Here is what others are reading about!

نیب ، احتساب اور کہانی

کچھ خبریں اور افواہیں ایسی بے تکی اور بھونڈی ہوتی ہیں کہ بے اختیار ہنسنے کو جی چاہتا ہے۔   آج کل الیکٹرانک میڈیا کے پاس چلانے کو اور عوام کو بیچنے کو کوئی سنسنی نہیں مل رہی تھی۔   اس لیئے نیب کو لے کر ایک ” کہانی” گڑھ کر پھر سے عوام کو نئے تماشے کے پیچھے لگا دیا گیا۔    وزیر اعظم کے نیب دوارے بیان کو لے کر ایسے دہائیاں مچائی جا رہی ہیں جیسے بس کچھ ہی دیر میں نیب وزیر اعظم کو اور ان کی جماعت کے رہنماوں کو گرفتار کر کے کال کوٹھری میں بند کر دے گی۔    کئی ٹی وی چینل اور تجزیہ نگار تو اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ عوام کو یہ بھی بتانے میں “کامیاب” ہو چکے ہیں کہ نیب کے چیئرمین چوہدری قمر الزمان کو ہٹانا وزیر اعظم کے اختیار میں ہے ہی نہیں۔    رائے ونڈ کی سڑک کے معاملے اور اس کے علاوہ اسحاق ڈار کی فرضی بدعنوانیوں کو لے کر الف لیلوی داستانیں سنا کر عوام کو خوب بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔

    وطن عزیز میں مذہب کے بعد جو چورن سب سے سستا اور سب سے زیادہ بکتا ہے وہ احتساب کا چورن ہے۔    خیر یہ ساری کہانی صرف اتنی سی ہے کہ  نیب نے میاں منشا سے غلطی سے لندن سرمائے منتقلی اور دیگر چند کاروباروں کے مالی ذرائع بابت سوالات کر ڈالے تھے اور انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کو ایک ہلکی پھلکی شکایت کر ڈالی تھی۔    نواز شریف چاہتے تو 22ویں گریڈ کے افسر کو ایک لمحے میں کوئی بھی جواز بنا کر فارغ کر دیتے کیونکہ چوہدری قمر الزمان محض نیب کے چیئرمین ہیں نا کہ فوج کے سربراہ۔    ویسے گریڈ تو دونوں کے برابر ہوتے ہیں لیکن طاقت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔    چوہدری قمرالزمان ٹھہرے ہماری طرح سے عام سویلین اس لیئے ان کو ویسے بھی ہٹانےمیں  نہ تو کوئی سیاسی قباحت ہے اور نہ ہی کوئی قانونی پیچیدگی۔   اور نہ ہی ان کو برطرف کرنے سے کسی بھی قسم کے “ملکی وقار” پر کوئی آنچ آتیں ہے۔     بہت زیادہ ہو تو چوہدری صاحب اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمی کا دروازہ کھٹکھٹانے اور تاریخ پر تاریخ لینے کے علاوہ کچھ کر نہیں سکتے۔    دوسری جانب ڈاکٹر عاصم بھی  اب رینجرز کی مہمان نوازی سے تنگ آ چکے ہیں اور دبئی کی فضاؤں میں اب اپنے یار غار کے ساتھ سگار پیتے شامیں بتانا چاہتے ہیں۔    یہاں اس بات سے قطع نظر کہ ڈاکٹر عاصم نے کرپشن  کی یا نہیں وہ کسی بھی قسم کی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں شامل تھے یا نہیں ۔   رینجرز یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں دیے گئے بیانات کی قانونی حیثیت صفر ہوتی ہے اور ان اداروں کی تحویل میں موجود کسی بھی شخص کا عدالت  میں صرف اتنا کہنا کہ مجھ سے یہ بیانات زور زبردستی لیئے گئے تھے ،ان تمام اقبالی بیانات کو قانون کی نظر میں رد کر دیتا ہے۔   مقتدر قوتوں نے ویسے بھی ڈاکٹر عاصم سے جو کام لینا تھا وہ لے چکے۔    سندھ اور کراچی کی طاقت کی بساط میں اب دو بڑے بادشاہ وطن عزیز سے باہر محض اپنی سیاسی بقا کی گارنٹیوں پر ہی خوش نظر آتے ہیں۔   اس لییے ڈاکٹر عاصم کو جلد یا بدیر دبئی کی فلائٹ پکڑنا ہی ہے۔    اب ظاہری بات ہے جب ڈاکٹر عاصم باہر جائیں گے تو محض وفاقی حکومت نہیں بلکہ پس پشت قوتوں کو بھی عوام اور میڈیا کے ایک حصے کے سامنے سبکی کا سامنا کرنا پڑتا۔    لہازا سیاسی بازی گروں اور پس پشت طاقتوں نے میڈیا اور عوام کو ایک “تماشا” دیکھنے پڑھنے اور سننے کو دے دیا ۔   جس کے بعد ڈاکٹر عاصم کے باہر جانے پر  اور میاں منشا کے کسی بھی کیس کے نہ کھلنے پر کوئی  خاص ہنگامہ برپا نہیں ہو گا۔    کیونکہ تب تک میڈیا خود عوام کو یہ بات حفظ کروا چکا ہو گا کہ نیب اور دیگر ادارے خود مختار ہیں وزیر اعظم تک ان سے تنگ ہیں اور ان کی بھی ان اداروں میں کوئی نہیں سنتا۔ 

  اس بات کو لے کر سپن وزرڈز خوب کہانیاں سنائیں گے کہ دیکھئے ڈاکٹر عاصم یا دیگر شخصیات کی رہائی میں وزیر اعظم یا دیگر سیاستدانوں کا عمل دخل کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ ہم تو خود ان کے ستائے ہوئے ہیں۔   یوں کچھ عرصے بعد اس کہانی کو بھی دبا کر عوام کو کسی نئے چورن کی خریداری میں مصروف کر دیا جائے گا اور راوی چین ہی چین لکھتا نظر آئے گا۔    ہم لوگوں کے ساتھ دراصل المیہ یہ ہے کہ ہم خود سنسنی اور جذباتیت کے بنا رہ نہیں پاتے۔    دلیل منطق اور حقیقت پر مبنی باتیں ہمیں خشک اور بے معنی محسوس ہوتی ہیں اس لیئے ہمارے معاشرے میں کسی بھی قسم کا چورن بیچنا نہ صرف انتہائی آسان ہے بلکہباس کی ڈیمانڈ بھی سب سے زیادہ ہے ۔    بے چارے نیب کے چئیرمین کو اب میڈیا پر جس طرح طاقتور اور با اختیار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے خود نیب  کے چئیرمین حیران ہوں رہے ہوں گے کہ راتوں رات میں اتنا بااختیار اور طاقتور ہو کیسے گیا۔    آفرین ہے ان قانون دانوں اور تجزیہ نگاروں پر جو ایک ایک گھنٹے پر محیط پروگراموں میں عوام الناس کو بیوقوف بنا کر نیب کے چئیرمن کو وزیراعظم سے بھی زیادہ اختیارات کا مالک بنائے بیٹھنے پر مصر نظر آتے ہیں۔    یہ طبقہ وہی طبقہ ہے جو کچھ عرصے قبل تک راحیل شریف اور وزیر اعظم کی فرضی چپقلش کی من گھڑت کہانیاں عوام کو پہنچاتا تھا اور ہر آنے والے لمحے میں مارشل لا یا قیامت کی آمد کی پیشن گوئیاں کرنے میں مصروف نظر آتا تھا۔    خیر اس طبقے کی اور ان کے مالکان کی روزی روٹی چلتی ہی افواہوں اور چورن بیچنے کے کاروبار کے توسط سے ہے۔   لیکن طاقت کے ایوان ان افواہوں کے دم پر اور احتساب کے چورن کے نام پر سیاسی اور اداروں کی سطح پر خوب مفادات حاصل کرتے ہیں اس سارے کھیل میں اگر کوئی تہی داماں رہتا ہے تو وہ ایک عام آدمی ہے۔    وہ عام آدمی جس کا مسئلہ ڈاکٹر عاصم یا میاں منشا نہیں بلکہ زندگی کی جنگ میں اپنی بقا کو محفوظ بناتے ہوئے روزمرہ کی اشیائے ضرورت کا حصول ہے۔    جس کو گرفتار کر کے ٹی وی چینل پر سگار پیتے نہیں دکھایا جاتا بلکہ تھانے میں لٹا کر پہلے “چھترول” کی جاتی ہے اور بعد میں اس کا جرم بتایا جاتا ہے۔    اس عام آدمی کی دنیا طاقت کے اس کھیل اور میڈیا کے منافع کی دنیا سے بہت مختلف ہے۔    جہاں زندگی آج بھی اس کی  محرومیوں پر روز و شب ہنستی ہے۔   جہاں سرکاری ہسپتال سے لے کر سرکاری دفاتر تک کوئی اس سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا۔    اس عام آدمی کی نفسیات سے کھیلنے کا یہ عمل اب بند ہونا چاہیے۔    سیاستدان اور دیگر طاقت کی بساط کے کھلاڑیوں کا یہ پیشہ بھی ہے اور شوق بھی ۔   لیکن میڈیا اور دانشور دانستگی یا نادانستگی میں اس عمل میں شریک ہو کر عام آدمی کو ابھی تک اس جنوں اور پریوں والے مائنڈ سیٹ سے نکالنے کے بجائے اسے روز و شب شہزادے کے آنے کی نوید سناتے نہیں تھکتے جو جادو کی چھڑی سے سب کچھ ٹھیک کر سکتا ہے۔

    یہ اکیسویں صدی ہے یہاں اب جنگ روز مرہ  زندگی کی اشیائے ضرورتوں   کی ہو یا ملکی ترقی کی نعروں چورن اور خوابوں کے سہارے نہیں بلکہ عمل تحقیق جستجو اور حقائق کا سامنا  کرتے ہوئے ذہن سازی کر کے جیتی جاتی ہے۔    میڈیا ذہن سازی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور کم سے کم میڈیا کو اب یہ احتساب کا چورن بیچنا بند کرنا چائیے۔     پہلے ہم لوگ اپنا محاسبہ کر لیں اپنا احتساب کر لیں پھر کسی بھی دوسرے کا احتساب بے حد آسان بھی ہو جاتا ہے اور ممکن بھی۔    یاد دہانی کیلئے پھر اتنی سی گزارش ہے کہ طاقت کے اس بے رحم کھیل میں ایک سویلین 22ویں گریڈ کا افسر معمولی سا پیادہ تو ہو سکتا ہے لیکن نہ تو بادشاہ بن سکتا ہے اور نہ ہی بادشاہ کیلئے کسی بھی قسم کا خطرہ۔    

(Visited 439 times, 1 visits today)

Imad Zafar is a journalist based in Lahore. He is a regular Columnist/Commentator at Daily Ittehad, Resident Editor at Free Press Publications and Resident Editor at World Free Press. He is associated with TV channels, Radio, news papers,news agencies political, policies and media related think tanks and International NGOs.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے