Here is what others are reading about!

جھوٹ

کاش دنیا سچ کے پھولوں سے مہک اٹھے____________ !
ایک موہوم سی ____ مگر نجانے کب سے پلتی ہوئی خواہش نے میرے دل میں دھڑکنوں کے بہت قریب ہی کروٹ لی _____ 
میں ایک اجنبی مسافر کی طرح شہر کے انجانے راستوں پر چلتا ہوا ،اترتی شام کے سائیوں میں اُفق پر پھیلتی ہوئی سرخی میں اپنے آشیانوں کی طرف لوٹتے ہوئے پرندوں کو دیکھتے ہوئے یہ سوچے جا رہا تھا_________ کاش ہر سمت سے سچائی کی خوشبو کے سوتے پھوٹ نکلیں ۔۔۔۔          
بعض لوگ ،اپنی زندگی میں در آنے والی مسلسل محرومیوں اور اپنی ذات کی پے در پے توہین آمیز نفی کئے جانے پر ایک فیصلہ کرتے ہیں ___ اپنے وجود پر غیر مرئی  خول چڑھانے کا فیصلہ !ایساخول جس میں ان کی اپنی شخصیت بے وجود ہو جائے ۔جیسے اپنے اصلی وجود پر تصّنع سے لتھڑے رنگوں کا غازہ پوت دیا جائے __ پچ رنگا غازہ ۔۔۔۔           
مجھے یہی سوچ قلعہ دراوڑ لے گئی __جسکی سیاحت کے دوران میرے گائیڈ نے ایک بڑے تالاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے” انکشاف” کیا تھا ___ “اس تالاب کی تہہ پیتل کی بنی ہوئی ہے!” میں نے متجسّس نگاہوں سے تالاب کے اندر جھانکا۔وہ میری بے یقینی کو بھانپ گیا تھا ۔” صاب! اس کی تہہ آپ کو نظر نہیں آئے گی ۔صحراؤں میں لہراتے ہوئے گرد کے بگولوں نے اپنی اڑائی ہوئی مٹی کی نہ جانے کتنی تہوں سے اسے ڈھانپ دیا ہے ۔جب میں چھوٹا تھا تو میں نے خود اس کی پیتل کی تہہ دیکھی تھی۔ آپ یقین کریں !”           
میں نے اس کا دل رکھنے کے لئے اثبات میں سر ہلا دیا تھا ۔
مسلسل جھوٹ بولنے والے لو گوں کی شخصیت بھی شاید ایک تالاب ایسی ہی ہوتی ہے جس پردروغ گوئی کے بگولے کذب و افتر ا کی مٹی ڈالتے چلے آتے ہیں اور بالآخر میرے گائیڈ کے بقول” پیتل کی تہہ “دب کر گم ہو جاتی ہے اور تالاب کا صر ف نا م رہ جاتاہے ۔میں یہی سوچتا رہا ____” آخر لوگ بے دریغ جھوٹ کیوں بولا کرتے ہیں ؟ ۔۔۔۔مگر ۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ پہلے مجھے خود احتسابی کے عمل سے گزرنا چاہیے” میرے اندر سے ایک آواز نے مجھے جھنجھوڑا۔           
“I am the only being” کی تخلیق کار ایملی برونٹے کی طرح مجھے اپنی ذات کے اندر کلبلاتے ہوئے کیڑے ، سوچوں کی بہت لمبی اکھاڑ پچھاڑ کے بعد سب سے آخر میں دکھائی دیے اور پھر مجھے خوداپنی ذات سے بھی اتنی ہی نفرت ہونے لگی جس قدر دوسرے جھوٹ بولنے والوں سے مجھے محسوس ہو رہی تھی۔   
اب میں  اضطرابی کیفیت لئے ایک با رونق  فٹ پاتھ پر چلا جا رہا تھا ۔   
“آپا جی ۔ قسم خدا کی ۔ اس بھاؤ تو یہ میری خرید بھی نہیں ۔اس میں مجھے قسم پروردگار کی سراسر گھاٹا ہو رہا ہے ____ پر آپ خالی نہ جائیں ۔آپ ہماری بہت پرانی گاہک ہیں اس لئے ____ چلئے لے جائیے مگر قسم اللہ پاک کی ……….. ”       
میں تھرّا کر رہ گیا ۔ایک  بڑی دکان کا مالک معمولی سی چیز بیچنے کے لئے کس پاک ہستی کا نام بار بار لے کر اپنی چیز محض جھوٹ کے سہارے بیچنا چاہ رہا تھا۔۔۔ صر ف چند سکوں کے لئے خالق کائنات کے مقدس نام کی قسمیں کھا رہا تھا۔            
ذہن میں اتھل پتھل ہونے لگی ۔وہاں ٹھہرنا میرے لئے دو بھر ہو گیا ۔پیروں نے جیسے ننگے برقی تاروں کو چھو لیا ہو ۔۔۔ اور بہت دیر کے بعد جب میرے اوسان بحال ہو ئے تو میں ضلع کچہری میں کھڑا تھا __شام کا وقت تھا اور وہاں وکلاء کے چھپر اور ان کے باہر تخت پوشوں اور زنجیروں سے بندھے بنچوں کے سواکچھ نہیں تھا۔ ایک مہیب خاموشی نے پورے ماحول پر ایک پر اسرار سناٹا طاری کر رکھا تھا__میں نے اپنی جلتی ہوئی آنکھیں موند لیں اور پھر تصورات کی فلم کے مناظر بند آنکھوں کی اوٹ میں بھاگنے لگے ۔جھوٹی گواہیاں اور جھوٹے گواہوں کے بھاؤ تاؤ ۔مقدس کتاب پر دیدہ و دلیرانہ جھوٹے حلف….. وکلاء حضرات کی اپنے مو کلو ں کے کانوں میں من گھڑت بیانوں کی سر گوشیاں اور پھر وہی رٹے رٹائے جملے” بالکل سچ کہوں گا ۔سچ کے سوا کچھ نہیں کہونگا ۔۔” وکلاء کے انداز بیان میں زیرو بم اور منصف کے رو برو انصاف طلب سائل پر بے رحمانہ اور شرمناک جرح ….پھر اپنے موکل کی جانب داد طلب نگاہوں سے دیکھنا اور پھر مدعی مجرم اور مجرم معصوم ۔۔۔۔        
میں نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں ۔ جھوٹ کا کالا جادو سر چڑھ کر اپنا اثر دکھا رہا تھا ۔کچہری میں کوئی نہ تھا مگر مجھے بین کرتی ہوئی روحوں کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں جنہیں جھوٹ کے عفر یت نے انصاف کی کرسی پر بیٹھے ہوئے منصف کے عین سامنے ڈس لیا تھا۔۔۔۔   
میرا سر درد سے پھٹنے کو تھا اور گردن کی نسیں جیسے ٹوٹنے لگیں ۔رات دھیرے دھیرے گہری ہوتی چلی جا رہی تھی میں سوچوں کے تارِ عنکبوت میں الجھا کمپنی باغ کے ایک کونے میں رکھی پتھریلی بنچ پر بیٹھ کر آہستہ آہستہ ماتھے اور کنپٹیوں کو سہلانے لگا ۔اچانک ایک سرگوشی نے چونکا دیا ۔ کچھ ہی دور کنج میں دو ہیولے دکھائی دیئے۔” سویٹ ہارٹ !! تم میرے لیئے سب کچھ ہو۔۔۔ بس تم مجھ سے بدگمان نہ ہوا کرو____ “پھر ایک اور سرگوشی ……          
میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اُدھر غورسے دیکھا۔اور غور سے اور____ وہی ۔۔۔ ہاں وہی ……….. خوبصورت بیوی کا شوہر اور تین بچوں کا باپ ! وہ معروف سرکاری افسر تھا …..           
” پُچ “.. شاید اس نے اپنی اُس کو چو ما تھا۔۔۔ ____ مجھ میں مزید برداشت کرنے کی سکت نہ رہی۔ میں خاموشی سےاُٹھ کر  باہر چلا آیا۔ میں نے اپنا فون  نکال کر اُس کے گھر کا نمبر ڈائل کیا ۔فون پر اس کی بیوی بول رہی تھی۔   
” اُن کا فون آیا تھا۔۔ وہ آج ضروری میٹنگ کی وجہ سے لیٹ آئیں گے آپ کون بول رہے ہیں جی۔۔۔؟”          
میں نے جواب دیے بغیر ہی فون بند کر دیا ____        
سر میں دھماکے ہونے لگے ۔ مجھے درد روکنے والی دوا کی اشد ضرورت تھی چند قدم آگے ایک سرجیکل سنٹر کا بو رڈ نظر پڑا ۔          
“اس پرائیویٹ ہسپتال میں ضرور کوئی میڈیکل سٹور ہو گا۔”میں نے سوچا۔           
کاریڈور سے _____ بُراق کو ٹ میں ملبوس ڈاکٹر گزر رہا تھا اور اس کے پیچھے پیچھے ایک خستہ حال سا بوڑھا  اپنے چھ سات سالہ بچے کو اٹھائے، گڑ گڑاتا ہوا تیز تیز قدموں سے  چلا آ رہا تھا___ اس کی آنکھوں میں خوف اور وحشت ایک ساتھ نظر آ رہے تھے۔ بچہ رو تو نہیں رہا تھا مگر اس کا رنگ زرد تھا۔             
“بھئی آپ میرا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔۔۔آپریشن کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔۔ اگر فوری آپریشن نہ ہوا تو اپنڈکس پھٹ سکتی ہے!” ڈاکٹر نے مصنوعی پریشانی سے کہا۔     
“بچے کا پریشان حال باپ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ڈاکٹر کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔       
“مگر ڈاکٹر صاحب !میں تیس ہزار روپے کہاں سے لاؤں جی۔ بھٹوں کی ریڑھی لگاتا ہوں ۔ پانچ بچے بیوی اور میں۔۔۔ ” وہ گڑ گڑایا۔               
“تو بھائی  میں نے کہا تھا۔۔ اتنے بچے پیدا کیے جاؤ؟   ڈاکٹر صاحب  ایک شانِ بے نیازی سے “ایکسکیوز می” کہہ کر ایک گیلری میں مُڑ گئے۔         
میری آنکھیں نم ہو گئیں ۔مجھے یو ں لگا جیسے وہ بچہ میرا ہو اور میں اس کا باپ ۔ میرے اندر کا ڈاکٹر بیدار ہو گیا تھا ۔ میں اپنے سر کا درد بھول گیا۔ “چاچا کیا ہوا ہے اسے؟ ” بوڑھے نے اپنی میلی آستین سے آنکھیں پونچھ کر مجھے دیکھا اور بچے کو فرش پر لٹا  کر بچے کی ناف کے نیچے ہاتھ لگاکر کہا “یہاں” درد ہے۔  میں نے درد والے حصے کا اور پھر اس بچے کا معائنہ کیا۔ بچے کو شاید دوبارہ شدید درد ہو رہا تھا اور اب وہ رونے لگا تھا ۔میں لرز کر رہ گیا مجھے سرجن کی مسیحائی سے خوف آنے لگا۔ معمولی ریاحی درد تھا جو شاید بھٹے کھانے کی وجہ سے ہو رہا تھا۔
“چاچا ذرا باہر آ جاؤ ۔آجا ؤ ہاں !بچے کو بھی لے آؤ” وہ کچھ بے اعتباری اور ہچکچاہٹ کے بعد میرے پیچھے پیچھے سنٹرکے لان میں آ گیا۔ میں نے سنٹر کے سٹور سے پیٹ درد کی دوا خریدی اور دوا کے ڈھکن میں ہی  دوا بھر کے بچے کو پلا دی۔  پھر بچے کو بنچ  پر لٹا کر اس کی درد والی جگہ کو انگلیوں سے آہستہ آہستہ سہلانے لگا ۔تھوڑی دیرکے بعد بچے کے پیٹ کا درد ٹھیک ہوگیا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ میں نے دوا کی شیشی  بوڑھے شخص  کو دے دی اور کہا کہ وہ بچے کو گھر لے جائے۔۔۔ بچہ ٹھیک ہے۔۔۔ مگر  وہ رُکا رہا ۔۔۔اسے میری سچائی پر شاید یقین نہ تھا۔۔۔۔    
میں سرجیکل سنٹر کے گیٹ سے باہر نکل آیا ۔معمولی ریاحی درد کوکس وثوق سے جھوٹا اپنڈکس کا کیس بنا دیا گیا تھا اور کتنے اندھے اعتماد سے یقین کر لیا گیا تھا ۔ جلد کے اوپر ڈیڑھ انچ کا کٹ اور چند ٹانکے ….فیس تیس ہزار روپے ۔ اُف خدایا۔۔۔۔۔  مجھے اپنی اپنڈکس کٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔  میں نے غیر ارادی طور پر اپنے پیٹ کے دائیں حصے پر ہاتھ رکھ دیا۔ یوں لگا جیسے میرے اردگرد میر ا خون چوسنے کے لیے ہزاروں خون آشام چمگا دڑیں منڈ لا رہی ہوں۔۔۔       
افسر کا ماتحت سے جھوٹ ۔۔۔۔ شوہر کا بیوی سے جھوٹ۔۔۔۔ استاد سے شاگرد کا تعلق ۔۔۔۔جھوٹ ۔۔۔۔ دکاندار کا گاہک سے واسطہ ۔۔۔۔۔جھوٹ۔۔۔۔ غرض جھوٹ کو اس معاشرے کی ایک ضرورت سمجھ کر تسلیم کر لیاگیا ہے ۔۔۔۔ کیا ہمارے سیاستدان ہمارے ساتھ مسلسل جھوٹ پہ جھوٹ نہیں بولتے چلے آ رہے؟  برسوں سے میں اور آپ سب ان سیاست کاروں کے جھوٹ کی ڈور سے بندھے چلے آ رہے ہیں۔  ہمارا ایمان ،ناموس ، وقاراور اعتبار سبھی کچھ اس جھوٹ کے سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں ۔ لگتا ہے جھوٹ کی یہ دیمک ہم سب کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتی چلی  جا رہی ہےلیکن ہم اس کا ادراک کرنے کو تیار نہیں ہیں۔  بغیرمقصد کے جھوٹ بولنا، مقصد براری کے لیے جھوٹ ۔۔۔اور ایسے کام کے لئے بھی جھوٹ بولا جا رہا ہے جو بغیر جھوٹ کے بھی  آسانی سے ہو سکتا ہے۔            
مجھے اپنی  سانسوں میں جھوٹ کی آگ کی  حدت محسوس ہو رہی تھی ۔۔ اور کا نوں میں جیسے جھوٹ کے اژدھوں کی پھنکار گونج رہی تھی۔         
شہر کی فضا، جھوٹ کی بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرا کر لوٹنے والی ہواؤں سے جھلسائے جا رہی تھی اور میں حسرت بھری پتھرائی ہوئی آنکھوں سے فٹ پاتھ پر بیٹھا سنسان سڑک کو تکے جا رہا تھا ۔۔۔ صرف اتنی سی خواہش دل میں دبائے _______ کہ کاش دنیا سچ کے پھولوں سے مہک اٹھے۔

(Visited 491 times, 1 visits today)

Dr. Sohail Ahmad is a freelance writer based in Islamabad. He’s a family physician, pharmacology teacher, broadcaster, fiction writer and a poet.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے