Here is what others are reading about!

پشتون ملنگ

عرصہ دراز سے وفاق پاکستان میں رہتے ہوئے پشتون قوم نے اس ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنے میں اپنا حصہ ڈالنے کو تب سے اپنا فرض منسبی جانا ہے جس دن سے خان عبدالغفار خان نے اس کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی بقا کو اپنی ذمہ داری مانا ہے  ۔  تب سے لیکر اب تک پشتون رہنماوں نے غداری جیسے سنگین الزامات کے باوجود اس ملک کی سلامتی اور اس اعظیم تصور کو زندہ رکھنے کی کوششوں سے ایک لمحہ بھی دستبرداری اختیار نہیں کی۔ اس ملک میں جمہوریت اور جمہوری طاقتوں کا ساتھ دیا ۔اس امیدمیں کے حقیقی جمہوریت کے بیج سے اگنے والے اس درخت کی کوئی  شاخ شاید کسی دن ان کے اپنے آنگن میں پھل دینے لگ جائے۔ اسی پاداش میں پشتون سیاسی رہنماؤں نے مصالحت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ۔ مصالحت کی اتنی انتہا کا  یہ نتیجہ  نکلا کہ آجکل کا پشتون نوجوان افغانستان میں رہنے والے اپنے ہی پشتون بھائی کو اپنا دشمن اور بھارت کا دوست گرداننے لگ گیا۔ لیکن 14گست کی رات کو سب سے پہلے پاکستان اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے لے کر پاکستانی قومی ترانے پر آنکھ پرنم ہونےتک  سے اجتناب نہ کیا اور کرتا بھی کیوں اسے اپنے بزرگوں کے قول کا پاس جو رکھنا تھا  ۔

اپنے بزرگوں سے وفا کی یہ انتہا تو دیکھو کہ کبھی یہ پشتون ایک اشارے پر آدھا کشمیر فتح کر گئے تو کبھی روس جیسی عالمی طاقت کو شکست دے گئے۔ اس مغرور معشوقہ وطن  کے عشق میں گرفتار اس پشتون نے طرح طرح کے پاپڑ بیل لئے لیکن مجال ہے کہ نکما اب بھی باز آجائےاور باز آئے بھی تو کیونکر ،یہ دیوانگی تو اب اس کی پہچان بن گئی۔ اسے دنیا اب مر مٹ جانے کہ اسی فن سے جانتی ہے ۔

 مصالحت کی یاد بھی ابھی تازہ ہے بس پچھلے ہی دور حکومت کی بات ہے کہ پشتون رہنماوں نے خندہ پیشانی سے مصالحتی سرمے کے ہر نئے برانڈ سے آنکھیں کالی کر لیں یہاں تک کہ پشتون رہنماؤں کو اپنے ہی لوگوں کے طعنےسننا پڑھ گئے۔ لمحہ بھر بھی اس نے دن بدن زخم خوردہ ہوتے اپنے جسم کو نہ دیکھا ۔ تھوڑی بہت فریاد کی لیکن وہ بھی سرگوشی میں۔ عشق کی انتہا تو یہ ہوگئی کہ حال ہی میں پشتونوں نے اپنے گلے میں 17 معصوم لاشوں کی مالا پہن کر پاکستان کی اپنے سابقہ ٹکڑے،بنگالیوں کے خلاف کرکٹ کے میچ میں فتح پر ایسا دیواناوار رقص کیا کے درویشی اور ملنگی کے نئے ریکارڈ بنا دیئے ۔ کیا ہوا اگر 17لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،  معشوقہ کے اقبال کا سورج ہمیشہ چمکتا رہے۔

 مگر رہ رہ کر نہ جانے یہ کیوں خیال آتا ہے کے شاید یہ پشتون ان زخموں کے ساتھ زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکیں گے۔ کہیں اس معشوقہ کے عشق کی یہ داستان ہی نہ دم توڑدے۔ پھر کون اس کی خاطر مر مٹے گا۔ پہلے ہی بلوچوں کو ناراض کر چکی ہے مغرور کہیں  کی  ۔ پشتونوں کو  بھی نہ کھو دے ۔ لیکن اسے پرواہ ہی نہیں کہ اس کی عاشق پشتون قوم کٹ رہی ہے  ۔ شاید خود پشتونوں کو ہی کچھ کرنا پڑے۔ معشوقہ کے من مانی کے شوق سے کسی دور میں پشتون قوم کو لگے ہوئے دہشتگردی کے اس سرطان سے متاثرہ جسم کے کچھ حصوں کا خود ہی کوئی علاج نکالنا پڑے یا شاید کچھ حصوں کو کاٹ ہی دینا پڑے یا پھر شاید اگر جان کی امان پائے تو  فریاد ہی کرلے کہ تمہارے دیوانے کی قوت مدافعت جواب دے رہی ہے اسے بچا لو کہیں تمہاری زینت میں کسر نہ رہ جائے۔

(Visited 543 times, 1 visits today)

Muhammad Fawad is a Peshawar based freelance writer. His areas of interests are nationalism, social change and political activism.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے