Here is what others are reading about!

انٹری پاس

جب ماسی حسنہ اور چاچا قیصر اسے لیکر آئے تھے،تب ہم بہت خوش تھے ،بڑوں نے بتایا کہ یہ انکا بیٹا ہے جو کچھ سال پہلے گم ہو گیا تھا۔پھر مل گیا ہے۔دراصل ماسی حسنہ اور چاچا قیصر کی شادی کو کئی بہاریں گزر چکیں تھیں،مگر اولاد نہ ہونے کے غم نے ان سے ہر خوشی چھین لی تھی۔

ہمارے گاؤں کے ایک ہمدرد آدمی نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ’’بڑے شہر‘‘ جائیں جہاں بڑے بڑے کام ہوتے اور فاسٹ فوڈ زپر ہی لوگ ہزاروں روپیہ اڑا دیتے ہیں۔مجھے آج بھی یاد آتا ہے کہ ماسی حسنہ نے کئی دن تک تیاری کی تھی۔سالوں پر پورے گھر کی صفائی کی،فالتو اشیاء صحن سے اٹھا کر ایک طرف رکھی،چاچا قیصر نے برسوں بعد ہئیر کلر کیاورنہ ہم نے تو ہمیشہ ہی انہیں بلیک اینڈ وائیٹ دیکھا تھا۔

وہ دن بہت یادگار تھاجب ہمارے گاؤں میں سے کوئی ’’ بڑے شہر‘‘ جا رہا تھا۔اس سے پہلے دو آدمی گئے تھے مگر وہ بلوچستان یا سرحد گئے تھے ،دسمبر کے آخری ہفتہ کی وہ ایک صبح تھی جب ماسی حسنہ اور چاچا قیصر  شہر کو چل دیئے۔

ہمارے تھرڈکلاس ٹرانسپورٹ، جس نے ہماری آدھی کرۂ ارض  کو آدھا نگل لیا ہے،  میں دھکے کھاتے کھاتے  بڑے شہر پہنچ گئے ۔پھر ’’نصیب اپنا اپنا‘‘ لکھے رکشہ میں بیٹھ کر وہ ڈاکٹر سومومل کے ہسپتال پہنچ گئے۔ڈاکٹر سومومل ایک جعلی ایم بی بی ایس ڈگری رکھتا تھا۔ایوانوں سے لیکر تنگ گلیوں تک صرف ہماری قسمت میں جعلی ڈگری ہولڈلز آئے ہیں،خیر ڈگری تو ڈگری ہے۔۔۔۔۔

ڈاکٹر سومومل نے سب بچے دکھائے  کوئی کالا تھا تو کوئی سفید ۔۔

بہت دلکش منظر تھا ۔سائیں ڈاکٹر اس بچے کے کتنے پیسے؟چاچا قیصر نے سہمے ہوئے انداز میں سوال پوچھا۔۔۔

’’انسان برابر ہیں صرف ۱۳۰۰۰  روپے‘‘ڈاکٹر نے فلسفیانہ جواب دیا۔

ڈاکٹر صاحب یہ لو ، ماسی حسنہ نے جلدی سے ۱۳۰۰۰  روپے دے دیئے۔

ڈاکٹر سائیں بیٹی ہوگی؟؟چاچا قیصرپوچھنے لگا۔۔۔

’’نہیں ! ہم لڑکی نہیں رکھتے  کوئی لیتا ہی نہیں ‘‘

ڈاکٹر کے یہ الفاظ اس معاشرہ کی اجتماعی سوچ کی نمائندگی کر گئے  جس میں ہمیشہ عورت کو بچے پیدا کرنے کی مشین ہی سمجھا گیا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ ہم نے شام ڈھلے تک انتظار کیا لیکن وہ نہیں آئے۔

اگلی صبح گاؤں کی تمام عورتیں انہیں مبارکباد دینے ان کے گھر گئیں ۔ہم بہت خوش تھے کہ بڑے شہر سے کوئی لڑکا آیا ہے جو بڑا ہو کر پینٹ شرٹ پہنے گا،مٹھائی وغیرہ بانٹ کر اس کا نام گلاب رکھا گیا۔۔۔بکریوں کے  بیوپاری چاچا قیصر کے گھر  میں آج روایتی جشن منایا گیا۔اس غریب خاندان میں بہت عرصہ بعد خوشی کی بہار آئی تھی۔

’’وہ تب وجود میں آیا جب دو گرم جواں جسم  بڑے شہر کے فائیو سٹار  ہوٹل کے ایک کمرہ میں رات گزارنے آئے تھے ،اس نوجواں لڑکے نےآرمانی کی پینٹ ، پولو کی شرٹ اور ایک مہنگا  اسپورٹس  جوگر ز کا جوڑا پہن رکھا تھا اور لڑکی نے زونیرا کا  مہنگا شرارا اور بغل میں جو۔جو۔زی کا ایک مہنگا پرس تھا۔دونوں نے ساری رات وکٹورین  بیڈ پر ہالی وڈ کا رومانٹک اور ہاٹ میوزک ’’انجوائے ‘‘ کیا۔

سورج طلوع اور غروب ہوتا رہا وقت گزرتا گیا گلاب پانچ سال کا ہوا اور سکول جانا شروع کر دیا۔

وہ بہت سخت دن تھاجب خبر آئی کہ چاچا قیصر چنگ چی میں جمعہ بازار جاتے  روڈ ایکسیڈنٹ میں موت کا شکار ہو گئے ہیں  اس دن کے بعد ماسی حسنہ کے جینے کا سہارا صرف گلاب تھا۔چاچا قیصر کے انتقال کے بعد بہت عجیب و غریب کہانیاں سننے میں آئیں یہانتک کہ ’’ گلاب حرامی‘‘ کا لفظ بھی سماعتوں سے ٹکرانے لگا۔۔۔۔۔ہمارا معاشرہ  غریب اور یتیم لوگوں کے لئے بہت  قہری  ثابت ہوا ہے ۔یہاں زندگی گزارنے کے لئے دو ہی فلسفے ہیں ایک یہ کہ بدمعاش بن کر زندگی گزارو اور دوسرامظلوم بن کر ظلم برداشت کرو!

شروع میں تو ہم نے کان نہ دھرے گلاب حرامی کیونکر اور کیا ہے ۔مگر ایک دن وزیرستان سے ایک سال بعد آنے والے پڑوسی نے سمجھایا کہ  ایک حرامی میں کیا فرق ہے؟جنت میں حلالی کہاں اور دوزخ میں حرامی کہاں ہو گا۔حرامی کا معاشرہ میں جینا  ہم پر لعنت کیسے ہے؟اسکو مارنے پر جنت میں کیسی اور کتنی حوریں ملے گیں،ہم کچی عمر میں تھے ایسی باتیں سن کر بہت مزہ آیاہمارے دماغ اس کے کنٹرول میں آ چکے تھےاندھے معاشرہ میں مذہب کو استعمال کر کے لوگوں کو گونگا اور بہرہ بنا دیا جاتا ہے ۔ظالموں نے ہمیشہ مذہب کا استعمال کر کے انسانیت کا قتل کیا ہے ہمیشہ مذہب کے نام پر خون کیا ہے۔ہم بھی اس دن سے مستقبل کےجتنی کے مرید بن گئے تھے کالج چھوڑ دیاسارے گاؤں سے ٹیلی ویژن نکال دیئےگھر کو ماؤں اور بہنوں کے لئے جیل بنا دیاگلاب کو مارنا ہمارے لئے جنت کا ’’انٹری پاس ‘ بن گیا۔

آخر ایک دن ہم نے وحشت برپا کر ڈالی اکیسویں روزہ کے دن  گلاب کو سکول جاتے قتل کر ڈالا پولیس کو سب معلوم تھا لیکن پھر بھی ’’ نامعلوم افراد‘‘ پرکیس ڈال دیا۔۔۔۔ہم آج تک جنت کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔۔۔۔

(Visited 453 times, 1 visits today)

Arshad Ali is a freelance writer based in Hyderabad, Pakistan. He’s studied Electrical Engineering at Mehran University of Engineering and Technology. His areas of interests are social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے