Here is what others are reading about!

آسکر یا پھانسی

انتیس فروری سوموار کی صبح پاکستان میں دو اہم خبریں زیر بحث رہیں۔ شرمین عبید چنائے کا آسکر ایوارڈ جیتنا اور گورنر پنجاب کے قاتل ممتاز قادری کی اڈیالہ جیل میں پھانسی۔  یہ دو مختلف خبریں دو مختلف نظریات، اور دو مختف پاکستان کی تصاویر پیش کرتی ہیں۔  شرمین نے دوسری مرتبہ آسکر کا ایوارڈ جیتا اور دنیا بھر میں پاکستان اور پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا۔  دوسری جانب ممتازقادری کی پھانسی کے بعد اس کو ہیرو ماننے والے سڑکوں پر باہر نکلے اور معمولات زندگی کو جام کر دیا۔  جزباتی نعرے لگاتے گاڑیوں پر پتھراو کرتے یہ افراد زمانہ جدید کے عصری تقاضوں سے نابلد ،ایک تاریک پاکستان کا منظر پیش کرتے نظر آئے۔  دوسری جانب شرمین عبید چنائے کو ماننے والے افراد ایک دوسرے میں مسکانیں اور خوشیاں بانٹتے نظر آئے اور ایک روشن پاکستان کی جھلک دنیا کو پیش کرتے نظر آئے۔   ممتاز قادری کے طرفدار افراد وہ ہیں جو دہائیوں پر محیط غلط قومی و مذہبی بیانیے کے باعث سوچ و فکر سے عاری سینکڑوں سال پہلے کی دنیا میں بستے ہیں۔  یہ کڑوڑہا افراد ایک ایسی سوچ کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں جس کا مستقبل تاریک ہے جو دنیا میں اب ناقابل قبول ہے۔   شرمین عبید چنائے یا سلمان تاثیر جیسے افراد کو ماننے والے افراد دہائیوں ریاستی جبر اور غیر ریاستی مسلح تنظیموں کے ہاتھوں جانیں گنوانے اور  جبری آوازیں دبائے جانے کے باوجود نہ تو جھکے اور نہ ہی تشدد کا راستہ اختیار کیا۔  سبین محمود،  شہباز بھٹی سلمان تاثیر جیسے افراد اپنے خون سے اس روشن سوچ کی آبیاری کرتے رہے۔  اور آج اس سوچ نے ثابت کر دکھایا کہ سچ کبھی بھی بندوق یا گولی کا محتاج نہیں ہوتا۔

 اگر آپ کی سوچ آپ کے نظریات سچے ہیں تعمیری ہیں تو دنیا بھر کا اسلحہ اور طاقت بھی ان کو نہ تو دبا سکتے ہیں اور نہ ہی روک سکتے ہیں۔ دوسری جانب اگر آپ کے نظریات یا تصورات خودساختہ اور جھوٹ پر مبنی ہیں اور تخریب پسند ہیں تو اسلحہ اور طاقت کا بے دریغ استعمال بھی ان کو سچا ثابت نہیں کر سکتا۔  آج جیت سبین محمود سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے نظریات کی ہوئی ہے۔ آج ہر اس پاکستانی کی جیت ہوئی ہے جو علم کی طاقت پر یقین رکھتا ہے جو پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی طرح پرامن اور مہذب ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔  بدلتا ہوا قومی بیانیہ بھی اس سوچ کی جیت ہے۔   فیض منٹو جالب اور استاد دامن کی روحیں آج یقینا خوش ہوں گی کہ برسوں پہلے وہ جو سوچتے تھے جیسا چاہتے تھے اس کی جانب پہلا قدم بڑھایا جا چکا ہے۔  حبس و جبر کی گھٹن اب معاشرے سے ہٹ رہی ہے اور نئی نسل ایک آزاد فضا میں سانس لیتی نظر آتی ہے۔  یقینا ہمیں ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے لیکن خوش آئیند بات یہ ہے کہ اس سفر کا آغاز ہو چکا ہے۔  دین اور جہاد کے ٹھیکیداروں کو کم سے کم ریاستی سطح پر تحفظ ملنا دھیرے دھیرے ختم ہو رہا ہے۔  یہ ٹھیکیدار مذہب جہاد اور روایات کو ڈھال کے طور پر استعمال کر کے پاکستان میں معاشرتی زندگی کو جمود میں قید رکھنا چاہتے تھے تا کہ ان کا دھندا چلتا رہے۔  اربوں کھربوں روپے کی یہ صنعت تعلیم سے لیکر طرزـمعاشرت جیسے شعبوں پر اثر انداز ہوتے ہوئے “دولے شاہ کے چوہے” پیدا کر کے بہت خوش تھی۔  اس صنعت کو آمروں اور قومی بیانیے کی ہم آہنگی نے بے پناہ وسائل اور طاقت سے نواز رکھا تھا۔  یہ صنعت قدرت الہ شہاب , ممتاز مفتی طارق اسماعیل جیسے قصیدہ گو قسم کے خود ساختہ دانشور تیار کرتی اور ملک اسحاق یا ممتاز قادری جیسے ہزاروں خود ساختہ ہیرو پیدا کرتی۔  سوچ پر مذہب قومیت اور مسالک کے پہرے بٹھا کر ہر تعمیری سوچ رکھنے والے شخص کو کافر یا غدار قرار دے دیتی اور کئی افراد کو موت کی آغوش میں سلا دیتی۔  لیکن جونہی قومی بیانیہ تبدیل ہوا اور ریاستی تحفظ کی چھتری ان تنظیموں اور گروہوں کے سر پر سے ہٹا لی گئی تو نتیجہ سب کے سامنے ہے۔  زور زبردستی جبر کے سہارے سوچوں سے کھیلنے والے یہ گروہ کتنے کمزور اور کھوکھلے ہیں اس کا ثبوت ممتاز قادری کی رحم کی اپیلوں میں واضح نظر آتا ہے۔  لیکن  ابھی وہ کڑوڑوں دماغ جو اس فرسودہ سوچ اور نظریے کے تابع ہو کر دلیل منطق اور سوچ کی قوت سے نابلد ہو چکے ہیں انہیں اس “پراپیگینڈے” سے نکالنے کیلئے عملی سطح پر بے پناہ کام کی ضرورت ہے۔  اور اس ضمن میں موثر زہن سازی کیلئے پالیسی سازوں کو فورا اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔  ایسے تمام عناصر جو کسی بھی قسم کے تشدد کی صورت کو معاشرے میں پھیلانے کا باعث بنتے ہیں انہیں روکنے کی ضرورت ہے۔

 اساتذہ ہوں یا دانشور ان افراد پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ اسی ناکام بیانیے کو ذہنوں میں منتقل کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہے۔  سیاسی جماعتوں کو خود اپنی صغوں سے کالعدم جماعتوں اور شدت پسند تنظیموں سے روابط رکھنےطوالے افراد کو نکالنے کی ضرورت ہے۔  معاشرے میں مکالمے کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تا کہ دلیل اور منطق کی قوت سب کو باآسانی سمجھ آ سکے۔  دنیا کا آسام ترین کام بندوق اٹھانا اور گولی چلانا ہوتا ہے اور دنیا کا مشکل ترین کام دلیل منطق اور تعمیر سے اپنے نظریات اور خیالات کو منوانا ہوتا ہے۔  دنیا میں آج تک سائینس ٹیکنالوجی ادب فنون  لطیفہ میں جتنی بھی ترقی ہوئی ہے وہ تخلیقی نظریات رکھنے والے افراد کے مرہون منت ہے۔  کوپرنیکس،  گلیلیو،  آئن سٹائن، سٹیفن ہاکنگز، سٹیو جابز، سیگمینڈ فرائیڈ، ملٹن، گوئٹے، بائرن برٹررنڈ رسل میلان کندیرہ یہ لوگ بندوق یا تشدد نہیں بلکہ  تخلیق اور علم کی روشنی پر یقین رکھتے تھے اور نتیجتا آج ساری دنیا ان کی ایجادات اور نظریات و خیالات سے مستفید ہو رہی ہے۔ ہٹلر نپولین مسولینی یا پھر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری نے دنیا میں تاریکی بانٹنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔  یہ فرق اب عام آدمی کو سمجھانے کے طریقے روشناس کروانے کی ازحد ضرورت ہے۔  عقیدے کا تعلق آپ کی اپنی زات تک ہوتا ہے اور علم و تحقیق کی دنیا عقائد پر نہیں بلکہ دلائل اور منطق کی بنا پر چلتی ہے۔  اب عام آدمی کو فرضی آور افسانوی اسلحہ اٹھانے والے جعلی ہیروز کے بجائے اصل ہیروز سے روشناس کروانے کی از حد ضرورت ہے۔  پاکستان کا نام آسکر جیتنے، ثقلی موجوں کی دریافت کی تحقیق میں حصہ لینے سے روشن ہوتا ہے یا توہین کے نام پر خود ہی منصف بن کر اقلیتوں کو قتل کرنے سے، اس کا فیصلہ قارئین پر۔   ممتاز قادری اور اس جیسے افراد اگر عاشق رسول ہیں تو پھر علم و آگہی کے اجالے بانٹنے والے اور امن کے سفیر کون ہیں۔  کیونکہ جن کی توہین  کے نام پر مذہب کی یہ انڈسٹری منافع کماتی ہے خود ان ہستیوں کا پیغام علم حاصل کرنے اور امن کی روشنیاں بانٹنے کا تھا۔  یہ سارا کھیل سمجھنا کچھ خاص مشکل نہیں ہے بس کچھ دیر کیلئے اندھی عقیدت کی پٹی اتار کر اس پر غور کیجئے کہ ممتاز قادری جیسے افراد اور ذہن کون سے گروہ اور سوچ تیار کرتی ہے اور کیسے زندگی میں یہ گروہ  دین کی خدمت اور توہین کی آڑ میں کچھ نہ کرتے ہوئے بھی کڑوڑوں روپے کے مالک بن بیٹھتے ہیں۔

 اختلاف رائے سب کا حق ہوتا ہے اور ممتاز قادری یا شرمین عبید چنائے کی آج کی خبروں کو لے کر آپ سب اپنے اپنے تجربات مشاہدات اور علم کی بنا پر ان دونوں سے اتفاق یا اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اپنا اختلاف زور زبرستی صیح منوانا یا پھر بندوق کے زور پر اپنے موقف کو درست کہلوانا ہرگز بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔  آج آپ ایک پاکستانی کے آسکر جیتنے پر خوش ہو سکتے ہیں یا ایک مجرم کے پھانسی چڑھ جانے پر غمگین۔ دونوں ہی صورتوں میں کسی کے معاملات زندگی میں مداخلت کا آپ کے پاس کوئی  جواز نہیں۔  ایک بات بہرحال جو کہ آج طے ہو گئی وہ یہ ہے کہ پاکستان کا وقار آسکر جیتنے سے بڑھا ہے اور ممتاز قادری جیسے لوگوں کی وجہ سے ہمیشہ ہی پاکستان کو خفت اٹھانی پڑی ہے۔  آپ اپنے بچوں  کیلئے آسکر ایوارڈ چاہتے ہیں یا پھانسی کا پھندہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔

(Visited 609 times, 1 visits today)

Imad Zafar is a journalist based in Lahore. He is a regular Columnist/Commentator at Daily Ittehad, Resident Editor at Free Press Publications and Resident Editor at World Free Press. He is associated with TV channels, Radio, news papers,news agencies political, policies and media related think tanks and International NGOs.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے