Here is what others are reading about!

حسن عورت کا جادو

سیرت عورت کی خوب صورتی ، حیا عورت کا زیور ، رحم عورت کی نشانی, اچھا اخلاق عورت کا حسن ، فرض اسکی تکمیل،معاشرے کا حسن و قار اور استحکام کا راز عورت کی پر خلوص قربانیاں اور لا زوال جد و جہد پر پوشیدہ ہے۔عورت ایک ماں ایک بیٹی ایک بہن ، ایک بیوی حتیٰ کے ہر فرض سے باخوبی واقفیت رکھتی ہے اسلام میں عورت کو خاص حقوق سے نوازا ہے پھر بھی آج کی صدی میں مسلم خواتین حق لینے سے قاصر ہے ۔مسلم خواتین کو برابری کا حق کب ملے گا؟کتنی مسلمان خواتین کو وراثت میں حصہ ملتا ہے؟ کئی فیصد مسلمان عورتیں اپنی مرضی کی زندگی جینے کے لئے آزاد ہیں؟ کتنی مسلمان عورتیں خود کفیل ہیں اور اپنے روزگار کے لئے مردوں پر انحصار نہیں کرتیں؟ کتنی مسلمان لڑکیاں ایسی ہیں جنھیں ان کے والدین، بیٹوں کی طرح اچھے اسکول میں پڑھاتے ہیں؟کتنی لڑکیوں کی شادی طے کرنے سے پہلے ان کی مرضی جاننے کی کوشش ہوتی ہے؟مسلم خواتین کے سرپر طلاق کی تلوار کیوں لٹکتی رہتی ہے؟ اس طرح کے بہت سے سوال ہیں جن پر مسلمانوں کو غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مسلمان خواتین کو اسلام نے برابری کا حق نہیں دیاکیونکہ جس زمانے میں خواتین کی زندگی جانوروں سے بدتر تھی اور انھیں جینے کا حق بھی مشکل سے ملتا تھا ،اس دور میں اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق نسواں کی بات کی اورصنفی مساوات کا نعرہ بلندکیا۔یہ الگ بات ہے کہ آج جب بعثت نبوی کو تقریباً پندرہ سو سال ہونے کو آئے ہیں،مسلم معاشرہ خواتین کو ان کے جائز حقوق نہیں دے پایا ہے۔ اس معاملے کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلویہ ہے کہ مسلم خواتین کی حلق تلفی عموماً اسلام کے نام پر ہی کی جاتی ہے اور مذہب کا حوالہ دے کر ان کو مردوں کے مساوی حقوق نہیں دیئے جاتے۔ ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے جب کیرل کے ایک معروف عالم دین شیخ ابوبکرمسلیار کا بیان میڈیا میں آیا تھا کہ اسلام میںمساوات مردوزن کی بات درست نہیں ہے۔ خواتین کا کام بچے پیدا کرنا ہے اور ان کے اندر عقل وشعور کی کمی ہوتی ہے۔ یہ بات صرف شیخ ابوبکر مسلیارتک محدود نہیں ہے بلکہ ’’ اسلامی مملکت ‘‘سعودی عرب میں تو سرکاری پالیسی کا حصہ بھی ہے صنفی امتیاز۔ حالیہ دنوں میں خواتین کو پہلی بار میونسپل انتخابات میں حصہ لینے اور ووٹ دینے کا حق دیا گیاجسے وہاں کی مسلم خواتین کی سب سے بڑی آزادی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس انتخاب میں خواتین امیدوار بھی شامل ہوئیں جن میں سے ایک نے مکہ کے علاقے کا انتخاب بھی جیت لیا۔حالانکہ آج بھی سعودی عرب میں خواتین گاڑی ڈرائیو نہیں کرسکتیں، بغیر کسی مرد رشتہ دار کے کہیں سفر نہیں کر سکتیں، اپنی مرضی سے شادی نہیں کر سکتیں، اس کے لئے ان کے اہل خانہ کی رضامندی ضروری ہے۔وہ بغیر اپنے اہل خانہ کے اجازت کے باہر جاکر کام بھی نہیں کر سکتیں۔اگر وہ عوامی مقامات پر جاتی ہیں تو انھیں خاص قسم کا برقع پہننا انتہائی ضروری ہے۔یہاں خواتین بہت سے ایسے کام نہیں کرسکتی ہیں جن کی اجازت مردوں کو ہے۔اسلام نے اجنبی مرداور عورت کو تنہائی میں ملنے سے منع کیا ہے مگر یہاں تو عوامی مقامات،ہوٹلوں اور پارکوں میں بھی وہ مردوں سے باتیں نہیں کرسکتیںاور آفس وکام کاج کے مقامات پر ان کا ملنا جلنا ممنوع ہے۔ عہد نبوی کے معاشرے میں خواتین کے کام کاج پر پابندی نہیں تھی۔ وہ مردوں کے دوش بدوش کھجوروں کے باغوں، کھیتوں میں کام کرتی تھیں۔ ازواج مطہرات میں سے بعض خود کفیل تھیں اور اپنی کمائی سے ہی اپنا خرچ چلاتی تھیں مگر آج اسلام کے نام پر مسلم خواتین کے ساتھ جو برتائو مسلم دنیا میں ہورہا ہے وہ قابل تشویش ہے۔ یہ کس قدر دوہرا معیار ہے کہ ایک طرف تو مسلمان یہ کہتے ہیں کہ اسلام کسی صنفی امتیاز کے خلاف ہے اور وہ مردوں ،عورتوں میں کسی قسم کا بھید بھائو نہیں کرتا ،دوسری طرف مسلم معاشرہ کی زمینی سچائی کچھ الگ ہے اور اسلام کو سرکاری مذہب ماننے والے مسلم ممالک میں آج تک خواتین کو مردوںکے مساوی حقوق حاصل نہیں۔ مسلم ملکوں میں آج بھی یہ بحث چلتی ہے کہ عورت ملک کی صدر یا وزیراعظم بن سکتی ہے یا نہیں؟ سعودی عرب تو چھوڑیئے جب مرحومہ بے نظیر بھٹوپاکستان کی وزیر اعظم بنیں تو یہاں بھی بحث تیز ہوگئی کہ ایک عورت ملک کی وزیر اعظم کیسے بن سکتی ہے؟ ایران خود کو اسلامی ملک کہتا ہے اور یہاں کا معاشرہ سعودی عرب سے مختلف بھی ہے مگر یہاں بھی کوئی عورت ملک کی صدر نہیں بن سکتی۔

قرآن اور سیرت نبوی کی تعلیمات میں خواتین کے ساتھ کسی قسم کا بھید بھاؤ نہیں کیا گیا ہے۔اسلام نے تعلیم کے معاملے میں بھی حکم دیا کہ’’ہرمسلم مردوعورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے‘‘ مگر تمام سرکاری اور غیرسرکاری رپورٹیں کہتی ہیں کہ مسلمان مردوں کے مقابلے مسلم خواتین میں تعلیم کی شرح بہت کم ہے۔ یہ بات صرف بھارت اور پاکستان کی سطح پر ہی نہیں ہے بلکہ کم وبیش ساری دنیا میں مسلم معاشرے کی یہی صورت حال ہے۔بھارت میں کئے گئے ایک سروے میں یہ حقیقت ابھر کر سامنے آئی کہ زیادہ تر مسلم خواتین اقتصادی اور سماجی طور پر کافی پسماندہ ہیں۔سروے کے مطابق 55.3 فیصد مسلم خواتین کی 18 سال سے پہلے ہی شادی ہو گئی اور انھیںگھریلو تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔سروے میں جائیداد کے معاملے میں بھی مسلم خواتین کی پسماندگی اجاگر ہوئی، اعداد و شمار کے مطابق 82 فیصد خواتین کے نام کوئی جائیداد نہیں ہے۔ 53 فیصد خواتین کو گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑا جبکہ زیادہ تر خواتین کی تعلیم بھی تقریباً صفر تھی۔سوال یہ ہے کہ جب اسلام نے خواتین کے ساتھ تشدد کی اجازت نہیں دی ہے اور مردوں کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ عورتوں کو ماریں،پیٹیں، ایسے میں انھیں تشدد کا نشانہ کیوں بنایا گیا؟ اس کا مطلب صاف ہے کہ مسلمان مردوں نے اس گائیڈ لائن کی پابندی نہیں کی جو اللہ اور رسول کی طرف سے ان کے لے بنائی گئی ہے۔
خواتین کی حق تلفی مسلم سماج میں آج بھی یہ قبیح طریقہ رائج ہے کہ بیٹیوں کو وراثت میں حقدار نہیں بناتے اور بھائی ،اپنی بہنوں کا حق مارلیتے ہیں۔ایک حالیہ سروے میں پایا گیا کہ 82فیصدہندوستانی مسلم خواتین کے نام کوئی جائیداد نہیں ہے۔یہ بالکل وہی صورت حال ہے جو اسلام سے قبل عرب کے معاشرے میں تھی۔ بعثت نبوی سے قبل عورت کو کسی چیز کی مالک بننے کا حق حاصل نہ تھا۔ اسے کسی قسم کی وارثت نہ ملتی تھی، صرف مردوں کو وارث بننے کا حق حاصل تھابلکہ عورتوں کو بھی مرد آپس میں مال کی طرح بانٹ لیا کرتے تھے۔اسلام نے انھیں وراثت کا حقدار بنایا ۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں مغربی عورت کی معاشی و اقتصادی حالت کا جائزہ یوں پیش کیا گیا۔دنیا کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے، دنیا کے دوتہائی کام کے گھنٹوں میں عورت کام کرتی ہے مگر اسے دنیا کی آمدنی کا دسواں حصہ ملتا ہے۔ اور وہ دنیا کی املاک کے سوویں حصہ سے بھی کم کی مالک ہے۔ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ ان خواتین کومدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے جن کی معاشی حالت قدرے بہتر ہے لیکن اگر صرف مسلمان عورت کی بات کی جائے تو اس کی حالت اس رپورٹ سے درجہا بدتر ہوگی۔سوال یہ ہے کہ اس کے لئے کون قصوروار ہے؟ اسلام یا مسلم معاشرہ؟      
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی ہزاروں مسلم خواتین نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کرمطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں میں ایک سے زیادہ شادی پر پابندی لگائی جائے اور ’’حلالہ‘‘ کو جرم قرار دیاجائے۔ان خواتین نے برابری کے حق اور صنفی انصاف کا بھی مطالبہ کیا۔اس تحریک کی بانی ہیں ذکیہ سمن،جن کا کہنا ہے کہ اسے قبول کر لینے سے مسلم خواتین کو باوقار زندگی گزارنے میں مدد مل سکے گی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جائیداد میں بھی مسلم خواتین کو برابری کا حصہ ملے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ شریعت ایکٹ -1937 اور مسلم میرج ایکٹ -1939 میں ترمیم کر انہیں انصاف دلایا جائے۔ذکیہ سمن کاکہنا ہے کہ صنفی انصاف ہمارے آئین کا اصول ہے لہذا مسلم خواتین کو بھی مسلم مردوں کے برابر حقوق ملنے چاہئیں ۔
وزیراعظم کو خط لکھنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہندوستان کی 10 ریاستوں کی 4710 خواتین پر تحقیق کر پایا کہ 92.1 فیصد خواتین طلاق کے زبانی تین بار کہنے کے طریقے پر پابندی چاہتی ہیں۔ 91.7 فیصد تعددازواج کے خلاف پائی گئیں اور 83.3 فیصد خواتین نے مانا کہ مسلم فیملی لاء میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ایک حالیہ سروے کے مطابق بھارت کی 92 فیصد مسلم خواتین کا خیال ہے کہ تین بار طلاق بولنے سے رشتہ ختم ہونے کا اصول یک طرفہ ہے اور اس پر روک لگنی چاہئے۔ خواتین نے مانا کہ طلاق سے پہلے قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جانا چاہئے اور ان صورتوں میں ثالثی ہونی چاہئے اور افہام وتفہیم کی کوشش کی جانی چاہئے۔ 
مسلم خواتین نے سوشل میڈیا اور موبائل پیغام کے ذریعے بھی طلاق پربھی تشویش ظاہر کی۔مسلمان خواتین کی موجودہ حالت کے لئے اسلام ذمہ دار نہیں بلکہ مسلمان ذمہ دار ہیں۔ اسلام نے خواتین کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ نہیں کیا مگر یہ حقیقت ہے کہ مسلم معاشرہ اللہ ورسول کے احکام کو نظر انداز کرکے ان کے ساتھ بھیدبھاؤ کر رہاہے۔ اس کے لئے عام مسلمان ہی ذمہ دار نہیں بلکہ وہ لوگ بھی ذمہ دار ہیں جنھوں نے سماجی روایتوں کو مذہب کا لبادہ پہنا دیا ہے اور اپنی تنگ نظری کو انھوں نے احکام شریعت کا نام دے دیا ہے۔ آ ج مسلم معاشرہ کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ اس کا رویہ خواتین کے تعلق سے کیسا ہے؟ کیا اس نے اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق خواتین کو ان کے حقوق دیئے ہیں؟

(Visited 585 times, 1 visits today)

Aqsa Sheikh is a freelance writer based in Karachi. She's doing her masters in political sciences. Her areas of interest are social issues and current affairs.

2 Comments

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے