Here is what others are reading about!

جسم فروش

نئے سال کاآغاز ہے۔گزرے وقت کی یادیں ہر دم مجھے گھیرےہیں۔جوانی کا وہ وقت میرے سامنے ہے جب  خون  اور جذبات کی گرمی کے جوش میں ہر قسم کی برائی کرتاچلا جاتا تھا۔ مجھے وہ دن آج بھی  یاد ہے جب مجھے پھر سے اپنے پیسے کے زور سےکسی کی عزت کے ساتھ کھیلنا تھا۔ وہ دن جب پھرسے کسی مظلوم اور تنگ دست کے سینے سے  مجھے اس کی عزت کی چادر  چاک کرنی تھی ۔ اپنی تشنگی کی سیرابی پرجوش اور فخر  کے احساسات سے مطمئن ۔ میں  یہ سب پہلے بھی آسانی سے کر تارہا ہوں ۔پھر وہ تو سال کا آخری دن تھا۔ ایسے دنوں میں تو شراب اور شباب دونوں ہی ضروری ہیں۔

میں ہمیشہ کی طرح اسی جگہ پہنچا جہاں میں اپنی ہوس کی تشنگی دور کیا کرتا تھا۔ سوچا کسی عمدہ قسم کی لڑکی کے ساتھ کھیلا جائے ۔ پیسے دیئے اور ایک کمرہ میں چلا گیا ۔ مجھے کوئی دکھائی نہ دیا۔اسی لمحے کمرہ کے ایک کونے سے سسکیوں کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ وہ ایک سہمی  ہوئی 20 سال کی لڑکی  تھی جو  منہ چھپائے  بیٹھی تھی۔ جیسے ہی اس کا چہرہ میرے سامنے واضح ہواتو میں کچھ پل کے لیے خود سے بیگانہ ہوگیا۔وہ خوبصورت کالی بڑی آنکھیں  اور ان میں ڈھیر سارا پانی کہ ہر کوئی چاہے کہ ان میں ڈوب جائے۔ناک باریک سی چھوٹی سی ۔ سرخ خوبصورت ہونٹ۔گلابی بھرے ہوئےگال،گھنی اور بکھری زلفیں ! دل نے چاہا کہ اسی وقت اس کی خوبصورتی پر تحریر لکھ ڈالوں ،لیکن میرا یہاں آنے کا ارادہ تو کچھ اور تھا۔

اسکا ڈر بھانپتے ہوئے میں نے پیار سے اسے بلایا کہ ادھر آو ٔ اور ڈرو مت۔وہ سہمی اور اپنے اندر ہی سمٹی ہوئی قریب آئی اور زمین پر بیٹھ گئی۔میں نے بھی اپنی جگہ چھوڑی اور اس سے ذرا فاصلہ پر زمین پر ہی بیٹھ گیا۔اس نے سہمے ہوئے الفاظ سے  مجھ سے پوچھا کہ آپ میرے ساتھ کچھ کریں گے تو نہیں؟ میرے جسم کو آج تک نہ کسی نے چھوا ہے اور نہ ہی دیکھا! میں ہل کر رہ گیا اور اپنے آپ سے مخاطب ہوا کہ پھر یہ لڑکی یہاں کیسے ؟میں نے اس سے یہ نہیں پوچھا بلکہ جواباً کہا کہ میں یہاں آیا تو کسی اور ارادہ سے تھا لیکن اب میں تمہارے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرونگا۔

اس نے مجھے سے پوچھا کہ کیا آپ اللہ کو مانتے ہیں ؟؟میں نے کہاں’’ہاں‘‘ بے شک۔اس نے کہا میں نہیں مانتی اگر اللہ ہوتا تو میں یہاں نہ ہوتی!!! اس نے پھر پوچھا ، کیا آپ  مانتے ہیں کہ اللہ سب سنتا اور جانتا ہے؟؟اس نے پھر وہی کہا کہ میں نہیں مانتی کیونکہ اس نے میری ایک نہیں سنی  اگر وہ سب جانتا ہوتا تو اسے پتا ہوتا کہ میں یہا ں کے قابل نہیں  ، میں تو اس کی ماننے والی تھی اس  سے محبت کرنے والی تھی ، میری اتنی بھیانک آزمائش لینے کی کیا ضرورت تھی؟میرے پاس تو پہلے ہی اس کے سوا کوئی نہ تھا میں تو ابد سے آخر تک  بس اسی کے رحم و کرم پر تھی پھر کیوں اس نے ایسا کیا؟اس کی باتیں ایسے کہ جیسے میرے پر جادو کر رہی تھیں اور تہہ بہ تہہ  میں انہیں اپنے اندر  شامل ہوتا محسوس کر رہا تھا  اس نے پوچھا کہ آپ  نے کبھی کسی  محبت کی ہے؟ میں نے کہا ’’ نہیں ‘‘  اس نے کہا میں نے کی ہے ، ابھی  ابھی آپ سے کی ہے ، میں چونک گیا  ، میں نے کہا کہ میں  سمجھا تھا کہ تم واقعی میں مجبور ہو  لیکن  تم  نے یہ کیا بیکار بات کر دی ہے ۔ اس نے کہا کہ آپ پہلے لڑکے ہو جو میرے سامنے آئے اگر آپ میری عزت کو پامال کرتے تو میرا وجود ہی ختم ہو جاتا۔آپ کو دیکھ کر میں  یہ آس رکھ سکتی ہوں کہ دنیا ابھی اتنی نہیں بدلی جتنی میں سمجھتی ہوں !مجھ  میں لڑنے کی کچھ قوت بیدار ہو گئی ہے ۔میں نے کہا کہ کیا میں آپ کے ہاتھ چھو سکتا ہوں؟؟؟اس نے کہا کہ آپ نے میری قیمت  دی ہے۔ حقیقت میں توآپکا حق ہے کہ آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور رونے لگ گیا اتنا رویا اتنا رویا جتنا کبھی اپنی پوری حیات میں نہ رویا ہونگا۔اس نے  مجھے بس اتنا کہاکہ اللہ ہے !میں مانتی ہوں اس نے پھر یہ بھی کہاکہ میں یہ بھی مانتی ہوں کہ وہ سب سنتا اور جانتا ہے میری آہ بیکار نہیں تھی ۔پھر اسنے کہا کہ آپ کے جانے کا وقت ہو چکا ہے ۔میری زندگی مجھے مبارک اور آپ کی نئی زندگی آپ کو مبارک ۔آج بیٹھا اس لڑکی کے الفاظ  اور اس کی صورت بھلائے نہیں بھول پاتا ۔معلوم نہیں وہ کہاں ہو گی ۔ معلوم نہیں ۔ بس اتنا معلوم ہے کہ اس  جسم فروش لڑکی نے  مجھے بدل کر رکھ دیا تھا !

(Visited 1,093 times, 1 visits today)

Mehtab Ali Zaidi is a graduate of Karachi University. He is a fiction writer who writes on social and moral issues.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے