Here is what others are reading about!

ذرا غور کیجئے گا

بنیادی جَبِلتوں کے اظہار پر پابندی یا قدغن لگانے سے اکثر اوقات معاشروں میں تعفن پھیل جاتا ہے۔  اور اس کا نتیجہ اجتماعی منافقانہ رویوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ خلیل جبران نے سالوں پہلے کہہ دیا تھا کہ بنیادی جبلتوں کے اظہار میں شرم سفید فریب کی ایک قسم ہے۔  جنسی تسکین روٹی کے بعد انسان کی دوسری بڑی جبلت میں شمار کی جاتی ہے۔ موجودہ دور میں جب دنیا انٹرنیٹ ریولوشن کے بعد سمٹ کر ایک گاوں بن چکی ہے ایسے میں کسی بھی قسم کی معلومات کو دبانا تقریبا ناممکن ہو چکا ہے۔ ایسے میں ہم لوگ ابھی تک اس جدید دنیا سے منہ موڑ کر شتر مرغ کی طرح سر ریت میں چھپائے بیٹھے ہیں اور نتیجتا ایک ایسا معاشرہ اور قوم بنتے جا رہے ہیں جسکے گفتار اور کردار میں کوئی مماثلت نہیں۔ اخلاقیات پر دوسری قوموں کو ہمہ وقت درس دیتے ہم خود اخلاقیات سے عاری قوم بنتے جا رہے ہیں۔

گزشتہ برس بین الاقوامی دنیا میں دو ایسی رپورٹس پاکستان کے بارے میں آہیں جن کو پڑھنے کے بعد سر شرم سے جھک گیا۔ پہلی رپورٹ انٹرنیٹ پر پورن سرچ یعنی بیہودہ جنسی ویب سائیٹس کے سرچ کے حوالے  سے تھی گوگل کے فراہم کردہ اعدادو شمار کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں اس سال بھی جنسی سرچ اور پورن ویب سایٹس دیکھنے اور ڈھونڈنے میں دنیا بھر میں سر فہرست رہا۔  انٹرنیٹ دنیا بھر میں معلومات کا زخیرہ حاصل کرنے کے لیئے انتہائی مفید تیز ترین اور سستا  زریعہ ہے ۔ لیکن شومئی قسمت کہ ہم لوگ اسے بجائے معلومات کے حصول کے محض جنسی تفریح کا سامان سمجھتے ہیں۔  حد تو یہ ہے کہ سماجی روابط کی ویب سائیٹس پر سب سے زیادہ اخلاقیات کے درس آپ کو پاکستانیوں کی جانب سے لکھے دکھائی دیتے ہیں ۔ عورتوں کے پردے کی اہمیت  سے لیکر مغربی معاشروں کی جنسی بے راہ روی پر آپ کو سماجی ویب سائٹس پر سب سے زیادہ پیغامات پاکستانیوں کے نظر آہیں گے۔  لیکن منافقت کی انتہا یہ ہے کہ اتنے گرے ہوئے الفاظ اور رشتوں کے بارے میں گوگل پر جنسی ویب سائٹس اور کہانیاں تلاش کی جاتی ہیں کہ جن کا زکر بھی نہیں کیا جا سکتا۔   کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہم سب پوری دنیا میں اپنے اس منافقانہ عمل کی وجہ سے کتنی جگ ہنسائی کاـباعث بنتے ہیں۔ اپنے اپنے گھروں میں خواتین اور بچوں پر پابندی اظہار لگا کر انہیں  زور زبردستی مصنوعی اخلاقی اقدار کو اپنانے کا کہہ کر شاید ہم اپنے آپ کو تسلی دے لیتے ہیں کہ ہماری زمہ داری پوری ہو گئی۔   جنسی ارمان رکھنا ایک فطری عمل ہے اگر اس کے متعلق بچوں کو آگاہی دی جائے تو ہم سانحہ قصور جیسے متعدد سانحات سے بچ سکتے ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے بھی سرکاری سطح سے لیکر سکول کالجز اور یونیورسٹیز تک آگاهی مہم چلانی چاہیے منسٹری آف انفارمیشن کو اس کے حوالے سے پبلک سروس میسجز اور اشتہارات دینے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ لیکن ان افراد کا کیا کیا جائے جو کہ بالغ اور عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں انسان اپنا اچھا برا نجوبی جانتا ہے۔ بحیثیت مجموعی ہم جنسی بھیڑیے بنتے جا رہے ہیں ۔ ہماری نجی محفلوں میں بھی مزاق ہمیشہ اخلاق سے گرے ہوئے لطیفوں عورتوں کے جسم کے خدو خال بیان کر کے ہی ہوتا ہے۔ یہ رویہ پھر انٹرنیٹ پر پورنوگرآفی  سے متعلق رجحانات کو فروغ دیتا ہے اور نتیجتا ہم فحش خیالات رکھنے والی قوم کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ کاش دوسروں کو اخلاقیات کے درس دینے سے پہلے ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں بھی جھانک کر دیکھ لیں۔ دوسری رپورٹ امریکی ادارے  کی ہے جس میں پاکستان کو دنیا بھر میں دیگر مذاہب کی آزادی اور ان کو اپنی مزہبی رسومات کی ادائیگی کے حوالے سے بدترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ ایسا ملک جہاں حکومت بھی اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ دینے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ عدم برداشت اور دوسرے مذاہب سے نفرت کا یہ کلچر اب ہمارے معاشرے  میں ناسور کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ ہم خود پوری دنیا میں اپنے مزہب کی تبلیغ کے لیئے تو چھاتی پھلا کر جاتے ہیں لیکن مجال ہے کہ اپنے ملک میں بسنے والے دیگر مذاہب کو زرا سی بھی مزہبی آزادی دینے پر آمادہ ہوں۔

 دوسروں کو انسانی حقوق کا درس دیتے ہم اقلیتوں کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت دیتے دکھائی نہیں دیتے۔ مودی سرکار کی انتہا پسند پالیسیوں اور مسلمانوں کے خلاف متعصب رویے پر نعرے مارتے کبھی خود سے بھی سوال کیجیئے کہ ہم سب کا اپنے ملک میں دیگر مذاہب اور عقائد رکھنے والے باشندوں سے رویہ کیسا ہے۔   لوگوں کو رمضان میں دوران روزہ کھانے پینے پر مار مار کر لہولہان کر دیینے  والے اب گائے کے گوشت پر پابندی کے خلاف آنسو بہاہیں تو منافقت کی اس سے بڑھ کر کوئی اور مثال نہیں ہو سکتی۔ دیگر مذاہب تو چھوڑیے ہم تو اپنے ہی مزہب کے مختلف فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کو جینے کا حق تک نہیں دینا چاہتے ۔ اب جو قوم مزہبی تہواروں پر بھی ایک دوسرے کے فرقوں کو نیچا دکھانے میں مصروف ہو اس قوم کے منہ سے انسانیت امن اور بھائی چارے کی باتیں انتہائی بھونڈی اور احمقانہ لگتی ہیں۔  آپ منافقانہ اقدار اور رویوں کے ساتھ اب دنیا کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ خود امریکہ اور یورپ میں بس کر مکمل آزادی کے ساتھ اپنی اپنی مزہبی رسومات اور فرائض ادا کرتے ہیں اور  شریعت کے نفاز کے پلے کارڈز اٹھائے انہی ممالک میں مظاہرے بھی کرتے ہیں لیکن اپنے ملک میں بسنے والے دیگر عقائد اور اقوام کو گمراہ و جاہل سمجھتے ہوئے انہیں کوئی بھی حق دینے پر آمادہ نہیں ہوتے۔  گوگل کی ہمارے  مکروہ جنسی رجحانات کی رپورٹ ہو یا امریکی تھنک ٹینک  کی  پاکستان دوارے دیگر مزائب کو عبادتی رسومات  کی انجام دہی میں مشکلات اور اپنے عقائد کے مطابق آزادی سے جینے نہ دینے کی رپورٹ   یہ اس امر کی نشاندہی ہے کہ اقوام عالم میں اخلاقی اور فکری  گراوٹ کا سب سے زیادہ شکار ہم لوگ خود ہیں ہم علم تحقیق اور سچ کا سامنا کرنے کے بجائے   آنکھیں بند کر کے ماضی میں کئی صدیوں پہلے کے دور میں بسنا پسند کرتے ہیں ۔  جب اور کچھ نہ بن پائے تو کبھی کھوکھلی روایات کا سہارا لے لیتے ہیں یا پھر مزہب کی آڑ میں چھپ جاتے ہیں۔ اپنے جیسے زہنی پسماندگی کے شکار افراد سے بین الاقوامی دنیا اور دور جدید کو برا بھلا کہ کر علمی تحقیقی اور اخلاقی محاز پر اپنی ناکامیوں سے آنکھیں پھیرنے کیلئے  دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ہم بطور قوم اس خود فریبی اور نرگسیت سے نکلنے کو ہرگز تیار نہیں۔  سوچوں اور خیالات پر پابندی لگانے کا زمانہ گزر چکا ہے البتہ جدید علوم کے زریعے ان خیالات اور افکار کو ایک صحیح  سمت دے کر مثبت طرف لگایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیئے بے حد ضروری ہے کہ ہم جبلی تقاضوں کے اظہار کو جرم تصور نہ کریں اور اپنے وطن میں بسنے والے دیگر عقائد کے باشندوں سے ویسا ہی برتاؤ کریں جیسا برتاؤ  ہم یورپ اور امریکہ میں حاصل کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں کشمیر اور فلسطین کی بیٹیوں کی آبرو بچانے کے نعرے مارنے سے پہلے آیئے پہلے اپنے ملک کی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت کرنا سیکھیں۔  یورپ امریکہ کے قحبہ خانوں پر تنقید کرنے سے پہلے آیئے پہلے اپنے زہنی اور فکری قحبہ خانوں کو مسمار کریں ۔  ہندوستان امریکہ کو مسلمانوں کے بارے میں متعصب قرار دینے سے پہلے آیئے دوسرے مذاہب کے متعلق اپنی شدت پسندانہ سوچ اور رویوں کو دفن کریں۔ اخلاق و شرم و حیا کے بلند و باگ دعوے کرنے سے پہلے آئیے پہلے خود اخلاق اور شرم و حیا کے مفہوم سے آشنائی حاصل کریں۔ ہم اپنی اصلاح کر لیں تو دنیا خود بخود ہماری تقلید کرے گی۔ تھوڑی سی دیر کو سہی لیکن ان باتوں پر غور ضرور کیجئے گا۔

(Visited 318 times, 1 visits today)

Imad Zafar is a journalist based in Lahore. He is a regular Columnist/Commentator at Daily Ittehad, Resident Editor at Free Press Publications and Resident Editor at World Free Press. He is associated with TV channels, Radio, news papers,news agencies political, policies and media related think tanks and International NGOs.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے