Here is what others are reading about!

بگڑے ہوئے بچے

فاطمہ میری چھوٹی بہن ہے جو ملک کے چند نامور اسکولوں میں سے ایک میں پڑھاتی ہے۔ چند دنوں سے میں اس کے روئیے میں تبدیلی محسوس کررہا تھا۔ وہ کچھ پریشان اور خاموش سی دکھائی دیتی تھی۔ میرے استفسار پر اس نے پہلے تو ٹالنے کی کوشش کی، لیکن اصرار پر  بتایا کہ اس کے کچھ اسٹوڈنٹس حد درجہ کے بدتمیز ہیں جوقابو آنا تو درکنار، اپنی بدتمیزی اور بدمعاشی پر نازاں بھی ہیں۔ چوری کرکے سینہ زوری کرتے ہیں۔ اپنےسے کمزور ہم جماعتوں کو مارتے ہیں، خود پڑھتے نہیں اور جو پڑھنا چاہتے ہیں انکو پڑھنے نہیں دیتے۔ گھر میں فلمیں دیکھتے ہیں اور وہی مار دھاڑ  اسکول میں کرکے اپنے آپ کو ہیرو سمجھتے ہیں۔ ان لڑکوں کی ان حرکتوں سے سارا اسکول پریشان ہے، لیکن کوئی کچھ نہیں کرتا۔ اپنی سطح کی سرزنش اور پرنسپل سے شکایت بھی انکا کچھ نہ بگاڑ سکی۔ بلکہ اب وہ میرے براہِ راست دشمن بن گئے ہیں ۔

بہن کی یہ باتیں محض اسکے لئے ہی نہیں، میرے لئے بھی تشویش ناک تھیں۔ چنانچہ میں نے اسے تسلی دی اور خود اسکے پرنسپل سے ملاقات کرکے معاملے کو سلجھانے کی ٹھانی۔ اگلے روز میں پرنسپل سے وقت لیکر اسکول گیا اور بہن کے نشان زدہ لڑکوں کے نام اور انکی حرکتیں  انکے گوش گزار کیں۔  پرنسپل صاحب نے نہایت توجہ سے میری شکایات کو سنا اور یوں گویا ہوئے،

“جناب! آپکی معلومات کا شکریہ۔ لیکن کیا آپکو نہیں معلوم کہ میں اس اسکول کا پرنسپل ہوں اور اس چاردیواری میں موجود ایک ایک انسان  میری ذمہ داری ہے۔ کون کیا کہتا ہے اور کیا کرتا ہے۔۔۔ کیا مجھے نہیں معلوم؟  اگر اسٹاف اور اسٹوڈنٹس کے گھر والوں نے ہی مجھے میرے اسکول کے متعلق بتانا ہے تو میں پرنسپل کاہے کا؟”

پرنسپل صاحب کا یہ انداز کسی حد تک نامناسب ضرور تھا لیکن کہہ وہ ٹھیک رہے تھے۔ شاید یہی انکا اندازِ گفتگو ہو۔ لیکن مجھے اس چیز سے کوئی لینا دینا نہیں تھا کہ انکو کیا پتا ہے کیا نہیں۔ میرا مدعا صرف میری بہن کا سکون تھا ۔ کیونکہ اس نے یہ نوکری بہت ضداور بہت محنت کے بعد حاصل کی تھی جسے وہ عبادت سمجھ کر انجام دیتی تھی اور اپنے اسکول کو اپنے گھر کی طرح پیار کرتی تھی۔ وہ واقعاً ایک محنتی اور اعلیٰ پائے کی ٹیچر تھی جس نے کچھ ہی عرصے میں نہ صرف اپنی مخفی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا بلکہ اپنے اسکول کو بھی بہت تیزی سے لیکر آگے بڑھ رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ سب ہی اسکے معترف تھے۔

پرنسپل صاحب نے مسکراتے ہوئے ماحول کو تھوڑا سا تبدیل کیا اور اب وہ مجھ سے دوستانہ انداز میں گویا ہوئے کہ” ہمیں اپنے تمام اسٹاف  اور اسٹوڈنٹس کے تمام مسائل کا علم ہے۔ ہر جگہ، ہر گھر، ہر محلے، ہر اسکول اور ہر کلاس میں ایسے بچے ہوتے ہیں جو ہماری دانست میں بدتمیز اور نالائق ہوتے ہیں۔ اسکول کا مقصد ہی معاشرے کے ہر طرح کے بچے کو یکساں سطح پر لانا ہوتا ہے۔ بچوں کی تربیت کی کوشش میں ہم زرہ برابر کوتاہی نہیں کرتے ، اسی لئے ہمارے اسکول کا شمار ملک کے کامیاب ترین اسکولوں میں ہوتا ہے۔ لیکن کہیں بھی کامیابی کا تناسب سو فیصد نہیں ہوتا۔ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کمی بیشی رہ جاتی ہے جسے ہم پورا کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔ اور ماشاءاللہ فاطمہ جیسی باصلاحیت ٹیچرز تو ہمارا اثاثہ ہیں۔ “

پرنسپل صاحب اپنی اور اپنے ادارے کی کارکردگی پر روشنی ڈالنے میں مصروف تھے جبکہ میرا ایک ہی نقطہ تھا؛ اور وہ یہ کہ جو بدتمیز لڑکے اسکول میں موجود ہیں، یا تو انہیں سیدھا کیا جائے ، یا میری بہن کو کوئی اور کلاس دے دی جائے۔ بصورتِ دیگر ہم اسکی نوکری چھڑوا دیں گے۔

میرے اس دھمکی نما جواب پر پرنسپل صاحب کو زرا تشویش سی لاحق ہوئی ۔ اس پر ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ لیکن حالات نے انکا ساتھ دیا اور ایک ٹیچر نے دروازہ کھٹکھٹا کر اندر آنے کی اجازت چاہی۔وہ ٹیچر اندر آئیں تو ان کے ساتھ ایک بچہ تھا جس نے کوئی تازہ تازہ شرارت کی تھی اور وہ انکے قابو نہیں آرہا تھا۔ چنانچہ وہ اسے پرنسپل صاحب کے سامنے لے آئیں۔ پرنسپل صاحب نے ٹیچر کو تو کلا س میں واپس بھیجا اور بچے کو باہر دھوپ میں ہاتھ اوپر کرکے کھڑا ہونے کی سزا سنا دی۔ پرنسپل صاحب کے لئے یہ صورتِ حال میرا منہ بندکرنے کا بہترین عملی جواب تھا۔ پرنسپل صاحب نے بعد ازاں مجھے ان بچوں کو سیدھا کرنے کی یقین دہانی کروائی ، چائے پلائی اور مطمئن کرکے رخصت کردیا۔

اسکول سے نکل کر میں نے فاطمہ کو فون کیا اور تسلی دی کہ اب انشاءاللہ اسکو کوئی تنگ نہیں کرے گا۔ اگلے روز معلوم ہوا کہ ان بدتمیز لڑکوں کو پرنسپل صاحب نے خصوصی سزا دی ہے اور ان سے آئیندہ بدتمیزی نہ کرنے کا وعدہ بھی لیا ہے۔ لیکن دو دن بھی نہیں گزرے تھے کہ پھر سے شکایت آئی اور اس مرتبہ فاطمہ نے خود کسی اور اسکول میں نوکری ڈھونڈنے کی بات کردی۔ پتا چلا کہ ان لڑکوں نے پرنسپل صاحب سے شکایت کرنے پر فاطمہ کو ذاتی طور پر دھمکانے کی کوشش کی، جسکی بنا پر وہ خوفزدہ ہوگئی اور نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ بات انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ برداشت تھی۔ چنانچہ میں دوبارہ اسکول گیا اور پرنسپل سے دوٹوک اور کھرے انداز میں ان لڑکوں کو سدھارنے کی بات کی۔ اس مرتبہ پرنسپل صاحب بھی زرا پریشان سے دکھائی دئے۔ دوملاقاتوں میں ان سے کچھ راہ و رسم تو پیدا ہوہی چکی تھی، سو انہوں نے بھی بے تکلفانہ انداز میں اپنی مجبوری بھی بیان کرہی دی۔ انہوں نے بتایا کہ میری ملاقات کے بعد انہوں نے ان بچوں کو  سزا بھی دی اور انکے والدین کو بھی بلوایا۔ لیکن یہ کام الٹا ان کے گلے پڑ گیا۔ وہ “بڑے” والدین کی بگڑی ہوئی اولادیں ہیں۔ وہ لوگ اپنے بچوں کی فیس اور دیگر فنڈز  کی مد میں اسکول کو ٹھیک ٹھاک سَپورٹ کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہی سرمایہ کاراور سیاستدان ہیں کہ جو اس  ادارے کا بنیادی ستون ہیں۔  بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ اسکول بھی انکی دیگر جائیداوں کی طرح ایک جائیداد ہے جس میں وہ اپنے بچوں کو صرف ایک روٹین کے تحت بھیجتے ہیں، اور  انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ انکی اولادیں کیا گل کھلا رہی ہیں۔ اگر اس قسم کی فیمیلیز کے بچے اس اسکول میں نہ ہوں تو شاید اسکول دیوالیہ ہو جائے کیونکہ مڈل کلاس  کا ایک قلیل حصہ اپنے بچوں کو ہمارے اسکول میں داخل کروا پاتا ہے۔  پرنسپل صاحب کے بقول وہ خود اس ادارے میں ملازم ہیں ، اس لئے اپنے مالکان کی پالیسی کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھا سکتے۔ ان بچوں کے والدی اور ہمارے اسکول کے مالکان کی دوستیاں اور آپس کی رشتہ داریاں بھی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ بزنس پارٹنر بھی ہوں۔ ان لڑکوں کو سزا دینے پر الٹا  انہی کو نوٹس مل گیاہے۔ پچھلی مرتبہ وہ کسی صورت فاطمہ کو چھوڑنے پر راضی نہ تھے۔ اس مرتبہ انہوں نے خود مشورہ دیا کہ میں اپنی بہن کی کہیں اور نوکری کروا دوں، کیونکہ یہ معاملہ سدھرنے والا نہیں۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ اس میں ہمیں ہی نقصان اٹھانا پڑ جائے کیونکہ بچے بہت بااثر ہیں۔۔۔۔۔

قارئینِ کرام! یہ استحصال ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے جہاں معاملات کو سدھارنا تو دور کی بات، ایسی خواہش کرنا بھی ناقابلِ معافی جرم بن جاتا ہے۔ لیکن اپنی بہن کی یہ کہانی میری ، آپکی اور ہمارے وطن کی کہانی ہے۔ ہم سب  پاکستانی  ہیں جو اپنے اس ملک کے خیر خواہ ہیں۔ہم اپنی جان کی بازی لگا کر اس ملک کی ترقی کے لئے اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ لیکن “بڑے والدین” کے کچھ “بگڑے ہوئے بچے” نظام کو ٹھیک چلتا ہوا دیکھ ہی نہیں سکتے ۔ وہ کمزور وں  کو مارتے ہیں۔ چوریاں کرتے ہیں۔ قائد کے فرمان کے نظم وضبط کو پیروں تلے روندتے ہیں۔ ملک کے شریف شہریوں کو تنگ کرتے ہیں۔ دنگا فساد، قتل و غارت گری،  اغوا،  امن و امان کی تاراجی  اور دوسروں کی تکفیر ان کے بنیادی مشاغل ہیں۔ جب، جہاں، جیسے چاہیں انسانی خون سڑکوں پر بہا کر چل نکلتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے جرائم او ر اپنی شناخت کی تشہیر کرتے ہیں۔ اور  انتظامیہ کو کھلے عام روکنے کا چیلنج کرتے ہیں۔ لیکن ریاست اور انتظامیہ انکے “بڑے” والدین کے سامنے اس قدر بے بس ہے کہ اگر شہری انکی درندگی کے خلاف کوئی آواز بھی اٹھائیں کو انہیں چُسنی دینے کے بہانے کسی اور شرارتی کو علامتی سزا دے کر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔

اگر دو ٹوک الفاظ میں بات کی جائے تو اس ملک کا واحد مسئلہ وہ تکفیری غنڈے ہیں جو پورے ملک کی سرزمین کو  ان شریف اور تعلیم یافتہ شہریوں کے خون سے رنگین کئے ہوئے ہیں کہ جن کے اجداد نے اپنا خون پلا کر یہ ملک بنایا تھا اور آج  بھی وہی اس ملک کی بقا کے ضامن ہیں۔  ان غنڈوں کی تعداد محض ایک فیصد بھی نہیں۔ یہ ملک محبت کرنےوالے   اور وسیع القلب لوگوں کا مسکن ہے۔ ظاہر ہے، اس ملک کو حاصل کرنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ ہمارے اجداد وہاں مشکلات جھیل رہے تھے سو انہوں نے ہمیں ان تکالیف سے محفوظ کرنے کے لئے اپنی جانیں قربان کی تھیں۔ لیکن یہ کیا؟ چند خود سر، عیاش اور عاقبت نااندیش آمروں کی بادشاہتیں بچانے کے لئے اس پاک سرزمین کو اڈا بنا لیا گیا۔ ہمارے حکمرانوں نے ان سے دوستیاں اور بزنس پارٹنرشپس کر لیں۔ انکے تحائف اور پناہوں کی قیمت ادا کرنے کے لئے ان کے تکفیری گماشتوں کو پورے پاکستان کا ماحول تاراج کرنے کے لئے کھلی ڈھیل دے دی! ۔ یہ تکفیری غنڈے ملک کے چپے چپے پر اپنے اڈے قائم کرکے ہمارے اعصاب پر سوار ہوگئے۔ گلی گلی خاک و خون کا وہ کھیل کھیل رہے ہیں کہ دنیا لرز اٹھی ہے۔ کوئی شریف انسان انکی بدمعاشی سے محفوظ نہیں۔ کراچی کا تبت سینٹر ہو یا ایم اے جناح روڈ، یا اسلام آباد کی کراچی کمپنی ہو یا آبپارہ۔۔۔ ببانگِ دہل اپنی سفاکانہ کاروائیوں کا اعلان کرتے ہیں، معصوم لوگوں کا خون بہاتے ہیں، دنیا کی دیگرخونخوار  تکفیری تنظیموں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ریاست کو کھلے الفاظ میں اپنے اوپر ہاتھ ڈالنے کا چیلنج کرتے ہیں۔ اور انتظامیہ اسقدر بے بس ہے کہ انکا منہ بندکرنے کی بجائے انہی کی حفاظت پر مامور رہتی ہے۔۔۔ کہ یہ بڑے والدین کے بگڑے ہوئے بچے ہیں اور ہمارے مالکان انکے والدین کے ممنونِ احسان ہیں۔ ۔۔۔

جب کبھی عوام نے انکے مظالم سے تنگ آکر احتجاج کیا تو ان پر ہاتھ ڈالنے کی بجائے نائن زیرو کا گھیراؤ کرکے  اور کچھ لڑکے پکڑ کر میڈیا کے سامنے پیش کردئے جاتے ہیں۔ کیونکہ نائن زیرو والے بھی وہ شرارتی بچہ ہیں جنہیں پرنسپل ہمیں دکھانے کے لئے  دھوپ میں کھڑا کردیتا ہے اور ہم بھی انکی کاروائی پر خوش ہوجاتے ہیں۔  لیکن اب وقت ہے خدا پر توکل کرنے کا۔ ان مربیوں کو شکریہ کہنے کا۔ کہ اب بہت ہو گئی۔ اب مزید آپکے بگڑے ہوئے بچوں کی غنڈہ گردی نہیں چلے گی۔ اب ان کی گردنوں پر ہاتھ ڈالنا ہوگا۔ اب ہم محض نائن زیروپر چھاپوں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ہمارے حکمرانوں کو اب انکی پارٹنرشپ توڑنا ہوگی کیونکہ یہ بھی مشاہدے کی بات ہے کہ جب کاروبار کی نیا ڈوبنے لگتی ہے تو دل و جان کے عزیز بھی دشمن بن جاتے ہیں۔ اب بھی اگر ہمارے حکمرانوں نے عرب حکمرانوں کی کاسہ لیسی ترک نہ کی تو ہم شریف اور نجیب پاکستان خدا کو پکارنے میں حق بجانب ہیں جو ہمارا محافظ ہے۔ پیغمبرِ گرامی ﷺ کا ارشاد ہے کہ ظالم کے لئے انصاف کا دن، مظلوم پر ظلم کے دن سے زیادہ سخت ہوگا۔

(Visited 617 times, 1 visits today)

Qamar Raza Rizvi is a photographer & a journalist based in Islamabad. He writes for Islam Times & Tahera. He writes on current affairs, social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے