Here is what others are reading about!

بدلہ – حقیقی کہانی

رات  گھردیر سے پہنچا تھا۔ تھک ہار کر اپنے بستر  پر لیٹا ہی تھا کہ اتنے میں زبیر کی کال آئی جو میرے کالج کا دوست تھا۔ سوچا کوئی پریشانی لاحق ہو گی کال اٹھا ہی لیتا ہوں ۔ زبیر فون اٹھاتے ہی کہنے لگا یار تمھارا سعدیہ کے بارے میں کیا خیال ہے ؟میں نے بلا جھجک  دریافت کیا کے یار رات کے اس پہر کیا ہو گیا جو  یوںسعدیہ کا خیال آگیا ؟میری بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ زبیر بولا ۔یار بتاوٗ تو تم! میں بولا یار وہ کالج کی سب سے خوبصورت لڑکی ہے اور وہ تو اس شہر کے سب سے پوش علاقہ میں رہتی ہے ۔ لیکن میری کچھ سمجھ نہیں آرہا تم پوچھ کیوں رہے ہو؟ زبیر بولا میں تجھے سمجھاتا ہوں ، دیکھ اگر ہم کچھ کرنا چاہیں تو وہ با آسانی ہو سکتا ہے پیسے کے ذریعے ،تو سمجھ تو رہا ہے نا ؟

میں چونکا اور بولا کیا مطلب ؟ پیسے ؟ پیسے کے ذریعے ؟یار وہ ایسی لڑکی نہیں ہے ،زبیر بولاارے میں یہ نہیں کہ رہا کہ پیسے سعدیہ کو دیں ،ہم پیسے تو کسی اور کو دیں گے۔میں بولا یار میری  سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔ اچھا ہم صبح کالج میں ملتے ہیں۔ چند ہی گھنٹوں میں صبح  ہو جائے گی تو تب  بات کرتے ہیں۔زبیر بولاچل ٹھیک ہے تم بس کل دو ہزار روپے لیتے آنا۔اچھا چلو ٹھیک ہے ۔ یہ کہہ کر میں نے کال کاٹی اورسوچ میں پڑ گیاکہ آدھی رات کو سعدیہ کا اس طرح سے زبیر کے دماغ میں آجاناکچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔

صبح کالج پہنچا ، پہنچتے ہی زبیر بولاپیسے دو جو میں نے منگوائے تھے، اور ساتھ ہی کہنے لگا کہ آج کا لج سے واپسی تھوڑی دیر میں ہوگی ،یہ کہتے ہوئے زبیر مجھے کالج کی ماسی کے پاس لے گیا، چونکہ زبیرماسی سے معاملات طے کرچکا تھاماسی کو پیسے دیتے ہوئے زبیر نے ماسی کو اشارہ کیا اور کہاچھٹی ہوتے ہی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ جانا،میری کچھ سمجھ نہیں آرہا تھاکہ زبیر کیا کر رہا ہے لیکن میں اس بات سے بے فکرتھا کہ کچھ غلط ہوگاکیونکہ زبیر کا شمار میرے اچھے دوستوں میں ہوتا ہے۔

ایک بجے ہمارے کالج کی چھٹی ہوئی۔ چھٹی کے بعد زبیر کا ایک دوست اوراس کے دوست کا ایک اور دوست بھی موجود تھا۔زبیر سب کو کالج کی پچھلی طرف لے گیا۔وہاں جاتے ہوئے زبیرنے ہمیں کالج کی ماسی کی طرف متوجہ کیا۔ جوکہ ایک لڑکی کو پچھلی طرف ہی لارہی تھی یہ کہتے ہوئے کہ دیکھو بیٹی ادھرایک لڑکی گری ہوئی ہے یہ تمھارے ساتھ کی تو نہیں ؟ماسی اس ہی بہانے لڑکی کو واش رو م کی جانب لے گئی اور اندر دھکا دے کر باہرسے کنڈی لگاکہ چلتی بنی۔میں نے گھبراتے ہوئے کہا زبیر، زبیر یہ کیا ہے،زبیر نے میری  کوئی بات نہ سنی۔ کچھ ہی دیر میں مجھے زبیر کی چال کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی۔

زبیر ہمیں لے کرواش روم کی جانب بڑھا۔ کنڈی کھولی واش روم کے اندر جاتے ہوئے ہمیں باہر انتظار کرنے کو کہا،زبیر نے اندر جاکر سعدیہ کے ساتھ زیادتی کی اور پھر سکون کی سانس لیتا ہوا باہر کی جانب آیا اور مجھے زبردستی واش رو م کے اندر بھیج دیا۔  میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی سعدیہ کو اپنی حوس کا نشانہ بنایا، میرے بعد زبیر کا دوست گیا ، ابھی ہم باہر نکل کرایک دوسرے سے تالیاں مار ہی رہے تھے کہ اچانک واش روم کے اندر سے ایک زور دار چیخ کی آواز آئی جس میں گونجتی ہوئی بھائی کی آواز کو ہم سن سکتے تھے۔۔۔۔ آخر میں جانے والا لڑکا سعدیہ کا بھائی  تھا۔               

     زناوہ قرض ہے جو تیری موت سے پہلے       

     وصول ہوگا تیرے خاندان والوں سے

(Visited 1,520 times, 1 visits today)

Syed Fasih is a social media activist and a student of visual studies.His areas of interests are social and current affairs.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے