Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • مجھے محسوس کرنے دیجئے۔۔سوچنے دیجئے

مجھے محسوس کرنے دیجئے۔۔سوچنے دیجئے

انفرادی رویئے ہی دراصل اجتماعی سوچ میں ڈھل کرایک قومی رویہ بنا کرتے ہیں۔  میں اپنے ان 19 کروڑ پاکستانی بہن بھائیوں سے ہرگز مختلف نہیں جو دن رات  زندگی بسر کرنے میں بے حد مصروف ہیں۔  میں بھی انہی کی طرح اس قدر مصروف ہوں کہ صبح اٹھنے، کام پر جانے، کھانا کھانے اور پھر تھکے ہارے واپس آکر سو جانے سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ ہاں بس ایک تماشے کے لئے ٹیلیوژن دیکھ لیتا ہوں کہ کسی عالم بے بدل کے بیش قیمت موتیوں پر سبحان اللہ کہہ سکوں یا پھر کسی ٹاک شو میں دانشوروں کی ان دانشمندانہ باتوں سے دانش کشید کرسکوں جو اپنی اپنی زبان میں بصلاحت یہ بتاتے نہیں تھکتے کہ ہمارے قومی مسائل آخر کیا ہیں۔ میں ان تمام مسائل کو سمجھ کر اچھی طرح ذہن نشین کرتا ہوں اور پھر مستعار لی گئی اس دانش میں اپنی عقل کی چاشنی ملا کر دوسرے دن اپنے دفتری ساتھیوں یا سفر میں ساتھ بیٹھے کسی انجان مسافر یا پھر حجام کے پاس گردن نیہواڑے استرا پھرواتے اپنی ذات میں نا سماتی ہوئی اس دانش کو ان کی سماعتوں میں کچھ اس لہجے میں انڈیلتا ہوں کہ ان کے پاس ہاں میں ہاں ملائے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا اوروہ اس میں اپنی دانش کا تڑکا لگانا نہیں بھولتے کہ ہم بحیثیت قوم اس احساس کا شکار نہیں ہونا چاہتے کہ کوئی ہمیں کم علم سمجھے۔

وقت خداتعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ وقت جو ایک ساعت بھی ہے اور ایک دن بھی، ایک ہفتہ بھی ہے اور ایک ماہ بھی اور اسی طرح سال بھی وقت کی تقسیم کا ہی ایک پیمانہ ہے جو اس کارخانہ قدرت میں خدائے رحمٰن کی ایک عطا ہے۔ ہر نئی سانس مجھے زندگی کا ایک پیغام دیتی ہے سو اہم ہے۔ دن کا ہر پہر مجھے اسی خدا کے حضور جھکنے کا اور اس کی عبادت کا پتہ بتاتا ہے سو اہم ہے۔ ہر رات میرے ہر دن کی تھکان کو اپنے سکوت اور اندھیرے میں جذب کر لیتی ہے سو اہم ہے۔  اسی طرز پر ہر ہفتے مجھے ایک ایسا دن عطا ہوتا ہے جو ماندہ دنوں سے برتر ہے اور ہر ماہ ایک نیا چاند جو ہلال سے قمر اور پھر بدر کا سفر طے کر کے اماوس میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ انسانی زندگی میں وقت کی سب سے بڑی اکائی کو سال کہا جاتا ہے۔  تہذیب، جغرافیے اور شعور کی مختلف سطحوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے اپنے طور سے اس کو سمجھتے ہیں اور اس کا استقبال بھی کرتے ہیں۔ کسی کو بقول فیض اس میں نئے پن کا فقدان نظر آتا ہے تو کوئی بقول سودااس بات پہ کف افسوس ملتا نظر آتا ہے کہ

اب کے بھی شاخ سبز میں پتہ نہ کوئی پھول

اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے

2015 گزرا، شاعروں نے الوادعی شعر کہے، تجزیہ نگاروں نے تجزئے کئے کہ یہ سال کس لحاظ سے کیسا رہا، سیاست سے لے کر کھیل کے میدانوں میں ہونے والے مقابلوں  اور معاشیات سے لے کر سائینس و طب کی دنیا میں ہونے والے کارناموں، انسانوں کی اجتماعی ہجرت سے لے کر فلمی دنیا کے ہنگاموں تک کا احاطہ کیا گیا۔ تنقید کسی بھی انسان، معاشرے اور تخلیق کے لئے عمل انگیز کا سا اثر رکھتی ہے۔ لیکن ناقد ہے کون؟ وہ، جو بغیر سمجھے، بنا محسوس کئے، بنا سوچے اپنی لا علمی چھپانے کے لئے ہر کسی کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں یا میں، جو دانش مستعار لئے اندھوں میں کانہ راجہ بنا پھرتا ہوں کہ مجھے اپنا کھوکھلا پن چھپانے کے لئے الفاظ کا سہارا چاہئے۔

 میز پر پانی کا آدھا گلاس دیکھ کر کسی کو یہ گلاس آدھا خالی نظر آیا تو اس نے واویلا مچا دیا کہ بس اب کچھ نہیں بچا لیکن مجھے تو یہ گلاس آدھا بھرا نظر آتا ہے۔ 2015 میں پاکستان میں 50 لاکھ ننھے پھولوں نے آنکھ کھولی۔ شاید یہ اعداد وشمار آپ کے احساس کو نہ جگا  سکیں جیسے مجھے بھی بس یہ بےجان سے ہندسےہی محسوس ہوئے تھے لیکن پھر مجھے محسوس ہوا کہ ان 50 لاکھ کونپلوں میں ایک ننھا عماداحمد بھی ہے۔ میری بہن کا بیٹا جس نے اس کے آنگن میں خوشیاں بکھیر دیں۔ ان میں سے ایک ننھی فاتحہ بھی ہے جو میرے بھائی کے آنگن کو مہکانے اس کے گھر اتری ہے اور  یہاں آپ کے ارد گرد بہت سے ننھے عماد اور فاتحہ آپ کے بچوں، آپ کے بچوں کے بچوں، آپ کی بہن بھائیوں کے بچوں، آپ کے دوستوں کے بچوں کی صورت میں آپ کے ارد گرد مسکرا رہے ہیں۔ کون جانے ان میں سے کتنے عماد کل کے عبدالسلام اور عبدالستار ہوں، کتنی فاتحہ ایسی ہوں جو کل کی ملالہ اور ستارہ بروج ہوں؟اس احساس نے مجھے 2015 کے بارے میں سوچنے کا شعور دیا۔ میں نے سوچا اپنی ذات کا احاطہ کرنے کا اس سے اچھا موقع اور بھلا کونسا ہو گا۔ آیئے میں آپکو احساسات  کے اس سفر پہ اپنے اور ان دوستوں کے ساتھ لے چلوں جن کے لئے 2015 محض ایک ہندسہ نہیں زندگی کا ایک حصہ تھا۔

میرے لئے 2014 کے بر عکس جنوری 2015 کا سورج پاکستان میں طلوع ہوا تھا، وہی پاکستان جس سے میرا اور ہر پاکساتی کا وہ رشتہ ہے جس سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ جس کی سیاسی اور عسکری قیادت محض ایک ماہ قبل ہونے والے معصوم جانوں کے نقصان پرایک صف میں کھڑی تھی اور قوم کا ہر دل ایک ساتھ دھڑک رہا تھا اور ہر آنکھ ایک ساتھ رورہی تھی۔ وہ قومی یکجہتی کا لمحہ تھا۔ وہ لمحہ اس ملک کا ایک قیمتی لمحہ تھا جس نے 2015 میں ہماری قومی سلامتی میں اہم کردار ادا کرنا تھا۔ کیونکہ وہ لمحہ احساس کی بیداری کا عظیم لمحہ تھا۔

 ٹوبہ ٹیک سنگھ کے عبد المنان کے لئے فروری 2015 وہ مہینہ تھا جب وہ مدت بعداپنی ماں کے پاس بیٹھا اس کے ہاتھ کے بنے گرم گرم پراٹھے کھا رہا تھا اور وہ کہتا ہے کہ جب وہ آدھا پراٹھا کھا چکتا تو اسکی ماں تازہ بنا ہوا گرم پراٹھا سامنے رکھ دیتی اوراسکا وہ احساس اس کے لئے زندگی کی بہترین آسودگیوں سے بڑھ کر تھا۔ 

مارچ 2015 پاکستان آرمی کے سپاہیوں نے 80 دۃشتگردوں کو ہلاک کردیا اور دہشت گردی کے عفریت کے سر پر ایک کاری ضرب لگائی۔ مجھے اپنے سپاہیوں پہ فخر محسوس ہوا۔ عادل خان یہ بتاتے ہوئے مجھے وزیرستان کے علاقہ غیر کا کوئی غیر ہرگز نہیں لگا تھا۔

راہوالی کا محمد جمشید جسے سب ڈاکٹر کہتے تھے اور جو فن لینڈ میں اب واقعتاْ  ڈاکٹر بن رہا ہے ہمیشہ اپنی ریسرچ کو قرآن کے ساتھ لنک کیا کرتا تھا۔ اس کے لئے  اپریل 2015 میں جب 46 بلین ڈالر کے پاک چین اکانومک کوریڈور کا افتتاح ہوا جو اس وقت کی خالص قومی پیداوار کا 20فیصدہے تو اسے خوشی ہوئی کہ یہ پاکستان کی معاشی ترقی میں ایک اہم سنگ میل کا کردار ادا کرے گا۔ یہ اس کا احساس تھا اور میں نے سوچا کہ پاکستان کو خدائے رحمٰن نے ایسی دولت سے نوازا ہے کہ دنیا بھر کی طاقتیں اس کی جانب دیکھنے پر مجبور ہیں ورنہ بغیر کسی فائدے کے کبھی کوئی ایسے منصوبے نہیں بناتا۔

 فاروق آباد کا قربان اللہ مئی 2015 کے وہ دن کیسے بھلا سکتا ہے جب زندگی اپنی بھرپور رعنائیوں کے ساتھ اسکی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی تھی کیونکہ ایک خواب مجسم حقیقت بن کر اسکی آنکھوں کے سامنے تھا۔ اسکے دل کا ٹکڑا جسکا ساتھ وہ اپنے خدا سے مانگا کرتا تھا اسکے ساتھ تھا۔ بعض لطیف احساسات آپکو دنیا کے ہر تجربے سے بڑھ کر سکھا سکتے ہیں اور آپ اپنی زندگی کی بے کار اٹیچمنٹس کو یک لخت تیاگ دیتے ہیں جوجانے کب سے انسان کو اپنی ناک سے آگے سوچنے نہیں دیتیں۔

 ذیشان جو گوجرانوالے سے ایک عرصے بعد جون 2015  میں اسلام آباد گیا تھا میٹرو بس اسلام آباد کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اس کے خیال میں باوجود اس کے کہ اس منصوبے کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیاتھا، جو ایک الگ بحث ہے، یہ ایک اہم منصوبہ تھا، جس سے آنے والے برسوں میں راولپنڈی اسلام آباد کے ٹرانسپورٹ کے معاملات کافی حد تک حل ہو سکیں گے۔  

جولائی 2015 میں باوجود اپنے لاکھ چاہنے کے برسٹل میں بیٹھا شکیل احمد  پاکستان نہ جا سکا اور بھادوں کی اس شام کسی کی یاد کی کسک دل میں لئے تنہائی کی وہ گھڑیاں ہمیشہ کے لئے آنے والے اس دن اس کا احساس زندہ کرنے کے لئے کافی ہیں۔ ایک اداس احساس۔  

 اگست 2015 میں اپنے میل باکس میں ’مس یو‘ کا ایک کارڈ دیکھ کر لاہور کے عمیر احمد کےچہرے پہ جو مسکراہٹ اور آنکھوں میں جو نمی آئی وہ احساس بھی اسے 2015 نے ہی دیا۔

ستمبر 2015 کی اس شام واہ کینٹ کا عبداللہ اپنی زندگی کے سب سے قیمتی اور انمول ساتھ کے ایک ہزار دن پورے ہونے پر ایسا محسوس کر رہا تھا جیسا اس نے اس سے پہلے کبھی نہ کیا تھا اور اس کے نتیجے میں دو گھنٹے کی وہ گفتگو اس سے پہلے کبھی اس کی زنگی کے تجربات میں شامل نہ تھی جس نے اس کی زندگی کو ایک نیا رخ دے دیا تھا۔

اکتوبر 2015 کی اس خنک شام، چک جھمرے کے ناظم حسین  کا اٹلی کے شہر وینس میں کافی شاپ کے باہر کافی کا کپ ہاتھوں میں تھامے اس کی حدت محسوس کرنا اسکے لئے ایک بہت خوبصورت احساس تھا۔   

نومبر 2015 میں اپنے بھائی کے ساتھ ابو ظہبی کے شیخ زائد بن سلطان کی بنوائی ہوئی پر شوکت مسجد کے صحن میں کھڑے ہو کر تصویر کھنچوانا ڈسکے کے عثمان وحید کے لئے بھی ایک بیش قیمت احساس تھا ہر چند کہ اس سے پہلے کتنی ہی بار وہ وہاں جا کر اس مسجد کو اور اس کے بنانے والے کا معترف ہو چکا تھا۔

29 دسمبر 2015 کو کینسر کے خلاف جنگ میں برسر پیکار کم عمر سپاہی فاخر آفریدی نے شوکت خانم میموریل پشاور کا افتتاح کیا۔ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال جس نے 20 برس پہلے پاکستان میں طب کے میدان میں باالعموم اور کینسر کے میدان میں باالخصوص انقلاب برپا کر دیا اور مجھے یہ محسوس ہوا کہ انسان کے عظم و ہمت کے سامنے پہاڑ بھی ہیچ ہیں۔

31دسمبر 2015 کی آخری شام دیار غیر کے ایک نیم تاریک کمرے میں تنہا بیٹھے رضا الٰہی کے لئے وَٹس ایپ پر اپنے بہن بھایئوں کے ساتھ گزرے کئی سالوں کی آخری شاموں کا ذکر کرنا بھی ایک ایسا احساس تھا جسے وہ بخوبی جان سکتے ہیں جو اپنوں سے دور رہتے ہوں۔ اس احساس کے نتیجے میں دل گداز ہوتے ہیں اور پھر جو لفظ دعا بن کر نکلیں وہ عرش عظیم تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

قارئین کرام! آپ سوچتے ہو گے کہ میں ماہ بہ ماہ دئے گئے اس جدول میں اپنے اس قدر ذاتی احساسات کو کیونکر شامل کر سکتا ہوں؟  میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم احساس کی دولت سے مالا مال قوم ہیں۔ ہمارے لوگ جذبات میں گندھے ہوئے لوگ ہیں۔ ہم جس پہ مرتے ہیں اسے مار کر بھی رکھتے ہیں۔ آپ کیوں مجھے میری اس قوت سے دستبردار ہونے کا درس دیتے ہیں۔ مجھے محسوس کرنے دیجئے اور مجھے سوچنے دیجئے۔ ہاں میرے ہاں عدم برداشت بہت بڑھ گئی ہے لیکن یقین کیجئے یہ کسی احساس کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اس درس کا نتیجہ ہے کہ سوچ گویا ایک عام انسان کے لئے شجر ممنوعہ ہے اور یہ کام آپ  مختلف مکتبہ ہائے فکر کے تنخواہ دار علمأ اور پاکستان میں سب زیادہ مشائرہ پانے والے ان دانشمندوں کے سپرد کر دیں جو اپنی احساس سے عاری سوچوں کا زہر عوام کے ذہنوں میں گھساتے چلے جارہے ہیں۔ میں محسوس کر سکتا ہوں سو مجھے خود سوچنے دیجئے۔  

میں پھر کہوں گا کہ انفرادی رویئے ہی دراصل ایک اجتماعی سوچ میں ڈھل کرایک قومی رویہ بنا کرتے ہیں۔ اور  اینتھروپولوجسٹس کا خیال ہے کہ  رویوں کا احساسات سے ایک گہرا تعلق ہے۔ ہم 19 کروڑ پاکستانی احساس کی دولت سے عاری نہیں۔  یہ سب  ذاتی احساست نہیں ہیں۔ ہم سب نے اپنوں میں بیٹھ کر اس سال کے کچھ دن بتائے ہوں گے۔ اپنے گھر کی کھڑکی میں کھڑے ہو کر یا اپنے گاؤں کے کھیت میں چلتے ہوئے ٹھنڈی ہوا کو اپنے چہرے سے ٹکرا کر گزرتے ہوئے محسوس کیا ہو گا۔  محسوس کیجئے ۔ سوچیئے اور پھر زندگی کی ان چھوٹی چھوٹی ہزاروں لاکھوں نعمتوں  پر رحمٰن خدا کا شکر کیجئے اور اس  احساس کو امید میں گوندھ کر اپنے رویوں کو اپنی سوچوں کو مثبت رخ دیجئے کہ صاحب گلاس آدھا بھرا ہوا ہے۔  امید ایک خوبصورت احساس کا نام ہے اور خدا پر یقین کا نام بھی اور مایوسی تو فقظ اندھیرا ہے، موت ہے۔ تم مجھے بتاتے ہو کہ کس قدر اندھیرا ہے اور میری نظر اس صبح پر ہے جس کا اس رات کے بعد وعدہ کیا گیا ہے۔ تم مجھے بتاتے ہو کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے اور میں سوچتا ہوں ابھی کل ہی تو رکشے والے نے نوٹوں سےبھرا بریف کیس اس اجنبی کو لوٹایا تھا۔

دن رات کے بدلنے میں اللہ کے بندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ تو آیئے شکر کریں اور اپنے اس سال کو گزرے ہر سال سے بہتر بنانے کی کوشش بھی کریں۔  نئے سال مجھے خود کو تبدیل کرنا ہے۔ خواب ٹوٹے بھی ہیں پر میں تو ابھی زندہ ہوں اور خواب دیکھتا رہوں گا اور رحمٰن خدا کی عطا کردہ نعمتوں کا احساس دل میں لئے اپنی سوچ کو رحیم خدا سے اپنی استعداد و عمل بڑھانے اور ان خوابوں کو پورا ہوتے دیکھنے کی دعا بھی کرتا رہوں گا۔ مجھے اپنے ہر قول کو، ہر عمل کو ’کیوں‘ کی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا۔ میں 19 کروڑ پاکستانیوں جیسا ایک پاکستانی ہوں۔ میں خود سوچنا چاہتا ہوں۔ فکری وحدت ہمارا مسئلہ نہیں کہ یہ تنوع قوموں کو ترقی کی راہ پر لے جایا کرتا ہے۔ 

(Visited 716 times, 1 visits today)

Ehsan Qamar belongs to Financial Management by profession & a freelance writer based in UAE. With a wide study on Urdu literature and current affairs, his areas of interests are social and moral issues. He can be reached out on twitter @ehsanqamar

One Comment

  • drsohail30@hotmail.com'

    Dr. Sohail Ahmad

    January 17, 2016 at 5:45 pm

    بہت خوبصورت تحریر ہے جس میں امید بھی ہے اور آنے والے کل کا انتظار بھی۔ گزرےتمام سانحوں کو بھول جانا ہی در اصل زندگی ہے۔

    Reply

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے