Here is what others are reading about!

پاپا جھوٹ نہیں

ماما میں بہت خوش ہوں !یہاں میرے پاس نئی گڑیائیں ہیں ۔یہاں میری اننی(اتنی)ساری دوست بھی ہیں۔ہم سب باری باری کھیلتی ہیں،
یہاں پر چاکلیٹ کھانے پر بھی کوئی روک ٹوک نہیں ماما۔آپ دونوں کو بہت مس کرتی ہوں۔ہمیں باغ سے باہر نکلنے کا دل ہی نہیں کرتا
میلی (میری) ڈرائینگ والی سینری جو ہماری مس نے ہمیں سکھائی تھی ویسی ہی بالکل پیاری اور خواب جیسی جگہ ہے۔یہاں شرارتیں کرنے پر کوئی ڈانٹا بھی نہیں ماما!
مریم کی آنکھ کھل جاتی ہے ۔اور وہ ماضی میں کھو جاتی ہے   ۔۔۔
زینب اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔رضوان اور مریم کی آنکھوں کا تارا تھی،ان دونوں کو بیٹی کی خواہش تھی اور اﷲ نے اُن کی سن لی تھی ۔ شادی کے 10سال بعد اُن کے گھر بیٹی ہوئی ۔سنہرے بال،نیلی نیلی آنکھوں والی بچی محلے بھر کی لاڈلی تھی۔زینب بچپن سے ہی دینی و دنیاوی دونوں کی دولت سے مالامال تھی۔اپنی مما کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ ان کی نقل کرتی اور جائے نماز کے آگے آجایا کرتی۔یہ منظر دیکھ کر رضوان صاحب بہت ہنسا کرتے۔  رمضان کا مہینہ آرہا ہے،اس بار سودا زیادہ آئے گا ۔میں تو کہتی ہوں اکٹھالے آئیں تاکہ بار بار نہ زحمت کرنی پڑے،مریم نے کہا۔
ہاں یار کہتی تو ٹھیک ہو بالکل،رضوان صاحب نے کہا۔۔
زینب کے لئے بھی الگ سے لسٹ بنانا آپ ۔۔۔پتہ ہے نا پھر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے اگر اُس کی من پسند چیزیں نہ ہوں تو۔مریم نے کہا
کراچی کا موسم بہت گرم ہوچلا تھا۔پارہ 40 ڈگری تک جا پہنچا تھا ۔زینب 9 سال میں داخل ہورہی تھی۔
ٹی وی پر رمضان کے بابرکت مہینے کی اہمیت ہر بات کی جارہی تھی      ۔
امی یہ روزہ کیا ہوتا ہے؟زینب نے پوچھا۔
بیٹا روزہ اﷲ تعالیٰ نے ہم پر فرض کئے ہیں تاکہ ہم اچھے اور نیک انسان بن سکے۔صبح صادق سے لیکر غروب آفتاب تک بغیر کھائے پئیے رہنے کو روزہ کہتے ہیں۔تاکہ ہمیں غریبوں کا احساس ہوسکے جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا۔
امی!میں نے بھی بوزہ (روزہ) رکھنا ہے۔زینب امی کی گود میں آکر بولی۔
بیٹی تم ابھی چھوٹی ہو جب بڑی ہوگی نہ تب رکھنا۔
امی میں نے بھی رکھنا ہے پلیز۔
اچھا بیٹا آپ رکھ لینا۔
زینی بیٹا!آج اپکی اسکول میں پھر اپنی کلاس فیلو سے لڑائی ہوئی تھی نا؟رضوان صاحب نے پوچھا۔۔
نہیں پاپا میری تو لڑائی نہیں ہوئی وہ خود درشہورا لڑتی رہتی ہے ۔سب کو کہہ رہی تھی میرا روزہ ہے ۔مگر میں نے بریک میں خود اُس کو لنچ کرتے ہوئے دیکھا ۔جب میں نے پوچھا تو لڑنا شروع ہوگئی ۔جھوٹ بولنا تو اﷲ کو بھی پسند نہیں پاپا۔
واہ پاپا کی گڑیاتو بڑی سمجھدار ہوتی جارہی ہے ۔دل خوش کردیا بیٹا۔
پاپا گرمی کم کیوں نہیں ہوتی۔سمر کیمپ میں بھی اتنی گرمی ہوتی ہے ۔پسینے سے برا حال ہوجاتا ہے ،میں اﷲسے دعا کرونگی کہ وہ گرمی کم کردے۔اﷲتعالیٰ سنے گا نہ پاپا ؟زینب نے معصومیت سے کہا۔  
جی بیٹا ضرور سنے گا ہم سب اچھے اچھے ہوجائیں تو ساری گرمی بھاگ جائے گی۔رضوان صاحب بولے    ۔
پہلا عشرہ چل رہا تھا۔زینب بھی چڑی روزے رکھ لیتی تھی ۔ایک دن اسکول سے کال آئی کہ زینب بے ہوش ہوگئی ہے ۔
رضوان اور مریم کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ڈاکٹروں نے ”دل میں سوراخ”جیسی بیماری کا بتا کر دونوں کو جیتے جی مار دیا۔
ڈاکٹر صاحب ایسے کیسے ہوسکتا ہے وہ تو بالکل نارمل بچی ہے۔وہ تو آج تک کبھی بیمار نہیں پڑی۔رضوان صاحب نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا۔آپ کی بیٹی کے ساتھ یہ بچپن سے مسئلہ ہے ۔پھر بھی آپ دوسرے ہسپتال میں چیک اپ کرواسکتے ہیں۔آپریٹ ہوسکتا ہے مگر رسک کافی ہے ۔آپ اﷲسے دعا کریں وہی بہتر کرے گا۔ رضوان اور مریم وہیں کے وہیں کھڑے رہ گئے۔
زینب جیسی اکلوتی اولاد کھونے کا دکھ انہیں سونے نہیں دیتا تھا۔رضوان اور مریم خاموش ہوکر رہ گئے تھے۔
اپنے آپ کو سنبھالو!زینب کو پتہ نہیں لگنا چاہئے۔میں کوشش کررہا ہوں باہر علاج ہوجائے گا سب ٹھیک ہوجائے گا بھروسہ رکھو۔  کیسے سنبھالو خود کو؟ہماری ایک ہی بیٹی ہے جس میں میری جان ہے ۔مریم روتے ہوئے کہنے لگی۔
ماما آپ مجھے اسکول کیوں نہیں بھیج رہیں؟
بیٹا گرمی بہت ہے نا آپ بیمار پڑجاؤ گی۔
پر ماما گرمی تو پہلے بھی تھی؟میری سب سہیلیاں کھیلتی ہیں۔آپ نے مجھے گھر میں بند کررکھا ہے۔زینب نے منہ پھلاتے ہوئے کہا۔
بیٹا عید کے بعد اسکول کھل جائیں گے تب چلی جانا۔سمر کیمپ کونسا ضروری ہے۔
ماما کیا میں بیمار ہوں کیا؟مجھے انجکشن کیوں لگتے ہیں؟مجھے بار بار ہسپتال کیوں لیکر جاتی ہیں آپ؟زینب نے پوچھا        ۔
میری گڑیا گرمی سے بچنے کے لیے آپ کو انجکشن لگتے ہیں نا تاکہ آپ اسٹرانگ رہو اپنے پاپا کی طرح      ۔
او یس پاپا کی طرح میں اسٹرانگ ہو نا میں؟زینب سے پوچھا۔
ہاں میری گڑیا بہت زیادہ۔مریم نے اُس کے گال پر پیار کرتے ہوئے کہااور آنسو چھپالئے ۔ 
رمضان کا تیسرا عشرہ چل رہا تھا۔لوگ عبادتوں میں مصروف تھے ۔رضوان صاحب ہسپتال کے چکر لگائے جارہے تھے۔زینب کی طبیعت بہت زیادہ بگڑ گئی تھی۔زینب اپنے پاپا کو دیکھ رہی تھی اور کچھ کہنے کی کوشش کررہی تھی۔
پاپا۔۔۔میں میں۔۔بی بیمار ہو ہوں؟زینب نے مشکل سے جملہ پورا کیا۔
نہیں بیٹا آپ تو بالکل ٹھیک ہو ۔میری اسٹرانگ گرل۔رضوان صاحب نے بڑی مشکل سے مسکراتے ہوئے کہا       ۔
پاپا۔۔۔مجھ مجھے پتا تھا۔۔۔۔کہ میں بیمار ہوں۔۔۔پاپا آپ نے۔۔۔۔مجھے سکھایا تھا کہ جھوٹ نہ بولوں تو پاپا ۔۔۔۔آپ جھوٹ کیوں بولا۔اﷲ کو بھی پسند نہیں نا۔پاپا جھوٹ نہیں۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے زینب کی گردن جھک گئی ۔

(Visited 413 times, 1 visits today)

Saad Shahid is content writer at Sarim Burney Trust International, Youth Department Reporter at Daily Azad Riasat and Special Correspondent at News Online.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے