Here is what others are reading about!

سچ بولنا ایک جرم ہے

سچ بولنا ایک جرم ہے اور ہم نے یہ جرم قبول کیا ۔ دنیا میں معلوم نہیں کب سے مگر ہمارے وطنِ عزیز میں سچ اور حق بولنے پر قتل ِو غارتگری کا سلسلہ اس وقت ہی شروع ھو گیا تھا جب نام نہاد دین پرستوں نے فتوے کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنے فرقے کے علاوہ دوسرے فرقے کے لوگوں کو کافر کہنا شروع کردیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ۔

ویسےتو دنیا بھر کی طرح ہم بھی اکیسویں صدی میں قدم رکھ چکے ہیں مگر ہم آج تک غلامی کی سوچوں سے باہر نہیں نکلے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ رحمتہ اللعلمین کے نام پر قتل کرنے والوں کو غازی کا رتبہ دے دیتے ہیں تو کبھی برقعہ میں فرار ہونے والے مولوی کو اسلام کا سپاہی تصور کرتے ہیں ۔

افسوس یہ ہے کہ جس قوم کو جمعہ مبارک کے میسجزبھیج کر جنت مل جانے کا یقین ہو،اور عملی باگ دوڑ کے بجائےدرود کے تحفے بھیجنے سے ہی فرصت نہ ہو اس قوم میں مدرٹریسہ، بل گیٹس یا نیلسن منڈیلا نہیں مولانا ڈیزل اور ممتاز قادری جیسے ناکارہ لوگ ہی پیدا ہوتے ہیں۔

جہاں سچ بولنے پر بات ہو رہی ہے وہاں یہ بات بھی اکثرذہن میں گھومتی ہے کہ ہماری ہاں اپنے وطن عزیز سے زیادہ سعودی عرب کے دفاع کا ترجیح حاصل ہے مگر ایک بات جو سمجھ سے بلکل بالاتر ہے وہ یہ کہ سعودی عرب کی شریعت غریب ملکوں کے لئے الگ ہے۔ اور امریکہ اور یورپ کے لئے الگ ۔اکثر سننے میں آتا ہے کہ کسی پاکستانی کا سرقلم کردیا ۔ تو کسی ہندوستانی عورت کے بازو کاٹ دیئے۔ کسی فلسطینی شاعر کا سرقلم کردیا گیا۔ کسی مصری کے ہاتھ کاٹ دیئے یا پھر کسی ایرانی کو کوڑے لگائے گئے،مگر کبھی یہ نہیں سنا کہ کسی امریکی کا سرقلم کردیا گیا ہو یا کسی یورپی کو کوڑے مارے گئے ہوں۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں بھی مذہب نے نام پر یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے بس طریقہ تھوڑا مختلف ہے ’اگر آپ نے اپنے دشمن سے چھٹکارہ پانا ہے تو اس پر توہینِ رسالت کا الزام لگا دیں‘۔

اگر آپ کو کسی کی شکل نہیں پسند، اگر ترقی کی دوڑ میں کوئی آپ سے آگے ہے، اگر آپ کو کسی کا پلنا پھولنا گوارہ گزرتا ہے، کسی کاعلمی مالی لحاظ سے مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں آپکا رفیق آپکے اعصاب پر سوار ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہر قسم کے دشمن سے چھٹکارا پانے کا واحد حل توہینِ سالت کا ایک الزام باقی کام عاشقان رسول خود کریں گے اور لگتا یہ ہے کہ یہ آفر پاکستان میں تا قیامت موجود رہے گی۔

پاکستانی مسلمان بھی عجیب قوم ہے ، یہاں دیوبندی وہابی کو کافر سمجھتے ہیں ،وہابی بریلوی کو کافر سمجھتے ہیں ، دیوبندی بریلوی مل کر شیعہ کو کاگُر سمجھتے ہیں، اور شیعہ دیوبندی، وہابی کو خارجی ،تکفیری کافر اور باقیوں کو گمراہ سمجھتے ہیں پھر یہ سارے کافر مل کر احمدیوں کا کافر سمجھتے ہیں۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرقہ واریت یہود و ہند کی اسلام کے خلاف سازش ہے ۔

”ویسے جس معاشرے میں ایمانداری کا معیار داڑهی اور شرافت کا معیار پردہ ہو وہاں باشعور افراد کافر کہلائیں تو تعجب نہیں ہونا چاہیئے“

 کسی بھی شخص کو مذہب کے نام پر مارنا خدمت نہیں قتل ہے خدارا فرقہ واریت کو ہوا دینے والے، مدہبی منافرت پھیلانے والے لوگوں سے ہوشیار رہیں یہ لوگ مختلف بھیسوں میں، مذہب کے لبادے میں اپ کو دوسرے فرقہ  سے نفرت پھیلانے پر اکسائیں گے۔

رائج ہے میرے ملک میں نفرت کا قاعدہ

جس سے ہو اختلاف اسے مار دیجیئے

(Visited 801 times, 1 visits today)

Rao Mohsin Ali Khan is Journalist / Blogger based in Karachi who believes humanity as his religion. He is working in a news channel. He can be reached out on twitter @Rao_Mohsin.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے