Here is what others are reading about!

چھتہ

ہمارے گھر میں کچھ عرصے سے بِھڑوں کی آمدورفت دیکھی جارہی تھی۔ گھر والوں نے کوئی توجہ نہ دی ۔ کچھ دن بعد کچھ سامان رکھنے کے لئے مچان پر نظر پڑی تو سبھی حیران رہ گئے کہ خاموشی سے آنے والی بِھڑوں نے مچان کے ایک کونے میں اچھا خاصا بڑا چھتہ تیار کرلیا تھا۔ انہی دنوں  انہی بِھڑوں میں سے کسی نے گڈو کو بھی کاٹ لیا اور گڑیا کو بھی ۔ ہمارے لئے یہ بڑی تشویش کی بات تھی کہ ہمارے ہی گھر میں دشمن نے گھر کرکے ہمارے ہی بچوں کو نقصان پہنچانا شروع کردیا اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی!!! چنانچہ ہم نے فیصلہ کیا کہ بڑے بھائی صاحب سے کہہ کر اس چھتے کو یہاں سے ختم کروایا جائے تا کہ یہ موذی کیڑے ہمارے بچوں کو مزید نقصان نہ پہنچائیں۔

چونکہ ہمارے سروں پر والدین کا سایہ نہ تھا، سو اب بھائی صاحب ہی ہمارے سرپرست تھے۔ یہ الگ بات کہ انہیں اس بات کا چنداں احساس نہیں تھا۔ انہوں نے شادی بھی ایسی جگہ رچا لی تھی جو معاشی اور معاشرتی ہر دو طور سے ہم سے برتر تھے سو ہم لوگوں کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔ بھائی صاحب کا زیادہ تر وقت اپنے سسرال والوں کو ہی خوش کرنے میں صرف ہوتا تھا جسکے باعث ہم چھوٹے بہن بھائی یتیموں والی زندگی ہی گزار رہے تھے۔  اسکے باوجود بھائی صاحب کا سسرال ان سے خوش نہ تھا اور وہ بھائی صاحب کی ان کاوشوں کو زرا بھی اہمیت نہیں دیتے تھے۔  اس پر ہم جل بھن کر رہ جاتے اور ہمارے پاس سوائے کڑھنے کے اور کوئی چارہ نہ تھا ۔ دوسرے ایک پِیر صاحب تھے جنہوں نے بھائی صاحب کی رہی سہی زندگی کو بھی نچوڑ کر رکھا ہوا تھا۔ پِیر صاحب کے آستانے پر ماتھا ٹیکے بغیر  اور ان کے بیوقوفانہ احکامات پر عمل کرکر کے بھائی صاحب نے ہمارے سارے حقوق  ہی پامال کرکے رکھے ہوئے تھے۔  بھائی صاحب کی ان بے اعتنائیوں کی وجہ سے ہمارا گھر جہنم بنا جارہا تھا۔ ہمارے والدین کی دن رات کی محنت بھائی صاحب کی سسرال اور پِیر صاحب کی وجہ سےخاک میں مل رہی تھی لیکن انہیں کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا۔  برسات آتی تو چھت ٹپکنے لگتی، گرمی آتی تو گھر میں بجلی ناپید، سردیوں میں ہمارے گھر میں گیس کا نام و نشان نہ ہوتا ۔ دو دو  دن بعد گھر میں کھانا پکتا۔ گھر میں کبھی راشن کی کمی رہتی تو کبھی پہننے اوڑھنے کو کچھ نہ ہوتا۔  اور اب ایک نئی مصیبت۔۔۔ بِھڑیں۔ گھر میں رہنے والے ہم چھوٹے بہن بھائیوں کے پاس سوائے ڈرنے کے اور کوئی چارہ نہ تھا۔ لیکن بھائی صاحب کو کیا فرق پڑتا تھا۔ انکی زندگی تو سسرال اور آستانے پر مزے میں ہی گزر رہی تھی۔  ہمارے ذہنوں میں یہی سوال جنم لیتا کہ جب بھابی اور انکے گھر والے بھائی صاحب کے ساتھ نوکروں والا سلوک کرتے ہیں، وہ ڈبہ پِیر صرف بھائی صاحب کو اپنی جہالت کے مظاہروں کے لئے  استعمال کرتا ہے اور ہم انہیں باپ کی جگہ سمجھتے ہیں ، انکی عزت کرتے ہیں اور انکے ایک حکم پر جان نچھاور کرنے کو تیار رہتے ہیں۔تو وہ خود کیوں ہماری جانب مائل نہیں ہوتے۔  انہیں کیوں ہماری آنکھوں میں حسرت نظر نہیں آتی۔ لیکن  یہ تو دنیا کا دستور ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے سے اوپر ہی دیکھنا چاہتا ہے۔ خیر۔۔۔ بِھڑوں نے سارے گھر کو۔۔۔ بلکہ سارے گھر کو کیا، مجھےاور میرے چھوٹے بہن بھائیوں کو  نچا کے رکھا ہوا تھا۔

امی ابو کے بعد میں نے اپنے آپ کو اس گھر کے لیے وقف کردیا تھا۔ اپنی تعلیم بھی درمیان میں چھوڑ دی  کہ گھر کی دیکھ بھال اور چھوٹے بہن بھائیوں کی تعلیم و تربیت میرے لئے کسی پہاڑ کو سر کرنے سے کم نہ تھی۔ میری زندگی کا ایک ہی مقصد تھا کہ میرے ماں باپ کی نشانی میرے چھوٹے بہن بھائی پڑھ لکھ کر بڑے آدمی بن جائیں۔گھر کے کام کاج سے لیکر بچوں کی پڑھائی لکھائی تک سب میرے ہی ناتواں کاندھوں کا بوجھ تھا جسے میں خدا کے سہارے اٹھائے چلی جارہی تھی۔

دوسرے ہمارے منجھلے بھائی تھے۔ ان کی بھی اپنی ہی زندگی تھی۔ انکو ہماراخیال تو تھا لیکن وہ بھی ہر بات کو بھائی صاحب کے اوپر ڈال دیتے تھے۔ ہم نے بزرگوں سے سنا تھا کہ بِھڑوں کا چھتہ ختم کرنے کے لئے اسے آگ لگانا پڑتی ہے تب کہیں جا کے یہ مصیبت ختم ہوتی ہے۔  مجھ صنفِ نازک اور میرے چھوٹے بہن بھائیوں میں تو اتنا دم خم تھا نہیں کہ آگ کا الاؤ روشن کریں اور مچان تک پہنچ سکیں۔ چنانچہ منجھلے بھائی سے درخواست کی کہ آپ  ہی ہماری مدد کریں۔ انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ یہ بھائی صاحب کا کام ہے۔ میں اس میں ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ میں اپنی بے بسی پر روپڑی کہ جو کام مجھ چھوٹے اورکمزور  انسان کے لئے جوئے شِیر کھود ڈالنے کے مترادف ہے اور میرے بڑے بھائیوں کے لیئے مچھر کچلنے سے بھی زیادہ آسان تو پھر ہماری جان اس عذاب میں کیوں مبتلا ہے۔

میں نے فیصلہ کرلیا کہ اس دفعہ بھائی صاحب گھر آئیں تو  میں خود  ان سے بات کروں گی، گوکہ بھائی صاحب  کو ہم سے بات کرنا بالکل بھی گوارا نہ تھا۔  بہر حال میں نے بھائی صاحب سے بات کرنا چاہی تو انہوں نے یہ کہہ کر مجھے جھڑ ک دیا کہ تم لوگ مجھے بیوقوف سمجھتے ہو؟ کیا مجھے نظر نہیں آتا؟ رہنے دو چھتے کو وہیں پر۔ پِیر صاحب نے سختی سے منع کیا ہے کہ حشرات کو نقصان پہنچانا بہت بڑا گناہ ہے۔

میں نے عرض کیا کہ بھائی صاحب روزانہ بھڑیں ہمیں کاٹ رہی ہیں۔ ہم سب کی زندگی ان کی وجہ سے خوف کا شکار ہیں۔

اس پر بھائی صاحب کو کچھ نہ سوجھا تو  پیر پٹختے ہوئے سسرال چل دئے۔

 منجھلے بھائی جان کو ہم پر ترس  تو آتا تھا لیکن وہ بھی نجانے کن مصلحتوں کے تحت چپ رہتے تھے۔ ایک دن  خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ  بھائی جان گھر میں داخل ہوئے ہی تھے کہ چوکھٹ پر بیٹھی ایک بِھڑ کو انکا دروازہ کھولنا برا محسوس ہوا اور اس نے ایک اڑان بھری اور بھائی جان کی گردن میں  ڈنک پیوست کردیا۔ بھائی جان بلبلا اٹھے اور اٹل فیصلہ کرلیا کہ آج  ہی مچان میں بنے اس چھتے کو آگ لگا دیں گے۔

شام کو بھائی صاحب آئے تو بھائی جان ان سے بِھڑ گئے اور صاف الفاظ میں کہا کہ پِیر منع کرے یا منگل۔۔۔ میں اس منحوس چھتے کو آگ لگا کر ہی دم لوں گا۔ بھائی صاحب نجانے کیوں اس بات پر سیخ پا ہوجاتے ۔ انہوں نے بھائی جان کو بھی جھڑک دیا۔ لیکن بھائی جان کے غصے سے وہ بھی ڈرتے تھے اس لئے اس بار انہوں نے مصالحانہ سا رویہ اختیار کیااور بھائی جان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ہمارے پاس اماں ابا کی واحد نشانی یہ گھر ہی تو ہے۔ اوپر سب الماریاں لکڑی کی ہیں اور ان میں سامان بھی سب آگ پکڑنے والا ہے۔ آگ لگاؤ گے تو خدشہ ہےکہ وہ پھیل کر زیادہ نقصان کرے گی۔ میری مانو تو تھوڑا صبر کرلو۔ پِیر صاحب کہہ رہے تھے کہ کچھ دنوں میں موسم بدل جائے گا تو یہ بِھڑیں خود کہیں اور جابسیں گی۔ بلا وجہ بے زبان مخلوق پر ظلم کرکے انکی بددعائیں لینے کا کیا فائدہ؟

اپنے کمرے میں بیٹھے ہم بہن بھائی ، بھائی صاحب کی باتوں  کو سن سن  افسردہ ہو رہے تھے کہ ہم سگے بہن بھائیوں کو وہ  موذی حشرات اتنا نقصان پہنچا رہے ہیں، وہ بھائی صاحب کو نظر نہیں آتا۔ لیکن پِیر کے حکم پر کیڑوں کو کچھ نہ کہا جائے!!! عجیب منطق ہے۔سبحان اللہ۔ کبھی کبھی تو ہمیں بھی محلے والیوں کی باتیں سچ لگنے لگتیں کہ کسی نے بھائی صاحب پر جادو کیا ہوا ہے۔

بھائی صاحب اور بھائی جان  کی گفتگو اب توتو میں میں میں ڈھلتی جارہی تھی۔ بھائی صاحب  پِیر کی حکم عدولی کو خدا کی حکم عدولی سمجھتے تھے۔ اس بات کا انہوں نے یہ حل نکالا کہ بھائی جان کوچھتہ جلانے سے روکنے پر راضی کر ہی لیا ۔ لیکن بھائی جان کی ضد کے آگے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے انہیں کیڑے مار دوا چھڑکنے کی اجازت دے دی کہ دوا کے استعمال سے  گھر میں آگ کا خدشہ بھی نہیں ہوگا اور بِھڑیں خود ہی ہماری مچان چھوڑ کر چلی جائیں گی۔

اگلے دن بھائی جان کے ہاتھ میں اسپرے تھا۔  میں نے چھوٹوں کو انکے کمرے میں بند کیا اور چلی بھائی جان کا ساتھ دینے۔ بھائی جان نے  الماری کے ساتھ ملا کر میز رکھی۔ اس پر کرسی ٹِکائی۔ میں نے کرسی کے پائے مضبوطی سے پکڑے۔ بھائی صاحب  نے منہ پر ڈھاٹا باندھا اور کرسی پر چڑھے ۔آہستہ آہستہ اچکتے ہوئے  چھتے کی جانب دیکھا۔ اس وقت زیادہ تر بِھڑیں اپنے گھر پر موجود نہ تھیں۔ سو بھائی صاحب نے ایک ہی باری میں ساری کی ساری دوا چھتے پر چھڑک دی اور کرسی سے سیدھا زمین پر چھلانگ دی۔ بِھڑوں میں کھلبلی مچ گئی اور میں  اندھا دھند وہاں سے بھاگی۔ زہریلی دوا کے اثر سے بِھڑیں بیہوش ہوکر زمین پر گرنا شروع ہوئیں جنہیں بھائی صاحب نے پیروں سے کچلنا شروع کیا۔  تھوڑی دیر تک  ہمارے گھر میں ایک جنگ کا سا سماں رہا۔ مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ تھوڑی دیر کی اس پریشانی سے میرے بہن بھائی محفوظ ہو جائیں گے۔

آج ہمارے گھر میں بھائی جان کی بہادری اور بروقت کاروائی  کی وجہ سے ایک مصیبت نے دم توڑ دیا تھا۔ رات ہوئی تو ہم پرسکون تھے کہ آج ہمیں تنگ کرنے والا کوئی نہیں۔ میرے اردگرد پپو، گڑیا اور گڈو گہری نیند سو رہے تھے۔ مجھے انکی معصوم اور بے خوف نیند پر بہت پیار آرہا تھا۔ بجلی نہیں تھی، سو پنکھا بند تھا۔ کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔  بارش کی وجہ سے چھت بھی ٹپک رہی تھی۔ گھر میں آٹا بھی ختم ہوچکا تھا۔ میں لیٹی ہوئی بچوں کے ناشتے کے بارے میں فکرمند ہورہی تھی۔ لیکن مجھے یہ اطمنان تھا کہ اب بچوں کو ڈرانے والی کوئی بلا اس گھر میں نہیں۔ اسی اثناء میں لائٹ آگئی اور چھت پر لگا بارہ واٹ کا اینرجی سیور بلب خود بخود روشن ہوگیا۔ میں زمین پر لیٹی بلب کو تکنے لگی۔ اسکے ہولڈر کے پیچھے ایک زرد بِھڑ اپنے منہ سے لعاب نکال نکال کر اپنا نیا ٹھکانہ بنانے میں مصروف تھی۔

(Visited 540 times, 1 visits today)

Qamar Raza Rizvi is a photographer & a journalist based in Islamabad. He writes for Islam Times & Tahera. He writes on current affairs, social and moral issues.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے