Here is what others are reading about!

آبرو

آپ نے یقینا لاہور میں ایک پندرہ سالہ لڑکی کی آبروریزی کی خبر پڑھی اور دیکھی ہو گی. اس نو عمر بچی کے ساتھ جنسی  زیادتی کرنے والوں میں چونکہ ایک کردار حکمران سیاسی جماعت سے بھی تعلق رکھتا تھا اس لیئے اس خبر کو میڈیا پر بھی خوب اچھالا گیا. اس بچی نے ہسپتال سے گھر آنے کے بعد اپنے  گھر کی چھت سے کود کر خود کشی کی کوشش کی لیکن گھر والوں نے بچا لیا. پولیس اور وکلا کی جانب سے مجرموں کو بچانے کیلئے اس بچی اور اس کے گھر والوں پر دباو ڈالاجا رہا تھا لہازا اس بچی نے اپنے آپ کو مجرم گردانتے ہوئے اپنی ہی زندگی ختم کرنے کا سوچا  یا شاید اس بچی کے مرکزی ملزم سے تعلقات کو لے کر جس طرح سے اس کیس کا رخ موڑ کر اسے ایک من گھڑت کہانی قرار دینے کی کوشش کی جا رہی تھی  یہ وجہ بھی اس بچی کو اس انتہائی اقدام پر مجبور کر سکتی ہے.

قطع نظر اس بات کے کہ اس زیادتی کا شکار بچی کے ملزم عدنان ثناالہ سے تعلقات تھے یا نہیں جنسی زیادتی بہرحال کسی بھی شکل میں قابل مزمت بھی ہے اور ناقابل قبول بھی. وزیر اعلی پنجاب  کی گڈ گورننس کے دعووں دوارے یقینا یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے اور وہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے.اس سے پہلے وزیر اعلی کے بنائے گئے خصوصی میڈیکل بورڈ میں اس بچی کے خاندان نے بچی کو پیش نہ کیا اور بیماری کا عزر بنا کر اسے گھر لے آئے  یہ اس نوعیت کا  واحد واقع نہیں ہے ملک میں بدقسمتی سے جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی بچیوں کے والدین بجائے قانون کی مدد حاصل کرنے کے خاموشی مناسب سمجھتے ہیں. بجائے قانون کی مدد لینے کے بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں. گزشتہ برس خواتین کے ساتھ زیادتی کے حوالے سے کیسز اٹھا کر دیکھیئے تو اعدادو شمار کے مطابق ہر روز وطن عزیز میں چار خواتین جنسی زیادتی کا شکار بنتی ہیں لیکن ان میں سے صرف 27 فیصد کیس رجسٹر کروائے جاتے ہیں.معاشرتی دباو فوری انصاف نہ ملنا قانون پر عدم اعتماد اور عزت و غیرت کا تصور ان گھناونے جرائم پر خاموشی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے. معاشرے میں جنسی زیادتی کا شکار بننے والی بچیوں کو نہ صرف  ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے بلکہ ہر قدم پر ان کیلئے جینا مشکل بنا دیا جاتا ہے. جنسی زیادتی کا شکار بننے والی خواتین کے ساتھ ایسے برتاو روا رکھا جاتا ہے جیسے کہ وہ خود کوئی مجرم ہوں. اس معاشرتی دباو کو جنسی زیادتی  کا شکار بچیوں کے خاندان قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں یوں یہ بچیاں خاموشی سے اندر ہی اندر گھٹ کر ایک زندہ لاش کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں. ایک طرح سے یہ اپنے ساتھ  زیادتی کرنے والے مجرم کے بجائے اپنے آپ کو مورد الزام ٹھہرانے لگ جاتی ہیں. جو کیسز تھانوں میں رجسٹر ہوں بھی جائیں ان کے تفتیش اور پھر عدالتوں کی سماعت اور پیشیوں میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ خود اس زیادتی کا شکار خاتون اور بچی اگلے جہان  سے رخصت ہو جاتے ہیں. معاشرے میں غیرت کا تصور بھی خوب ہے اپنی بہن بیٹی یا بیوی کو پردے سے لیکر تمام اخلاقیات پر من و عن عمل کرنے کا درس دیا جاتا ہے جبکہ بیٹوں اور بھائیوں کو مکمل چھوٹ ہوتی ہے کہ وہ چاہیں تو کسی کے بھی پردے میں تاکا جھانکی کریں.

ایک لڑکا پسند کی شادی کرنا چاہے تو لو میرج اور سر فخر سے بلند لیکن اگر یہی فعل کوئی بچی دہرانا چاہے تو گناہ اور رسم و رواج سے بفاوت اور کئی دفعہ بات غیرت کے نام پر قتل تک جا پہنچتی ہے. تعلیم سے لیکر روزگار کے مواقع تک زندگی کے تمام شعبوں اور مرحلوں میں بچیوں کا استحصال کر کے ہم ایک طرح سے خود ہی انہیں کمزور بناتے ہیں اور محض جنسی تسکین  کا سامان یا گھر کا چولہا جلانے اور صفائی کرنے والی ملازمہ کے طور پر پیش کرتے ہیں.  ان بیچاریوں کے ساتھ تو زیادتی ان کے آنکھیں کھولتے ہی شروع ہو جاتی ہے جب بیٹے کی پیدائش پر جشن اور بیٹی کی پیدائش پر خاموشی یا ندامت سے کام لیا جاتا ہے. ولی سے لیکر ونی اور کاروکاری کی بھیانک رسموں میں بھی انہیں قربانی کا جانور بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے.  قدم قدم پر اپنی غیرت کا محور سمجھی جانے والی یہ بچیاں بھی  انسان ہوتی ہیں جو کہ اپنا مکمل وجود رکھتی ہیں اور جنہیں کسی بھی انسان کی طرح اپنی زندگی مرضی کے مطابق بسر کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے.  وہ بچیاں جو جنسی زیادتی کا شکار بنتی ہیں انہیں فوری سائیکلوجیکل کونسلنگ درکار ہوتی ہے تا کہ ان کی شخصیت کو ٹوٹ پھوٹ سے بچایا جا سکے اور انہیں یہ باور کروایا جا سکے کہ وہ غلط نہیں اور زیادتی کرنے والا اصل  مجرم ہے. لیکن اس کے برعکس زرا معاشرتی رویے دیکھئے  جنسی زیادتی کی خبریں مصالہ لگا کر پیش کی جاتی ہیں ایسے ایسے ٹکرز اور شہ سرخیاں لگائی جاتی ہیں کہ خبر ایک مکمل جنسی داستان نظر آنا شروع ہو جاتی ہے.  پڑھنے اور دیکھنے والے خوب مزے لے لے کر ایسے واقعات کی کہانیاں  دیکھتے اور سنتے ہیں.گلی محلے پڑوس دیہات میں جونہی یہ بات عام ہوتی ہے تو اس پر قیاس آرائیاں اور اپنے اپنے تبصرے شروع کر دیئے جاتے ہیں. یوں گلی محلوں کی سطح پر الفاظوں اور قصوں کے زریعے بھی اس بچی کا ریپ کیا جاتا ہے. خاندان برادری والے یوں نادم نظر آتے ہیں جیسے بچی نے یہ سب جان بوجھ کر کیا ہو. اگر کوئی بھول کر تھانے چلا جائے تو ایسے بے تکے اور  واہیات سوالات کیئے جاتے ہیں کہ شکایت کنندہ خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھتا ہے.کئی کیسز جیسا کہ یہ تازہ لاہور میں زیادتی کا کیس ہے ان میں سیاسی پہلو کو کیش کرنے کیلئے متاثرہ بچیوں کو ایک تماشہ بنا دیا جاتا ہے. یوں ایک جنسی زیادتی کے بعد ہم سب مل کر اپنے اپنے رویوں سے متاثرہ بچیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرتے ہی چلے جاتے ہیں. زیادتی جنسی ہو جسمانی یا پھر الفاظ کے زریعے سے یہ ایک جیسی نوعیت کے ہی جرم ہیں.بدقسمتی سے خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی زیادہ تر این جی اوز بھی اس سلسلے میں اپنا کردار نبھانے میں ناکام ہیں. یہ این جی اوز اعداد و شمار کے ضمن میں تو خوب چست دکھائی دیتی ہیں لیکن اصل مسائل کے حل کیلئے اپنا کام ٹھیک سے انجام نہیں دے پاتیں.قومی اسمبلی میں بھی خواتین کی اچھی خاصی تعداد ہونے کے باوجود اس گھمبیر مسئلے پر کوئی خاتون ممبر قومی اسمبلی  آواز نہیں اٹھاتی. جب تک حکومت اور سماجی تنظیمیں مل کر ان  فرسودہ رویوں اور خیالات کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کریں گے تب تک یہ بچیاں اپنی عصمتیں لٹواتی رہیں گی. قوانین جتنے مرضی بنا لیئے جائیں اگر معاشرے میں بسنے والے افراد کی بنیادی سوچ کو تبدیل کرنے کیلئے اقدامات نہ کیئے جائیں تو قوانین اسی طرح بیکار اور بے اثر رہتے ہیں. بچیوں کو کمتر اور کمزور سمجھنے کے خیالات کو ختم کرنے کیلئے گلی محلوں کی سطح پر رابطہ مہم اور نصاب میں جنسی زیادتی اور اس سے بچاو کے متعلق باب شامل ہونے چائیں. میڈیا کے زریعے اس سوچ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے کہ زیادتی کا شکار بچیاں مجرم نہیں ہوتیں اور اس زیادتی کے خلاف آواز اٹھانا ہی اصلی غیرت اور بہادری ہے نا کہ خاموشی سے دبک کر بیٹھ جانا. رپورٹرز حضرات جو کہ ایسے واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہیں انہیں مکمل پیشہ وارانہ تربیت دینی چاہیے کہ اس طرح کی خبر کو بغیر جنسی لزت کا سامان بنائے رپورٹ کیسے کرنا ہے اور زیادتی کی شکار بچیوں یا ان کے خاندان سے کسطرح پیش آنا ہے. ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت فوری اور ہر ہسپتال کی لیبارٹری میں موجود ہونی چاہیے تا کہ مجرموں کے تعین میں تاخیر نہ ہو.  ایسے کیسز کو دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کرنے والی  عدالتوں کی طرح مخصوص عدالتیں بنا کر سننا چاہیے اور فورا اس کا فیصلہ کرنا چاہیے. غیرت کے تصور کو عورت کے ساتھ نتھی کرنے والے خیالات کی حوصلہ شکنی کرنے کیلئے علمائے کرام سے مشاورت کرنی چاہیے. سرکاری سطح پر ماہرین  نفسیات کی مدد سے اس موضوع پر بحث مباحث کا آغاز کرنا چاہیے. ان بچیوں کے ساتھ زیادتی کے علاوہ میریٹل ریپ یعنی شادی شدہ زندگی میں بھی خواتین کے ساتھ بنا اجازت  یا بنا مرضی کے زبردستی مباشرت جیسے فعل کو بھی زیر بحث لانا چاہئے. یہ بچیاں کل کو مائیں بنتی ہیں اور معاشرہ ہمیشہ صحت مند شخصیت والی ماوں کے زریعے ہی مثبت سمت میں بڑھتا ہے. جس ملک کی نصف سے زائد آبادی خواتین پر مشتمل ہو اس ملک میں خواتین سے زیادتی جیسے جرم کو ہم رسوم و رواج کی آڑ میں چھپا کر کسی بھی قسم کی ترقی کا سوچ بھی نہیں سکتے. ترقی تو خیر پھر آگے کی چیز ہے شاید ہم اس رویے کے ساتھ انسانی حقوق کی تکمیل کرنے والا  معاشرہ بھی نہیں کہلا  سکتے. ہم سب کو اپنے اپنے رویوں میں اس سنگین جرم کے خلاف تبدیلی لا کر خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے عمل کو روکنے کی اشد ضرورت ہے

(Visited 780 times, 1 visits today)

Imad Zafar is a journalist based in Lahore. He is a regular Columnist/Commentator at Daily Ittehad, Resident Editor at Free Press Publications and Resident Editor at World Free Press. He is associated with TV channels, Radio, news papers,news agencies political, policies and media related think tanks and International NGOs.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے