Here is what others are reading about!

ارمان

کہتے  ہیں کہ سفر کا مزہ لینا ہو تو ساتھ میں سامان کم رکھیں۔زندگی کا مزہ لینا ہو تو دل کے ارمان کم رکھیں۔میری زندگی کے سفر کا آغازضلع ایبٹ آباد کے ایک گاؤں میں ہوا۔  پہاڑکے دامن میں کچے مکانوں کے مکینوں کی زندگی کا مقصد مویشی پالنا اور کھیتی باڑی کرنا ہی معلوم ہوتا تھا۔خواہشیں کم تھیں تو خوشیاں زیادہ تھیں۔ سب مل جل کر رہتے۔ بچپن بے حد سہانا گزرا۔۔۔۔۔ کھلونے کون لا کر دیتا۔۔؟ خدا نے تخلیقی ذہن سے نوازا تھا، چھوٹے چھوٹے کچے گھر تعمیر کرتے ،مٹی کے کھلونے بناتے ، خادم اعلی ہونے کا ثبوت دیتے ہوۓ سڑکوں کا جال بچھا دیتے جن پر پتھر کی گاڑیاں دوڑتیں۔ فضا میں اڑتے ہیلی کاپٹر دیکھے تو لکڑی اور گتے سے ہیلی کاپٹر کی باڈی تیار کر لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تجسس ہوا کہ اس میں روح کیسے پھونکی جاتی ہے۔۔۔؟ بتایا گیا کہ پڑھ لکھ کر انسان نت نئی اشیاء ایجاد کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔علم حاصل کرنے کی تمنا ہوئی۔۔ پرائمری سکول میں داخل کر دیا گیا۔اس عزم کے ساتھ سکول جانے لگے کہ پڑھ لکھ کر ہم بھی کچھ نیا کر کے دکھائیں گے۔۔۔ مگر سکول تھا کے کھیل کا میدان۔۔؟ پڑھائی کس بلا کا نام ہے۔۔؟ پہلی دفعہ ارمان ٹوٹتے نظر آرہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر۔۔۔ اساتذہ اکرام کبھی کبھار تنخواہ حلال کرنے  سکول تشریف لے ہی آتے ان کی انتھک محنت کا نتیجہ تھا کہ تیسری جماعت میں ہی ہم نے اپنا نام لکھنا سیکھ لیا۔۔۔۔۔

والد صاحب شہر میں ملازمت کرتے تھے اس لئے ہم سب اہل خانہ شہر منتقل ہو گئے۔ نئی دنیا ، نیا زمانہ، نئے صبح وشام ہمارا استقبال کر رہے تھے۔دیار عشق  میں مقام پیدا کرنے کی جستجو میں  نئےسکول میں داخلہ لیا۔ ساتھ ہی مدرسے میں بھرتی کر دئیے گئے۔۔۔ ٹیچرز کی جادو کی چھڑی کا کمال تھا کہ حفظ قرآن کی برکت۔۔۔۔۔۔۔۔ نئے سکول میں میٹرک تک ہر سال نمایاں پوزیشن حاصل کی۔

انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا تو احباب نے مفت مشوروں کی بارش کر دی کہ آگے فلاں مضامین رکھیو۔۔ ان ہی کرم فرماؤں میں ایک مولانا صاحب بھی تھے۔پوچھا کہ بیٹا آگے کیا ارادہ ہے ہم نے عرض کی “انجینئربنوں گا  انشاءاللہ”۔۔۔۔۔ وہ مولوی ہی کیا جس کو آپ کی آخرت کی فکر نا ہو۔۔۔ فرمانے لگے “یہ دنیوی علوم، یہ ڈگریاں کس فائدے کی۔۔؟ یہ آخرت میں کسی کام نہیں آئیں گی۔ آؤ ہمارے مدرسے میں داخلہ لو اور آٹھ سال میں جنت کی ڈگری حاصل کرو” ہم نے نہایت مؤدبانہ لہجے میں عرض کی ” حضور۔۔!!  جس دین میں رستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینے پر بھی ثواب کا وعدہ ہے اس دین میں انسانیت کے لیئے آسانیاں پیدا کرنے والے سائنسدانوں اور انجینئرز اور زندگیاں بچانے والے ڈاکٹرز کے لیئے آخرت میں کوئی اجر نہیں ہو گا۔۔۔؟ ارض و سما کے خزانوں کا مالک اتنا کنجوس تو ہو نہیں سکتا۔”

خیر۔۔۔۔۔ ہم اتنے بھی پارسا نہ تھے کہ مولوی صاحب کی باتوں پر کان دھرتے۔۔۔۔ اپنی علمی تشنگی بجھانے اور بچپن کے ارمان پورے کرنے کا خواب آنکھوں میں سجاۓ یونیورسٹی چل دیے۔سبحان اللہ۔۔! کیا ماحول ہے۔ روشن خیالی ہی روشن خیالی جیسے کسی چمن میں ہریالی ہو۔ علم کی روشن شمعیں اور ان کے گرد منڈلاتے پروانے، دل بے اختیار پکار اٹھا  “(ایسی ہی کسی)علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب”

الغرض۔۔۔۔۔ مغرب کے ترقی یافتہ معاشرے کی ہلکی سی جھلک نظر آرہی تھی۔اب ہم ہر روز بخوشی جامعہ آتے اور پاکستان کا روشن مستقبل دیکھ کر پھولے نا سماتے۔   یہ تو ذکر تھا اس ماحول کا کہ جو ہمیں یونیورسٹی کھینچ لاتا تھا۔ اب چلتے ہیں کلاس کی طرف۔ البرٹ آئن سٹائن جیسی وضع قطع کے حامل پروفیسر صاحب گوروں کو بھی نہ سمجھ آنے والی انگریزی میں120 الفاظ فی منٹ کی رفتار سے لیکچر دے رہے تھے۔ کسی کمبخت نے سوال پوچھنے کی گستاخی کر دی۔پروفیسر صاحب نے چشمہ درست کیا اور مونچھوں کو تناؤ دیتے ہوۓ کہنے لگے، “اٹس ویری سمپل یار۔۔۔۔ کیا مشکل ہے اس میں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم لوگ ابھی تک یہاں اٹکے ہو اور دنیا پریکٹیکلی یہ سب کچھ پرفارم کر چکی ہے۔ جانور کے جانور ہو تم لوگ۔۔ نیوٹن کے سر پر سیب گرا تو اس نے فزکس کے قوانین دریافت کر لیے اور تمھارے آباواجداد درختوں کے ساۓ تلے آرام فرماتے رہے۔۔۔۔” لیکچر اب حسن نثار صاحب کے ‘میرے مطابق’ میں بدل چکا تھا۔

” یس سر ۔۔ مان لیا ہمارے باپ دادا جاہل تھے۔ لیکن سر۔۔۔۔  ابا جان نے اپنی خون پسینے کی کمائی سے فیسیں بھر کر ہمیں یہاں بھیجا ہے۔۔۔ اسی جہالت کو مٹانے کے لئے۔۔۔۔۔ علم کے حصول کے لئے۔۔۔ سر۔۔! طعنے دینے اور غیرت مسلم جگانے کے لیے میڈیا پر بیٹھے تجزیہ کار ہی کافی ہیں یہ الگ بات ہے کہ وہ خود ایجادات کی دنیا میں ابھی تک کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دے سکے۔ سر آپ کو خدا نے موقع دیا ہے ان بچوں کو کچھ پڑھا دیجئے کچھ سکھا دیجئے۔ شکوہِ ظلمتِ شب سے کہیں بہتر ہے۔۔۔ اپنے حصے کی شمع جلاتے جائیے۔” ہم دل ہی دل میں بڑبڑاۓ۔ یہ حرف شکایت زباں پر لاتے تو بدتمیز اور انتہاپسند قرار پا کر کلاس بدر کر دئیے جاتے۔

ہمارے اس پیارے گلشن پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے مالیوں میں کچھ تو ایسے ہیں جو جنت الفردوس کے منتظر بیٹھے ہیں ان کواس ‘عارضی’ باغ و بہار سے کیا دلچسپی۔۔؟ اور باقی وہ ہیں جو طنز و تنقید کی بارشوں سے چمن میں بہار لانے کے خواب دیکھتے ہیں،حقیقت میں آبیاری کوئی نہیں کرتا۔ نتیجتاً بہت سی کلیاں پھول بن کر چمن کو خوشبو سے مہکہانے کے ارمان دل میں دباۓ کِھلنے سے پہلے ہی مرجھا جاتی ہیں۔

روشنی کے راستے میں، خود رکاوٹیں بن کر

لوگ کہتے پھرتے ہیں، ہر طرف اندھیرا ہے

(Visited 612 times, 1 visits today)

Muhammad Asad Ali is a student of engineering sciences based in Abbotabad. His areas of interests are social issues and current affairs.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے