Here is what others are reading about!

قحط الرجال

کہتے ہیں قدرت  جب کسی معاشرے یا قوم سے ناراض ہوتی ہے تو وہاں بڑے آدمی اور دماغ پیدا کرنا بند کر دیتی ہے اسے قحط الرجال کہا جاتا ہے۔  اس قحط میں معاشرے میں ایسی شخصیات کا کال پڑھ جاتا ہے جو حقیقی معنوں میں بڑے کہلانے کے لائق ہوتے ہیں اور انکی جگہ چھوٹے چھوٹے بونے لے لیتے ہیں جو فکری اور نظریاتی اعتبار سے بانجھ ہوتے ہیں نتیجتا اسکا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے اور معاشرے میں ایسے بونوں کی بہتات ہو جاتی ہے جو اپنے خول میں بند چھوٹی چھوٹی زاتی کامیابیوں کو بڑا ظاہر  کرنے اور دکھانے  میں مصروف رہتے ہیں جب ایسے لوگ دانشوروں اور لیڈرز کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں تو پھر عمومی طور پر معاشرے فکری اور نظریاتی اعتبار سے تنزلی کا شکار ہو جاتے ہیں۔  یوں  افراد میں سوچنے سمجھنے کی حس ختم ہو جاتی ہے اور  پھر معاشرہ بنا کسی منزل یا مقصد  کے ایک ان دیکھی لاحاصل منزل کی طرف چلنے لگتا ہے۔ بڑے دماغ اور شخصیات معاشروں کی بقا اور ارتقا کیلیے ایسے ہی ضروری ہوتے ہیں جیسے انسانی زندگی کیلیے آکسیجن۔ بڑے آدمیوں کی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں جو انہیں عام آدمیوں سے ممتاز کر کے ایک خاص درجہ دیتی ہیں۔  یہ لوگ اپنی زندگی کا ایک مقصد بناتے ہیں آور پھر چاہے حالات کی آندھیاں ہو یا  واقعات کے طوفان یہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ دنیا کا کوی خوف کوی لالچ انہیں جھکا نہیں سکتا اور کسی بھی قسم کا دباو انہیں توڑ نہیں سکتا۔

اس ضمن میں نیلسن منڈیلا کی مثال سامنے ہے جو غالبا موجودہ دور کا آخری بڑا لیڈر تھا اور جسنے تمام تر صعوبتوں کے باوجود اپنی قوم کی آزادی کیلیے مرد آہن کی طرح کھڑے ہو کر اس مقصد کو حاصل کیا۔  محمد علی جناح جنہیں ہم قائد اعظم کے لقب سے پکارتے ہیں انہوں نے جنوبی ایشیا کا نقشہ تبدیل کر کے وطن عزیز کی بنیاد رکھی جس وقت وہ آزادی کی جدو جہد کر رہے تھے انہیں ٹی بی کا عارضہ لاحق تھا لیکن پاکستان بننے تک جناح نے کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دی۔   امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کے حقوق کیلیے لڑنے والے ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کو ہی لے لیجیے جو جب جلسہ کرتا تھا تو لوگوں کی تعدادـ دیکھ کر دنیا کی آنکھیں دنگ رہ جاتی تھیں لیکن اسـنے بدترین مخالف کو بھی کبھی بدتمیزی سے نہیں پکارا اور جس کی مشہور تقریر آئی ہیو آ ڈریم میں جو ویژن تھا کہ 40 سے 50 برس بعد امریکہ میں ایک سیاہ فام صدر ہو گا وہ ابامہ کی صورت میں سچ ثابت ہوا۔  ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جب یہ ویژن دے رہا تھا تو مخالفین اسے دیوانے کا خواب سمجھتے تھے کیونکہ اسوقت امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کو ووٹ ڈالنے کا اختیار بھی نہیں تھا۔ اسی طرح قائد اعظم جب پاکستان کی بات کرتے تو مخالفین طنز کے نشتر برساتے کہ جو شخص اردو بھی نہ بول سکتا ہو وہ عوام کو کیسے ایک الگ وطن کی طرف راغب کرے گا لیکن سب نے دیکھا کہ الگ وطن بنا۔ ان تمام شخصیات میں دو قدریں بے حد مشترک ہیں ایک انکا ویژن اور دوئم انہوں نے خود کبھی لیڈر ہونے کا دعوی نہیں کیا۔ اپنے عمل کی وجہ سے انہیں عظیم رہنماوں میں شامل کیا گیا۔ اب زرا اپنے موجودہ رہنماوں اور   موجودہ لیڈر شپ کی طرف دیکھئے  جو روز گلے پھاڑ پھاڑ کر اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم تمہارے رہنما ہیں اور ہم ہی تمہارے  نجات دہندہ ہیں۔ جو تمام مسائل کو جادو کی چھڑی سے فورا حل کر دیں گے۔ یہ لوگ خود کو لیڈر  ڈیکلیئر کرتے ہیں اور قصیدہ خوانوں کو کرائے پر رکھ کر صبح شام ایک ہی بین بجواتے ہیں کہ ان کا ہم پر بے حد عظیم احسان ہے  جو یہ میدان سیاست میں یا دفاع کے میدان  میں آئے کیونکہ اگر یہ سیاست اور دفاعی میدان  میں نہ آتے تو شاید قوم زندہ ہی نہ رہتی۔ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے یہ نام نہاد رہنما ایک اصول کو مانتے ہیں اور وہ ہے طاقت کا حصول۔ یہ اپنی الگ الگ جماعتیں بناتے ہیں اور پھر سرمائے تعلقات اور کرائے  کے دانشوروں کے ذریعے عوام کے زہنوں کو اسیر بنا دیتے ہیں۔

گزشتہ 68 برس سے یہ کھیل اسی طرح جاری ہے۔ اس طبقے کا سارا انحصار دانشوروں پر ہوتا ہے۔  دانشوروں میں لکھاری انٹیلیکچول صحافی اینکرز اور اعلی یونییورسٹیز کے اساتذہ  اور مزہبی علمائے کرام  شامل ہوتے ہیں۔ یہ طبقہ عام آدمی کو گزشتہ  68 برس سے بڑی کامیابی کے ساتھ دانشوری کے نام پر بیوقوف  بناتا آیا ہے۔  ادب سے لیکر صحافت ہو یا لکھنے سے لیکر تحقیق ایک گروہ ہے جو چند ایسے  مخصوص لوگوں کو اسـں شعبے  میں  آنے کی اجازت دیتا ہے کہ جو فکری  طور پر اپاہج ہوتے ہیں لہذا ان کا بھرم بھی قایم رہتا ہے اور وظیفہ بھی چلتا رہتا ہے۔  فیض احمد فیض سے لیکر حبیب جالب تک اور سعادت حسن منٹو سے لیکر جون ایلیا تک ان تمام  بڑے لوگوں کے ناموں اور تحریرات  کو استعمال کر کے یہ خود ساختہ دانشور طبقہ آرام سے اپنی دنیا میں مست رہتا ہے۔  جب کسی قوم میں دانشوری کے نام پر قصیدہ خواں اور فکری اپاہج لوگ آ آ جائیں تو اس معاشرے میں کسی بھی قسم کی تخلیقی سوچ کریٹیکل تھنکگ اور دلیل جیسی چیزیں ناپید ہو جاتی ہیں جسکے نتیجے میں شخصیت پرستی کا مرض عام ہو جاتا ہے اور آپ کو پھر زندگی کے ہر شعبے میں چھوٹے چھوٹے بونے نظر آتے ہیں جو اس شخصیت پسندی کے مرض کا فائد ہ اٹھاتے ہوے معاشروں اور قوموں پر اپنے آپ کو مسلط کر لیتے ہیں۔ جب صبح شام ایک معاشرے کو دیکھنے اور پڑھنے کو قصیدہ گوئی اور تخلیقی سوچ سے عاری مواد ملے تو پھر زہنوں کا بنجر ہو جانا ایک معمولی بات ہے۔ شخصیت پرستی سے متاثر زہن کسی بھی قسم کے سوال جواب اٹھانے سے قاصر ہو جاتے ہیں اور اپنی اپنی پسندیدہ شخصیات کے خلاف کسی بھی بات کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ یوں سیاست سے لیکر صحافت اور ادب سے لیکر مزہب تک ان تمام شعبوں میں بت بٹھا دیے جاتے ہیں اور ان بتوں کے پوجنے والے لاشعوری طور پر بت پرستی کے کبھی نہ ختم ہونے والے سلسلے میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ نسل در نسل بت پرستی کا یہ سلسلہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری رہتا ہے۔ ایسے میں انتہائی عیاری اور  چالاکی کے ساتھ بت پرستی سے انکار کرنے والوں کیلیے فتوی ساز فیکٹریاں اور اسناد  تقسیم کرنے والے ادارے اور فیکٹریاں  بھی بنا دیے جاتے ہیں جو حب والوطنی سے لیکر قوم پرستی اور غدار سے لیکر کافر تک کے فتوے اور ڈگریاں انتہای آرام سے دیکر کسی بھی دلیل والے شخص یا بت شکن انسان کو مارنے کیلیے کافی ہوتے ہیں۔ سوچ و سمجھ سے عاری بت پرست ان ڈگریوں اور فتووں کے جاری ہوتے ہی گدھ کی طرح شکار پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور اپنی اپنی محرومیاں اور ڈیپریشن توہین یا  غداری کے مرتکب سوچ کے ملزم جو کہ حقیقتا بت شکن پوتا ہے اس  پر نکالتے نظر آتے ہیں۔ پرانے زمانے میں ہڑپہ اور موہن جودڑو میں غلاموں کو بڑے بڑے قید خانوں میں رکھا جاتا تھا جہاں ان سے پورا دن آٹا پیسنے کا کام لیا جاتا تھا اور پھر جب رات کی تاریکی ہوتی تو انہیں ان کے قید خانوں کی سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا جاتا۔ پورا دن کی مشقت سے تھکے ہارے ان غلاموں کو رات میں کھانے کیلیے کچھ مقدار میں کھانا بھی دے دیا جاتا تھا تا کہ وہ زندہ رہ سکیں اور روشنی پھوٹتے ہی پھر سے مشقت کا آغاز کر سکیں کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ صدیوں جاری رہا اور آپ اگر ابھی بھی ہڑپہ یا موئن  جودوڑو کا دورہ کریں تو ان قید خانوں کے کھنڈرات دیکھ سکتے ہیں۔ یہ غلامی کا سلسلہ قحط الرجال کے شکار معاشروں میں آج بھی اسی طرح جاری ہے فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ اب اسیری کا طریقہ بدل گیا ہے۔ غلام اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ آزاد ہیں پورا دن اپنے اپنے حصے کا آٹا پیسنے کے بعد مشقت سے تھکے ہارے یہ لوگ تاریکی ہوتے ہی اپنے اپنے گھروں کے قید خانوں کو برقی قمقوں سے روشن کرتے ہیں اونچی آواز میں ٹیلی ویژن چلا کر یا اپنے جیسے کچھ اسیروں سے بات کر کے زندگی کے شور میں گم ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ فکری اور زہنی غلامی کے طوق سے پیدا شدہ خلا کو دور کرنے کیلیے یہ لوگ کبھی مساجد کا تو کبھی درباروں کا کبھی  کوٹھوں کا اور کبھی قحبہ  خانوں کا رخ کرتے ہیں۔ یا اپنے ہی قبیلے سے تعلق رکھنے والے قصییدہ خوانوں اور  دانشوروں کی پر فریب باتوں پر دل کو تسلی دے دیتے ہیں کہ موئن ن جودوڑو اور ہڑپہ کے وہ غلام تو اب ختم ہو چکے اور نہ ہی  غلامی کا اب ایسا کوی سلسلہ باقی ہے۔ شخصی صداقتوں کے اظہار سے محروم بنیادی جبلتوں کو تسلیم نہ کرنے والے یہ بیچارے غلام نہ جانے کب تک چکی پیستے رہیں گے اور نسل در نسل غلامی کا یہ طوق خوشی سے پہنے رکھیں گے۔  انکے آقا اس بات سے نجوبی واقف ہیں کہ سوچ اور شعور پا کر غلامی کا یہ شوقین معاشرہ آزادی کے خواب دیکھنے لگے گا چنانچہ علم اور دانش کی وہ تمام شاخیں جن سے شعور و جستجو پنپ سکتا ہے ان تمام شاخوں پر انہی غلاموں میں سے کچھ لوگ بٹھا کر اپنی مرضی کا مسخ شدہ علم و دانش تقسیم کرواتے نظر آتے ہیں۔ واقعی میں قحط الرجال سے بڑی کوی سزا کسی انسانی معاشرے یا قوم کیلیے نہیں ہو سکتی ۔

خیر ہم تو بات کر رہے ہیں ان معاشروں یا معاشرے کی جو قحطالرجال کا شکار ہوتے ہیں اور اس وجہ سے خود فریبی کے زیر دام سمجھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں سے نابلد کروا دیے جاتے ہیں۔ بھلا ہمارا ایسے معاشروں سے کیا واسطہ اس لیئے ہم کیوں سوچنے کا کشٹ اٹھا کر خوامخواہ میں اپنا وقت برباد کریں۔ یوں بھی قحط الرجال میں معاشرے نرگسیت کا شکار ہو کر سوچنے کی طاقت کھو بیٹھتے ہیں۔

(Visited 433 times, 1 visits today)

Imad Zafar is a journalist based in Lahore. He is a regular Columnist/Commentator at Daily Ittehad, Resident Editor at Free Press Publications and Resident Editor at World Free Press. He is associated with TV channels, Radio, news papers,news agencies political, policies and media related think tanks and International NGOs.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے