Here is what others are reading about!

لندن لٹریری فیسٹیول

لاہور شہر دراصل کئی شہروں کا مجموعہ ہے، یہاں ہر بڑے شہر کی طرح کئی دنیائیں بستیں ہیں۔ ایک دوسرے سے کٹی ہوئیں اور بالکل جدا جدا۔ ان دنیاؤں کا رہن سہن معیار زندگی، ثقافت اور زبان تک بھی مختلف ہے۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ محض شہر کا نام ہی بانٹتے ہیں مگر دراصل ان میں کوئی ٹاون شیپیا (ٹاﺅن شپ) ہے کوئی باگڑیاں کا کوئی شاہدریا (شاہدرہ سے) تو کوئی اندرونیا (اندرون لاہور سے )۔ یہ لوگ جن شہروں میں رہتے ہیں ان کی نشانیاں گٹروں کا کھلا ہونا، سڑکوں کا بنتے ساتھ ہی سیوریج یا پانی و ٹیلی فون کے پائپ یا تاریں ڈالنے کے بہانے ٹوٹ جانا۔ انہی ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر کوڑے کی بہتات، گلیوں میں بازاروں کی یلغار اور اس یلغار میں تجازوات کا تڑکا۔ آسمان پر تارے اور تاروں کا جال اور کھمبوں پر ایک زمانے میں ڈوروں اور گڈیوں کا سنگھار۔ غرض لاہور شہر کے اکثر ذیلی شہروں کا نقشہ ایسے ہی علاقوں سے بھرا پڑا ہے۔

یہاں کے لوگ بھی ملے جلے سے ہیں۔ دھوتی کرتے سے لے کر بنیان کرتے تک، کاٹن شلوار قمیض سے واش اینڈ ویر تک، لنڈے کے سوٹ بوٹ سے انارکلی کے سلے کپڑوں والے اور ململ کے پھیکے پرنٹوں سے لان کے شوخ و شنگ پرنٹوں تک یہاں ہر ورائٹی ملتی ہے۔ ان میں غریب بھی ہیں متوسط بھی اور امیر بھی مگر یہ سب کسی لوکل ہوٹل کے باہر دس روپے میں ملنے والے سلاد کی طرح “رلے ملے” ہوئے ہیں۔ مگر جو بات ان کو ایک سا کرتی ہے وہ ہے ان کی زبان، ٹھیٹھ پنجابی سے شروع ہوکر پنجابی کی جاگ لگی ہوئی اردو جس میں انگریزی کی ناکام کوششیں بھی شامل ہیں۔ ان کی ایک اور نشانی ہے کہ ملک کے سارے مسائل کی جڑ یہی لوگ گردانے جاتے ہیں۔ ناکام بھی یہی ہیں، دقیانوسی بھی یہی، انتہا پسند بھی یہی، جاہل بھی یہی اور دہشت گرد بھی یہی۔

 مگر اسی لاہور شہر میں کچھ علاقے بالکل دیو مالائی سے لگتے ہیں۔ یہاں کے لوگ بھی “چٹے” ہیں ان کی زبان بھی انگریزی اور ان کے کپڑے بھی غیر ملکی۔ ان میں کچھ ڈیفنسیے (ڈیفنس والے) ہیں تو کچھ پرانے گلبرگیے (گلبرگ والے ) ہیں، کوئی ماڈل ٹاؤنیے (ماڈل ٹاﺅن والے )ہیں تو کوئی ملک کے اصلی حکمرانوں کے علاقے کینٹ والے۔ یہ لوگ اپنے تئیں روشن خیال اور حالات کے مطابق پڑھے لکھے واقع ہوئے ہیں۔

بڑے بڑے بنگلوں کے یہ رہائشی بڑی بڑی گاڑیوں میں بڑی بڑی سر سبز سڑکوں پر اس ہفتے ایل ایل ایف پر آئے، یہ انگریزی زبان کا ایک ’فیسٹیول‘ تھا جس کا اسی زبان کے ادب سے تعلق تھا۔ مقامی لوگوں کو اس کا زیادہ علم نہیں تھا نہ ہی وہ شرکت کر سکے، بڑی بڑی گاڑیوں کا رعب ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ شرکت کرنے سے گریز کرتے ہیں نیز یہ بابوؤں اور میموں کی سیکورٹی ہی کچھ ایسی تھی کہ ہر سمن آبادیے (سمن آباد والے) کو ایسے گھور گھور کے چیک کرتے کہ وہ بے چارہ اندر جانے سے باہر رہنے کو ترجیح دے۔ اس دفعہ تو ویسے بھی سکیورٹی ‘رسک’ کی بنا پر میلہ بند ہوتے ہوتے رہ گیا اور بالآخر ایک پنج ستارہ ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اب ایسے ہوٹلوں میں ہما شما کیسے گھسیں۔

ہمارے ملک میں گزشتہ ایک سال سے بیانیے کی بڑی دھوم ہے، ہر کوئی انگریزی کے کالموں میں گزشتہ سال سے لکھ رہا ہے کہ جناب یہ انتہا پسند بیانیہ جسے انگریزی میں “نَریٹِو”   کہتے ہیں اسے “کاؤنٹر” کرنا ہے یعنی جوابی بیانیہ تشکیل دینا ہے مگر جب یہ جوابی بیانیہ تشکیل کرنے کی باری آتی ہے تو ہم اسے انگریزی میں تشکیل دیتے ہیں اور جب اس بیانیہ کی لوگوں میں تشہیر اور مباحثہ و مذاکرہ کا موقعہ آتا ہے تب بھی ہم ڈھیر ساری فنڈنگ یا ‘چندہ’ لے کر انگریزی میں ہی یہ عمل کر گزرتے ہیں۔

دراصل ہمارے ملک کی اشرافیہ عامیوں سے نہ میل جول پسند کرتے ہیں نہ مباحثہ و مذاکرہ۔ ساتھ بیٹھنا بھی گوارہ نہیں کہ یہ تو’ڈیوڈرنٹ‘ تک نہیں لگاتے۔ کہاں یہ ناکام و نامراد، انتہا پسند اور دقیانوسی روایات کے مارے ہوئے اور کہاں ”سیلف میڈ“صاف ستھرے، آزادی و انسانیت کے جذبوں سے لبریز لوگ۔ سو ملک کے پہلے سے روشن خیال لوگوں نے اپنی زبان میں “کاؤنٹر نیریٹو” تشکیل دیا، اس پر مذاکرہ کروایا اور اپنی زبان میں ادب میں گفت و شنید کا بند و بست بھی کیا۔ اسی وجہ سے سوائے اکا دکا واقعات کے پورے فیسٹیول کے دوران کہیں اختلافِ رائے کا عنصر نظر نہیں آیا، نہ ہال کے اندر نہ باہر۔ اسی کو ایل ایل ایف یا لاہور لٹریچر فیسٹیول کہتے ہیں۔

اس لٹریچر فیسٹیول کی تاریخیں مادری زبان کے عالمی دن کے ” ارد گرد“ واقع ہوئی تھیں یعنی بیس اور اکیس فروری۔

اس سارے تذکرے سے میرا کہیں یہ مقصد نہیں ہے کہ ادبی میلہ بالکل ہی بے کار تھا یا اس میں کوئی نئی بات نہیں کی گئی، یا کاؤنٹر نیریٹیو پر بات نہیں کی گئی، مگر یہ سب بے سود تھا۔ ایک آدھے اچھے اردو کے سیشن، آج کل کے سیاسی حالات پر”ٹاک شو“ (جی ہاں اس طرز کی بھی نشستیں ہوئیں) نیز انگریزی ادب کی مختلف ملکی اور بدیسی تصانیف جن میں تاریخی و سیاسی حالات پر کتابیں شامل تھیں ”لانچ“ ہوئیں اور ان پر سیر حاصل گفتگو بھی ہوئی۔موسیقی اور رقص کی محفلیں بھی ہوئیں۔ ہاں مگر پنجابی سے مکمل پرہیز برتا گیا۔ ایک تو پہلے ہی سکیورٹی وجوہات سے وقت تنگ پڑ گیا تھا سو پچھلی دفعہ جو پون گھنٹہ بخشا گیا تھا اس سے بھی اس بار دامن چھڑا لیا گیا۔سو یہ سب مقامی زبانوں میں نہیں کیا گیا اسی لیے لٹریچر فیسٹیول میں ادب کی کمی محسوس ہوئی اور ہونی بھی تھی جب مقامی ادب کو نظر انداز کیا جائے گا تو ایسا تو ہوگا۔ اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ مقامی ادب میں ایسا کچھ تصنیف نہیں ہورہا جو ایسے ’فنکشنوں‘ کی زینت بنے تو اسے ‘انٹرنیٹ’ پر مقامی ناشروں کی ویب سائٹس دیکھ لینی چاہیے نیز ابھی کچھ دنوں پہلے ہی فیصل آباد میں پنجابی ادبی میلہ بھی منعقد ہوا ہے اس کے بارے میں ہی جان لینا چاہیے۔ دیگر مقامی زبانوں میں بھی کافی کام ہورہا ہے جسے ایسے مواقع پر اجاگر کرنے کا بہترین موقع تھا مگر بے سود۔

اس سارے تذکرہ کا حاصل یہ کہ اگر آپ کی کاوش اچھی بھی ہے مگر کسی ایسی زبان میں ہے جس کا عوام سے کوئی تعلق نہیں تو بادی النظر میں ایسے لٹریچر فیسٹول سوائے اشرافیہ کی ٹی پارٹی سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔ غم تو یہ ہے کہ کروڑوں کی فنڈنگ استعمال کر کے صفر بٹہ صفر نتیجہ حاصل کیا گیا۔

نوٹ: یہ آرٹیکل اس سے قبل ہم سب میں شائع ہو چکا ہے

(Visited 608 times, 1 visits today)

Malik Omaid is a journalist based in Lahore. He is working as content producer at Dunya News and in the Editorial Board of Pak Tea House. His areas of interests are social and general issues. He can be reached out on Twitter @Omaidus

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے