Here is what others are reading about!

ہماری حیثیت

جس سال میں نے نویں جماعت کا امتحان دیا، اُس سال انگریزی کی کتاب میں  حضرت عمر ؓ کی سیرت پر مشتمل ایک مضمون شامل تھا۔متن کو کھوجتے ہوئے ورق گردانی کی تو ایک ایسی شخصیت کو پایا جس نے ایک آئیڈیل معاشرے کا نمونہ پیش کیا۔خادم بند کر خدمت کی اور پھر دوسروں سے قانون و قوائد پر عمل کروایا۔ آج انکے ماننے والوں  اور ان کی پیروی کا دم بھرنے  والوں کا یہ حال ہے کہ انکے بتائے  ہوئےاصول و قوانین بھلائی بیٹھی ہے اوراہلِ یورپ اس پر عمل پیرا ہیں۔ اور ہاں یاد آیا ہماری نظر میں تو وہ لوگ کافرو ملحد و زندیق ہیں اور ہم عرش  سے اتری ایک قوم۔

آج ہم  سب دعووں اور بیانیوں میں خود کفیل ہیں۔ لیڈر لاشوں پر سیاست کرتے نظر آتے ہیں۔فلاں شہید تو فلاں مظلوم۔اور ہم- ہم اپنے اسلاف کے کارناموں پر ’’پدرم سلطان بود‘‘ کا خواب دیکھےگھوڑے بیچ کر سو رہے ہیں۔ جنت میں جاناتو سبھی چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے اس طرح جینا کوئی بھی نہیں چاہتا۔ حقوق کی سبھی کو فکر ہے مگر فرائض کیا ہیں ؟وقت ملا تو سوچیں گے۔ معاشرے میں جن خامیوں کا انبار لگا پڑا ہے ،ان میں سے ایک تسلیم کرنے کی قوت کا فقدان ہے۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہمارا مخالف بھی کبھی درست ہو سکتا ہے۔

آلو پر اللہ کا نام تلاش کر کے سائنسدان بننے والے اہل ایمان پولیو کا علاج دریافت کرنے والے پکے کافروں کو آن کی آن میں دوزخ کا ٹکٹ بیچتے نظر آتے ہیں۔بل کی ادائیگی کے لئے ہم قطار میں تو کھڑے ہو نہیں سکتے اور ارادے اپنے پاوں پر کھڑے ہونے کے ہیں۔ یورپی عوام سے متاثر تو بہت ہیں لیکن انکی اچھی عادات کو اپناناخلاف شریعت مانتے اور جانتے ہیں۔

یحیی خان کی سربراہی میں ایک  محفل جاری تھی۔ محفل گرم ہوئی تو گھنٹوں طویل ہوگئی۔کہنے لگا کہ گورنمنٹ ساری یہاں ہےمگر ملک پھر بھی چل رہا ہے ۔تو صاحب معاشرے میں اخلاق کا قحط ہے مگر چل رہا ہے۔ ویسے بھی یہاں’’ سب ‘‘چلتا ہے۔رہبر ہی رہزن بنے بیٹھے ہیں۔

 ذرا دو منٹ کے لئے آنکھیں موندھئے اور تصور کیجئے۔ جب کسی مکتب میں استاد ہی آپس میں لڑ مر جانے والے ہوں، ان کے طلباء سے آپ یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ باہر پھولوں کے گلدستے بانٹیں گے؟ یقینا انکے پاس دینے کو نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں ہوگا۔ ملا آپس میں دست و گریبان ہیں۔ کہیں کپڑے پھٹ رہیں ہیں تو کہیں بٹن ٹوٹ رہے ہیں۔ اگر ایک کو لات پڑی ہے تو اگلے کی پوری کوشش ہے کہ بدلہ میں وہ گھونسہ تو ضرور رسید کرے۔ وجہ وہی کہ برداشت کا فقدان اپنی جگہ موجود ہے۔ 

صرف اپنے سے بالا پر الزام لگا دینے سے مسائل کا حل ممکن نہیں جب تک کہ اپنے گریبان میں خود نہ جھانکیں۔گذشتہ گرمیوں میں کراچی میں اموات کی کثرت ہوگئی۔ حکمرانوں کی بے حسی ایک طرف ۔ گورکن طبقہ نے بھی اپنی چاندی سمجھی اور لوگوں کی ایسی مجبوری جسکا کوئی بھی شخص طلبگار نہ ہوگا، سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جہاں عام نرخ چار ہزار وصول کرتے تھے وہاں بیس ہزار خود سے مقرر کر لیا۔ القصہ یہ کہ جسکا جہاں بس چلتا ہے وہ اپنے لئے سب مباح سمجھتا ہے پھر چاہے وہ قوم کا لیڈر ہو یا میں اور آپ۔ حیثیت ہماری ایک دل کو فتح کرنے کی نہیں اور دعوے دنیا کو زیر کرنے کے ہیں۔       

(Visited 1,357 times, 1 visits today)

Mirza Umer Ahmad is a freelance writer. With a deep study on religions, cultures and current affairs, his areas of interests are social, moral and religious issues. He can be reached out on twitter @em_umer1

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے