Here is what others are reading about!

حسین علی یوسفیؔ

26 جنوری 2009ء  کا دن کوئٹہ کی تاریخ میں ایک سیاہ باب رقم کر گیا۔آج پھر چند ’’نامعلوم ‘‘افراد نے کسی کی جان لی تھی۔ شاعر، ادیب، ڈرامہ نگار، اداکار صاحب کتاب، سیاسی علم و دانش کے حامل، عاقل و دانا شخصیت حسین علی یوسفی کو ہم سے جدا کر دیاگیا۔ ایک ایسا انسان جو خالص فکرو سوچ اور قابل تقلید کردار کا مالک تھا ۔ جنھیں ابھی بہت کچھ کرنا تھا۔ دہشتگردی  وبدامنی کے اس دور میں بہت سوں نے  ان سے علم و آگاہی سے مسلح ہونا سیکھنا تھا۔ ابھی انھیں کوئٹہ ،ہزارہ جات اور سمندر پار مقیم قوم کیلئے اپنی سیاسی، علمی اورثقافتی ذمہ داریاں عرصہ دراز تک نبھانی تھیں۔ لیکن انسان دشمن قوتوں نے ان سے مزید زندہ رہنے کا حق چھین لیا۔ وہ ہر روز ہزارہ ٹاؤن سے مری آباد  پہنچتے،  سکول اور دیگر سرگرمیوں سے فارغ ہو کر اپنے کاروباری آفس جناح روڈجاتےتھے ۔وقوعے کے روز جب وہ آفس پہنچے تو درندوں نے حیوانیت کا بھرپور مظاہرہ کرنے کیلئے پہلے سے منصوبہ بندی کر لی تھی اورگھات لگائے بیٹھے تھے۔ جونہی وہ آفس کے پاس پہنچے  دہشتگردوں نے اچانک انکی گاڑی پر فائرکھول دیااور بے رحم گولیوں کی گونج میں یہ چراغ گل ہو گیا۔ شہادت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ یوں لگا کہ ہماری روح کو جسم سے جدا کر دیا گیا ہے۔ فضا سوگوار ہوگئی ،آسمان خاموش ہو گیا،  ہوائیں سسکیاں لینے لگیں، کوئٹہ کی زمین کو خون کی سرخی سے رنگ دیا گیا تھا، ہمیشہ کی طرح نامعلوم افراد گھناؤنا جرم کر کے نامعلوم مقام کی طرف فرارہوگئے اورمحفوظ ٹھکانے پرپہنچ کر ذمہ داری قبول کر لی۔ حکومت نے اپنا روایتی مذمتی بیان جاری کر دیا۔ اہل کوئٹہ نے سوگ میں تمام بازار بند کر دئیے۔ اگلے دن شہید کا جنازہ تدفین کے لئے ہزارہ قبرستان کی طرف لے جایا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سمندر امنڈ آیا ہو۔

اک جنازہ اٹھا مقتل سے عجب شان کے ساتھ

جیسے سج کر کسی فاتح کی سواری نکلے

جنازےمیں بلوچ، پشتون ،پنجابی اور اقلیتوں کے سیاسی نمائندوں سمیت  ہزاروں افراد نے شرکت کی اور اس عظیم انسان کی عظمت کی گواہی دے کر امن دشمنوں سے نفرت کا اظہار کیا ۔ ڈاکٹر حکیم لہڑی، عثمان کاکڑ ، عبدالخالق ہزارہ  و  دیگر کی تقاریراس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ شہید کا خون رائیگاں نہیں گیا۔ انسانیت جیت گئی اور درندوں کو شکست ہوئی ہے جنازے میں شریک مجھ سمیت ہر شخص کی آنکھوں سے بہتے آنسو اس بات کی گواہی دینے کیلئے کافی تھے کہ انسانیت کوکبھی بھی شکست نہیں دی جا سکتی۔ اس سانحہ پر پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے نفرت کے سوداگروں اور جنازوں کے کاروبار کرنے والے قاتلوں کی مذمت کی۔ صوبائی اور قومی اسمبلی میں قرارداد مذمت منظور کی گئی۔ جنازے میں شریک ہر آنکھ اشک بار تھی۔ امن  وآشتی کے اس داعی کے لئےلبوں پر دعائیں اور قاتلوں کیلئے دلوں میں بدعائیں تھیں۔ یقین نہیں آتا تھا کہ اب ہنستا مسکراتا چہرہ ہم میں نہیں رہا۔اب کون ہمیں ہنسائے گا، کون مادری زبان اور ثقافت سے بیگانہ سمندر پار قوم کیلئے ہزارگی ،اردو اور انگریزی زبان میں 3 ہزار ضرب المثل  پر مشتمل کتاب لکھے گا، کون ڈرامے بنائے گا، کون تبسم آمیز شاعری کرے گا ،  ایسی شخصیت کے مالک کہ ہر ایک سے تبسم، مسکراہٹ ہنسی مذاق اور خندہ پیشانی سے پیش  آتےاور بے تکلف ہو کر پیار و محبت سے ملتے تھے، ان سے ملتے ہوئے یوں محسوس ہوتا جیسےہم صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔مجھے یاد ہے کہ ہم کہیں بیٹھ کر گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک سامنے والے کو مخاطب کر کے کہنے لگے،کیا تمہیں پتہ ہے  کہ میں اسے کیوں پسند کرتا ہوں ؟  اس کے پاس نہ رنگ و روپ ہے نہ دولت نہ شہرت ہے اور نہ ہی مہارت مگر پھر بھی یوں ہی  ”ایلہ و بورناخ“  مجھے یہ کسی بچے کی طرح پسند ہے اور میں مر کر بھی انکے  یہ الفاظ نہیں بھولوں گا۔ میں نے انکی تمام تقاریر سنی ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ دنیا کی کسی کتاب میں قوم دوستی گناہ نہیں اور نہ ہی میں کسی دوسری قوم  و قبیلے سے نفرت کرتا ہوں ۔ میں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا اور بہت ہی قریب پایا۔ ایک ایسےانسان جنھوں نےمصروفیات کے باوجود قوم کی خدمت کواپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا تھا۔کبھی تکلیف اور تھکاوٹ کا احساس نہیں کیا۔ جنون کی حد تک قومی مقصد پر کاربند رہ کر  فرضِ ملی ادا کرتے رہے۔ وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن مجھ پران کی خدمات بیان کرنے کا جو قرض ہے وہ تمام عمر ادا کرتا رہوں گا ۔انھوں نےدھمکیوں کے باوجود اپنا راستہ نہیں بدلا۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ  ہزارہ ٹاون سے الیکشن کی نشت جیتنا ممکن نہیں،قوم میں سیاسی شعور اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جڑیں عوام میں مضبوط کرنے کیلئے الیکشن میں حصے لیتے تھے۔ لوگ ان سے شوق سے ملتے تھے اور ان کی بذلہ سنجی سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ اپنی تقاریر میں قومی زوال کے ذمہ داروں ،بے جا مداخلت کاروں، استایو. نظریاتی مخالفین خاص طور پر ملاؤں کی  ایسی شگفتگی و شائستگی کے ساتھ طنز و مزاح سے بھرےالفاظ میں سرزنش کرتے تھے کہ ہنس ہنس کر برا حال ہوجا تاتھا۔آج ہمیں معلوم ہوا ہےکہ ان کی جن باتوں پر ہم ہنستے تھے،ہمیں ان پرغور و فکرکرکے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انکی تقاریر میں تنقیدہونے کے باوجودکسی نے نہیں کہا کہ شہید چیٔرمین نے اسکی دل آزری کی ہے۔ انکے الفاظ سے محبت کے پھول جھڑتے تھے ۔وہ لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرنے والے بادشاہ اور آنکھوں کی ٹھنڈک تھے۔ وہ  ہمیشہ اپنی شخصیت کی طرح بے داغ، سفید اور صاف ستھرا کپڑے پہنتے تھے ۔ گرد بھی انکے کپڑوں پر پڑتی تو انگلیوں سے جھاڑ دیتے تھے۔ جوشخص قوم کو اس  کی روشن روایات زبان و ثقافت سے آشنا کرکے  سربلندی کے ساتھ جینے کا ہنر سکھاتے رہے، سبق دیتے رہے ، جو شخص اپنے آپ پر گرد کو بھی پسند نہیں کرتے تھے 27 جنوری کے دن انھیں منوں مٹی تلے  دفن کر دیاگیا ۔ وہ  جسمانی طور پر دفن ہو گئے مگر سیاہ بختی کے  دور کو قومی وقار کی روشنی سے متعارف کرانے  کے احیا گر کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ جاوید رہیں گے۔

مت سمجھو ہم نے بھلا دیا

یہ مٹی تم کو پیاری تھی

سمجھو مٹی نےسلا دیا۔

(Visited 726 times, 1 visits today)

Liaqat Ali is a social and political activist based in Melbourne, Australia. He works for the rights and rehabilitation of the migrants and Hazara community.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے