Here is what others are reading about!

ٹکر

بلی کے بارے میں مشہور ہے کہ اگر آپ اُسے کِسی ایسی جگہ پر بند کر دیں جہاں فرار کا کوئی راستہ نہ ہو تو وہ آخری کوشش کے طور پر آپ پر پوری شدت سے حملہ آور ہو سکتی ہے اور اُس واحد راستے سے فرار ہو جاتی ہے جہاں پر آپ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کیفیت کو سائنسدان شَم ریج کا نام دیتے ہیں۔ گویا بلی آپ سے ٹکر لے لیتی ہے یا یوں کہیے کہ آپ کو ٹکر دے مارتی ہے۔ پس ثابت  ہوا کہ ٹکر وہ عمل ہے جسے    ڈوبنے سے پہلے آپ کی ایک آخری کوشش کہا جا سکتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے آپ وہ قدم اُٹھا لیتے ہیں جو آپ کے شدید ردّ عمل پر منتج ہوسکتا ہے۔            
اس ضمن میں مجھے ایک واقعہ یاد آگیا۔ کچھ عرصہ قبل امریکہ کے ایک شاپنگ مال میں دو افراد ایک دوسرے سے لڑ پڑے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر دونوں کے ہاتھ ان کے پیچھے باندھ دیے اور انہیں پولیس کار میں بٹھانے کے لئے مال سے باہر لایا گیا لیکن وہ پھر بھی ایک دوسرے سے گالم گلوچ کرتے رہے۔ دونوں غصّے کی شدت سے پاگل ہو رہے تھے اور پھر ان میں سے ایک نے دوسرے فریق کو اپنے بندھے ہوئے ہاتھوں سمیت ایک زور دار ٹکر دے ماری۔ اس ٹکر کے نتیجے میں دونوں کے سر پھٹ گئے۔               
لیکن کچھ ٹکریں بہت فائدہ مند بھی ہوتی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے ہاں فلموں میں دکھایا جاتا ہے کہ ہیروئن کچھ نوٹس اور کتابیں اٹھائے کالج یا یونیورسٹی کی سیڑھیاں اترتے ہوئے ہیرو سے ٹکرا جاتی ہے اور زمین پر کاغذ ہی کاغذ بکھر جاتے ہیں اور  جنہیں اُٹھاتے ہوئے ہیرو اور ہیروئن، دونوں کی آنکھیں چار ہو جاتی ہیں۔     
مگر میں سوچ رہا ہوں کہ کل شام میرے کلینک میں آنے والے غریب میاں بیوی،  جن کے ڈیڑھ سالہ بچے کو پہلے گُردے کی تکلیف اور اب نمونیہ نے آن گھیرا ہے، کہاں جا کر ٹکر ماریں۔  عاشق حسین کے مطابق وہ سن2005 میں بہاولپور کے ایک نواحی علاقے سے اپنے خاندان کے بیس افراد کے ہمراہ راولپنڈی کے ایک گنجان آباد مگر خستہ حال علاقے میں آکر آباد ہوا۔ خیال تھا کہ کام اچھا مل جائے گا لیکن آج گیارہ برسوں کے بعد بھی اُس کی مدقوق بیوی گھروں میں کام کرتی ہے۔ عاشق حسین خود ایک بڑی کوٹھی میں دس گھنٹے روزانہ کا ملازم ہے۔ وہ وہاں پرندوں کے دانے دنکے کا خیال رکھتا ہے اور گاڑیاں دھوتا ہے۔ کھلی نالیوں اور گندگی سے اٹے محلے میں مکان کا کرایہ پانچ ہزار روپے ہے جبکہ صاحب جی اُسے صرف تین ہزار روپے دیتے ہیں۔ اب اُسے یہ فکر لاحق ہے کہ اسکا بچہ بچ بھی پائے گا یا نہیں؟           
یقین کیجئے کہ جب وہ عطائیوں اور عطائی نما ڈاکٹروں کے کلینکس سے لُٹ پُٹ کر، دو نمبر ادویات کا زہر، انجیکشنز اور ڈرپس کی شکل میں اُس معصوم کی رگوں میں اُتار کر میرے پاس  آیا تو اُس کے ایک فقرے نے مجھے لرزا دیا۔
” ڈاکٹر صاحب ۔۔ خدا کے بعد آپ ہی ہمارا سہارا ہو ۔۔” 
اس کے بچے کا علاج مجھے فوراً سے پہلے شروع کرنا تھا اور اسے یہ سہولت ہر صورت میں بغیر کسی معاوضے کے بہم پہنچانا تھی اور خدا کا شکر ہے کہ اس جیسے اور بہت سے لوگوں کی مدد کے حوالے سے  میرے ارادے کبھی متزلزل نہیں ہوئے۔ مزید دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ عاشق حسین کی برادری کے باقی لوگ اینٹوں کے بھٹوں پر معمولی رقوم کے عوض برسوں کے لئے گروی رکھ لئے گئے ہیں۔۔۔ نہ صرف وہ بلکہ ان کے بچے بھی اس چکی میں پس رہے ہیں۔ مقررہ مدت تک رقم ادا نہ کرنے پر بھٹہ مالکان کا انسانیت سوز سلوک ۔۔۔اور مار پیٹ کے ہولناک واقعات ۔۔۔۔ جنھیں میرا قلم لکھنے سےقاصر ہے۔۔۔ جی ہاں وہ واقعات سُناتے ہوئے عاشق حسین کی آنکھیں چھلک گئیں۔     
” تمہیں کس نے کہا تھا کہ اپنا آبائی علاقہ چھوڑ کر یہاں آجاؤ ؟ ”      
میرے اس سوال کے جواب میں عاشق حسین نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔۔۔ گویا اس سوال کا جواب وہ اُس سے چاہتا ہو۔  اس کی بیوی نے پتھرائی ہوئی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور پھر  نظریں جھکا لیں۔ مجھے اُس وقت وہ شَم ریج  کی کیفیت لئے کسی جانور کی طرح نظر آئی۔ اس کی آنکھوں میں بھی وہی سوال تھا کہ آخر وہ کسے جا کر ٹکر مارے؟ کیا۔۔ اُس با اثر زمیندار کو؟  جس کی پیش قدمی  اُس یک کالمی خبر کا حصہ بن گئی تھی جس میں چھپاؤ اور تلبیس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اخبار نویس نے مسمات ش۔ق سے زیادتی کے واقعے میں ملوث ملک صاحب کا نام لکھنے کی بجائے  صرف “با اثر زمیندار” لکھا تھا؟ یا پھر اُس ایس ایچ او کو جس نے واقعے کی رپورٹ درج کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا؟                  
قارئین کرام، مضمون کا آغاز ٹکر کے فائدوں اور نقصانات سے ہوا تھا اور آپ ہیرو اور ہیروئن کی ٹکر سے خاصے محظوظ بھی ہوئے تھے مگر نہ جانے کیوں عاشق حسین درمیان میں آگیا۔ چلئے آپ کو ایک بار پھر محظوظ کرتے ہیں۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ چنیوٹ میں پچھلے دنوں ایک گدھا گاڑی نے غلطی سے پولیس کی ایک گاڑی کو ٹکر مار دی اور آخری اطلاعات آنے تک گدھا پولیس کی حراست میں ہے۔

(Visited 705 times, 1 visits today)

Dr. Sohail Ahmad is a freelance writer based in Islamabad. He’s a family physician, pharmacology teacher, broadcaster, fiction writer and a poet.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے