Here is what others are reading about!

اماوس کی رات

وہ  یونہی بے سود چلتاچلا جا رہا تھا۔ امجد ایک بے تکا سا آدمی تھا۔لکھاری تھا ،بے تکا تو ہونا ہی تھا۔وہ کوئی نامور لکھاری نہیں تھا۔ ایک عام سا کالم نگارہی تو تھا ۔فارغ لمحات میں زندگی کی حقیقت اور بعد از مرگ کے بارے میں سوچنےوالا ایک عام سا لکھاری۔ نہ تو اس کا قلم   تیمور جیسا مضبوط تھا  اور نہ ہی اس میں عصمت چغتائی  جیسا بانکپن تھا ۔نہ ہی اس میں منٹو کی سی بے باکیت تھی اور نہ ہی ڈی ایچ لارنس کی طرح جنسیات کی ڈگری ،جس کی ایک کہانی “The Rainbow” پڑھ کر بےحیاءسے بے حیاء مرد بھی کانوں کو ہاتھ لگائے ۔معاشرے کا تھکا ہوا سا آدمی ۔

امجد کا ایک ہی دوست تھا جو  مولوی تھا ۔اس سے بھی کل لڑائی ہو گئی ۔ اسے کہنے لگا،یار غور کر اگر خدا کا گھر زمین پر ہوتا توکتنا مزہ آتا۔ سوچو تو اگراس کے بچے بھی ہوتے ہماری طرح۔ پاگل ہوگیا ہے کیانامراد! مولوی چیخا۔  یار سن تو صحیح۔ تم اس کے پاس سجدے کرنے جاتے  اس کے پیر جاٹتے ۔اور  میں ۔ہاں میں آئے روز اس سے لڑنے جاتا۔ کبھی اس سے بسمہ کا قصور پوچھتا؟ تو کبھی سلمان تاثیر کی غلطی پوچھتا۔معلوم ہے پھرکیا ہوتا؟ وہ مجھ سے تنگ آ جاتا اور جب بھی میں اس کے گھر جاتا تووہ اپنے گھر والوں سے کہہ دیا کرتا کے امجد سے کہو کہ میں گھر پرنہیں ہوں ۔ سوچو اگر اس کی معصوم بچی وی آئی پی  پروٹوکول کی وجہ سے  مر جاتی۔بکوا س بند کر بے غیرت۔مولوی چیخا ۔ او یار مولوی میں تو یوں ہی۔۔۔ دفعان  ہوجا یہاں سے نامراد۔ امجد چلا گیا لیکن مولوی سوچ میں پڑ گیا ۔

امجد کا بس  یہی دوست تھا۔ شرافت کا ناٹک کرنے والا ایک دلال ۔امجد کے خیال میں یہ سب لوگ اپنی خواہشات  کو دبا کر رکھنے کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ بیج کو مٹی میں دبا دیا جائے تو وہ طاقتور درخت بن جاتا ہے۔پھر یہی مولوی نے زیادتی کرکے بچے کی لاش مسجد کے دروازے پر لٹکا دیتے ہیں۔ امجد ان سب سے باغی تھا۔وہ کسی خواہش کو  دباتانہیں تھا ۔جبھی تو اسکاوقت بازار حسن میں ٹہلتی عورتوں پر آوازیں کستے گزرتا۔امجد آج بہت مایوس تھا۔ مایوسی کوصرف دو چیزیں دور کرسکتی یاخدا یا خدا کی تخلیق کردہ طوائف۔

امجد کا خدا بھی دوسرے خداؤں کی طرح خاموش رہتا تھا۔ امجد اس سے باتیں تو کرتا مگر ان باتوں کا جواب نہ ملنے پر مایوس ہو جاتا ۔ جبکہ عطر میں ڈوبی ہوئی،خدا کی حسین تخلیق کا بہترین نمونہ، خوبصورت لب و لہجہ کی مالک ایک طوائف نہ صرف اس کی بے تکی باتیں سنتی بلکہ جواب دینے کی بھی کوشش کرتی۔

رات کے قریبا بارہ بجنے والے تھے جب وہ کوٹھےپر پہنچا ۔ کچھ دیر میں خوبصورت تارہ اس کے پاس آکر  بیٹھ گئی امجد کو عورتوں دیویاں معلوم ہوتی  تھیں۔ محبت پیار اور مامتا سے بھرپور ۔معصومیت سے لبریز۔وہ    اس کے قریب بیٹھ گئی تھی ۔امجد کی نگاہیں مسلسل چاند پر تھیں۔ تمہیں پتا ہے یہ چاندبھی انسان کے ایمان کی طرح ہوتا ہے کبھی اتنا بھر جاتا ہے کہ پورا آسمان روشن ہوجائے اور کبھی اتنا گھٹنے لگتا ہے اور اتنا باریک ہوجاتا ہے کہ سارا آسمان اس کے سوگ میں کالا جوڑا پہن لیتا ہے۔تارہ نے حیران ہوکر پوچھا۔ بابو جی آپ کے ایمانی چاند کی آج کیا تاریخ ہے؟ امجد بولا۔  اماوس کی رات۔۔۔

(Visited 786 times, 1 visits today)

Fizzah Shah is a freelance writer based in Muzaffargarh. She usually writes abstracts on social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے