Here is what others are reading about!

کس کی حمایت کریں؟

۱۹۷۹ء میں انقلابِ ایران کے بعد سے حالات نے ایک نئی کروٹ بدلی اور دنیا کے نقشے پر ایک اور اسلامی سلطنت کا وجود ظاہر ہوگیا۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کسی مسلم سلطنت کا قیام امتِ مسلمہ کی مضبوطی کا سبب بنتا مگر بد قسمتی سے حالات کا رخ کسی اور جانب موڑ دیا گیا۔ ایران میں مسلم سلطنت کا قیام عمل میں آنے کے کچھ ہی عرصے بعد سعودی عرب اور ایران میں چپقلش نے امت مسلمہ کو مزید تقسیم کردیا۔پاکستان ایک ایسا ملک کے جو سعودی عرب کا دوست اور ایران کا ہمسایہ بھی ہے ایک اسلامی ریاست ہونے کی وجہ سے پاکستان کے لئے سعودی عرب اور ایران دونوں سے بہترین تعلقات اپنی ایک اہمیت رکھتے ہیں۔ اس بات میں قطعی دو رائے نہیں کہ ایران اور سعودی عرب کی دوستی یا دشمنی پاکستان کے خطے پر ممکنہ طور پر اثر انداز ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو سعودی عرب کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور سعودی عرب کو اپنا محسن و ہمنوا سمجھتے ہیں اسی طرح ایک اکثریت کا جھکاؤ ایران کی طرف ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔     
۲۰۱۶ء کا آغاز ہی بہت سے پیچیدہ مسائل و حالات سے ہوا جس میں ایک سنگین مسئلہ سعودی عرب میں ایک شیعہ مسلمان رہنماء کو دی جانے والی پھانسی ہے۔ سعودیہ اور ایران کے تعلقات عام حالات میں بھی خوشگوار نہیں ہوئے اور ایک بڑے شیعہ مسلمان عالم کی سزائے موت کے بعد ان حالات نے مزید ابتری کی شکل اختیار کرلی۔ شیخ نمر النمر کی پھانسی کے ردِ عمل میں تہران میں سعودی سفارت خانے کو نظرِ آتش کردیا گیا اورعالمی سطح پر بھی سعودی عرب کے اس اقدا م کے خلاف احتجاج شروع ہوگئے ۔ ادھر سعودی عرب نے سفارتخانے پر حملے کا بدلہ ایران سے اپنے تجارتی ، فضائی و سفارتی تعلقات کے خاتمے کے اعلان سے کیا۔ ایسے حالات میں کچھ ممالک سعودی عرب کے ساتھ اور کچھ ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کی تیاری میں نظر آرہے ہیں اور کچھ لوگ تو ان حالات کو ایران و سعودیہ کی جنگ کی ابتداء قرار دے رہے ہیں۔ان سارے حالات میں دنیا ہمیشہ کی طرح پاکستان کا منہ تک رہی ہے کہ پاکستان اس معاملے میں اپنی کیا حکمتِ عملی ترتیب دیتا ہے کیونکہ پاکستان کا فیصلہ ، عوامِ پاکستان کا عکاس ہوگا ۔ عوام کی صورتحال یہ ہے کہ کچھ مکمل طور پر سعودی شہری بن چکے ہیں اور کچھ خود کو ایران کے پاسداران سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہاں سے سوال سعودی عرب پر تنقید سے ہوتا ہے تو وہاں سے جواب ایران پر تنقید سے دیا جاتا ہے۔ اکیسویں صدی کے اس دور میں پاکستانی عوام کی ساس بہو کے جھگڑے والی حکمتِ عملی پر ماتم کرنے کا جی چاہتا ہے۔ارے بھائی! ہم مسلمان اور پاکستانی ہیں ۔ سعودی عرب اور ایران پر تنقید کرنے سے پہلے ہم کو حالات کو اسی انداز میں سمجھنا ہوگا جس شکل میں وہ موجود ہیں۔ اپنی مسلک کی عینک اتار کے یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا سعودی عرب کا کیا جانے والا یہ اقدام صحیح تھا؟ یا اس کے رد عمل میں آنے والا ردِ عمل بے بنیاد تھا؟اس کے لئے پہلے ’’شیخ نمرالنمر ‘‘ کے بارے میں جاننا بھی نہایت ضروری ہے کہ شیخ النمر کون تھے؟ القائدہ کے دہشت گرد تھے؟ سعودی عرب کے خلاف کسی تخریب کاری میں ملوث تھے؟ کسی بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے تھے ؟ کیا سعودی عرب کیجانب سے کیا جانے والا فیصلہ درست تھا یا یہ ان کا اندرونی معاملہ تھا؟ 
شیخ نمرالنمر ایک سعودی شہری تھے اور مذہبی آزادی کے حوالے سے اپنی ایک رائے رکھتے تھے جس کی وجہ سے وہ سعودی خفیہ اداروں کی نظروں میں آگئے تھے سنہ ۲۰۱۲ میں اپنی آخری گرفتاری سے قبل بھی دو مرتبہ کچھ دنوں کے لیے سنہ ۲۰۰۴اور سنہ ۲۰۰۶میں حراست میں لیا گیا تھا۔سنہ ۲۰۱۲سے قبل شیخ نمر کی مقبولیت میں خاصا اضافہ ہو ا اور وہ سعودی عرب میں قومی سطح کے رہنما بن گئے قطیف میں اپنی گرفتاری سے پہلے جب وہ ایک کار میں جا رہے تھے تو ان کا پیچھا کرنے والوں نے ان کی گاڑی پر شدید فائرنگ کی جس دوران ان کی ٹانگ میں چار گولیاں لگیں۔ اس کے بعد تین دنوں میں مشرقی سعودی عرب میں جو مظاہرے ہوئے ان میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔شیخ نمر صوبہ قطیف میں سعودی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں پیش پیش رہے اور کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب کے علاوہ بحرین میں بھی وہ شیعہ نوجوانوں میں بہت مقبول تھے سعودی حکام نے شیخ نمر کے خاندان والوں کو اکتوبر سنہ ۲۰۱۴ میں تصدیق کر دی تھی کہ انھیں دیگر جرائم کے علاوہ مملکت کے معاملات میں ’بیرونی مداخلت‘ کی کوشش کرنے میں سزائے موت دی جائے گی۔شیخ نمر نے اپنے خلاف لگائے جانے والے سیاسی الزمات سے کبھی انکار نہیں کیا، تاہم ان کی جانب سے ہمیشہ یہی کہا گیا کہ شیخ نمر نے کبھی تشدد کو فروغ نہیں دیا بلکہ ہمیشہ پرامن احتجاج کی حمایت کی۔سنہ ۲۰۱۱ میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے شیخ نمر کا کہنا تھا کہ وہ ’ہتھیاروں کی بجائے حکام کے خلاف عوام کی دھاڑ‘ کے حامی ہیں کیونکہ ’ لفظ کا ہتھیار گولی سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے کیونکہ حکام ہتھیاروں کی لڑائی سے مالی مفاد حاصل کرتے ہیں۔
ان تمام تفصیلات سے ایک بات مکمل طور پر واضح ہو چکی ہے کہ شیخ نمر النمر نہ تو دہشت گرد تھے ، نہ اشتہاری و فراری مجرم تھے اور نہ ہی انکا تعلق کسی پرتشدد یا دہشت گرد تنظیم سے تھا۔ وہ ایک سعودی شہری اور مذہبی رہنماء تھے جو اپنی ایک منفرد سوچ کی بدولت نہ صرف سعودی عرب بلکہ دیگر ممالک میں بھی کثیر تعداد میں اپنے چاہنے والے رکھتے تھے۔سعودی عرب نے جن ۴۷ افراد کو پھانسی دی ان میں زیادہ تر کا تعلق القائدہ سے تھا اور وہ تمام افراد ۲۰۰۳ء اور ۲۰۰۲ میں ہونے والے ان جان لیوا حملوں میں ملوث تھے جن میں کئی سعودی شہری اور غیرملکی جاں بحق ہوگئے تھے۔ اگر ان تمام افراد کو ہم سنی کہہ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ پھانسی دیئے جانے والے افراد میں سنیوں کی تعداد زیادہ تھی اور شیعہ ایک تھا تو یہ ایک انتہائی احماقانہ سی بات ہے۔ دہشت گردوں کا کسی مسلک و مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور انسانیت کا تقاضہ یہ ہے کہ بے گناہ ایک ہی کیوں نہ مارا جائے وہ بے گناہ تصور کیا جانا چاہئے۔۔لہذا جو افراد ان تمام دشت گردوں کو سنی بنانے پر بضد ہیں ان کا مقصد صرف فرقہ وارانہ آگ کو ہوا دینا ہے ۔ صرف سعودی خاندان کے مخالف رائے رکھنے کی بنیاد پر ایک اتنے بڑے عالم کو پھانسی دینا سعودی عرب کے اس فیصلے کو بلکل اسی طرح مبہم بنادیا ہے جس طرح ۳۴ ممالک کے اس اتحاد کو بنادیا جو داعش کے خلاف بنایا گیا۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کے النمر کو پھانسی دینا سعودی عرب کا اندرونی معاملہ ہے اس کا رد عمل کسی اور ملک میں ہونا ایک غیر فطری عمل ہے وہ لوگ دراصل پاکستان اور دنیا میں ہونے والئے کئی ایسے احتجاج نظر انداز کر گئے ہیں جو مختلف ادوار میں رونماء ہوتے رہے۔انڈیا میں افضل گورو کو پھانسی دی گئی اور ر د عمل پاکستان میں ہوا، جماعت اسلامی کے کئی رہنماؤں کو بنگلہ دیش میں پھانسیاں دی گئیں لوگ پاکستان میں سڑکوں پر نکلے، سعودی عرب اور یمن تنازعہ میں کتنی ہی ریلیاں سعودی عرب اور یمن کے حق میں نکالی گئیں، ملا عمر کی وفات افغانستان میں ہوئی اور غائبانہ نمازِ جنازہ پاکستان میں ادا کی گئی۔ ان سارے واقعات کو دہرانے کا مقصد صرف اتنا ہے کے ہر عمل کا ردِ عمل ایک فطری بات ہے جتنا شدید عمل ہوگا اتنا ہی شدید ردِ عمل بھی پیدا ہوگا۔ ان تمام واقعات میں سے اگر صرف افضل گورو کی پھانسی کے واقعے کو ہی دیکھا جائے تو اندازہ ہوگا کے پاکستان میں رہنے والے ہر طبقہ کے لوگوں کے دلوں میں افضل گورو کے لئے ایک نرم گوشہ ہے اور اس کے پھانسی کو غیر انسانی عمل گردانا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک کشمیری رہناء کی حیثیت رکھتا تھا اور بے قصور تھا قطعی نظر اس کے کہ افضل گورو کا مسلک کیا تھا؟ شیخ النمر بھی ایک عالمی حیثیت کے حامل مذہبی رہنماء تھے ان کی عالمی حیثیت کا اندازہ انکی پھانسی کے بعد دنیا بھر میں ہونے والے احتجاج کو دیکھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے جن میں نہ صرف شیعہ بلکہ سنی افراد نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی اور ان پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے بیرونی مداخلت کا الزام تھوپ کر پھانسی دینا انتہائی احمقانہ فیصلہ تھا۔ جس کا ردِ عمل فطری تھا۔ لیکن اس فیصلے کو صرف اس بنیاد پر جائز قرار دینے کی کوشش کرنا کے یہ فیصلہ بھارت نے نہیں سعودی عرب نے کیا پاکستان میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کوئی بھی ایسا اقدام جو نا انصافی و انا پرستی پر مبنی ہو چاہے وہ سعودی عرب کی جانب سے ہو یا ایران اسے سر انجام دے اس کی مذمت کرنا پاکستان میں رہنے والے ہر ذی شعور فرد کی ذمہ داری ہے ۔ یہی سوچ پاکستان اور پاکستانی عوام کے لئے مفید ہے اور ایسے عناصر جو معاشرے میں فرقہ واریت کی فروغ کے لئے کسی موقع کی تلاش میں سرگرم رہتے ہیں ان کے لئے ناکامی کا پیغام بھی ثابت ہوگی۔ یہ ذمہ داری پاکستانی حکومت کے ساتھ علماء و فقہاء کی بھی ہے کے وہ ملک میں ایسی فضا ہموار کرنے کی کوشش کریں جس میں لوگ صحیح اور غلط کا ادراک کرتے وقت اپنے مسلک کو درمیان میں نہ لاسکیں۔تاکہ مذمت ظلم کی ہو اور حمایت مظلوم کی!

(Visited 396 times, 1 visits today)

Raza Haidar Naqvi is an internee as a newscaster and reporter at Dhoom News. He’s a content writer and is currently based in Karachi.

2 Comments

  • Tazmeendharian@hotmail.com'

    Tazmeen

    January 6, 2016 at 2:36 pm

    Behtareen aur munasib rawaaya aap ne apnaya, aap ki tehreer se mujhe kaheen nahe laga ke aap biased ho, aap ne ek mazlum ki aawaz ko sahe tarah se qalambund kiya, woh mazloom jo shia sunni, aalame islama aur aalame insaniyat ke liye ek hurriyat ki alamat bungaya hai

    Reply

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے