Here is what others are reading about!

مدنی ڈنڈا

29 فروری کی صبح ناشتہ کی ٹیبل پر ایک خبر سننے کو ملی۔ پڑھ کر اچھا تو لگا کہ سرکاری ریٹ قائم ہورہی ہے لیکن اتنی زور سے لگے گا، یہ معلوم نہ تھا۔ کچھ لوگوں کی خاموشی بھی کسی بم دھماکے کی آواز سے زیادہ تیز ہوسکتی ہے، اسکا انداذہ مجھے آج کراچی آرٹس کونسل جاتے ہوئے معلوم ہوا۔  
ہوا کچھ یوں کہ رحم کی اپیل مانگنے والے مجاہد کی سزائے موت پراسکے چاہنے والوں نے شہر بھر میں دن بھر واویلہ مچا رکھا تھا۔ مصروف ترین شاہراہوں اور بازروں کو ا۔مغربی لباس میں ملبوس عاشقان رسول نے ڈنڈوں اور گالیوں کہ زور پر بند کرانا شروع کردیا تھا۔               
فراغت کہ بعد انتہائی اہم کام کی غرض سے آرٹس کونسل جانے کے لیے جب میں نے طارق روڈ کا راستہ اختیار کیا تو اچانک میری نازک سی پیٹھ پر ایک زوردار بلا آکر لگا۔ مجھے گمان ہوا کہ شاید کسی زنانی کلائیوں سے کرکٹ کا بلا چھوٹ کر میری پیٹھ پرسیر کرنے آگیا ہے۔ میں اسی خوشی میں تھا کہ اب کوئی خوبصورت زنانی سی آواز میرے کانوں میں sorryکہے گی اور میں مسکرا کر its okayکہوں گا۔۔۔ اورآواز آئی مگر مردانی۔۔ لہجہ میں نرمی کے بجائے سختی اور الفاظ ایسے کہ میں اگر یہاں لکھ دوں تو قارئین مجھے فحاش،گھٹیا،موالی اور نہ جانے کیا کیا کہیں گے اور اگر کہیں گے نہیں تو کم از کم دل میں ایسا ہی سوچیں گے اور یہ ایمان کا سب سے کم ترین درجہ ہے۔ خیر، اس پینٹ شرٹ پہنے شخص (عاشق رسول) نے اپنے منہ سے گٹکا تھوک کر نعرہ تکبیر بلند کیا اور میری طرف ایک اور ڈنڈا لیکر بڑھنے لگا، میں نے اپنی ماں کو یاد کیا اور وہاں سیدم دبا بھاگ لیا۔ ہانپتے کانپتے کچھ آگے نکلا تو تھوک نگلا اور سڑک کنارے مجھ جیسے سینکڑوں لوگوں کے ساتھ اس انتظار میں کھڑا ہوگیا کہ کب ان عاشقان کی ریلی ختم ہو اور ہم اپنی منزلوں کی جانب رواں ہوں۔ وہاں کھڑے ایک بزرگ جو اپنی جوان بیٹی کا سر پکڑے کھڑے تھے، میرے اصرارکرنے پر مجھے بتایا کہ ان عاشقان کے پتھراؤ سے اس بیچاری بچی کا سر پھٹ گیا جو کہ مسلمان تھی۔ ایک نوجوان اپنی موٹر بائیک ٹھیک کرنے میں مصروف تھا جو ان عاشقان ک ہاتھوں زخمی ہوئی تھی، وہ بھی مسلمان تھا، میری پیٹھ پر جو وار کیا گیا، وہ پیٹھ بھی الحمداللہ میری طرح مکمل مسلمان تھی۔ابھی میں ان تمام لوگوں کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک ریلی ہماری نظروں کے سامنے پہنچ چکی تھی۔ ریلی کے شرکای کو دیکھ کر میری آنکھیں چندھیا گیءں؛میری آنکھہں کی روشنی چند منٹوں کے لیے غائب ہوگئی، مجھے اپنی نظروں پہ یقین نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ کیونکہ میرے سامنے ریلی کی پہلی صف میں نظرآنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ دہشتگرد گ جناب محترم اسامہ بن لادن، بیت اللہ مسعود، ایمن الظواہری تھے جو پر جوپر جوش نعروں کے ساتھ لوگوں کوممتاز کی عظیم ا لمثال قربانی کی داستان کو سنا کر انہیں مسلسل جذبات کے اعسے رنگ میں ڈھال رہے تھے کہ انہیں اپنے علاوہ ہر شخص کافر اور ملعون نظر آرہا تھا ۔ اور حیرت کی انتہا تو تب ہوئی جب میری نظر ریلی کہ سربراہ پر پڑی۔ ۔ میں زندگی میں پہلی مرتبہ ضیاء الحق کو زندہ سلامت اس ریلی کی سربراہی کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔  
جو اپنے مخصوص انداز میں مسکراکتے ہوئے ہاتھ ہلا ہلا کر شایدحکومت کو اس بات کا اشارہ دے رہے تھے کہ دیکھو دیکھو اپنے ہاتھوں سے لگائے انتہا پسندی کے درخت کا پھل کھانے میں خود اپنے لڑکھڑاتے پیروں سے چل کر آیا ہوں۔۔ جو اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ بھٹو زندہ ہو یہ نہ ہو۔ میں تو بھئی زندہ ہوں اور شاید رہوں گا بھی۔۔۔۔            
یہ افغانستان، وزیرستان یا پھر کوئی قبائلی علاقہ نہیں بلکہ ملک پاکستان کی شہ رگ شہر کراچی تھا، اور میرے سامنے ملک کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے، مہذب اور امن پسند شہرکے لوگ تھے، جن کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور زبانوں پر گالیاں تھیں اور اس ڈنڈے اور زبانی تشدد کا شکار انکے اپنے ہی مسلمان بہن بھائی ہو رہے تھے۔ آج مجھے ہر جگہ القائدہ، طالبان اور داعش کے چہرے نظر آ رہے تھے۔ مجھے پاکستان کا مستقبل نظر آرہا تھا، مجھے جناح کی ناکامی اور ضیاء کی فتح نظر آرہی تھی۔۔ ایک عجیب سا شخص وہاں ضیاء صاحب کی بغل میں پاگلوں کی طرح بھنگڑے ڈال رہا تھا، میرے پوچھنے پر بتایا گیا کہ وہ اوریا مقبول صاحب ہیں جو آج خوشی سے پاگل ہوئے جارہے ہیں۔    
خیر ریلی گزری اور میں اپنی منزل کی جانب چل پڑا مگر راستے بھر صرف افسوس اور خوف میرے ساتھ تھا ۔ خوف مستقبل کا اور افسوس اس بات کا کہ جولوگ تھیٹر اور سینما میں ملیکا شراوت کے ناچ پر سیٹیاں بجاتے ہیں، وہی آج عاشقان رسول کا ڈھونگ رچا کرسارا دن اسلام کا چہرہ مسخ کرتے رہے۔۔اور مسلمانوں کو مارتے پیٹتے رہے۔۔ افسوس اس بات کا تھا کہ آج وہ کچرہ پھینکنے والی بڑھیا اگر زندہ ہوتی تو وہ کیا سوچتی کہ یہ اسی نبی کہ امتی ہیں؟ طائف والے ہوتے تو وہ کہتیکہ کیا یہ اسی نبی کو مانتے ہیں جین پر ہم نے ظلم کہ پہاڑ توڑ ڈالے تھے اور وہ۔۔۔اور وہ ہمارے لئے دعا کرتے تھے۔۔۔۔  
میں نے جب یہ کہانی ایک دوست کو میسج کیا تو اسکا فون آیا اور اس نے کہا۔۔ سعد ربانی بھائی مدنی ڈنڈا مبارک ہو۔۔۔۔      
جبکہ میں کہتا ہوں کہ مبارک تو بھئی ضیاء صاحب کو ہو۔۔ آج سب سے زیادہ خوش وہ ہی ہوں گے کیوں کہ مجھے ابھی ابھی پنڈی سے بتایا گیا ہے کہ آپ کے مسکن سے ہنسنے کی آوازیں آرہی ہیں۔۔     
اور ساتھ ساتھ آوازیں آرہی ہیں کہ۔۔          
شاباش اورنگزیب۔۔ شاباش عبدل عزیز۔۔ شاباش ممتاز۔۔ شاباش پاکستان۔۔۔    
شاباش ضیاء صاحب آپ نے جو بیچ بویا تھا آج وہ پھل دینے لگا ہے۔۔۔ شاباش ہو آپکو۔۔

(Visited 680 times, 1 visits today)

Saad Rabbani is afreelance journalist and a social media activist based in Karachi. His areas of interests are social awareness issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے