Here is what others are reading about!

فریبِ نیستاں اور ایک نقطہ

یاور دفتر میں میرے ساتھ ہی کام کرتا ہے، کتابیں پڑھنے کا بے حد شوقین ، ماں باپ نے کسی طرح ڈگری تو کروا دی، لیکن  یاور بہت پڑھنا چاہتا تھا، بہت سیکھنا چاہتا تھا، اکثر کہتا تھا کہ سر جی مجھے کم سے کم سات زبانیں سیکھنی ہیں، مجھے ہر چیز سیکھنی ہے، نوکری اور عجیب و غریب حالات کی خانہ جنگی کے باعث زیادہ کتابیں  تو نہ پڑھ سکا، لیکن سیکھنےکا جنون میں کئی دہریہ بھی اس کے دوست تھے،  مولویوں کی صحبت میں بھی رہ چکا تھا، ملنگوں اور ماتمیوں کے ساتھ بھی بیٹھک رہی، تبلیغی جماعت کے ساتھ بھی جا چکا ہے۔ یاور کہا کرتا ہے سر جی ! مجھے افسوس ہے کہ میں نے زندگی میں بہت کم پڑھا ہے، پر میں نے لوگوں کو بہت پڑھا ہے۔ یاور کا بتانا اس لئے ضروری تھا کہ یاور اور مجھ سے آپ کی پہلی ملاقات ہے، میرے بارے میں جاننا اتنا ضروری ہے بھی نہیں، لیکن یاور مجھے بہت سی باتیں بتاتا ہے اس لئے میں خیانت نہیں کرنا چاہتا، یاور کی براہ راست تنقید اور نڈر تجزیے کےخوف سے بیشتر لوگ اس سے نالاں رہتے ہیں، لیکن اس کی اپنی زندگی کے بارے میں ایک اپنی الگ ہی تھیوری ہے، وہ ہر چیز کی اپنے منفرد رنگ میں  تعریف کرتا ہے،  اسی وجہ سے میرا اس سے بہت قریبی تعلق بن گیا ہے۔

دور حاضر کی سائنس، فلسفہ اور مذہب اس طرح کی بحث میں پڑنا ہی نہیں چاہتے، وطن عزیز میں سائنس کی تعلیم حاصل کرنے والے  اپنے مقالات اٹرنیٹ اور سینیئرز کی اسائنمنٹ پر الفاظ کی رد و بدل کر کے لکھ لیتے ہیں، فلسفے کا تو خیر سوچنا بھی گناہ ہے، اب لوگ کینڈی کرش کی فکر کریں یا سارتر اور ڈارون کے فلسفوں کے تقابلی جائزوں کی خشک بحثوں میں الجھیں؟ اور رہ گئی بات مذہب کی، تو مذہب رہ ہی کہاں گیا ہے؟ وہ لوگ مذہب کیا سکھائیں گے کہ جو خود برقعوں میں فرار تو کبھی فراریوں میں سوار نظر آتے ہیں، جہاں طہارت اور شلوار کی لمبائی پر بحث ختم نہ ہو وہاں نظامِ کائنات کو سمجھنے کی بات کہاں سے آئے گی۔

بہر حال ایک دن کام ختم کر کے ہم گاڑی کے انتظار میں بیٹھے تھے، میں نے اس سے یہی سوال کیا، یاور میاں ، کیا واقعی سورج سوا نیزے پر آئے گا، تم کیا کہتے ہو؟سر جی۔۔۔۔! ایسے پر جوش موقعوں پر وہ میز پر زور سے ہاتھ مارا کرتا ہے، میں سمجھ گیا، یاور بولنے لگا۔۔۔۔!

سر جی، جس طرح زمین ہر شے کو اپنے مرکز کی جانب کھینچتی ہے، اسی طرح سورج بھی ہمارے نظامِ شمسی کا مرکز ہے، لہٰذا میرا ماننا یہ ہے کہ ایک معین وقت گزر جانے کے بعد نہ صرف زمین بلکہ نظامِ شمسی کے تمام اجرام اپنے مرکز یعنی سورج کے قریب تر ہوں گے، اس کے بعد (جیسا کہ بِگ بینگ کا نظریہ بھی کہتا ہے) زمین اور اس کے ساتھ ساتھ تمام سیارے اپنے مرکز کو لوٹ جائیں گے۔کششِ ثقل اس قدر زیادہ ہو جائے گی کہ زمین (جیسا کہ سائنس  بگ بینگ کے نظریہ میں کہتی ہے، کہ سورج سے الگ ہوئی تھی، اسی عمل یا سائیکل کو مکمل کرتے ہوئے واپس) سورج میں ضم ہو کر رہ جائے گی۔اب یہاں سوال یہ آتا ہے کہ سورج بھی کہیں نہ کہیں تو جائے گا۔۔۔۔۔ تو یہ اپنی گلیکسی(مِلکی وے ) میں اسی طرح چلا جائے گا جس طرح کہ یہ زمین سورج میں ضم ہو چکی ہو گی۔اس کی باتیں سن کر اب مجھے حیرت نہیں ہوتی، اس نے واقعی بہت مشاہدہ کر رکھا تھا۔ میں انہماک سے سنتا رہا۔۔۔

بگ بینگ کا نظریہ کہتا ہے کہ یہ کائنات عدم( یعنی زیرو یا نیستاں)سے  ایک دم سے ایک دھماکے کے نتیجے میں وجود میں آگئی۔ جس نیستاں سے کاٹ کر اس سب کو بنایا گیا ۔۔۔ سب کچھ اسی نیستاں میں دوبارہ غرق ہو جائے گا ۔۔۔۔ بھلے اسے بلیک ہول کہا جائے یا وجود کا عدم میں چلےجانا۔۔۔!! اگر مان لیا جائے کہ  کائنات عدم سے وجود میں آئی ہے تو اس سائیکل کو بلیک ہول ہی میں ختم ہونا ہے۔ بلکہ یوں کہا جانا چاہیئے کہ اگر سائنس کو یہ ثابت کرنا ہے کہ کائنات عدم سے وجود میں آئی ہے تو اسے پہلے بلیک ہول اور بگ بینگ کا کوئی معیاری ثبوت دینا ہو گا۔ لہٰذا دونوں نظریات (کائنات کا عدم سے وجود میں آنا، اور  بگ بینگ تھیوری) ایک دوسرے سے مربوط اور ایک دوسرے کے ثبوت و شہادت کے لئے  لازم و ملزوم ہیں۔

ارواح یا امثال جنہیں آئیڈیاز کہا جاتا ہے جو حقیقت پر مبنی ہیں (ہیں تو یہ اجسام بھی حقیقت، لیکن چونکہ یہ نیستاں یعنی زیروسے آئے ہیں اور وہیں اپنے اصل یعنی نیستاں ہی میں واپس جائیں گے، لیکن ارواح کا معاملہ الگ ہو گا) ان کے مظہر اجسام کے اپنے اصل میں چلے جانے کے بعد ان کا  کیا ہو گا؟ یہ بھی اپنے اصل کی طرف لوٹ جائیں گی۔ اسی  کے لئے تو کہا جاتا ہے؛ اِنّا لِلّٰہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون۔۔۔۔۔!

اہم بات سر جی!۔۔۔۔!! جنت اور دوزخ کیا ہے؟ وہ واقعی ایک کیفیت کا نام ہے۔۔۔۔!

 سر جی! It’s all just a Matrix….!

 اصل مقصد مالک مکان کے ساتھ رابطہ استوار کرنا ہونا چاہیئےنہ کہ کسی بھی عارضی یا دائمی مکان میں سکونت۔۔۔!

لیکن سر جی! اگر پھر بھی کوئی سیٹل فار لیس کرنے پر آمادہ ہو تو اس کے خالق کی قدرت سے اس پر وہ کیفیت طاری کر دی جائے گی، یعنی اسے اسی حال میں بھیج دیا جائے گا جس کا وہ خود  انتخاب کرے گا۔ شاید کہیں اقبالؔ بھی کچھ اس طرح کہتے ہوئے پائے گئے تھے؛

ع           خدا بندے سے خود پوچھے۔۔۔۔۔!

بہرحال سر جی! بحث کو سمیٹنا اچھا۔۔۔ اگر نیستاں یازیروکی بجائے یہ مان لیا جائے کہ ایک مرکز ہے۔۔۔!! جس طرح ہر ایک شے کا خیال یا آئیڈیایا مثل موجود ہوتی ہے، جس طرح چیزوں کی ماسٹر کاپی یا بلیو پرنٹس ہوا کرتے ہیں، اسی طرح اس کائناتِ ازلی کا مأخذ بھی کوئی نہ کوئی نقطہ ہے جو بے حد کثیف  ہے ، سر جی!  یہ کائنات اسی ایک  نقطہ سے آئی اور اسی نقطہ میں سمٹ جائے گی۔۔۔۔۔!

اب وہ نقطہ کیا ہے ! جو وجود کا منبع ہے؟ جو اس کائنات بھر کے  تراب میں وجودکا  مرکز و محور ہے؟ میرا ذاتی نظریہ ہے، آپ کا اس سے متفق ہونا یا نہ ہونا آپ کا ذاتی مسئلہ ہے ، لیکن سر جی! مجھے نجانے کیوں۔۔۔  ایسا لگ رہا ہے۔۔۔۔ کہ وہ نقطہ۔۔۔۔۔ بسم اللہ کی ’’ب‘‘کا نقطہ ہے۔۔۔۔!

میں یاور سے بہت سے سوال پوچھنا چاہ رہا تھا، لیکن ہماری گاڑی آ چکی تھی اور میں  یاور کی باتوں پر سوچ میں گم سر نیہوڑائے، گھر کو روانہ ہو چکا تھا۔

(Visited 423 times, 1 visits today)

Ali Adeeb is a freelance writer based in Islamabad. He works as a content producer and copy editor at Such TV. He’s areas of interests are science, religion and logic.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے