Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Social
  • /
  • روحانی والدین اور ہمارا رویہ

روحانی والدین اور ہمارا رویہ

بقول نیلسن منڈیلا ’’تعلیم ہی وہ طاقتور ترین ہتھیار ہے جس کے ذریعے پوری دنیا کو تبدیل کیا جاسکتا ہے‘‘۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی علم و تعلیم کے بغیر ممکن نہیں اور یہ معاشرے کے ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔دور حاضر میں طلباء میں علم کی اہمیت ماند پڑتی جارہی ہے۔وہ طالبعلم جوکبھی صرف علم کی روشنائی سے فیضیاب ہونا چاہتے تھے، آج کل صرف نمبروں کی ریس کے گھوڑے بنے نظر آتے ہیں ۔ علم سے بنی نوح انسان کو شعورحاصل ہے لیکن آجکل طالبعلم معیاری تعلیم کے لیے کوشاں نہیں بلکہ ان کا مطمع نظر نمبروں تک محدود ہوگیاہے۔ اس سب میں استاد اور شاگرد کا رشتہ کہیں کھو گیا ہے اور ادب، علمی بحثوں اور مباحثوں کا فقدان نظر آنے لگا ہے۔           
رویوں میں بڑتی بے ادبی، بدگمانی، تلخیاں بلاشبہ علم سے دوری کے سبب ہیں۔ایک دور تھاجب طلبہ و طلبات اساتذہ کے احترام میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے تھیاور ایک بے لوث احترام و انسیت کا رشتہ استوار رکھتے تھے ۔ اب نہ صرف ہم اپنے اساتذہ سے بدگمان ہیں بلکہ ہم روحانی والدین کے ساتھ بداخلاقی کو اپنا فرض قرار دیتے ہیں ۔ کلاس میں استاد کوبروقت موجود ہونا چائیے چاہے ہم کلاس میں میسر ہو یانہ ہوں۔ گویا ہمارا کلاس اٹینڈ کرنا استاد محترم پر احسانہے۔ اور اوپر سے ان کوچاہئے کہ ہمیں سو فیصد نمبر دیں اگرچہ پیپر میں کوئی خاکہ ہی کیوں نہ بنا ہو۔ استاد کا عزت و احترام ہم پر لازم نہیں۔ ہم تو پڑھے لکھے جدید ٹیکنالوجی کے دور کے طالبعلم ہیں۔انہیں کیا علم ،سارا علم تو ہمیں ہے ۔یہ توزمانہ قدیم کے بوسیدہ لوگ ہیں۔ آپ مانیں یانہ مانیں، یہ رویے ہر دوسرے سکول، کالج اور یونیورسٹی کی اصل و تلخ حقیقت ہے۔پڑھے لکھے نوجوانوں کی اس درجہ منفی سوچ ہی معاشرے میں بگاڑ کی ابتداء ہے ۔               
جب معاشرہ تیزی سے نیچے کی طرف لڑھکتا جاتا ہے تو استاد ایک اہم سپیڈ بریکر ہوسکتا ہے ۔کیونکہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو عدالت ، فوج، سیاست، بیوروکریسی، صحت، ثقافت اورصحافت سب کو چلانے والے استاد کے سہارے کے بغیر کسی بھی ادارے تک نہیں پہنچ سکتے ۔پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے اور پھر وہ ماں اپنے جگر کا ٹکڑا استاد کے حوالے کر دیتی ہے اور استاد اس کے لئے پوری دنیا کو ایک درسگاہ بنانے کی طاقت رکھتا ہے ۔ باپ بچے کو زمین پر قدم قدم چلانا سکھاتا ہے ، استاد اسے دنیا میں آگے بڑھنا سکھا سکتا ہے ۔ جو استاد بچے کے اندر سیکھنے کی لگن ،جاننے کی جستجو اور آگے بڑھنے کا عزم نہ پیدا کر سکے وہ استاد نہیں ایک بیوپاری ہے جو شائد تعلیم کو بیوپار سمجھ کر اس شعبے میں آگیا ہے اور پھر تعلیم کے شعبے کو جس کی بنیاد پر پورے معاشرے کا ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے ،اسے جڑوں سے ہلا دیتا ہے ۔ اس لئے استاد کا کردار معاشرے میں بہت اہم ہے ۔

ہمارے معاشرے میں تعلیمی نظام خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ طبقاتی نظام ہے ۔ہمارے ملک میں دوہرے معیار کی تعلیم دی جاتی ہے ۔انگلش میڈیم طلباء اپنے آپ کو اردو میڈیم طلباء پر فوقیت دیتے نظرآتے ہیں۔ ایسے میں اگرہمارے سامنے اردو میڈیم استاد آجائے تووہ بھی آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے۔ اس دوہرے معیار تعلیم کے سبب ہمارے معاشرے میں طبقاتی فرق پیداہو چکا ہے جو میرے خیال کے مطابق ادب کے فقدان کی جڑ ہے۔ ہمیں اس دوہرے معیارتعلیم کو روکنا ہوگا اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس تباہی سے بچاناہوگا تاکہ ہمارے بچے اپنے استاد کو اپنے سے کمتر نہ جانیں انکو علم ہو کہ انکو تعلیم کے زیور سے نوازنے والے استاد انکے روحانی والدین ہیں ۔ 
کہتے ہیں کسی بھی معاشرے میں علم کی قدر اسی وقت ہوتی ہے جب اساتذہ کا مقام اس معاشرے میں بحال ہو۔ ہمارے معاشرے میں ایک پولیس افسرکے آنے پر پورا محلہ کانپ اٹھتا ہے۔مجسڑیٹ کا رعب اور دبدبہ کپکپی طاری کردیتا ہے ۔ مجسٹریٹ اور دیگر افسران کے برابر بیٹھنا انکی بے ادبی تصورکی جاتی ہے لیکن جس استاد کی محنت ، کوشش اور شفقت سے یہ افراد ان بالا عہدوں پر فائز ہوئے انہی کی قدر کرنے سے یہ معاشرہ قاصر ہے ۔ٹیچرز ڈے منانے اور استاد کو سر کہہ کر مخاطب کرنے کے وجود حقیقی ادب ناپید ہے۔      
تعلیم افراد کی ذ ہنی صلاحیتوں کو اُجاگر کر نے اور سیرت و کردار کی تعمیر کا نام ہے کسی بھی قوم کی ترقی و بکا کے لیے اشد ضرروری ہے کہ اُس معاشرے کی آنے والی نسلیں علم کی اہمیت سے واقف ہوں اور افراد کی ذہنی وعلمی تربیت استاد سے بہتر کون کرسکتا ہے؟ ایک ا چھا استاد ہی ا پنے طلبات میں علم کی لگن اور فکر و تحقیق کی جستجو بیدار کرسکتاہے ۔ آج کے نوجوانوں کو اس جدید نظام تعلیم سے فائدہ تو پہنچا مگر اسکا تاریک پہلو یہ ہے کہ تعلیم صرف ان تعلیمی اداروں سے سند حاصل کرنے کو سمجھ لیا گیا ہے اور علم کا حصول انکے منتخب مضامین تک محدود ہوگیا۔علم کا اصل مقصد انسانیت کو جلا بخشنا ہے جبکہ طلباء اسکے حقیقی مفہوم و مقصد سے بیگانہ صرف اچھی ملا ز مت، کاروبار و مقبولیت وغیرہ جیسی ذاتی مفاد کے لیے تعلیمی اسناد کا حصول چاہتے ہیں ۔اسی سبب سے وہ استاد کے مقام ، عمدہ اخلاقیات سے محروم اپنے مقصد سے بے خبر،ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔    
ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کا جائز مقام معاشرے میں بحال کرتے ہوئے انکاتشخص بہتر بنایا جائے ۔جب اساتذہ کا تشخص اور عظمت معاشرے میں بحال ہوگیاتو اساتذہ اپنی فرائضِ منصبی کی انجام دہی بھی پوری لگن سے کریں گے۔ ہمارے معاشرے کے نوجوانوں میں مثبت سوچ اجاگر ہوگی اور پھر علم وادب کی طرف رغبت بھی پیدا ہو گی۔

(Visited 500 times, 1 visits today)

Abir Z. Abidi is a freelance writer and student of political sciences based in Karachi. Her areas of interests are social and political issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے