Here is what others are reading about!

تلاش حق

مجھے بارش میں بھیگنا بہت اچھا لگتا تھا۔ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ گھنٹوں کھیلتی ۔مجھے بارش سے بہت پیار تھا۔۔16سال کی عمر میں میری شادی ہوگئی تھی۔۔ جاوید اور میں ایک کمرے کےایک چھوٹے سے مکان میں رہتے تھے۔۔۔جاوید ایک نجی ادارے میں قاصد تھا اور وہ مجھے بہت پیار کرتا تھا۔۔وہ زیادہ پڑھا لکھا نہ تھا مگر ایک باشعور اور نیک انسان تھا ۔۔اس نے مجھے خود کو سمجھنے کا پورا پورا وقت دیا۔۔ میں ا سکے ساتھ بہت خوش تھی۔۔

جاوید کا نیا افسر جاوید سےزیادہ خوش نہ تھا۔اور کچھ ہی دن بعد جاوید پر چوری کا الزام لگا کر اسے نوکری سے فارغ کردیا گیا ۔۔۔ چوری جو جاوید نے نہیں کی تھی۔۔۔!! جاوید نے نوکری کے لیئے بہت کوشش کی مگر مایوسی کے سواء کچھ نہ ملا۔۔اسکے بعد سے جاوید بہت پریشان رہنے لگا تھا لیکن وہ اپنے چہرے پر پریشانی کے تاثر کبھی نہ لاتا۔ میں اسے سمجھنے لگی تھی۔۔ ۔۔۔ آخرکار جاوید نےتنگ آکر مزدوری کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور وہ ٹرکوں میں سامان چڑھایا اور اتاراکرتا تھا۔یہ کام بہت تھکا دینے والا تھا۔۔وہ روز را ت کو دیر سے آتا تھا۔۔ بچوں سے پیار کرتا، مجھ سے باتیں کرتے کرتے سوجاتا ۔۔۔میں جاوید کو وقت سے پہلے بوڑھا ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔۔ 

جاوید کے سیٹھ کا ہتھیاروں سے بھرا ٹرک پکڑا گیا۔۔سیٹھ نے اپنی جان بچانے کے لیئے سارا الزام جاوید کے سر پر تھوپ دیا ۔۔ جاوید کوپولیس لے گئی اوراس پر بیرون ملک ہتھیار سپلائی کرنے کا مقدمہ چلا۔۔۔جاوید کے جانے کے بعد میں بہت اکیلی تھی۔ہرروزگھر کے باہر قرضداروں کی گھنی بھیڑ جمع ہوتی ، طرح طرح کی گالیاں دیتے، مجھے ویشیہ ، جاوید کو دہشتگرد اور میرے بچوں کو ناجائز کہتے۔اس وقت میں اپنے بچوں کو اپنے سینے سے لگا کر کوئی گیت گنگنانے لگ جاتی تاکہ وہ ان مہذب لوگوں کی بدلی گفتار نہ سیکھ لیں۔۔اور ان میں سےکوئی یہ سوال نہ کر بیٹھے کہ “ماں ۔۔یہ ویشیہ، دہشتگرد اور ناجائز کونسے لوگ ہوتے ہیں؟”

حالات بہت تنگ ہوتے جا رہے تھے اور مجھے پتا نہیں تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے۔۔آخرکار میں نے فیصلہ کیا کہ میں نوکری کروں گی، اپنے بچوں کو پڑھائوں گی۔۔ میں انکی ساری بنیادی ضروریات پوری کروں گی۔۔ جاوید کو جیل سے آزاد کراؤں گی اور اسکے لیے مجھے سخت محنت کرنا تھی۔یہی سوچ کر میں جاوید کے دوست سلیم کے پاس گئی جو ایک این ۔جی۔ او چلاتا تھا۔۔ جس میں عورتوں کو سلائی کڑائی سکھائی جاتی تھی اور کچھ اجورہ بھی دیا جاتا تھا۔ ۔میں سلیم سے ملی اور اسنے مجھے نوکری پر رکھ لیا۔ اس دن سلیم میرے لئے کسی فرشتے سے کم نہیں تھا۔میں دن رات محنت کرکے پیسے جمع کرنے لگی تھی تاکہ جاوید کے لیئے کوئی وکیل کرسکوں اور بچوں کی پڑھائی میں کسی قسم کا خلل نہ آئے۔

 ایک دن میں کام میں مصروف تھی کہ سلیم نے آکر بتایا ” ہم کیس ہار گئے ہیں۔۔جاوید کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔”یہ سنتے ہی مجھے ایسے لگا جیسے آسمان ٹوٹ کر میرے سر پر گرگیا ہو۔۔جیسے گھر کی چھت پچھلے سال بارش میں گرگئی تھی اور جس کے نیچے دب کر میری چھوٹی بیٹی کائنات ہمیشہ کے لیئے سوگئی تھی۔۔تب سے مجھے بارش سے نفرت سی ہوگئی تھی اور اب اس ملک کے نظام سے بھی کیونکہ یہاں صرف وہی عزت کی زندگی گزار سکتا ہےجس کے پاس بہت سارا پیسہ ہے۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ احساس ہوتا تھا کہ اب جاوید کبھی واپس نہیں آنے والا۔

میں اوورٹائم کرنے لگی تھی کیونکہ گزرتے وقت کے ساتھ بچوں کی ضروریارت بڑھنے لگی تھیں۔اس رات سب لڑکیاں جا چکی تھیں اور میں کام میں ایسی گم ہوئی کہ وقت کا پتہ نہ چلا۔۔اچانک میں نے اپنے شانوں پر کسی کے ہاتھوں کی چھون محسوس کی۔۔ میں نے ڈر کے مارے جیسے پیچھے دیکھا تو سلیم کھڑا تھا، سلیم ۔۔۔جسےاس رات سے پہلے میں فرشتہ سمجھتی تھی۔لیکن آج اس فرشتے کے قدم شراب کے نشے میں لڑکھڑا رہے تھے۔۔اسکی آنکھوں سے رحمت کا نور نہیں بلکہ حوس کی آگ لپک رہی تھی۔۔ سلیم نے مجھے پکڑ کر زور سے اپنی طرف کھینچا ۔۔۔۔میں رونے لگی گڑگڑانے لگی۔۔۔۔چلانے لگی لیکن کوئی میری مدد کو نہیں آیا۔۔ اس رات سارا شہر مر گیا تھا جیسے۔۔!! اس بھیڑیئے نے ساری رات میرے جسم کو نوچا۔۔۔اور میں کب بےہوش ہوئی پتا نہ چلا۔۔۔

میں نے وہ این۔ جی۔ او چھوڑ دی۔۔۔جو کچھ میرے ساتھ ہو چکا تھا وہ کوئی برا سپنا نہیں تھا جسے میں بھول جاتی وہ سب ایک تلخ حقیقت تھی۔۔جو مجھے جینے نہیں دے رہی تھی۔۔مگر جب میں بچوں کو ہنستے کھیلتے پڑھتے دیکھتی تو خود کو بھول کر انکے لیئے جینے کا حوصلہ کرتی۔۔۔میری زندگی کا مقصد میرے بچوں کا روشن مستقبل تھا۔۔

 اب مجھے باہر جانے سے بہت ڈر لگتا تھا۔۔اور تنہائی بھی مجھے کھانے لگی تھی۔۔بچوں کے اسکول کی فیس دینی تھی۔۔۔اور قرضدار بھی پریشان کرنے لگے تھے۔۔۔کبھی بچوں کو لے جانے کی دھمکی دیتے۔۔تو کبھی گالیاں دے کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرتے۔۔۔!! میں بہت پریشان تھی۔۔ایک دن ایسے ہی پریشانی کہ حالت میں بیٹھی تھی کہ رضیہ آئی۔۔۔رضیہ میرے پڑوس میں رہتی تھی۔ وہ ایک بیئر بار میں ناچتی تھی۔۔جہاں پورے شہر کے امراء تہذیب اور تمدن کے پیراہن کو تار تار کرتے۔۔اور صبح ہوتے ہی کوئی انسانوں کی آزادی کے نارے لگاتا تو کوئی عورتوں کے حقوق کی بہالی کے لیئے سرگرم دکھتا۔۔

 “رضیہ میں بہت پریشان ہوں۔۔تمھاری بہت جان پہچان ہے ۔۔کہین کوئی نوکری دلوادو تاکہ گھر کا خرچہ چلا سکوں”۔۔رضیہ یہ سنتے ہی زور سے ہنسنے لگی۔۔میں سمجھ گئی تھی کہ رضیہ کیوں ہنس رہی تھی۔وہ عورت کی بے بسی پر ہنس رہی تھی۔۔یہ کہانی صرف میری نہیں ہے بلکہ ہر عورت کی ہے۔۔رضیہ کے ساتھ بھی وقت اور حالت نے کچھ وفا نہ کی تھی۔۔ رضیہ کی ماں اسے جنم دے کر دنیا سے رخصت ہوگئی تھی ، اور اسکے دو سال بعد رضیہ کے بابا ٹی بی کے باعث انتقال کرگئے تھے۔۔اسکے بعدرضیہ اپنے چچا کے پاس رہتی تھی۔۔اسکا چچا اسے قماربازی میں ہار گیا تھا۔۔۔عمر کے اس دور میں جب اسے یہ بھی پتا نہ تھا کہ دلہن کیا ہوتی ہے رضیہ ایک 50سالہ بوڑھے شخص کی دلہن بن گئی تھی۔۔شادی کے کچھ دن بعد گھر سے فرار ہوکر شہر پہنچی جہاں نہ کوئی اسے جانتا تھا اور نہ وہ کسی کو جانتی تھی۔۔۔اس نئے شہر میں بیئر بار اسکے جینےکا سہارا بنا۔

 بیئر بار میں کام کروگی۔۔۔؟ رضیہ نے پان تھوکتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔۔

 کیا کوئی عورت بغیر عزت گنوائے کوئی کام نہیں کرسکتی رضیہ۔۔؟

 کون کہتا ھے کہ بیئر بار میں عورتیں اپنی عزت گنواتی ہیں۔۔۔سوٹ بوٹ میں جو لوگ وہاں آتے ہیں۔۔بھوکے بھیڑیوں کی مانند جب وہ کسی مجبور لڑکی کو گھورتے ہیں اور اسے بلا کر ہاتھ لگا کر اس پر پیسے اڑاتے ہیں تو اسکے ساتھ ساتھ وہ اپنی عزت کی دہجیاں بھی اڑاتے ہیں۔۔۔خود کو ننگا کرتے ہیں وہ لوگ۔۔۔

میں گہری سوچ میں گم ہوگئی۔رضیہ کب چلی گئی مجھے خیال نہ ہوئا۔۔اس رات میں نے بہت سوچا اور فیصلہ کیا کہ میں بیئر بار میں کام کرونگی۔۔۔۔بیئر بار میں طرح طرح کے لوگ آتے تھے۔۔ہر طرف سگریٹ اور شراب کی بو۔۔۔انڈین گانوں کا شور۔۔۔بہت گھٹن تھی وہاں۔۔۔شہر کے بڑے بڑے لوگ اس گھٹن سے بہت لطف اندوز ہوتے تھے۔۔

 بیئر بار سے جو پیسہ ملتا اس سے بچوں کے اسکول کی فیس اور کتابوں کا خرچہ نکل جاتا۔۔کچھ دن بعد بیئر بار میں ریڈ لگی۔۔۔پولیس نے تمام لڑکیوں کو حراست میں لے لیا۔۔۔سبکو تھانے لے گئے۔۔۔میرے سواء ساری لڑکیاں بے پرواہ تھیں۔۔۔شاید انکے لیئے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔۔۔وہ رات ہم نے تھانے میں گذاری اور میں ساری رات بچوں کے بارے میں سوچ کر رو تی رہی۔۔۔صبح ہوتے ہی بیئر بار کا مالک ہمیں وہاں سےلینے آیا۔۔۔اس نے تھانیدار کو پیسے دیئے ۔۔۔تھانیدار نے پیسے لیکر کہا کہ اگر اگلی بار پیسے ٹائم پر نہ ملے تو دگنے لے کر چھوڑیگا۔۔۔

 اگلے دن مجھے بیئر بار کے مالک نے بلایا اورکہا کہ مجھے رات کو تھانیدار کا دل بہلانا ہے۔۔میں نے انکار کیا تو اسنے مجھے بار سے نکالنے کی دھمکی دی۔۔۔رضیہ نے مجھے بہت سمجھایا۔۔۔۔میرے پاس اسکی بات ماننے کے سواء اور کوئی راستہ بھی تو نہ تھا، نہ میں پڑھی لکھی تھی کہ کسی نوکری کی امید بھی کرتی اور ویسے بھی اب تک میں بہت کچھ کھو چکی تھی۔۔۔میں بغیر زیادہ سوچے جانے کے لیئے تیا ر ہوگئی۔۔

 میں تھانیدار کے گھر پہنچی۔۔۔تھانیدار میرے آنے کا ہی انتظار کر رہا تھا۔۔۔مجھے کمرے میں لے گیا۔۔مجھے زبردستی شراب پلائی۔۔۔میرے جسم کوسگریٹ سے جگہ جگہ جلایا۔۔۔۔۔درد کے مارے جیسے میں کرہاتی۔۔اسے زیادہ لطف آتا۔۔۔میرے جسم سےکھیل کر جب وہ تھک گیا اور اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔۔ تب میں نے چاقو نکالا اوراسکے سینے مین گھونپ دیا۔۔۔۔۔اور گھونپتی رہی جب تک اسکی سانس نہ ٹوٹی۔۔۔مجھے پولیس نے حراست میں لے لیا۔۔۔اور عدالت میں پیش کیا گیا۔۔۔جج ایک عورت تھی۔۔” ملزمہ زلیخاں آپ پر یہ الزام ہے کہ آپ نے تھانیدار اشرف علی کا قتل کیا ہے، آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہیں گی؟ جج نے مجھ سے پوچھا..

میں خاموش رہی۔جج نے پھرسے میرا نام لیکر پوچھا۔۔میں نے عدالت میں موجود لوگوں کی طرف دیکھا ۔۔۔اور پھر جج کی طرف مڑ کر کہا۔۔۔میرا نام عورت ہے۔میں نے تھانیدار اشرف علی کا قتل نہیں کیا۔۔۔میریہ بیان سنتے ہی عدالت میں موجود صحافیوں کے قلم برق رفتاری سے چلنے لگے۔۔اور وہاں موجود لوگ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔۔آرڈر۔۔۔آرڈر۔۔جج نے ہتھوڑا ٹیبل پر مارتے ہوئے کہا۔سب خاموش ہوگئے۔

 “میرا نام عورت ہے اور میں نے تھانیدار اشرف علی کا قتل نہیں کیا بلکہ میں نے کئی معصوم اور مجبور لڑکیوں کو اشرف علی کے کمرے کی رونق بننے سے بچایا ہے۔میرا بس چلے تو میں سماج سے اشرف علی جیسے تمام شیطانوں کو گردن سے پکڑ کر عوام کے سامنے لائوں اور سب کے سامنے انھیں گولی ماردوں جو عورت کو اپنی خواہشات کے تابع سمجھتے ہیں۔ جو عورت کو باندی، لو نڈی یا کنیز سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے ۔۔۔ بچے پیدا کرنے والی مشین یا پھرمرد کی شہوانی خواہشات کو پورا کرنے کا سامان سمجھتے ہیں۔ عورت کے پاک دامن کوداغدار کرنے والوں! تمھارا تو یہ دعویٰ تھا نہ کہ عورت کے قدموں تلے جنت ہے۔۔ تو اور کونسی جنت کے حصول کے لیئے تم اسکے پاؤں بھی کاٹتے ہواور اس پر تیزاب بھی ڈالتے ہو۔۔؟انسانی تاریخ کےاس دور میں جب تم نے عورت کی قابلیت اور کردار سے متاثر ہوکر اسے دیوی مانا، اسکی مورتیاں بنائیں، اسکی پوجا کی ، آج بھی کرتے ہو،اگربتیاں جلاتے ہو، اسکے سامنے ہاتھ جوڑتے ہ اور منتیں مانگتے ہو تو پھراپنے ہی گھر کی دیوییوں کو تم زندہ کیوں جلاتے ہو، جانوروں سے اسکا بیاہ کیوں رچاتے ہو، اسے منحوس کیوں کہتے ہو ،اور اگر وہ تمھیں وارث نہ دے پائے تو اسے بانجھ کہہ کراسقدر حقارت سے دیکھتے ہو جیسے وہ انسان ہی نہیں ہے۔۔!! یہ منافقت کیوں جو آج تمھاری زندگی کا اصول بن گیا ہے، تمھارا کردار بن گیا ہے۔۔۔تم جو آج خودکو مہذب کہتے ہو اور پنی تہذیب پر فخر کرتے ہو، جانتے بھی ہو کہ اگر عورت ہل نہ چلاتی ، بیج نہ بوتی تو تم کبھی بھی وحشی سے انسان بننے کا سفر طے نہ کرپاتے۔۔ کس کو احمق بناتے ہو تم لوگ؟ بتاؤ مجھے۔۔میں جانتی ہوں تمھارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔۔میں آج تمام عورتوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ عورت ہرگز مرد کے ماتحت نہیں ہے۔وہ ایک الگ انفرادی وجود رکھتی ہے۔ اور جس دن تمام عورتیں اس بات کو سمجھ لیں گی تب ایک انقلاب برپا ہوگا جس کے بعد کوئی عورت کسی بیئر بار میں اس لئے نہیں ناچے گی کیونکہ اسکے بچے فاقہ کر رہے ہیں۔۔کوئی عورت جسم فروشی نہیں کرے گی کیونکہ اسے اپنی بیمار ماں کا علاج کروانا ہے۔۔کوئی عورت کسی کوٹھے میں اپنا بچپن نہیں بیچے گی ۔۔ تب وہ اس سماج سے لڑ کر اپنا حق حاصل کرے گی۔ ۔تم مجھے مار سکتے ہو، میرے شوہر اور میرے بچوں کو مار سکتے ہو میرے جیسی کئی عورتوں کو چپ کراسکتے ہو لیکن تم میرے اس عزم کو نہیں مار سکتے جو ہر برسوں ظلم سہنے کے بعد ہر عورت کی گود میں پل رہا ہے۔۔۔میرا وجود تمھارے لیئےایک کڑوا سچ ہے مگر تم اس سچ کو قتل نہیں کرسکتے”

 لمبی خاموشی کے بعد ۔۔رکی رکی آواز میں جج بولی “تمام بیانات کے مدظر یہ عدالت ملزمہ زلیخاں کو تھانیدار اشرف علی کے قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا سناتی ہے”یہ کہہ کر جج نے قلم توڑ دیا جو آج تک ویسے ہی خستہ حالت میں ہے۔

(Visited 728 times, 1 visits today)

Nirdosh Odhano is a freelance writer based in Jamshoro. He writes short stories, articles and columns on variegated issues. He is working as house officer at Jinnah Postgraduate Medical Centre.

2 Comments

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے