Here is what others are reading about!

بازگشت

میری آنکھوں کے سامنے سیاہ اندھیرا چھا رہا ہے۔یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میں کسی گہری کھائی میں گرتا  چلاجا رہا ہوں۔ وقت کا احساس  بھی غائب ہے اور گھڑی کی آواز بھی ندارد۔  ایک موہوم سا سفر  جاری ہے۔ شاید مجھے کسی کا انتظار ہے یا کوئی میرا انتظار کر رہا ہے۔سوچتا ہوں شاید مجھے کوئی تھام لے۔ جواب کی تلاش میں سوال کرتا ہوں کہ کیوں؟  کیا میں نے کبھی کسی گرتے کو تھاما ہے؟ کیا میں نے کسی کو سہارا دیا ہے؟ میں نے کبھی کسی کے لئے کچھ بھی تو  نہیں کیا۔ میں تو بس اپنے لئے ہی تھا۔میرے لئےموت ایک معمہ ہے۔معلوم نہیں سانسوں کے ربط کے ٹوٹ جانے کانام موت ہے یا پھر احساس کی گرہوں کے کھل جانے کا مطلب موت ہے۔ زندگی کا فلسفہ بھی کتنا عجیب ہے ۔شامیں کٹتی نہیں، اور سال گذرتے چلے جا رہے ہیں۔

اس انجان کھائی میں گرنے کا سفر ایک دم رک گیا۔ قدم زمین پر تھے۔  خوف کے مارے آنکھیں  موند لیں۔ نہ کھلیں نہ کچھ سنائی دے۔ خاموشی  شور لگنے لگی۔ آہٹیں چیخیں معلوم ہونے لگیں۔ قدموں کی چاپ  زمین کے سینے کو چیرنے لگی۔ کچھ ہمت کر کے آنکھ کھولی تو  دیکھا چاروں طرف سناٹا ہے۔ دور دور تک دھند یا شاید میری آنکھوں میں نمی۔ دھند کتنی ہی ظالم ہو جائے اتنی جگہ تو دے دیتی ہے کہ انسان اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے اورجب چل پڑو تو رستہ خودبخود ہی ملتا چلا جاتا ہے بس فرق یہ رہتا ہے کہ پیچھے والے گزر جانے والوں کا نام ونشان ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں اور جانے والا یوں غائب ہو جاتا ہے کہ جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔آگے کون ہمسفر ہو گا اورکتنا سفر باقی ہے؟ یہ ہمیشہ نامعلوم ہی رہتا ہے۔

میں نے اپنی آنکھیں ملیں کہ شاید کچھ نظر آئے۔ کچھ چہرے مجھے  گھیرنے لگے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کون ہوتم؟ کوئی جواب نہیں آتا۔ میں گھبرا سا جاتا ہوں۔ پھر پوچھتا ہوں کہ یہ کون سی جگہ ہے؟ کوئی جواب نہیں آتا۔ سپید، بے جان چہرے۔ جذبات اور حرارت سے عاری۔ بس مجھے تاک رہے ہیں۔ ان میں سے ایک آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے میں ہوں ایمانداری۔ تمہاری ایمانداری ۔ جسے تم نے  چند سکوں کی خاطر بیچ دیا۔ اور میرا خون کر دیا۔ کچھ سوچتا ہوں کچھ کہنے لگتا ہوں کہ دوسرا آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں سچ ہوں ۔  ہاں وہی جسے تم نے خنجر گھونپ کر ہلاک کر دیا۔ ادب، انصاف، شجاعت، دیانت اور محبت۔ سب اپنے خون کا بدلہ لینے موجود تھے۔ اور محبت، ہاں محبت بھی تو اپنا بدلہ لینے وہاں موجود تھی۔  میں لرز کے کہتا ہوں کہ مجھے جانے دو ۔ تم سب مجھے بخش دو۔ مجھے معاف کر دو۔ اور آہوں میں بدلتی میری سسکیاں ان کے قد بڑھاتی گئی اور میں ان کے حصار میں آتا چلا گیا۔ گزرا ہوا وقت میری آنکھوں کے سامنے ایک چلنے لگا۔میں تو مر چکا ہوں۔ پر میں پھر سے کیوں مر رہا ہوں۔ کیا بار بار کی موت میری سزا ہے؟

میری آنکھ کھلی ۔ میں اپنے بستر پرتھا ۔ ماتھے پر پسینہ اور دل بوجھل۔ نہ جانے یہ کیسا خواب تھا۔ اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور تسلی کی کہ میں زندہ ہوں۔ میں باہر نکلا تو اندازہ ہوا کہ وہ خواب نہیں تھا۔ میں مر چکا ہوں  اور اب پھر ایک اور زندگی کا آغاز ہوا ہے۔اب   مجھے ان سب کو بھی زندہ کرنا تھا جنہیں میں مار چکا تھا۔ امانتداری، سچائی، آداب، انصاف۔ سبھی کوتو زند ہ کرنا تھا۔ اور محبت۔ مجھے محبت کو بھی زندگی بخشنی تھی۔ اپنے لئے۔  سب کے لئے۔ کہتے ہیں محبوب ایک دن محب بن جاتا ہے اور معشوق ایک دن عاشق کا درجہ پا لیتا ہے! تبھی تو شوقِ ملاقات میں کوئی زمین سے اُٹھتا ہے اور کوئی آسمان سے جھکتا ہے درمیان میں کہیں دو قوسیں وتر بنا دیتی ہیں اور قَابَ قَوْ سَیْنِ اَوْ اَدْنٰی کا مضمون مکمل ہو جاتا ہے۔ یہ زمین دل کی زمین ہی ہو سکتی ہے جو عرش بن جاتی ہے۔ یہ فرش ہے جو اب عرش ہوا جاتا ہےاور کیفیتِ موآنِ بدن مرغِ تپیدن ہو جاتی ہے، پور پور سے لہوِ فراق کی بوندیں ٹپکتی ہیں۔ موت کی بازگشت کے ساتھ زندگی پھر سے لوٹ آئی تھی۔

(Visited 555 times, 1 visits today)

Faiza Sohail is an abstract writer and a student of mass communication based in Karachi. Her areas of interests are life, dreams and relations.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے