Here is what others are reading about!

جمعہ مبارک

ویسے تو ہر شے کی طرح شب و روز کا خالق و مالک خداوندِ قدوس ہے، لیکن جمعہ کے دن کو باقی چھ دنوں پر فوقیت حاصل ہے۔ بلکہ روایات کے مطابق یہ دنوں کا سردار ہے۔ اسی سرداری کی مناسبت سے اسکے مراتب و فیوض بھی برتر ہیں۔  یہ دن اتنا اہم اور خاص ہے کہ خدا نے اسکی فضیلت بیان کرنے کی خاطر ایک پوری سورۃ  نازل فرمائی جس میں اس دن کی اہمیت پر سیر حاصل گفتگو کی۔ عام دنوں میں بجائے جانیوالے اعمال جمعے کے دن مزید وزنی ہوجاتے ہیں۔  ہماری روزمرہ زندگی میں جن باتوں کی ویسے کوئی اہمیت نہیں ہوتی، وہی باتیں جمعہ کے روز ایک خاص حیثیت اختیار کرجاتی ہیں۔ مثلاً غسل کرنا، نیا لباس پہننا، بال کٹوانا، ناخن کاٹنا،  جمعہ کی نماز ادا کرنا، دوست احباب سے ملاقات کرنا ، کسی مریض کی مزاج پرسی کرنا، کسی ضرورتمند کی حاجت روائی کرنا وغیرہ وغیرہ۔لیکن اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ باقی چھ دنوں میں ان کاموں سے پرہیز کرنا ہوتا ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے کہ جسکا پچاس فیصد حصہ صرف صفائی اور پاکیزگی پرمشتمل ہے۔ باقی کے نصف میں بھی معاشرت اور مکارمِ اخلاق کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس لئے اپنی ذات اور اپنے ماحول کو صاف رکھنا ، خدا کی عبادت کرنا اور اپنے معاشرے سے ربط رکھنا باقی تمام دنوں میں  بھی شرعاً مستحب اور عقلاً فرض ہے۔

کہتے ہیں کہ صدرِ اسلام میں عرب دنیا کے جغرافیہ میں پانی ایک نایاب نعمت تھا۔ اس دور کے لوگ کئی کئی مہینے غسل کے بغیر گزارا کرتے تھے۔  اسلام چونکہ دینِ نظافت تھا، اس لئے انہیں صفائی  کی جانب مائل کرنے کے لئے ہفتے میں کم ازکم ایک مرتبہ جمعہ کے روز غسل کرنے  ، حجامت کروانے اور لباس تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور بدلے میں ڈھیروں ڈھیر ثواب  کا وعدہ! ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال گزرنے کے بعد اکیسویں صدی  میں بھی ایسے ایسے افلاطون پائے جاتے ہیں جو تمام تر جدید ترین وسائل رکھنے کے باوجود بھی صرف جمعے کے دن ہی پانی کے نزدیک جاتے ہیں۔  بہر حال جمعہ ایک مبارک دن ہے اور جمعہ کی نماز اسکے مبارک چہرے کا جھومر۔ اسی لئے جمعہ کی نماز کی وہ اہمیت ہے جو عام نمازوں کے پاس نہیں۔ یہ امت کے اتحاد، اخوت، محبت اور جذبہء ایثار کا منہ بولتا ثبوت ہے جہاں بستی بھر کے مؤمنین کو ایک جگہ اکٹھا ہوکر ایک دوسرے کے اور دنیا بھر کے معاملات سے واقف ہونے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ نمازِ جمعہ کی اہمیت کا اندازہ خود سورۃ الجمعہ سے لگایا جاسکتا ہے ۔ ملاحظہ ہوں اس سورۃ کی آخری  تین آیات جن میں خداوندِ قدوس فرماتا ہے:

مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو خدا کی یاد (یعنی نماز) کے لئے جلدی کرو اور (خریدو) فروخت ترک کردو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ پھر جب نماز ہوچکے تو اپنی اپنی راہ لو اور خدا کا فضل تلاش کرو اور خدا کو بہت بہت یاد کرتے رہو تاکہ نجات پاؤ۔ اور جب یہ لوگ سودا بکتا یا تماشا ہوتا دیکھتے ہیں تو ادھر بھاگ جاتے ہیں اور تمہیں (کھڑے کا) کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔ کہہ دو کہ جو چیز خدا کے ہاں ہے وہ تماشے اور سودے سے کہیں بہتر ہے اور خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

مفسرین ان آیات کے ذیل میں یہ بتاتے ہیں کہ چونکہ وہ دور غربت کا تھا اور مسلمان معاشی طور پر بہت کمزور تھے۔ اچھے کھانے پینے اور تفریح کے مواقع بالکل ہی مسدود تھے ۔ ایسے میں کوئی تاجر سبزی یا اناج لیکر یا کوئی مداری تماشا دکھانے آتا تو لوگ اسکی آواز سن کر نماز چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے۔ بعض دفعہ تو ایسا بھی ہوا کہ رسولِ اکرم ﷺ تنہا منبر پر خطبہ دیتے رہ گئے اور لوگ اناج کی خرید و فروخت میں لگ گئے۔ پس خدا نے ان آیات کو نازل فرما کر سخت انداز میں تنبیہ بھی فرما دی اور رزق و فضل کی یقین دہانی بھی کروا دی۔

مفسرین کی تو کیا ہی بات! لیکن ان آیات سے ایک اور پیغام بہت واضح انداز میں مل رہا ہے کہ جمعہ کے دن چھٹی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جبکہ ہمارے یہاںصرف جمعے کو نہانے والے افلاطون جمعے کی چھٹی کو بھی زندگی موت کا مسئلہ بنائے بیٹھے ہیں۔

خیر۔۔۔ کیا دور تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ نمازِ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ اس نماز کی امامت فرماتے تھے۔ آپؑ کی سنت  (آجکل ُسنۃ کہنا زیادہ رائج ہے )آج بھی جاری ہے اور تمام بلادِ اسلامیہ میں نمازِ جمعہ کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے جس میں لوگ جوق درجوق شامل ہوکر اس عظیم سنت (بلکہ ُسنۃ)  کا احیا کرتے ہیں۔ بلکہ ہمارے ملک میں تو جمعہ ایک جنون اور ٹینشن بن چکا ہے۔ اسکی ُسنۃکی فکر میں لوگ اپنے فرائض کو چھوڑ کر جمعہ میں پہنچنے میں تقریباً باؤلے ہی ہوجاتے ہیں۔ یہاں جمعہ کے روز نمازیوں کی تعدا د اس قدر تجاوز کرجاتی ہے کہ مساجد کے باہر مصروف شاہراہوں پر بھی ٹریفک کو خوار کرکے تمبوگاڑدئے جاتے ہیں۔ ثواب کی دھن میں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کسی کو تکلیف پہنچا کر یا کسی کی راہ میں رکاوٹ بن کر ادا کیا جانیوالا بظاہر احسن عمل بھی گناہِ عظیم کا درجہ پاجاتا ہے۔

چودہ سوسالوں میں احکاماتِ دینیہ میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی۔  آج بھی جمعہ کی اذان پر لبیک کہنے کے حکم کی وہی اہمیت ہے۔ تاقیامت جمعہ کے خطبے دو اور رکعات بھی دو ہی رہیں گی۔ نماز کے بعد اپنے کاروبار میں مصروف ہوجانا اور خدا کی طرف سے اسکے فضل کا نزول بھی ویسے ہی جاری رہے گا۔ لیکن اکیسویں صدی کے جدید دور میں احکامات کی بجاآوری میں کافی آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں۔چودہ صدیوں سے تو جمعہ کی ادائیگی کا طرزِ عمل شاید یکساں رہا ہو لیکن پچھلے پچاس سالوں میں اس میں یقینی اور واضح تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔  مثلاً آج سے پچاس سال قبل تک بجلی ہونے کے باوجود مساجد میں ساؤنڈ سسٹم کا کوئی نام ونشان نہ تھا۔ یہ مغرب کی سائنس میں ترقی کا وہ تحفہ ہے جو اولاً  شیطان کے باجے کے نام سے مشہور تھا اور اسکی حرمت واضح تھی۔ لیکن اب  یہ اسقدر حلال اور مباح ہے کہ مسجد کی بنیاد کھدنے سے پہلے یہ پہنچ چکا ہوتا ہے۔  اسی ساؤنڈ سسٹم کو لگانے اور چلانے کے  لئےعموماً  ٹیکنالوجی سے بے بہرہ ایک سن رسیدہ صاحب ( کہ جن کی سماعت اور بصارت دونوں کمزور ہوتی ہیں) بڑھ چڑھ کر پیش پیش ہوتے ہیں۔ ان صاحب کی خدمات کے نتیجے میں خطباتِ جمعہ اور نمازِ جمعہ کے دوران سوائے چیں پاں چوں شڑ شڑ کے اور کچھ سنائی نہیں دیتا۔ خطبہ جاری رہتا ہے اور خادم ِ مسجد صاحب کی ساؤنڈ سسٹم کے ریگولیٹرز  اور تاروں کے ساتھ چھیڑ خانی بھی مسلسل جاری رہتی ہے۔

جب سے ساؤنڈ سسٹم  آیا ہے، جمعہ میں ایک تیسرے خطبے کا بھی اضافہ ہوگیا ہے جو نماز تمام ہونے کے بعد یہی بزرگ ادا فرماتے ہیں۔ اس خطبے میں مسجد کو درپیش مسائل پیش پیش ہوتے ہیں اور ان مسائل کے تدارک کے لئے ثواب کے لالچ میں گندھی ہوئی ترغیب پیچھے پیچھے چلی آرہی ہوتی ہے۔ مثلاً ہمارے محلے کی مسجد میں پانی کی موٹر اعلانات کے مطابق  اس وقت سے خراب چلی آرہی ہے جب مسجد کا وجود بھی نہ تھا۔  لیکن نلکوں میں پانی نا معلوم کہاں سے آجاتا ہے۔مسجد کی آمدن نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کے انقطاع کا نوٹس کئی سالوں سے موصول ہورہا ہے لیکن بجلی بدستور موجود ہے۔ جنریٹر  جل چکا ہے لیکن اسکے چلنے کی آواز سے سارا جمعہ ڈسٹرب ہوا پڑا ہے۔ صفوں کی بھی کمی  ہے لیکن مسجد کا اسٹور مٹی میں اٹے قالینوں سے بھرا پڑا ہے۔ الغرض ایک قیامت ہے جو اس ایک مسجد پر ٹوٹ چکی ہے لیکن اسکے نمازیوں کو اسکی بالکل پرواہ نہیں۔

جبکہ مسجد اللہ کا گھر ہے۔ جو مسجد میں ایک اینٹ لگاتا ہے وہ دراصل جنت میں اپنے محل کی بنیاد رکھتا ہے۔ اسکے ثواب میں والدین اور مرحوم رشتہ دار شراکتدار ہوتے ہیں۔۔۔  یہاں سے خادمِ مسجد کو  ہر نمازی کے ہاتھ کو اسکی جیب تک لیجانے کے لئے زمین و آسمان کے قلابے  ملانے پڑتے ہیں اور ثواب کا متلاشی بیچارہ نمازی اپنے سامنے سے گزرنے والی ٹوکری کو تو کچھ نہ کچھ نذر کر ہی دیتا ہے لیکن مسجد کے باہر کھڑے ڈرامہ باز وں کے علاوہ کسی واقعی مستحق کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔

اس تمام معاملے میں جو پر لطف بات ہے وہ تو آپ نے پوچھی ہی نہیں!

چلیں بتلائے دیتا ہوں۔ تیسرے خطبے میں ساؤنڈ سسٹم بالکل ٹھیک چلتا ہےا ور خادمِ محترم بلکہ ٹھیکیدار ِمسجد و ثواب کے  انتہائی صاف و شفاف الفاظ سامعین کے کانوں میں تا دیر  رس گھولتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات ایک چوتھا خطبہ بھی ہوتا ہے۔۔۔ وہ کیسے ؟ وہ ایسے کہ کوئی مشہور شخصیت اچانک سے آپکی مسجد میں جمعہ ادا کرنے پہنچ جاتی ہے۔ تو کیوں نہ ان سے بھی استفادہ کیا جائے۔ لوگوں کی جائز مصروفیات جائیں بھاڑ میں۔۔۔ مشہور شخصیت کا خطاب تو روز روز نصیب نہیں ہونے کا ناں۔۔۔

آجکل مسجد میں موسیقی کا انتظام بھی ہونے لگا ہے۔ دورانِ نماز نمازیوں کی جیبوں سے اٹھنے والے ایسے ایسے مدھر ساز سننے کو ملتے ہیں کہ بس۔۔۔۔کال کرنے والے کی ٹائمنگ بھی کمال کی ہوتی ہے۔  گانا اور نماز ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور ساتھ ساتھ ہی اختتام پذیر بھی۔۔۔۔ ہمارے نمازیوں نے جدید دور کے ان کھلونوں سے ہر طرح سے کھیلنا سیکھا لیکن بس۔۔۔ چند ناگزیر مجبوریوں کے باعث مسجد میں داخل ہونے سے قبل اسکو میوٹ کرنا نہ سیکھ پائے۔

اب زرا چالیس سال اور آگے آجاتے ہیں۔ پچھلے آٹھ دس سالوں سے موبائل فون اور سوشل میڈیا کا بہت چرچا ہے۔ جمعرات کے دن سے ہی آنیوالےجمعے کی تہنیت کے پیغامات کا ایسا سلسلہ شروع ہونے لگا ہے کہ لگتا ہے کہ اس قوم کو صرف جمعے سے ہی لینا دینا ہے۔ باقی چھ دن  جیسے یہودیوں کی ملکیت ہوں۔ جمعہ کے دن یہ کرنا سنت ہے اور وہ کرنا سنت۔ اسکا اتنا ثواب اور اسکا اتنا ثواب۔۔۔ مجھے سمجھ یہ نہیں آتی کہ ثواب کا تو سب کو پتا ہے، کبھی کسی نے اس طرف دھیان کیوں نہ دیا کہ جمعے کے روز یا کسی اور دن کچھ اور کرنے سے جو عمل گناہ کے زمرے میں آتا ہے، آیا اس پر کوئی عذاب بھی معین ہوتا ہے یا نہیں؟ مثال کے طور پر مسجد پہنچ کر ثواب تو حاصل کرلیا۔ کسی کے راستے میں یا کسی کی گاڑی کے پیچھے اپنی گاڑی کھڑی کرکے گناہ کیا یا نہ کیا؟ کیا اس ایک حرکت کے نتیجے میں کسی کی جان ، مال یا اس کے قیمتی وقت کا نقصان کرکے کوئی عذاب بھی اپنے نامہءاعمال میں لکھوایا یا صرف ثواب ہی ثواب سمیٹ کر لوٹے؟ وضو کے ہرہر رکن کے بدلے فردوسِ بریں میں وسیع و عریض محل تو تعمیر کرلئے لیکن دوسرے منتظرین کی پرواہ کئےبغیر وضو کے نام پر اپنی تزئین و آرائش میں کتنا ہی وقت اور پانی ضائع کرڈالا اور صفائی کے مقام کو کیچڑ زدہ جوہڑ میں تبدیل کرنا کیا گناہ نہیں؟ کیا اس گناہ کا کوئی عذاب شمار نہیں کیا گیا؟ اگر خدانخواستہ اس کیچڑ میں کوئی بزرگ  پھسل کر اپنی ہڈی تڑوا بیٹھے تو ذمہ دار کون؟

خیران خطوط پر سوچنے بیٹھیں تو ناجانے کیا کیا سوچنا اور پھر عمل کرنا پڑے گا۔ اس لیے سوچو ہی مت۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ مبارک دن ہے ، سو مبارک ہی رہنے دو۔

یاد آیا۔ ابھی چند روز قبل ہی ایک وڈیو کلپ نظر سے گزرا۔ جس میں ایک انتہائی حسین و جمیل مفتی صاحب نظر آئے۔  میرے خیال میں کسی جنم میں یہ مفتی صاحب افلاطون کے استاد رہے ہوں گے۔ قبلہ کسی مغربی ملک سے چلنے والے چینل کے انتہائی دیدہ زیب سیٹ پر جلوہ افروز تھے۔   مولانا صاحب یقیناً کسی امریکی  جہاز میں سوار ہو کر بعد ازاں کسی  جاپانی گاڑی میں چینل اسٹوڈیو تک پہنچ پائے ہوں گے۔ اسٹوڈیو اکیسویں صدی کی تمام جدید ترین ٹیکنالوجی اور آلات سے مزین تھا۔ ساؤنڈ سسٹم، کیمرے، کمپیوٹرز، فرنیچر، سیٹلائٹ سسٹم میرے خیال میں یا یہودیوں کی ایجادات تھے، یا عیسائی اور بت پرستوں کی فیکٹریوں میں تیار ہوئے تھے۔ مفتی صاحب کےسوٹ  کا کپڑا بھی کسی یہودی کی لگائی گئی فیکٹری میں بنا تھا۔ ٹوپی تو کنفرم میڈ اِن چائنا تھی۔ مفتی صاحب کے چہرے پر انکا چشمہ بھی خوب جچ رہا تھا جو انہوں نے کسی ماہر امراضِ چشم کے کلینک پر کسی دھرئیے کی ایجاد کردہ مشین پر اپنی نظر چیک کروا کر بنوایا ہوگا۔  محترم  کی پشت  والی دیوار پر  کافی ساری شیلوز تھیں جن میں  کسی سازشی کے پریس سے چھپی ہوئی حدیث و فقہ کی کتابیں بہت ترتیب اور سلیقے  سے سجی ہوئی تھیں۔

جمعے کا دن تھا۔  مفتی صاحب جمعے کی اہمیت کے ساتھ ساتھ دیگر مسالک و مذاہب کو بھی آڑے ہاتھوں لے رہے تھے۔۔  باقی  ائرکرافٹ، آٹو میٹک جیپنیز سِڈان، ساؤنڈ سسٹم، سیٹلائٹ سسٹم، کمپیوٹرز، کیمرے ، اسٹوڈیو، ٹیکسٹائل مشینری اور پرنٹنگ پریس وغیرہ وغیرہ کا استعمال مفتی صاحب کے علمِ بیکراں کے مطابق عین سنت  (ُسنۃ)اور باعثِ ثواب ہی ہوگا۔۔۔ ۔ پروگرام کے اختتام پر مفتی صاحب نے اپنے لیکچر کا لبِ لباب پیش کیا کہ حدیث، تفسیر، فقہ اور تاریخ کی کسی کتاب میں ایسی کوئی روایت نہیں ملتی جس میں رسول اللہﷺ کو جمعہ کی مبارکباد دیتا ہوا پایا گیا ہو۔ چنانچہ “جمعہ مبارک “کہنا بدعت  (سوری، بدعۃ)ہے۔ اور بدعۃ ایجاد کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔

(Visited 622 times, 1 visits today)

Qamar Raza Rizvi is a photographer & a journalist based in Islamabad. He writes for Islam Times & Tahera. He writes on current affairs, social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے