Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Social
  • /
  • ہمارا سماج ایک ہیجڑا

ہمارا سماج ایک ہیجڑا

اس نے تھوڑا سوچا۔ بہت زیادہ ہو جائیگا ڈرائیو نہیں کر سکوگے۔یہ سوچ کر وہ وسکی کو چومتے ہوئے بولا ،’’کل ملیں گے‘‘۔۔۔۔آ جا یار تجھے میں گھر چھوڑ دوں۔۔۔نہیں نہیں میں چلا جاؤں گا۔۔۔۔جانے کیا بات تھی اس میں ، حد کا ڈھیٹ پن ۔۔۔ بہت پیتا تھا لیکن پھر بھی ایسی باتیں کرتا تھا کہ جیسے کبھی پی ہی نہ ہو ،مکمل ہوش میں ہو لیکن آنکھیں انگارے سلگتی تھیں اچھی خاصی شکل شباہت کانوجوان تھا ،جدی پشتی رئیس تھا۔     

میں اسے گھر چھوڑ آیا اس کی بیوی اسے خون آلود نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔یہ دنیا کی واحد ہستی تھی جس سے ابراہیم کو بیک وقت شدید محبت اور سخت نفرت تھی ۔۔۔عجیب بات ہے نا !!لیکن حقیقت ہے ۔ابراہیم کو کڑوی کسیلی سنا کر وہ سو گئی ۔۔۔شادی کو دوماہ ہی ہوئے تھے اور وہ ابراہیم سے تنگ آ چکی تھی۔سادہ سی چوڑیاں پہننے والی سادہ سی عورت تھی جو صرف محبت اور تعریف کے دو بول چاہتی تھی ،خواب اتنے سستے کہ غریب سے غریب بھی پورے کر جائے۔لیکن ابراہیم کے پاس سوائے فلسفہ کے تھا ہی کیا۔۔۔۔۔؟ایسا آدمی کبھی پیار بھی جتائے تو نہایت فلسفیانہ اور بزرگانہ۔۔۔       
فاخرہ کو کبھی کبھی لگتا تھا کہ وہ اس آدمی کے ساتھ نارمل زندگی نہیں گزار سکتی مگر وہ اسے چھوڑ بھی تو نہیں سکتی تھی ۔ابراہیم کی فلسفیانہ گفتگو سن کر کبھی کبھی اس کا دل کرتا کہ اس کے قدموں میں بیٹھ جائے اور شعور کو روشن کر دینے والی باتیں سنتی رہےلیکن کبھی کبھی دل کرتا کہ ابراہیم کے سر پر کچھ مار دے اور کہے کہ پاگل آدمی! کیا تم مجھے یہاں اپنے تخیلات کی کتھا سنانے لائے ہو؟ مگر ایک محبت تھی جو اسے روکتی تھی اور ایک عداوت تھی جو اسے یہ کہنے پر اکساتی تھی ۔یہ کم بخت عورت بھی بہت عجیب ہے۔۔۔۔

ابراہیم نے سونے کی کوشش کی مگر اسے نیند نہ آئی۔۔۔سونے کے لئے پیتا تھا جس سے اس کے چودہ طبق روشن ہو جاتے تھے وہ اپنے آپ کواس کائنات کا حصہ محسوس کرنےلگتا تھاابراہیم گھر سے باہر نکل گیا اور ایک سنسان رستے پر چل نکلا رات کے کوئی دو بج رہے تھے۔غالباً اس نے بچہ کے رونے کی آواز سنی۔بچہ کوئی چھ سال کا ہو گا اور اس کی آنکھوں میں بے بسی تھی ۔۔۔

کیا ہوا بیٹا ۔۔؟ابراہیم کو لگا بچہ گھر کا رستہ بھول گیا ہے ۔۔بیٹا کیا بات ہے ۔۔۔۔؟ اس نے پھر پوچھا۔ میرے گھر والوں نے مجھے نکال دیا ہے ۔بچہ نے جواباً کہا۔ابراہیم کو یقین نہ آیا اس نے پوچھا کیوں۔۔؟بچے نے ایک زور دار چیخ ماری اور آسمان کی طرف دیکھا اور چیخیں مارتا چلا گیا۔        

ابراہیم کا دل دہل گیا سوچا شاید بچہ نفسیاتی مریض ہے ۔ابراہیم کا کوئی مذہب نہ تھا لیکن جب اس سے مذہب کے متعلق سوال ہوتا تو فلسفیانہ سا جواب یہ دیتا کہ میرا مذہب پیار ہے محبت سے بڑی دوا اور پیار کی طاقت سے بڑی کوئی طاقت نہیں ۔پیار کے دیوتا کو راضی کر کے کچھ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔              

اس نے بچہ کو اپنی آغوش میں لیا اور اس کا سر سہلانے لگابچہ نے ابراہیم کو مضبوطی سے پکڑلیا ابراہیم کو لگا جیسے  کہ جیسے بچہ اس سے ایسے لپٹ گیا جیسے کسی نے صدیوں سے بھوکےکو روٹی دے دی ہوجیسے خونخوار جانوروں کے درمیان کوئی انسان دیکھ لیا ہو جیسے صدیوں سے اس کی روح پیار کی پیاسی ہو ،بچے کی گرفت مضبوط ہوتی گئی اور سسکیوں میں بھی اضافہ ہوتارہا۔کچھ دیر بعد بچہ نے رونا بند کر دیا اس کی سسکیاں ختم ہوتے ہین ابراہیم  نے اپنا سوال دہرایا۔۔۔بچہ یوں گویا ہوا ’’میں ہیجڑا ہوں‘‘ابراہیم کا دل پھٹ گیا اس کا دل کیا کہ وہ اپنے کپڑے پھاڑ دے اور اس قابل نفرت دنیا کو آگ لگا دے اس کے اندر ایک طوفان امڈ آیا۔اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور کہا کہ نہیں تم ہیجڑے نہیں  ہو یہ سماج ہیجڑا ہے، ہاں میرا یقین کروہم ہیں ہیجڑے جو نامکمل ہیں اور اپنی تکمیل کے لئے بچے پیدا کرتے ہیں تم کو مکمل ہو !یہ معاشرہ یہ سماج ہی ہیجڑا ہےجو نہ تو عورت کا بن پایا اور نہ ہی مرد کا۔دونوں کے درمیان جھولتا رہا۔       

مجھے میرے گھر والوں نے نکال دیا اس لئے وہ کہتے ہیں کہ میں ۔۔۔۔۔ابراہیم نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا  اور بولا کہ نہیں بیٹا تم تو انسان ہو جسے تمام مخلوقات پر برتری حاصل ہے ۔ سب جھوٹے ہیں وہ سب جھوٹ بولتے ہیں تم انسان ہو ہم سب انسان ہیں کوئی مرد نہیں کوئی عورت نہیں کوئی ہیجڑا نہیں ہے ۔ارے ہم پر تو بہت سی کتابیں اتری ہیں ہم تو اچھے برے کا فرق جانتے ہیں ۔۔پھر اس سے آسمان پر ایک سرد نظر کی تنزیہ نگاہ ڈالی۔پر آسمان والے کو کیا فرق پڑتا ہے و ہ تو۔۔۔اس کے بعد ابراہیم کہاں ہے کوئی نہیں جانتا۔۔۔ہاں شہر کی نکر پر ایک ایک ہوزری بنانے کا کارخانہ ہو وہاں صرف ہیجڑوں کو ہی نوکری ملتی ہے اس کارخانے کا مالک ایک بوڑھا آدمی ہے جو بہت شراب پیتاہے۔۔۔۔

(Visited 627 times, 1 visits today)

Fizzah Shah is a freelance writer based in Muzaffargarh. She usually writes abstracts on social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے