Here is what others are reading about!

آپ بے بس نہیں ہیں ماں جی !

میں دو بیٹیوں کے گھر میں ہوتے ہوئے طاقتور مجرموں کے خلاف کیس نہیں لڑ سکتی.یہ جملہ 16 سالہ مقتول زین کی والدہ نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے کہا تھا. زین اس ماں کا اکلوتا بیٹا تھا اور اپنے باپ کی وفات کے بعد اپنی ماں اور بہنوں کی امیدوں اور خوابوں کا واحد مرکز. اس بیان اور جملے نے پاکستان کے قانونی نظام اور معاشرتی بے حسی پر انتہائی خاموشی سے ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا  جس کی گونج شاید سماعتوں سے محروم نظام اور معاشرہ نہ تو سن پائے گا اور نہ ہی بصیرتوں سے محروم یہ نظام اس کے نشانات اپنے بدنما وجودپر  دیکھنے یا ڈھونڈنے  کے قابل ہے. زین کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ایک ایسے بے حس معاشرے میں پیدا ہوا جہاں انسانی جان کی وقعت ایک کوڑی کی بھی نہیں.اس کا دوسرا جرم یہ تھا کہ وہ یتیم تھا اور کسی بااثر خاندان سے تعلق نہیں رکھتا تھا اور اس کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ وہ صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو کے ہاتھوں ہلاک ہوا. قانون جن معاشروں میں طاقتور اور بااثر افراد اور خاندانوں کے گھر کی باندی ہو جہاں پیسے کی چمک سے گواہوں کی زبانوں پر تالے لگا دیئے جاتے ہوں وہاں زین جیسے بچوں کا پیدا ہونا ہی دراصل جرم ہے. اس جنگل میں مصطفی کانجو اور اس جیسے آدمی ہی زندہ رکھنے کا حق رکھتے ہیں کیونکہ جو معاشرہ طاقتور اور دولت مند افراد کو سلامی دینے کو اپنا فرض سمجھتا ہو بھلا زین جیسے بچے اس معاشرے میں جی کر کریں بھی کیا. اپریل 2015  میں مصطفی کانجو نے لاہور میں کیویلری کے علاقے میں گاڑی کی معمولی ٹکر لگنے پر اندھا دھند فائرنگ کر دی.جس گاڑی سے اس کی ٹکر ہوئی تھی وہ ایک خاتون چلا رہی تھی اور معمولی نوعیت کے اس ٹکراو کے بعد وہ رش کا فائدہ اٹھاتے فرار ہو گئی اور نشے میں دھت مصطفی کانجو کی فائیرنگ کی زد میں آ کر سولہ سالہ بچہ زین ہلاک ہو گیا.مصطفی کانجو اس کے بعد دندناتا ہوا وہاں سے اپنے مسلح گارڈز سمیت فرار ہو گیا. جب ملکی میڈیا پر یہ خبر چلی تو اسے اندرون پنجاب سے گرفتار کر لیا گیا.مصطفی کانجو پر مقدمہ بنا بھی اور چلا بھی. دن دیہاڑے ہونے والے اس قتل کے چشم دید گواہ موجود تھے.اگر آپ نے کیویلری کا یہ علاقہ دیکھ رکھا ہے تو آپ کو معلوم ہو گا ہیاں زیادہ تر پراپرٹی ڈیلرز کے دفاتر اور کچھ تاجروں کی دکانیں ہیں.یہ لوگ گواہ بننے کے بعد دوران سماعت جج کے سامنے اپنے ہی بیانات سے پھر گئے اور عدالت نے مصطفی کانجو کو بری کر دیا. چیف جسٹس آف پاکستان نے مقدمے کا سو مو نوٹس لیا اور پھر سماعت پر پتہ چلا کہ گواہان پیسے لے کر اپنے بیانات سےـمکر گئے تھے.خیر یہ مقدمہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا شاید اس گلے سّے نظام میں  بذات خود یہ ایم بہت بّی کامیابی تصور کی جا سکتی ہے.؟ لیکن زین جیسے ہزارہا بچوں کے قتل کے مقدمے آج بھی نچلی عدالتوں میں یا تو زیر التوا ہیں یا پھر ان میں نامزد ملزم آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں.جناب چیف جسٹس کو  صاحب برائے مہربانی ایک سومو نوٹس ان ماتحت عدلیہ کے ججز اور وکلا کی کارکردگی کے حوالے سے بھی لیجئے تا کہ انصاف ممکن ہو سکے. ایک سو مو نوٹس اسـں ملک کے وزیر اعظم اور دیگر سیاسی جماعتوں کے خلاف بھی لیجئے اور ان سے پوچھئے کہ اگر ان کا لال ایسے مارا جاتا تو کیا تب بھی وہ ایسی ہی بے اعتناعی برتتے جیسے اس کیس میں برت رہے ہیں. اس ملک میں کیونکہ طاقتور کو سـزا ملنے کی کوئی روایت ہی سرے سے موجود نہیں اس لیئے  تاخیری حربے اختیار کر کے یا سیاسی اثرو رسوخ استعمال کر کے زین کی والدہ کو ہی کیس ختم کرنے کے لیئے قائل کروا دیا گیا اور  مصطفی کانجو  اس وقت آرام سے آزاد فضاؤں میں سانس لیتا ہوا ملک کے قانونی نظام کا مزاق آڑا رہا ہے. جو کیس اب اس پر چل رہا ہے وہ غالبا ناجائز اسلحہ رکھنے سے متعلق ہے.مجھے نہیں معلوم معزز جج صاحبان نے زین کی والدہ کے اس بے بسی والے بیان کے بعد  اور مصطفی کانجو کو آزاد گھومتے دیکھ کر اپنے آپ سے یا اپنے بچوں سے نگاہیں ملائی یا نہیں.وزیر اعلی پنجاب وزیر اعظم پاکستان یا پھر عمران خان زرداری صاحب الطاف حسین صاحب ان سب نے اس  کے بعد کیا آیینے میں جھانک کر خود کو دیکھنے کی کوشش بھی کی. ان سب کا تو مجھے علم نہیں  لیکن مجھے زین کی والدہ سے کچھ کہنا ہے.امید ہے آپ تک کسی دن یہ الفاظ بلکہ یہ نوحہ ضرور پہنچے گا ماں جی.   سنیئے ماں جی ،آپ کے کہے ہوئے یہ الفاظ کسی بھی زندہ فرد یا معاشرے کو شرم سے ڈبونے کے لیئے کافی ہیں.  آپ نے  قدرت کی عدالت میں ہم سب پر فرد جرم عائد کر دی ہے.اور اس عدالت میں یقینا آپ اور زین سرخرو ہوں گے. میں شرمندہ ہوں ماں جی میں اس معاشرے کا فرد ہوں جہاں لوگ موم بتیاں جلا کر اور تصاویر کھینچوا کر آرام سے اگلے زین کے قتل ہونے کا انتظار کرتے ہیں.جہاں سب مرغیوں کی طرح آنکھیں بند کر کے یہ سوچتے ہیں کہ قصاب ان کو زنج  نہیں کرے گا.آپ نے ٹھیک کیا اپنی دو بیٹیوں کو محفوظ کرنے کے لیئے زین کو بھلا دینا ہی بہتر ہے کیونکہ ہم سب تماش بین بھی ہیں ماں جی .ہم آپ کا اور آپ جیسی نہ جانے اور کتنی ہی ماوں کا تماشہ چپ کر کے دیکھتے ہیں اور پھر بحث و مباحث میں نظام کو برا بھلا کہہ کر اگلے تماشے کا انتظار کرتے ہیں. مصطفی کانجو جیسے درندوں کو ہم خود اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں. ہم تو یہ دیکھنے سے بھی قاصر ہیں کہ کیسے یہ ساری سیاسی اشرافیہ جو ویسے تو ایک دوسرے کا گریبان پھاڑنے پر آمادہ ہوتے ہیں آپ کے اور زین کے مجرم کو بچانے کے لیئے خاموشی سے مل کر کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے. خدمت کا دم بھرتے خادم اعلی ترقی کا ویژن دکھاتے وزیر اعظم اور نیا  پاکستان کا خواب دکھانے والے عمران خان ان تمام لوگوں کی نظر میں بھلا زین جیسے بچوں کی اوقات ہی کیا ہے اور انہیں کون یہ سمجھائے کہ ان سب کے کھوکھلے نعروں کی حقیقت آپ کے اس ایک بیان نے کھول کر رکھ دی ہے. اور آپ نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ بیٹیاں پالتے ہوئے اس منافقانہ معاشرے میں کوئی بھی فرد حصول انصاف کا سوچ بھی نہیں سکتا. ماں جی آج میں نے اپنی بیٹی سے آنکھیں نہیں ملائیں اور نہ ہی اپنے بیٹے کو پیار کیا. کیونکہ مجھے آپ کے اس بیان کے بعد آشکار ہوا میرا بیٹا بھی تو زین ہی ہے جسے کل کو کوئی بھی مصطفی کانجو دن دیہاڑے قتل کر کے آسانی سے فرار ہو سکتا ہے اور میری بیٹی بھی تو آپ کی بیٹیوں کی طرح ہے جس کے کل کا سوچ کر میں بھی اپنے لال کا خون بھول سکتا ہوں. پتا ہے ماں جی آپ نے  مصطفی کانجو جیسے لوگوں کو کچھ نہ کہہ کر بھی انہیں مبہم الفاظ میں ننگا کر دیا ہے.  اسلحے پیسے تعلقات کے بل پر پھنے خان بنے یہ لوگ اصل میں کتنے بـزدل ہیں آپ نے بیٹیوں کا حوالہ دے کر بہت اچھی طرح بتا دیا.  اپنی بچیوں سے کہیئے گا کہ زین کے قتل میں صرف مصطفی کانجو شریک نہیں ہے بلکہ مجھ سمیت  اس معاشرے کے تمام افراد نے خاموش رہ کر اس میں اپنا کردار ادا کیا ہے.  اور اس معاشرتی قبرستان میں اپنی اپنی قبروں میں   لیٹے مردے بھلا آپ کی یا آپ کی بچیوں کی یہ آہ اور فریاد کیسے سنیں گے. ویسے بھی ماں جی ہم لوگ تو آرمی پبلک سکول کے سینکڑوں بچوں کے زنج ہونے پر بھی نہیں جاگے تو بھلا زین کی موت پر کیا شرم محسوس کریں گے. مصطفی کانجو جیسے لوگ اس گلے سڑے نظام اور قانون کا فائدہ اٹھاتے لالچ اور حرص کی رسیوں سے  بندھے معاشرے میں قانون کی گرفت سے تو آزاد ہو سکتے ہیں لیکن قدرت کی گرفت سے نہیں.  آپ کا زین نہیں قتل ہوا ماں جی یہ  انصاف اور قانون کا قتل ہوا ہے. اور آپ بے بس نہیں ہیں ماں جی بے بس سیاسی اور سماجی اقدار ہیں . بے بس اس ملک کا قانونی نظام ہے.  مصطفی کانجو اندھیرے کا نام ہے ماں جی اور زین روشنی کا. اندھیرا اور تاریکی جتنی بھی طویل کیوں نہ ہو آخر کو تو روشنی ہی ہر سو پھوٹتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ زندگی روشنی کے دم سے ہے اندھیرے سے نہیں. آپ بے بس نہیں ہیں ماں جی بے بس یہ نظام اور ہم سب لوگ ہیں.

(Visited 431 times, 1 visits today)

Imad Zafar is a journalist based in Lahore. He is a regular Columnist/Commentator at Daily Ittehad, Resident Editor at Free Press Publications and Resident Editor at World Free Press. He is associated with TV channels, Radio, news papers,news agencies political, policies and media related think tanks and International NGOs.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے