکھنے کاکوئی منکر نہیں ہو سکتا اور نہ ہی مسئلہ اردو زبان کے تقدس کا ہے مسئلہ ہے تو ہماری قوم کے بچوں کی تعلیم کا ہے ۔ہر چیز کا ایک تقاضا ہے اور تعلیم کا تقاضا ہے کہ اِسے اس زبان میں فراہم کیا جائے جو انسان کے ماحول میں عام بولی جاتی ہو اور اس کے لئے اس بات کا ہوناضروری نہیں کہ وہ مادری زبان ہی ہو ۔مگر ہمارے موٹی سوچ رکھنے والے انگریزی زبان کے عاشق اس چھوٹی سی بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

مسلمانوں نے جب عروج حاصل کیا تو انھوں نے اس وقت کی علمی زبان یونانی کو ذریعہ تعلیم نہیں بنایا بلکہ بغداد میں یونانی اور دیگر زبانوں کی کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ کرا کر عربی کو علمی زبان بنایا اور پھر صدیوں تک عربی زبان ہی دنیا کے بیشتر حصوں میں ذریعہ تعلیم بنی رہی ۔آج بھی ترقی یافتہ ممالک کا ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کا راز ان کا مالدار ہونا نہیں بلکہ اپنی قومی زبان کو فروغ دینا ہے ۔لیکن ہمارے ملک کے عاشقانِ انگریزی اس بات پر پختہ ہیں کہ قوم کو بچوں کو تعلیم دینی ہے تو انگریزی زبان میں ہے دینی ہے چاہے ملک کے ۷۵ فیصد طلبہ انگریزی میں فیل ہونے پر مزید تعلیم حاصل کرنے سے توبہ ہی کرلیں ۔مگر ان لوگوں کو ذرہ برابر بھی ترس نہیں آتا کہ انگریزی کے جبر کی وجہ سے قوم کے بچوں کا مستقبل برباد ہو رہا ہے اور اسی کے باعث اردو زبان کے نفاذ کا راستہ بھی روکا جارہا ہے ۔البتہ پنجابی، سندھی،اور پشتو کو زبان کے طور پر اسکولوں میں پڑھایا جاسکتا ہے مگر ذریعہ تعلیم ایک قومی زبان ہوگی تو قوم فطری انتشار سے نکل کر ترقی بھی کرے گی اور اس میں وحدت بھی پیدا ہوگی ۔یہ بات بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح بھی بخوبی سمجھتے تھے تبھی انھوں نے اس کو مدِنظر رکھتے ہوئے آج سے ۶۸ سال قبل اردو کو قومی زبان کا درجہ دے دیا تھا ۔
کاش!آج کل کے عاشقانِ انگریزی سمجھ سے کام لیں۔

(Visited 848 times, 1 visits today)

Muhammad Hammad is a student. With a journalistic family background, he's passionate to write on different issues.

One Comment

  • taskeenfatima348@gmail.com'

    Taskeen

    January 7, 2016 at 8:58 pm

    Yahan pr aik sawal ye uthta he k aaj se kuch arsa pehle hamare sarkaari idaron men medium urdu hi tha, sir tb b to sarkari school k
    bachon ka lag bhg yehi haal tha. Aaj b agr talib ilmo ki barri tadaad fail ho jati he to is men english zubaan ka qusoor hoga lekin iske zimme daar na ehl asaatiza or kamzor taleemi nizaam he.

    Reply

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے