Here is what others are reading about!

حسرت کیوں؟؟؟

ایک   آدمی سے ملنے اس کے کچھ دوست آئے ۔ وہ اپنے دوستوں کے لئے چائےلے کر آیا ۔ چائے کے کپ ایک جیسے نہ تھے بلکہ کوئی کرسٹل کا کوئی پلاسٹک کا تو کوئی ماربل کا تھا ۔اس آدمی کا کہنا ہے کہ میں نے بغیر سوچے سمجھے ایک ایک کپ سب کو تھما دیا اور مجھے پتا نہیں کس کے حصے میں کون سا کپ آیا ۔لیکن میں کچھ دیر بعد غور کیا کہ سب لوگ چائے انجوائے کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے کپ کو حسرت سے دیکھ رہے ہیں ۔جبکہ اصل چیز جس کو انجوائے کرنا تھا وہ چائے  تھی ۔ اور وہ سب کے کپ کے اندر ایک جیسی تھی ۔

یہ ہی حال زندگی کا ہے جو کہ سب کو ایک جیسی ملی دکھ اور سکھ سے ساتھ لیکن ہم دوسروں کی زندگی کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتے رہتے ہیں اور اپنی زندگی انجوائے نہیں کر پاتے ۔ہمارے ہاں اکثر لوگ ڈرامے بھی اس لئے  ’’انجوائے‘‘ کرتے ہیں کہ ان کو اپنی زندگی سے زیادہ باقی لوگوں کی زندگیاں جاننے میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے ۔ ہمارے لوگوں میں اکثر یہ عادت ہوتی ہے کہ ’’وہ ‘‘نہیں دیکھتے جو خدا نے انہیں دیا ہے اس کو ندیدوں کی طرح ضرور دیکھتے ہیں جو کسی کو خدا نے دیا ہے ۔کسی کے اچھے کپڑے ، زیور، گھر ، زیورو غیرہ یا آج کل لیٹسٹ اور مہنگا موبائل دیکھ کر تو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ کر ’’آہ‘‘ نکل آتی ہے ، کسی کا ویزہ لگ جائے کوئی اچھا پڑھ جائے کسی کو اچھی بھاری تنخواہ ملتی ہو ، تو آہوں پہ آہیں نکلتی ہیں کاش ! کاش کی آوازیں نکلتی ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے گھر یا دکان کے پاس موچی بیٹھا سارا دن کسی کے جوتے سی رہا ہوتا ہے یا پالش سے ہاتھ کالے کررہا ہوتا ہے۔ اس کے پاس تو کوئی ’’آئی فون ‘‘ نہیں ہوتا ، سارا دن وہ ’’آلو لے لو ‘‘’’ٹماٹر لے لو ‘‘’’مرچیں، دھنیا لے لو‘‘ بھی سنتے ہیں پھر بھی حسرت وہی کی وہیں ، بڑے بڑے گھر دیکھ کر  رالیں ٹپکتی ہیں لیکن خدا پھر بھی یاد نہیں آتا ۔

ہمارے ہاں لوگوں کو دوسروں کی عیاشیاں نظر آتیں ہیں ان کی پریشانیاں نہیں  ان کا ظاہری رکھ رکھاو اور بڑے بڑے گھر اور بنک بیلنس دکھتے ہیں  اور یہی سوچتے ہیں کہ ساری جہاں کی غربت اور ٹینشنیں ہمارے ہی سر ہیں ۔یہ کبھی نہیں سوچتے کہ اتنی عیاشیوں اور رکھ رکھاو کہ پیچھے اصل کیا ہے ،حقیقت کیاہے ان کو پریشانیاں کیا ہیں ۔ایک چھوٹی سی مثال دیتا چلوں ۔ بِل گیٹس کے نام سے سب واقف ہوں گے لیکن یہ بہت کم ہو معلوم ہو گا کہ بِل  کو پارکنسن  نامی  بیماری  ہے۔ یہ ایک قسم کے اعصابی نظام کی خرابی کا نام ہے. اس کی وجہ ایک اعصابی کیمکل ٹرانسمیٹر بنام “ڈوپامین” کی کمی ہے جو دماغ کے گہرے حصّے میں نمایاں ہوتی ہے.اس کمی کی وجہ فی الحال نا معلوم ہے۔اور اس بیماری کا علاج بھی ابھی تک دریافت نہیں ہوا۔لوگ یہی سوچتے ہوں گے کہ دنیا کا سب سے امیر ترین انسان ہے اس کو کیا ٹینشن ہو گی کیا دکھ ہوں گے ،سب سے بڑی پریشانی تو اس کی یہی بیماری ہے ۔لوگ جو خوشیاں دیکھ کرجیلس ہوتے ہیں انکو چاہیئے کہ ان کی پریشانیوں پر بھی ایک نظر ڈال لینی چاہیئے تاکہ ان کی حسرت ختم ہو سکے،خدا تعالی نے بھی قرآن میں یہی تعلیم دی ہے 

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ 

 اور اپنی آنکھیں اس عارضی متاع کی طرف نہ پسار جو ہم نے اُن میں سے بعض گروہوں کو دنیوی زندگی کی زینت کے طور پر عطا کی ہے تاکہ ہم اس میں ان کی آزمائش کریں۔ اور تیرے ربّ کا رزق بہت اچھا اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔

خدا  ہی سب کا دینا والا ہے وہ جانتا ہے کس کو کیا اور کتنا دینا ہے باقی اس نے مانگنے پر چھوڑا ہے کہ کون کتنا اور کس حد تک مانگتا ہے اسے لئے خدا نے یہ بھی فرما دیا ہے کہ ’’مانگو !میں اور دوں گا‘‘دنیا میں جو کچھ انسان کو دیاگیا ہے وہ عارضی اور ایک مقررہ وقت کے لئے ہے اور یہ سب کچھ آزمائش ہے وقتی ہے ۔اور وہ انسان نا سمجھ ہی ہوگا جو وقتی طور پر فائدہ اٹھانے کے لئے مستقل پناہ گاہ بنانے کے لئے دیئے گئے وقت کو ضائع کر دے ۔اس دنیا میں کوئی کبھی دعوی نہیں کر سکتا کہ وہ ہمیشہ خوش رہے گا ہمیشہ پیسے والا رہے گا اسے کبھی غم نہ ہوگا پھر یہ حسرت کیوں !!

(Visited 773 times, 1 visits today)

Ata Ul Haie is a freelance writer and the archive head in a private news channel. He writes on social, moral and human rights issues. He can be reached out on twitter @ataulhaie

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے