Here is what others are reading about!

زندگی کی شطرنج

شطرنج ایک صدیوں پرانا کھیل ہے جو  600 سال قبل مسیح دریافت ہوا تھا۔ اس کھیل کو کھیلنے والے جانتے ہیں کہ یہ ذہانت اور گہری سوچ رکھنے والوں کا کھیل ہے جس میں آپ کو حریف کو شطرنج کی بساط پر چالوں سے مات دینا ہوتی ہے۔ کسی بھی ماہر نفسیات یا انسان کے دماغ پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کی آرا اس کھیل کے متعلق دیکھی جائیں تو اسے انسانی دماغ کو چست و چابند اور تخلیقی سوچ کی جانب مبذول کروانے والا کھیل گردانا جاتا ہے۔ مگر شومئی قسمت کہ یہ شطرنج کا کھیل بھی فتوے جاری کرنے والوں کو ایک آنکھ نہ بھایا اور جناب مفتی اعظم سعودی شیخ عبدالله ال شیخ  نے اسے حرام قرار دے ڈالا۔  اس کھیل کو حرام قرار دیتے ہوئے موصوف کا فرمانا تھا کہ کیونکہ اس کھیل میں سٹہ بازی ہوتی ہے اور جوئے باز بھی ہوتے ہیں  تو یہ حرام ہے اس کو کھیلنے والے ایک دوسرے کے خلاف دل میں بغض رکھتے ہوئے اندر سے ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں اور یہ کھیل کیونکہ طویل ہوتا ہے اس لیئے وقت کا ضیاع ہے چنانچہ قران اور شریعت کی رو سے یہ حرام ہے۔

پھر تو کرکٹ فٹبال ٹینس سمیت تمام کھیل حرام ہی ہوئے کیونکہ سٹے باز تو انہیں بھی نہیں چھوڑتے۔ سچ پوچھئے تو اب اس طرح کے فتوے اور منطق سن کر بالکل حیرانگی نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی تعجب۔ آخر ہم مسلمان سوائے حلال اور حرام کی سند بانٹنے کے علاوہ کریں تو کریں بھی کیا۔  کیونکہ دنیا میں اس وقت جو بھی ہو رہا ہے ہمارے حساب سے تو حرام ہی ہے۔  سائینس  تحقیق پر زور دیتے ہوئے ہر شے اور تھیوری کا ثبوت مانگتی ہے اس لیئے ہمارے لیئے تو حرام ہی ٹھہری۔  فلسفہ کائنات کے مختلف اسرار و رموز سے متعلق رازوں کو منطق کی بنیاد پر دیکھتا ہے تو یہ بھی ہمارے لیئے حرام ہی ٹھہرا۔  ٹیکنالوجی پوری دنیا کے باشندوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے گویا نامحرم اور محرم کا فرق ہی مٹا دیتی ہے تو یہ بھی ہمارے کیئے حرام ہی ٹھہری۔  ایجادات پر پیسوں کا اور وقت کا ضیاع ہوتا ہے انسان سب کچھ بھول کر نت نئی ایجادات کی تگ و دو میں مصروف رہتا ہے تو یہ بھی حرام ہی ٹھہریں۔ موسیقی سے دل و جاں کو  راحت ملتی ہے سرور و مستی کی کیفیت طاری ہوتی ہے اس لیئے یہ بھی ہم پر حرام ہی ٹھہری۔  مصوری تو تخلیقی صلاحیتوں کو اس حد تک عروج پر لے جاتی ہے کہ اس کے بعد انسان کو کچھ اور دکھائی ہی نہیں دیتا تو یہ بھی حرام۔  مطالعے کی عادت بھی کیونکہ کتاب میں انسان کو گم کر دیتی ہے اور وہ دوران مطالعہ ارد گرد سے غافل ہو جاتا ہے تو یہ بھی حرام ۔ ٹی وی دیکھنا بھی حرام سوائے اسلامی چینل دیکھنے کے۔  موبائل فون میں تو ویسے ہی سارا سارا دن لوگ مصروف رہ کر ہر چیز سے غافل ہو جاتے ہیں تو یہ بھی حرام۔ حیرت ہے کہ ابھی تک کرکٹ پر فتوی کیوں نہیں آیا جہاں ٹیسٹ میچ میں پانچ دن تک کھیل کر وقت کو ضائع کیا جاتا ہے اور ٹی ٹوینٹی میچوں میں تو نیم برہنہ لڑکیاں چوکے چھکوں پر رقص بھی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔  یہ تمام گناہ ہم روز کرتے ہیں اور مفتی اعظم کی توجیہ کو مانا جائے تو گناہ کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔  البتہ کم عمر بچیوں سے شادی کرنا حلال ہے لونڈیاں رکھنا ہمارے لیئے حلال ہے۔ گوچی یا ارمانی کے پرفیوم کی خوشبو تو حرام ہے لیکن عطر کی خوشبو حلال ہے۔  شادیاں کرنے کی کھلی چھوٹ ہے اور لاتعداد بچے پیدا کر کے آبادی میں وسائل کے مقابلے میں غیر معمولی اضافہ کرنا جائز ہے۔  دوسرے لفظوں میں زندگی میں ہر وہ چیز یا عمل جو انسان کو چند لمحے کو تفریح پہنچا سکتا ہے اس کی طمانیت کا باعث بن سکتا ہے وہ حرام۔ البتہ مباشرت کے طریقوں پر بحث کر کے خیالی  آسودگی حلال ہے۔  حوروں کے جسموں کے خدو خال بیان کر کے تصوراتی مزے لینا بھی حلال ہے۔  کفار اور مشرکین جن کو نیست و نابود کرنے کے فتووں سے لیکر ہر ممکن عملی کوشش کی جاتی ہے ان کی بنائی ہوئی ادوایات حلال ہیں ان کے ممالک میں بس کر ان کی شہریت حاصل کرنا حلال ہے۔  ان کی بنائی ہوئی جدید ترین گاڑیوں میں سوار ہونا حلال ہے۔  ہمیں تو اب اکثر یہی فکر ستاتی رہتی ہے کہ کل کو ہمارے بچے جو لکن میٹی اور چھپن چھپائی کھیلتے ہیں انہیں بھی حرام نہ قرار دے دیا جائے اور جو کارٹون بچے دیکھتے ہیں ڈوری ماوں اور جیان کہیں وہ بھی وقت کے ضیاع اور کفار کی بچوں کو خراب کرنے کی سازش قرار دیکر حرام نہ قرار دے دیئے جائیں۔

امید غالب ہے ان امور پر بھی جلد ہی فتوی دیکر ہمارے بچوں کو بھی تفریح حاصل کرنے کے تمام موقعوں سے منع کرنے کی کوشش کر کے ہمارے اندازوں کو غلط ثابت نہیں ہونے دیا جائے گا۔ شطرنج پر وقت کے ضیاع کی بات سے یاد آیا کچھ شہزادے خود مفتی اعظم کے ملک سے ہمارے ہاں آ کر شکار کا کھیل کھیلتے ہیں اور تلور جیسے نایاب پرندوں سے لیکر مختلف جانوروں کا شکار کرتے ہیں یقینا مفتی صاحب اس دوارے وقت کے ضیاع اور جانوروں کی جان لینے کے شوق پر بھی روشنی ڈالیں گے۔  کچھ عربی شہزادے مغربی ممالک میں  کفار کے ہاں مہینوں قیام کر کے وہاں خواتین ملازمین کو جنسی طور پر حراساں کرتے ہیں اور منشیات کا استعمال بھی کرتے ہیں یقینا وہ اس دوران نہ تو وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں نہ ہی کسی سے کوئی بغض رکھ رہے ہوتے ہیں اور نہ ہی منشیات کے استعمال کے بعد  خدا کی یاد سے غافل ہو رہے ہوتے ہیں وگرنہ مفتی صاحب ان کے بارے میں بھی کچھ فرما ہی دیتے۔  طنز اپنی جگہ لیکن مذاہب جو عین انسانی فطرت کے مطابق ہونے کا دعوی کرتے ہیں وہ انسانی فطرت کے برعکس کوئی بات کیسے کر سکتے ہیں۔ مذاہب عام آدمی کیلئے اتارے جاتے ہیں نا کہ خواص کیلئے۔  اور یہ مفروضہ کہ دین کو سمجھنا آسان نہیں یا محض مفتی افراد ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں یہ مفروضہ ہی دراصل دین  کے معاملات پر چند افراد کی اجارہ داری کا باعث بنتا ہے اور نتیجتا ہم ایسے بے منطق فتووں اور لامعنی بحث و مباحث میں الجھ جاتے ہیں جو ہماری جگ ہنسائی کا باعث بنتا ہے۔  دنیا کی تمام تفریحات کو تمام مثبت و تعمیری سرگرمیوں کو تیاگ کر دولے شاہ کے چوہے تو بنائے جا سکتے ہیں لیکن متوازن اور صحت مند انسان نہیں۔ لکیر کے فقیر سوچ و عقل سے عاری آدمیوں معاشروں اور قوموں کیلئے آج کے دور جدید اور معلوماتی دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔

 شطرنج کے کھیل میں مہرے ہمیشہ بادشاہ کی حفاظت اور اس کی بادشاہت برقرار رکھنے کیلئے قربان کر دیے جاتے ہیں اور کم سے کم میں کسی بھی بادشاہ کی حفاظت پر کسی وزیر کے ہاتھوں پیادہ بننے سے انکار کرتا ہوں کیونکہ حبس و گھٹن نہ تو مزہب نے کبھی پیدا کیئے اور نہ کر سکتا ہے۔  اگر اس کی تشریح کرنے والوں کو گھٹن میں جینا پسند ہے تو انہیں یہ گھٹن مبارک۔  میری زندگی کی شطرنج پر چال چلنے کی مرضی خدا نے مجھے سونپی ہے اور اس کی ہار جیت یا درست یا غلط ہونے کا فیصلہ بھی وہی کرے گا۔  کوئی دوسرا انسان نہیں۔

(Visited 501 times, 1 visits today)

Imad Zafar is a journalist based in Lahore. He is a regular Columnist/Commentator at Daily Ittehad, Resident Editor at Free Press Publications and Resident Editor at World Free Press. He is associated with TV channels, Radio, news papers,news agencies political, policies and media related think tanks and International NGOs.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے