Here is what others are reading about!

بھوک

شہر میں دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔ بہت سے بین الاقوامی مذہبی مفکرین کو سننے کا موقع ملا اور مجھ جیسے موسمی مسلمانوں کا دل بھی پسیج گیا اور خدا کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔۔۔کانفرنس چونکہ بین الاقوامی تھی اور مذہبی مفکرین بھی پردیسی تھے اس لئے کم و بیش تمام لیکچرز انگریزی زبان میں ہی تھے۔

لو بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی، ایک گورا مسلمان کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟ وہ تو گورا ہوتا ہے۔۔۔ گورا۔۔”ہمارے یہاں بہت سے پاکستانیوں کا عام خیال یہ ہے کہ اصل اسلام صرف اور صرف پنجابی مفکرین کو ہی آتا ہے اور یہ بڑی بڑی کانفرنس منعقد کروانے والے اور اس میں شرکت کرنے والے اسلام کی شکل بگاڑ کر اس کو انگریزی اسلام بنا رہیں ہیں۔ ۔ ۔

دین کے احکام کے فلسفے کو جانچنا اور اس پر غور کرنا کوئی غلط بات تو نہیں۔ ہم کیوں بس اس لئے مسلمان ہوں کہ ایک مسلمان عورت کے پیٹ سے جنے ہیں ۔ اپنے مذہب کے بارے میں جاننا اور اس پر عمل کرنا ہمارا بنیادی حق ہے آخر ۔۔۔

ظہر کی نماز کے بعد پیٹ کی آگ بجھانے  کا سوچا۔ایک جمِ غفیر وہاں موجود تھا۔ ۔ ۔ کھانے کی جانب پیش قدمی کرتےوقت میری نظر  ایک میلی کچلی بچی پر پڑی ۔ فورا ہی ججمنٹل ہو گئی اور سوچا کسی کی نوکرانی ہے۔۔۔ تمبو میں داخل ہوئی تو وہاں کئی قسم کے فوڈ اسٹال لگے تھے ۔ بھیڑمیں سے راستہ بناتے ہوئے سب سے بہتر ین اور مہنگے دکھائی دینے والے سٹال کی جانب پیش بڑھی اور بریانی کے ساتھ کوکا کولا خریدی۔۔۔ اب میں واپس ہال کی جانب جا رہی تھی کہ اس میلی کچلی بچی کو ایک بوڑھے کے ساتھ پایا۔۔۔ وہ بوڑھا شخص خاکروب تھا اور وہ میلی کچلی بچی شاید اس کی بیٹی۔۔۔ وہ دونوں دنیا سے لا تعلق دیوار کی جانب منہ کیے ایک ڈبے سے کھانا کھانے میں مصروف تھے۔ وہ دونوں اپنے میلے ہاتھ ڈبے میں ڈالتے اور پھر وہی ہاتھ چاولوں سے بھرے واپس آتے اور بہت بھونڈے انداز میں ان کے منہ میں چلے جاتے۔۔۔ یہ دیکھ کر مجھے ابکائی کا احساس ہونے لگا، قریب ہی تھا کہ میں وہاں سے چلی جاتی میرے اندر کا دانشور جاگ اٹھا اور مجھے یہ دیکھنے میں مزا آنے لگا۔ پھر وہ میلا بوڑھا اور اس کی بیٹی مجھے بکری کے چھوٹے چھوٹے میمنے لگنے لگے۔ معصوم میمنے جن کے کان نیچے کی جانب ہوتے ہیں اور وہ معصومیت سے گھاس چر رہے ہوتے ہیں۔۔۔      
چند لمحے میں ان معصوم میمنوں کو دیکھ کر محظوظ ہوتی رہی۔ ۔ ۔ پھر آگے بڑھ گئی۔۔۔ وہاں ایک خوبصوت لڑکی ایک کرسی پر بیٹھی تھی۔۔۔ خوبصورتی سے تراشے ہوئے بال۔ سرخ رنگ کا مغربی طرز کا لباس مگر اس کے ہاتھ میں بھی بریانی کا وہ ہی ڈبہ تھا جو میرے اور خاکروب کے ہاتھوں میں تھا۔ وہ بھی ڈبہ کھولے چاول کھانے میں مصروف تھی۔۔۔ وہ بھوک سے نڈھال دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ ہاتھ کی جگہ چمچہ ڈبے میں جاتا اور پھر وہی چمچہ چاولوں سے بھرا ہوا باہر آتا اور اس کے منہ میں چلا جاتا۔۔۔ میں نے اسکو غور سے دیکھا تو اچانک بھوک سےاس کا چہرہ ریزہ ریزہ ہونے لگا،  دراڑیں پڑنے لگیں اور اس کے حسین چہرے پر بوڑھے خاکروب کی طرح جھریاں نمودار ہو گئی اور اسکا مغربی طرز کا لباس پھٹ کر اس کے جسم پر بوڑھے خاکروب کی بیٹی کی میلی کچلی فراک بنتا گیا۔۔۔۔ میں وہاں سے ڈر کر باتھ روم کی جانب بھاگی کہ میرے ہاتھ سے کھانے کا ڈبہ اور کوکا کولا کی بوتل بھی گر گئی۔۔۔ میں نے باتھ روم کے آئینے میں اپنی شکل دیکھی تو وحشت سے میری زبان گنگ ہوگئی۔۔۔ وہاں آئینے میں بھی بوڑھے خاکروب کی میلی کچلی بچی تھی۔ باہر نکلی تو ہر چہرے بوڑھے  کا چہرہ تھا اور ہر عورت کے جسم پر اس کی بیٹی کی میلی کچلی فراک۔۔۔۔بھوک۔۔۔ بھوک۔۔۔ بھوک۔۔۔یا میرے اللہ تو نے یہ بھوک کیوں بنائی اور اگر بنا ہی دی تھی تو امیر اور غریب کی بھوک تو الگ الگ بناتا۔۔۔

اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔عصر کی نماز کا وقت ہو گیا تھا۔پورا ہال اذان کی آواز سے گونج رہا تھا۔ ۔۔ﺣﯽ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﻔﻼﺡ ۔ ﺣﻲ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﺼﻼﺓ ۔ آؤ فلاح کی طرف۔۔۔ آؤ کامیابی کی طرف۔۔۔باتھ روم کے باہر وضو کرنے والوں کی لمبی لائنیں لگی ہوئی تھی۔ وہاں ہر کوئی فلاح چاہتا تھا، ہر کوئی کامیابی چاہتا تھا۔۔۔ اب وہ سب کھانا چھوڑ کر فلاح کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔۔۔میں نے اپنے ارد گرد پھیلے چہروں کو دیکھا۔ وہ جوں جوں وضو کے پانی سے تر ہو رہے تھے ان کے چہروں کی دراڑیں اور جھریاں غائب ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ بلکل ویسے جیسے اینٹوں کی بنی بد صورت دیوار پر سیمنٹ کر کے اسے خوبصورت بنا دیا جاتا ہے۔۔۔ اب ہر بدصورت چہرے پر وضو کا سیمنٹ ہو چکا تھا۔۔۔ اب ہر دیوار خوبصورت نظر آ رہی تھی سوائے میرے چہرے کی دیواروں کے۔ وہاں اب بیٹی بوڑھے خاکروب کی میلی کچلی بچی بیٹھی تھی۔۔۔اب وہاں کوئی میلا کچیلا نہ تھا۔۔۔سوائے میرے۔۔۔۔

جماعت کھڑی ہو چکی تھی۔ میں بھی آخری صف میں شامل ہو گئی، بوجھل دل کے ساتھ اور ایک سوال کے ساتھ کے یا اللہ تو نے بھوک کیوں بنائی؟؟؟ اس وقت نہ میں وہاں نماز کے لیے کھڑی تھی نہ اپنے معبود کی عبادت کے لیے۔۔۔ میں وہاں ایک سائل کی طرح کھڑی تھی جو اپنے خالق سے بس یہ جاننا چاہتا تھا کہ  تو نے بھوک کیوں بنائی اور آگر بنا ہی دی تھی تو امیر اور غریب کی بھوک کو لگ بناتا۔۔۔ بھوک سے ان سب کے چہرے ایک جیسے کیوں لگتے ہیں؟؟؟دین و دنیا سے بے گانہ میں نے میکانی انداز میں ہاتھ اٹھائے اور کندھوں تک لے گئی۔۔۔۔ ”اللہ اکبر”۔ نماز شروع ہو چکی تھی۔۔۔ میں سپاٹ چہرہ لیے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اللہ کے سامنے کھڑی تھی۔ ۔ ۔ امام کی آواز آنے لگی۔ پہلے پہل مجھے کچھ سمجھ نہ آیا مگر ایک آواز بہت صاف کان میں گئی اوراس آواز کا ساتھ میرے گناہ گار ہونٹوں نے بھی دیا۔ ۔ ۔ ۔”اھدناالصراط المستقیم”یا اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔۔۔۔پھر مجھے امین کی آواز آئی، میرے لب بھی اس آواز میں شامل ہو گئے۔۔۔اب امام کی آواز آ رہی تھی۔۔۔

 زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآب ۔قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍ مِّن ذَٰلِكُمْ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ۔ آلِ عمران 15 – 14

 لوگوں کے لئے خواہشات نفس کی محبت مزین کر دی گئی ہے۔۔۔ (یعنی) عورتوں سے، بیٹوں سے، سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے ڈھیروں سے، نشان لگے (عمدہ) گھوڑوں سے، مویشیوں سے اور کھیتوں سے، یہ سب دنیاوی زندگی کا سامان ہے اور اچھا ٹھکانہ اللہ ہی کے پاس ہے –  (اے نبی) کہہ دیں : کیا میں تمہیں ان سے بہتر چیز بتاؤ؟ پرہیز گاروں کے لیئے ان کے رب کے پاس باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں ان کے لیئے پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور انہیں اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور اللہ اپنے بندوں پر خوب نظر رکھنے والا ہے ۔

جنت جنت مگر یہ دنیا ہے جنت نہیں — ان نیک ، پاکیزہ اور خوبصورت بیویوں کی بھوک کے آگے کوئی اہمیت نہیں۔۔۔ جنت تو دور ہے بہت۔۔۔ پہلے دنیا کی بھوک تو مٹ جائے۔۔۔، بھوک کا سوال پھر میرے سامنے ناچتے لگا۔ تو نے کیوں ان چیزوں کی ‘بھوک’ کو ہمارے لیے خوبصورت بنایا؟؟؟ کیا تو نہ جانتا تھا کہ ہم کمزور بشر ہیں جن کا پیٹ نہ بھرا ہو تو وہ تیری عبادت بھی نہیں کرتے۔ ۔ ۔ خالی پیٹ ۔ ۔ ۔ ہمیں جنت نہیں کھانا چاہئے۔۔ ۔ ۔

بھوک زور زور سے ناچ رہی تھی، مجھے نماز سے غافل کر رہی تھی۔۔۔ مگر مجھے لگا وہیں ہال کے بیرونی صحن میں بیٹھا کوئی بہت پیار سے مجھے دیکھ دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔ ۔ ۔  وہ میری اور بھوک کی لڑائی دیکھ کر محظوظ ہو رہا ہے۔ ۔ ۔ مجھے غصہ آنے لگا۔۔۔۔ تو نے ہی یہ بھوک بنائی اور اب جب یہ سوال پوچھ پوچھ کر مجھے تنگ کر رہی ہے تو تُو مسکرا رہا ہے۔ ۔ ۔ واہ مولا واہ تجھے تو چاہیے کہ اس بھوک کو موت دے دے تاکہ تیرے بندے بس تیری پرستش کریں۔۔۔ مسکراہٹ اور تیز ہو گئی اور سجدے میں جھکا میں سر غصے سے پھٹنے لگا۔۔۔۔

امام کی آواز پھر آئی۔اللہ اکبر۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ تو سب سے بڑا ہے نہ تو کر قتل اس بھوک کو جو مجھے کفر تولنے پر مجبور کر رہی ہے، کہہ رہی ہے میں بڑی ہوں۔۔۔۔
پھر آواز آئی۔ ” اھدنا اصراط المستقیم ”۔ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ آمین۔۔۔۔ پھر وہی ورزش دہرائی جا رہی تھی، میں بے زار دل کے ساتھ اس ورزش کا حصہ بنی ہوئی تھی۔۔۔ اب آواز آئی۔۔۔

 أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ ۔ البقرہ – 214

کیا تمہارا خیال ہے کہ تم یوں ہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے؟ حلانکہ ابھی تک تمھیں ان لوگوں کی مانند (مشکلات) پیش نہیں آئیں جو تم سے پہلے گزرے، انکو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا ڈالے گئے۔ یہاں تک کہ رسول اور وہ لوگ جو ان پر ایمان لائے تھے کہنے لگے ”اللہ کی مدد کب (آئیگی)؟ آگاہ رہو بے شک اللہ کی مدد قریب ہے ۔

یہ آیت کیا تھی سمجھو اپنا محاسبہ تھا۔ میرا اور سامنے کھڑی بھوک کا سر شرم سے جھک گیا تھا۔۔۔ اس قدر سردی میں بھی میرا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ اب ہال کی کھڑکی پر بیٹھا مجھے کوئی غور سے دیکھ رہا تھا اور پوچھ رہا تھا۔۔۔ ” تجھے کیا لگتاہے کہ یہ بھوک بہت بڑا امتحان ہے اس دنیا کا؟؟؟ امتحان دیکھا بھی ہے کبھی تونے؟ ”میری آنکھوں کے سامنے میرے نبی کریم صلی علیہ وعلیہ وسلم کے خون سے بھرے جوتے آگئے۔۔۔ ظائف والو ں کے مظالم۔۔۔۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تکلیف سے لبریز چہرہ آواز گیا جب وہ غارِ ثور میں میرے نبی صلی علیہ وسلم کے لیئے درد سہ رہے تھے۔۔۔۔ میرے سامنے میرے محبوب نبی صلی علیہ وسلم کی صاحبزادی کی آنسو آ گئے جب وہ روتی تھیں اور میرے نبی صلی علیہ وسلم کی پِیٹ سے اونٹ کی اوجڑی اٹھاتی تھیں۔۔۔ میرے سامنے کفارِ مکہ کے مظالم آ گئے۔۔۔میرے سامنے حضرت سمیہ آگئیں۔۔۔میرے سامنے مدینہ کے منافق آ گئے۔۔۔ اب بھوک اور اس کے سوال ڈر کر بھاگ گئے تھے۔۔۔ میرے جسم ہو لے ہو لے کانپ رہا تھا۔۔۔۔

اللہ اکبر۔‘اللہ سب سے بڑا ہے’۔ ہر سر سجدے میں جا چکا تھا۔۔۔    کوئی صحن سےاٹھ کر چپکے سے میرے پہلو میں آ بیٹھا اور سر گوشی کی۔۔۔

 لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۔ ” اللہ کسی کو اس کی برداشت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا”

اب سجدے میں پڑا میرا سر کبھی ندامت اور کبھی شکر گزاری سے بھاری ہونے لگا۔۔۔ آنسوؤں کی لڑی ٹوٹ ٹوٹ کر زمین میں جذب ہو رہی تھی۔۔۔مگر اب یہ آنسو وضو کے اس پانی کا کام دے رہے تھے جس نے سب کے چہروں پر سیمنٹ کیا تھا۔ اب میرے چہرے پر سیمنٹ ہو رہا تھا۔۔۔ اب خاکروب کی میلی کچلی لڑکی میرے چہرے سے جا چکی تھی۔۔۔۔ اب وہاں صحن والے کا عشق تھا اور جنت کا سوال۔۔۔باقی نماز میں پاس کوئی بیٹھا کبھی میرے بال سہلاتا تو کبھی پِیٹھ پر تھپکی دیتا۔۔۔۔

سلام پھیرے ہی میرے بائیں جانب خاکروب کی لڑکی بیٹھی تھی اور دور کہیں مجھے مغربی طرز کا لباس پہنے من چلی نظر آ رہی تھی۔۔۔ ان دونوں کے چہرے روشن تھے۔۔۔۔ وہاں کوئی سوال نہ تھا۔۔۔ بس اطمینان اور سکون تھا۔۔۔

میرے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اور اسی اثناء میں پاس بیٹھنے والے نے اپنی شفقت کا گھیرا میرے،  خاکروب کی لڑکی اور من چلی کے گرد بنا لیا۔۔۔ میرے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہو گئی اور میں نے اطمینان سے آنکھیں بند کر لیں۔ —کوئی بار بار میرے کانوں میں سرگوشیاں کر رہا تھا۔  وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَى۔ اور اس نے تمہیں گمراہ پایا (اور) رہنمائی کی۔

(Visited 658 times, 1 visits today)

Anila Moin Syed is a freelance writer and a feminist based in Islamabad. Her areas of interests are history, culture, philosophy, religion and social issues. She can be reached out on twitter @anila_moin

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے