Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Religion
  • /
  • ان زنجیروں کو توڑ دیجئے

ان زنجیروں کو توڑ دیجئے

آزادی ایک نعمت ہے ایک ایسی کیفیت کا نام جس میں کوئی کسی کا غلام نہیں ہوتا جہاں آقا اور محکوم کا رشتہ نہیں ہوتا۔ جہاں سوچ خیالات نظریات پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی۔  غالبا انسانی تاریخ میں سب سے مہنگی چیز آزادی ہی ہے اور بقول کرشن چندر انسان نے تاریخ کے ہر موڑ پر آزادی کیلئے قیمت ادا کی ہے۔  ہم لوگوں نے سامراج راج سے تو آزادی حاصل کر لی لیکن وطن عزیز کے قیام کے بعد سے آج تک ہم ان کے بنائے ہوئے نظام اور وڈیروں سرمایہ داروں اور افسر شاہی کے آج تک غلام ہیں۔  سیاست ،مذہب، سماجی روایات ،انسانی حقوق، تعلیم آپ زندگی کے کسی بھی شعبہ کو اٹھا کر دیکھ لیجئے آپ کو تمام شعبوں میں اجارہ دار بیٹھے نظر آئیں گے۔ کچھ غلامی کی نفسیات اور کچھ ہماری فرسودہ سوچ ہم سب کو ذہنی لحاظ سے ایک وڈیرہ یا ایک آمر بنائے ہی رکھتی ہے۔ ہم سب کا جہاں اور جس شعبے میں بس چلتا ہے اپنی اپنی مرضی کی اجارہ داری قائم کرتے ہوئے اس شعبہ زندگی کو مفلوج بنائے رکھتے ہیں۔

 اسی سوچ کے تابع ہم ایک ایسے نظام میں جینے کے عادی ہو چکے ہیں جو گل سڑ چکا ہے ۔جو بدبو دیتا ہے۔  جہاں طاقت کا راج چلتا ہے اور جہاں سب اپنے اپنے حصے کے سچ کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوششوں میں نوشتہ دار پڑھنے سے قاصر رہتے ہیں۔  سماجی روایات کے نام پر سوچ سمجھ رکھنا یا کوئی نئی بات کرنا جرم ٹھہرایا جاتا ہے ۔ جن معاشروں میں اس طرح کی گھٹن پائی جائے وہاں بنیادی جبلتوں پر قدغن اور انسانی فطرت سے ہٹ کر جینے کے باعث پیدا ہونے والی محرومیوں یا خلا کو مزہبی تصور سے پورا کرنا بے حد آسان ہوتا ہے۔  پھر ایسے میں مذہب کے نام پر اجارہ داری قائم کرتے گروہ اس کے ٹھیکیدار بن کر آنے والی نسلوں تک کے زہنوں کو شدت پسندی اور دوسری تمام قوموں کے تعصب سے بھر دیتے ہیں۔  امریکہ کے شہر کیلیفورنیا میں حال ہی میں پیش آنے والے ایک فائرنگ کے واقعے جس میں چودہ افراد کی جان گئی اس میں ایک پاکستانی خاتون تاشفین ملک مرکزی مجرم نکلی۔  ایک پڑھی لکھی خاتون جو کہ ایک نومولود بچے کی ماں بھی تھی اپنے خاوند کے ساتھ ملکر بچے کو بلکتا چھوڑ کر اس طرح کی بھیانک واردات کرنے چلی گئی۔  تحقیقات پر پتہ چلا کہ یہ خاتون بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے اعلی تعلیم حاصل کر چکی تھی اس کے بعد  الہدی نامی ادارے سے  بھی دینی تعلیم حاصل کرتی رہی۔ اس ادارے میں جس طرح پڑھے لکھے دماغوں کو برین واش کیا جاتا ہے۔ اس کی مثال اس خاتون کے اس دہشت گردی سے وابستگی ہےیہ خاتون سعودیہ میں بھی اس طرف راغب رہی۔  ہمارے ہاں روایتی طور پر اس واقعے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے پہلے تو اس خاتون کو پاکستانی ماننے سے ہی انکار کیا جاتا رہا اور پھر حقیقت سامنے آنے پر وہی روایتی بہانے سامنے آنے لگے کہ یہ سب امریکہ اور مغربی ممالک کی مسلمانوں کے بارے میں جارحانہ سوچ کا ردعمل ہے۔   یقین کیجئے اب کان پک گئے ہیں یہ  سب سن سن کر۔  بجائے اپنی اصلاح کرنے کے ہمیشہ کی طرح ملبہ دوسروں پر ڈاال کر پھر سے اس شدت پسندی کو کب تک فروغ دے سکتے ہیں۔  اس معاشرے میں اقوام عالم سے نفرت اور مزہب کے نام پر دوسروں کو مارنے والے گروہ اور جماعتیں اب دن بدن جڑ پکڑتی جا رہی ہیں۔  یہ خاتون جس نے امریکی ریاست میں بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا ایک اعلی تعلیم یافتہ عورت تھی۔  ہمارے ملک کی اعلی ترین یونیورسٹیوں میں بھی جہادی اور شدت پسند تنظیموں کا اثر و رسوخ ہے اور اس واقعے کے بعد یہ چیز واضح ہو گئی۔

اس وطن میں اور معاشرے میں جہاد مذہب اور تعصب کے نام پر زہنوں کو برین واش کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے لیکن ارباب اختیار کو اس کی پرواہ ہی نہیں۔ یقینا یہ پالیسی ساز اندھے ہیں جو خاموشی سے اس معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹنے والی سوچ کو دیکھ نہیں پاتے۔  اور نہ ہی اس کے تدارک کے لیئے کچھ کرتے ہیں۔  ہزراہا افراد دہشت گردی کی نظر کر کے بھی ہم آج تک اس حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں کہ شدت پسندی کا ناسور ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ملا ملٹری الاینس ہو یا ملا سیاست دان الائنس اس نے آج تک کیا تعمیری کارنامہ سرانجام دیا ہے سمجھ سے بالاتر ہے۔  آزادی کے دفاع کے نام پر یہ الائنس آج تک اس ناکام پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسی پالیسی جو ڈالرز کے مرہون منت ہی قائم ہوتی ہے۔ جو ڈالرز کے ملنے پر فورا افغانستان اور روس جنگ میں روس کے خلاف لڑنے کو جہاد قرار دیتی ہے اور طالبان پیدا کرتی ہے پھردوبارہ  سے ڈالرز لے کر انہی طالبان کو دہشت گرد قرار دیتی ہے اور ان سے جنگ کو جہاد قرار دیتی ہے۔   ہندوستان سے لیکر امریکہ  تک سب کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا درس دیتی ہے اور پھر خود اپنے شہروں کو جلتا دیکھتی ہے۔  کیا آپ نے کبھی سوچنے کی زحمت کی ہے کہ آخر کون سی آزادی آپ کو اشرافیہ اور مزہبی ٹھیکیداروں نے حاصل کرنے دی ہے جسے کوئی دشمن سلب کر لے گا۔  آپ پیدا ہوتے ہیں تو ہر قدم پر سر جھکا کر چلنے کا درس آپ کو دیا جاتا ہے۔  بل کی قطاروں سے لے کر ہسپتال کی قطاروں تک آپ لائینوں میں لگے اپنی باری کا انتظار ہی کرتے رہتے ہیں۔  تعلیم حاصل کر کے بھی کسی سیٹھ  کے منشی لگ جاتے  ہیں یا سرکاری بابو بن کر اپنی محرومیاں اپنے ہی جیسے کمزور طبقے پر نکالتے ہیں۔  پینے کے پانی سے لیکر بنیادی ضروریات زندگی کیلئے آپ خود جدو جہد کرتے ہیں ریاست کہیں بھی آپ کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ آپ کو ایک سنتری اگر روک کر بے عزتی کر دے تو آپ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔  آُپ کو بدمعاشوں اور قبضہ گروپوں سے بھی بچنے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت پولیس پٹوار میں تعلقات بنانے پڑتے ہیں۔ آپ کے محلے کی مسجد کا ایک مولوی اٹھ کر آپ پر اگر کفر یا توہین کا جھوٹا الزام لگا دے تو آپ کو صفائی دینے تک کا موقع دیئے بنا موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب سیاستدان جاگیردار سرمایہ دار جرنیلوں اور مذہبی اور جہادی چورن  بیچنے والی اشرافیہ خود مزے سے ایک پرتعیش زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جہاں نہ تو کسی بھی قطار کا تصور ہے اور نہ ہی کسی قانون کا۔  بین الاقوامی طاقتیں جن سے آپ کو نفرت کرنا  سکھایا جاتا ہے یہ سب انہی سے پیسے بھی لیتے ہیں اور سہولیات بھی لیکن آپ لوگوں کو نفرت اور شدت پسندی کی آگ میں ہمہ  وقت جھونکتے رہتے ہیں۔  بتایئے جس ملک میں پیدا ہونے والا ہر بچہ پائی پائی بین الاقوامی قوتوں کے ہی دیئے گئے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو اس ملک پر کسی بیرونی دشمن کو قبضہ کر کے کیا مل جانا ہے۔  آج کے دور میں جنگیں معاشی اور علم وتحقیق کے محاز پر لڑی جاتی ہیں ۔ اور اگر ان محاذوں پر آپ ناکام ہیں تو دنیا کو آپ میں رتی برابر بھی اہمیت نہیں ملتی اور آپ جب بھی آنکھیں اٹھانے لگیں تو پھر لیبا اور شام بنا دیے جاتے ہیں۔  جس آزادی کے نام پر یہ جہادی انڈسٹری اور اسلحے کی انڈسٹری پروان چڑھتی ہے اس کا آپ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔  یہ سب اس طبقے کی حفاظت کیلئے ہے جو آزادی کے نام پر آپ کو غلاموں کی طرح اپنے قابو میں رکھتا ہے اور آپ کولہے کے بیل کی طرح صرف زندہ رہنے کیلئے کنوئیں کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں۔ آپ پہلے اس طبقے کی غلامی سے نجات تو حاصل کیجئے اس کے بعد ان کے آقاوں سے بھی لڑنے کا سوچئے گا۔ اور آزادی حاصل کرنے کیلئے آپ کو نفرت اور شدت پسندی کے اندھیروں سے باہر آنا لازم و ملزم ہے۔

 آپ کو سمجھنا ہو گا کہ نفرتوں کا پرچار کرتے یہ گروہ ہمارا مستقبل تک گروی رکھوا چکے ہیں۔ ان کی نفرتوں سے بچیے۔ ایک دوسرے کے گلے کاٹنا بند کیجئے جس کا جو عقیدہ  ہے اس کا فیصلہ خدا پر چھوڑیئے اور کچھ کیجئے اپنی آنے والی نسلوں کے لیئے ہی کم سے کم غلامی کی ان  زنجیروں کو توڑنے کی کوشش کیجئے۔  آپ کی جنگ کسی  بھی بیرونی طاقت سے نہیں بلکہ اپنے معاشرے میں موجود ان بیڑیوں سے ہے جو آپ کو سوچنے سے منع کرتی ہیں جو آپ کو انسانیت کا چھوڑ کر محض اپنے  بارے میں یا فرقے کے بارے میں سوچنے کا کہہ کر آپ کو مزید تقسیم کرتی ہیں۔ جو آپ کو جہالت اور گمراہی کے اندھیروں میں جکڑے رکھتی ہیں۔ پالیسی سازوں اور مقتدر قوتوں سے یہ   سب کہنا بیکار ہے کیونکہ ان سب کا مفاد اس  شدت پسندی اور نفرت کی انڈسٹری سے کہیں نہ کہیں جڑا ہوا ہے لیکن کم سے کم آپ سب تو اس انڈسٹری میں اپنا حصہ ڈالنا بند کیجئے۔  پہلے اپنے معاشرے میں انصاف قانون انسانی حقوق بھائی چارہ اقلیتوں کے  حقوق علم تحقیق ان سب میں مثال قائم کیجئے پھر دنیا پر بھی غلبہ پانے کا سوچئے گا۔ نفرتوں کے سوداگر چاہے وہ کسی بھی روپ میں  موجود ہوں ان کی پوجا کرنا چھوڑیے۔  آپ جس دن ان بیڑیوں سے نجات حاصل کر لیں گے اس دن آپ زہنی غلامی سے چھٹکارا بھی حاصل کر لیں گے۔

(Visited 415 times, 1 visits today)

Imad Zafar is a journalist based in Lahore. He is a regular Columnist/Commentator at Daily Ittehad, Resident Editor at Free Press Publications and Resident Editor at World Free Press. He is associated with TV channels, Radio, news papers,news agencies political, policies and media related think tanks and International NGOs.

One Comment

  • hasan_libra95@hotmail.com'

    Hasan Mohiuddin Ahmed

    January 20, 2016 at 6:21 pm

    Salam ..
    Bohat he aala or bohat ke kamaal ki tehreer likkhi hai aap nay .. Main bus aap k liye or is Pak SirZameen or is Pak SirZameen k logon k liye duago hun k Allah Kareem aap ki is kaawish ko qubool karain .. Or aap k qalam ki parwarish karain .. Or is Pak SirZameen or is Pak SirZameen k logon ko hidayat, barkat rehmat, salamti or ilm-e-nafay ata karain .. Or aapas main it’tihad, it’tifaaq, mohabbat, ulfat ata karain .. Elahi Aameen ..

    Reply

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے