Here is what others are reading about!

کیا فحاشی ختم ہوگئی ؟

اندرون لاہور سے گذرتے ہوئے نظر ان بڑے بڑے اشتہارات کے بورڈ پر پڑتی جو اپنے چمکیلے رنگوں اور اپنی جانب توجہ کو مبذول کرنے والے الفاظ سے بھرے تھے۔ جہاں یہ بورڈ ایک طرح شہر کی سڑکوں کی رونق میں اضافہ کا باعث تھے تو دوسری جانب آمدنی کا ذریعہ بھی۔

یکایک نظر  ایک ایسے اشتہار پر ٹھہری جس میں خاتون کسی پراڈکٹ کی خوبیاں بیان کرتی نظر آرہی تھی لیکن جس چیز نے مجھے گہری سوچ میں مبتلاء ہونے پر مجبور کردیا وہ تھی اس خاتون کی تصویر پر گرائی گئی سیاہی ۔جس نے نہ صرف یہ بتا دیا کہ ہمارے لوگوں کی سوچ کا میعار کیسا ہے بلکہ یہ بھی کہ وہ کیا وجہ ہے جس نے ہمیں ترقی نہ کرنے دیا۔ گاڑی یونہی چلتی رہی اور میرے سامنے ایسے کئی اور اشتہارات بھی گذرے جو سیاہی کا نشانہ بنے تھے۔

بلال جہاں میرا چھا دوست اور ہم جلیس ہے وہاں میرا رشتہ دار بھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ہم کھل کر بات کرلیا کرتے ،پھر چاہے ہم دونوں کو ایکدوسرے کی باتوں سے  اتفاق ہو یا نہ ہو۔ بلال نے مجھے یوں سوچ میں ڈوبہ دیکھا اور وجہ پوچھی۔ بات بتانے پر مجھے تسلی دیتا ہوا کہنے لگا کہ لازمی کسی کی شرارت ہوگی  لہذا تم دل پر نہ لو۔ بات حقیقت میں کیا تھی میں سمجھ تو گیا مگر بس خاموش ہی رہا۔

ویلنٹائن  ڈے کے آنے میں ابھی کچھ دن باتی تھے ہم دونوں کسی کام سے باراز گئے تو کیا دیکھا کہ تقریبا ہر دوسری دکان پھولوں، غباروں سے سجی اور کارڈز بیچتی نظر آرہی تھی۔ بلال یہ سب غور سے دیکھتا رہا اور پھر کچھ تامل کے بعد کہنے لگا  نہ جانے دنیا کس طرف چل نکلی ہے۔لغویات میں کس قدر ڈوب چکی ہے۔ وقت اور پیسہ فحاشی کے کاموں پر ضائع کر رہی ہے۔مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا کہ تمہی دیکھو  یہ ویلنٹائن  ڈے کا تہوار صرف فحاشی کے علاوہ اور ہے ہی کیا ؟ ہم نہ جانے کیوں اور کب تک مغربی اقوام کی اترن جیسے  تہواروں کو سینے سے لگا کر پھریں گے۔  اب وقت آگیا ہے کہ اس تہوار پر بھی ٹھیک اسی طرح پابندی لگا دی جائے جیسے بسنت میلے پر پچھلے کئی سالوں سے لگی ہے جو نہ صرف ایک طرح سے فحاشی پھیلا رہا تھا تو دوسری جانب ناچ گانے کی محفلوں کو ہوا دے رہا تھا۔

بلال کی یہ باتیں سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔بلال مجھے حیرت زدہ نظروں سے دیکھتا رہا کہ بات تو میں نے سنجیدہ کی اور نہ جانے کیوں یہ ہنس رہا ہے۔کیا  باولا ہوگیا ہے؟میں نے ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا،دیکھو بلال  اب بات شروع کرہی دی ہے تو سنو! اس دن تم نے مجھے کہا بورڈ پر لگی سیاہی صرف شرارت ہے کسی منچلے کی جبکہ وہ شرارت نہیں بلکہ سوچی سمجھی ایک حرکت تھی جسکے پس پردہ یہی سوچ کار فرما تھی کہ اس جیسے اشتہاروں سے فحاشی کا فروغ ہو رہا ہے جسکو اس نے سیاہی پھینک کر اپنے زعم میں ختم کرنا چاہا۔ کیا تمہارے نزدیک عریانی اور فحاشی ایک عورت کا مکمل اور مہذب  لباس میں رہتے ہوئے اپنا جسم دکھانا ہے؟  کیا  مرد وں کا  یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر خواتین کو گھورنا فحاشی کے زمرے سے پاہر ہے؟ کیا لڑکوں کا رات دیر تک باہر رہنا فحاشی کا فروغ نہیں؟ کیوں ہماری تمام تر توجہ کا مرکز صنف نازک ہے کہ اس پر پابندیاں لگائی جائیں؟  اگر تم یونہی  بات بات میں فحاشی تلا ش کر  تے رہے تو وہ وقت دور نہیں جب تم خواتین کے باہر نکلنے پر ہی پابندی لگا دو گے۔بات اشتہاروں سے چلتی ہوئی یہاں تک آجائے گی خواتین کے انڈر گارمنٹس دکان میں آویزاں کرنے پر بھی پابندی لگا دو گے ۔تم شائد پھر  کرکٹ میچوں میں عورتوں کے بطور شائقین حصہ لینے پر بھی اعتراض کرنے لگو۔ کیا پتہ کل کو کالج اور یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم کے خلاف بھی نعرے لگاتے نظر آو اور اس پر بھی پابندی کا مطالبہ کرو۔

مجھے ایک بات بتاؤ کہ جب یہ تہوار  نہیں ہوا کرتے تھے تب فحاشی نہیں ہوا کرتی تھی ؟ کیا اس وقت لڑ کیوں کی عزتیں محفوظ تھیں ؟ اس وقت جرائم نہیں ہوا کرتے تھے ؟  اس وقت فضول خرچی  یا   رقص و سرور کی محفلیں نہیں ہوا کرتی تھی ؟کیا یہ سب بسنت اور ویلنٹائن جیسے تہواروں کا نتیجہ ہے ؟ مغربی ممالک میں ویلنٹائن جیسے تہوار زیادو دھوم سے منائے جاتے ہیں بہ نسبت پاکستان کے مگر وہ نہ جانے کیوں وہاں  اس فضول خرچی کی بناء پر بھوکے نہیں   مر رہے۔ میں ہرگز نہیں کہتا کہ یہ سب تہوار سب منایا کریں ، جسے منانا ہے وہ منائے  اور جسے نہیں پسند وہ رد کردے۔یہ تو منتق کچھ اسی قسم کی ہوئی کہ آپ  سکولوں کو بند کرنے کو دہشتگردی بند کرنے کا مضبوط قدم سمجھیں۔ بند کرنے چلو تو آخر کیا کیا بند کروگے، کیوں نہ ہم بند کرنے کی بجائے اپنی سوچ کو بہتر انداز میں ایک نئے زاویہ پر کھول لیں۔

ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ہم دونوں گھر میں داخل ہوئے۔بات کا رخ بدلنے کے لئے ٹی وی لگا لیا ۔ ٹی وی لگانے پر جو پہلی خبر سامنے آئی وہ کچھ یوں تھی ” وزارت داخلہ کے حکم پر پولیس نے اسلام آباد میں ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی عائد کردی ہے”۔ خبر سن کر بلال مسکراتے ہوئے میرا منہ تکنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(Visited 1,811 times, 1 visits today)

Mirza Umer Ahmad is a freelance writer. With a deep study on religions, cultures and current affairs, his areas of interests are social, moral and religious issues. He can be reached out on twitter @em_umer1

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے