Here is what others are reading about!

بات تو سچ ہے مگر…

ٹیلی ویژن پر بریکنگ نیوز دیکھ کر دل خوشی سے باغ باغ ہوجاتا ہے۔بلاشبہ آدمی فرسٹیشن کا شکار خود بہ خود ہوجاتا ہے ۔
لگتا ہے کہ ملک میں کوئی بھلا کام شاید نہیں ہوتایا اگر ہوتا ہے تو اتنا بڑا نہیں ہوتا جس کی کوریج کی جاسکے.
کہیں VIP پروٹوکول پر تنقید کی جارہ ی ہوتی ہے تو کہیں 2015 کی شادی اور بربادی پر بھپتی کسی جارہی ہوتی ہے۔2015میں کتنے سانحات ہوئے ،کیا ہم نے اُن سے کوئی سبق حاصل کیا؟ہم لوگ خود حادثوں کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اُس پر ملال کرکے اپنا جذبہ ایمانی کا فریضہ ادا کرسکیں۔ناقص مواد استعمال سے عمارتیں،پل تعمیر ہوتے ہیں ۔پھر زمین بوس ہوجانے اور قیمتی جانیں چلیے جانے پر لاکھوں روپے لواحقین کو تھما دئیے جاتے ہیں جو ایک انسانی جان کی قیمت کے برابر سمجھی جاتی ہے۔اگر وہی پیسے پہلے ایمانداری سے لگا دیے جاتے تو شایدجذبہ ایمانی کو جگانے کی ضرورت پیش ہی نہ آئے۔
کچھ لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو ادھار لے کر واپس نہیں کرتے مگر اسی ادھار کے پیسوں سے محلے میں مٹھائیاں ضرور تقسیم کرتے ہیں کیونکہ ”جذبہ ایمانی”بھی تو جگائے رکھنا پڑتا ہے نا؟بات تو سچ ہے نا ؟؟؟
لاکھوں روپے کا چراغاں کرکے ہم دینی خدمت کرتے ہیں مگر وہی پیسے کسی مستحق کو دینے میں ہچکچاتے ہیں اور جانچ پڑتال کرتے ہیں کہ کہیں ہمارے پیسے غلط ہاتھوں میں نہ چلے جائیں۔
مدد ضرور کریں مگر ”مستحق”کو بھکاری نہ بنائیں۔ایک واقعہ ملاحظہ کیجئے
ایک بستی میں کوئی بھوکا شخص آ گیا.. لوگوں سے کچھ کھانے کو مانگتا رہا مگر کسی نے کچھ نہیں دیا.. بیچارہ رات کو ایک دکان کے باہر فٹ پاتھ پر گیا.. صبح آ کر لوگوں نے دیکھا تو وہ مر چکا تھا..
اب “اہل ایمان” کا “جذبہ ایمانی” بیدار ہو۔ا
بازار میں چندہ کیا گیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے دیگیں چڑھا دی گئیں.. یہ منظر دیکھ کر ایک صاحب نے کہا.. ” ظالمو ! اب دیگیں چڑھا رہے ہو. اسے چند لقمے دے دیتے تو یہ یوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نا مرتا..”
پچھلے دنوں ایک تاجر نے ایک مزار پر دس لاکھ روپے مالیت کی چادر چڑھائی جب کہ مزار کے سامنے کے محلے میں درجنوں ایسے بچے گھوم رہے ہوتے ہیں جنہوں نے قمیض پہنی ہوتی ہے تو شلوار ہے تو قمیض نہیں.. 
حضرت مجدد الف ثانی فرمایا کرتے تھے کہ تم جو چادریں قبر پر چڑھاتے ہو اس کے زندہ لوگ زیادہ حقدار ہیں
ہمارے آس پاس ایسے کئی واقعات گردش کرتے ہیں جس کو کبھی ہم گردانتے تک نہیں
ایک شخص رکے ہو ئے بقایاجات کے لیے بیوی بچوں کے ساتھ مظاہرے کرتا رہا.. حکومت ٹس سے مس نا ہوئی.. تنگ آ کر اس نے خود سوزی کرلی تو دوسرے ہی روز ساری رقم ادا کر دی گئی.. اسی طرح ایک صاحب کے مکان پر قبضہ ہوگیا.. بڑی بھاگ دوڑ کی مگر کوئی سننے کو تیار نہی ہوا
اسی دوران دفتر کی سیڑھیاں چڑھتے ھوئے اسے دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا.. پولیس نے پھرتی دکھائی اور دوسرے ہی دن مکان سے قبضہ ختم کروا دیا..
فائدہ..؟؟؟
کیا اب اس مکان میں اس کا ہمزاد آ کر رہے گا..؟؟؟
کیا ہما را “جذبہ ایمانی” صرف مردوں کے لیے رہ گیا ہے..؟؟؟
ایک منٹ کو رکیے اور آنکھیں بند کر کے اپنے ارد گرد معاشرے پر نظر دوڑائیں.. اپنے پڑوسیوں پر ‘ اپنے رشتے دار وں پر ‘ جو آپ کی گلی میں ٹھیلے والے ہیں، اس پر ‘ جو ایک مزدور آپ کے محلے میں کام کر رہا ہے اس پر ‘ جو آپ کے ہاں یا آپ کے دفاتر میں چھوٹے ملازم ہیں ان پر..
یہ سب لوگ ہمارے کتنا قریب رہتے ہیں اور ہمیں معلوم بھی نہیں کہ وہ کس عذاب سے گزرہے ہیں.. ہمیں اس لیے نہی معلوم کہ ہم ان کے قریب ر ہتے ہوئے بھی ان سے دور ہیں.. کیا ہم کبھی اُن کا احساس کرتے ہیں؟.. کبھی ہم نے ان سے کچھ پوچھا بھی نہی بلکہ شائد ہمیں ان “چھوٹے” لوگوں سے بات کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے..
کبھی کبھی مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہم “جوش ایمان” میں ایک ایک گلی میں تین تین چار چار مساجد بنا دیتے ھیں ‘ انھیں خوب سجا دیتے ھیں لیکن اسی گلی میں کئی غریب رات کو بھوکے سوتے ہیں ان کی طرف کوئی دھیان ہی نہیں دیتا.. کسی بیمار کے پاس دوائی خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے اس کی مدد کو کوئی “صاحب ایمان” آگے نہیں آتا..
ہم   سب کے ارد گرد ایسے ہزاروں لوگ موجود ہیں جو مجبور ہیں’ جو بیکس ھیں ‘ جو غریب ہیں ‘ جن پر ہم کبھی توجہ ہی نہی دیتے.. ان کو اپنے قریب کیجیے.. ان کی جو ممکن ہو مدد کیجیے.. اور جو آپ کے بس میں نہ بھی ہو تو دل جوئی کیجیے ان کی.. یہ کام ہم سب کو مل کر کرنا ہے..!!کریں گے نا؟

(Visited 739 times, 1 visits today)

Saad Shahid is content writer at Sarim Burney Trust International, Youth Department Reporter at Daily Azad Riasat and Special Correspondent at News Online.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے