Here is what others are reading about!

ہمارا المیہ

ہمارے عہد کا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک سانحے پر ٹھیک طرح سے نوحہ کناں بھی نہیں ہو پاتے کہ اگلا سانحہ یا حادثہ پیش آ جاتا ہے اور ہم شش و پنج میں مبتلا عالم حیرت میں غوطے کھاتے ایک دوسرے کی شکلیں ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں.ایک کے بعد ایک قیامت ٹوٹتی ہے اور پھر سے ایک نئی قیامت کا انتظار. معاشروں میں سحر کی آمد کا انتظار کیا جاتا ہے لیکن ہم دہشت و وحشت کی تاریکیوں کا انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں.لاہور واقعہ اور اس میں جاں بحق ہونے والے بچے اور افراد کا سوگ نہ جانے اور کتنی راتوں کو اداسی کی دبیز چادر کی تہہ تلے سلگاتا رہے گا. جن کے پیارے اس سانحے میں گئے انہیں تو شاید اب کوئی حرف یا عمل تسلی نہیں دے سکتا نہ ہی کوئی بھی مسیحا ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتا ہے. لیکن افسوس یہ ہے کہ اس دکھ کو اجتماعی طور پر محسوس کرنے کی حس   بھی ہم میں  ختم ہو گئی. ایک بار پھر ایک سانحہ ہوا اور ایک بار پھر ہم منقسم نظر آئے.  جن وحشی درندوں نے دہشت کا یہ کھیل کھیلا ان کے ہمدرد جو معاشرے میں ہر سو پھیلے ہوئے ہیں اس واقعے کو رد عمل یا بیرونی سازش کا لبادہ اوڑھاتے نظر آئے. گویا جیسے گلشن اقبال پارک میں کھیلتے معصوم بچے رد  عمل کی بھینٹ چڑھ کر اس درندگی اور وحشت کے پاگل پن میں محض ایک وڈیو گیم میں مرنے والے چند ڈیجیٹل کردار تھے. ہمارا المیہ دہشت گردی یا شدت پسندی نہیں ہے بلکہ ہماری سوچ  اور نظریاتی اساس ہے.اس سوچ کے تابع ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ کسی بھی انسانیت سوز واقعے پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے اپنی اپنی نظریاتی چھتری کے نیچے چھپ کر ایک دوسرے پر  لفاظی وار کرتے ہیں.آرمی پبلک سکول کے سانحہ سے لیکر باچا خان یونیورسٹی اور اب گلشن اقبال پارک سب سانحے درندگی اور بربریت کا نشان تھے.لیکن کس قدر بے رحمی کے ساتھ ہم کبھی مخصوص فرقوں کبھی مخصوص نظریات پر ان واقعات کی فرد جرم عائد کر کے اپنی اپنی ذمہ داری سے آزاد ہو گئے. نہ جانے ہمارے ساتھ یہ کیا ہو گیا ہے کہ محض لاشوں کی تعداد گن کر اور اپنی اپنی بھڑاس مقتولوں کے نام پر نکال کر پھر سے اگلے سانحے کا انتظار کرتے ہیں.پھر ایک اور سانحہ پھر وہی روایتی مذمت یا ہمدردی اور اپنے اپنے بچوں کی باری کا انتظار.مرغیوں کی مانند اپنے اپنے ڈربوں میں بند دل کو جھوٹی تسلیاں دیتے کہ قصاب ہمیں ذنج نہیں کرے گا. ہم نے اپنے  کھوکھلے نظریات ہماے فرسودہ قومی و مذہبی بیانیہ اور ہماری گلی سڑی سوچ اقبال پارک جو کبھی  لاہور کبھی آرمی پبلک سکول اور کبھی باچا خان یونیورسٹی میں معصوم بچوں کی جان لیتی ہے ان سب  کو نہ بدلنے کی جیسے قسم اٹھا رکھی ہے. سوال یہ نہیں ہے کہ ہم دہشت گردوں کا صفایا کیسے کریں گے سوال یہ ہے کہ اپنے اندر کے دہشت گرد مائنڈ سیٹ کو آخر کب اور کیسے  تبدیل کریں گے. ہر سانحہ کے بعد ہم کب تک جھوٹی تسلیاں دے کر اپنے آپ کو فریب میں مبتلا کیئے رکھیں گے کہ بچوں کی جان لینے والے دہشت گرد مسلمان نہیں ہو سکتے.کب تک یہ گھسا پٹا جملہ جو اب سماعتوں میں زہر بن کے گھلتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اسے بطور ڈھال استعمال ہی کرتے رہیں گے. یہ معصوم بچے جو ان سانحات میں جان سے جاتے ہیں ان کا خون ہمارے بنائے ہوئے جھوٹے نظریات پر بھی ہے اور ہم سب بھی ان کے قتل میں برابر کے شریک ہیں. جس دن ہم مذہب اور قومیت کے نعرے لگاتے دنیا کو فتح کرنے کے جذباتی اور غیر منطقی افکار نسلوں میں منتقل کرتے ہیں ہم اسی دن سانحہ گلشن اقبال پارک اور آرمی پبلک سکول جیسے لاتعداد واقعات کی بنیاد رکھ دیتے ہیں.آخر کو کتنے بچے قربان کر کے ایک عام فہم سی بات ہماری سمجھ میں آئے گی کہ دہشت گردی کا ماخذ یہی سوچ ہے جسے ہم خود اپنے بچوں میں منتقل کرتے ہیں. یہ وطن کیا ہم نے اپنے ہی معصوم بچوں کی خون کی ہولی کھیلنے کیلئے حاصل کیا تھا.کیا ہماری نظریاتی اساس  تلوار اور بندوق کے گرد گھومتی تھی.ایسا تھا تو بانیان پاکستان ہمارے  قومی جھنڈے میں سبز اور سفید رنگ کے ساتھ چاند تارہ نہیں بلکہ بندوق اور تلوار کا نشان بناتے.ہم نے یہ وطن کیا عربوں اور امریکہ کی پراکسی جنگیں لڑنے کیلئے حاصل کیا تھا؟  ایسا تھا تو جناح نے کیوں کبھی اس کا ذکر نہیں کیا؟ دفاع کے نام پر قائم بیانیہ ہزاروں بچوں اور  معصوموں کو نگل گیا مشرقی پاکستان کو بھی علحدہ کر ڈالا لیکن آج تک اسی طرح قائم دائم ہے.کمال کی بات ہے اب بھی یہ بیانیہ دفاع کو ہی معاشرے کی بقا کا ضامن سمجھتا ہے.مذہبی بیانیہ آج بھی جہاد قتل دنیا پر غلبہ کی جھوٹی کہانیاں پیش کرتا ہے.قتل کو بہادری اور جہاد کو فرض قرار دیتا یہ بیانیہ یہ بھی دیکھنے سے قاصر ہے کہ جہاد اور قتل صرف اور صرف ایک دوسرے کے خلاف ہو رہا ہے. یہ بیانیہ قتل جہاد اور کفار کو نیست و نابود کرنے کا سبق معاشرے میں دیتا ہے اور پھر دہشت گردوں کو خود ہی پیدا کر کے اپنے ہی بچے ان کے ہاتھوں مروا کر اعلان فرماتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا. معاشرے میں بسنے والی اکثریت ان دونوں بیانیوں سے متاثر ہو کر فکری و نظریاتی اساس بناتی ہے اور پھر ایک دوسرے کو کافر اور گناہ گار قرار دیتے ایک دوسرے ہی کے گلے کاٹ دیتے ہیں.اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ احمدی اسماعیلی مسیحی اور دیگر اقلیتیں قابل نفرت ہیں.دنیا بھر کی غیر مسلم اقوام ہماری دشمن ہیں یوں بچہ ہوش سنبھالنے کی عمر تک دوسروں سے نفرت کرنا سیکھ جاتا ہے.اپنے سوا ہر کسی کو کافر یا گمراہ سمجھتا ہے اور پھر انہی بچوں میں سے دہشت گرد اور ان کے معاونین پیدا ہوتے ہیں جو جنت اور حوروں کی لالچ میں اس معاشرے اور دنیا کو جہنم بنا ڈالتے ہیں.کیا یہ سیدھا سا کلیہ سمجھنا اتبا مشکل ہے کہ ہم ان تمام سانحوں کے بعد بھی بچوں کے زہنوں میں نفرت اور شدت پسندی کے بیج بونا نہیں چھوڑتے. گلشن اقبال پارک  اور دیگر سانحات میں اجڑنے والی ماوں کی گودوں  کا ذمہ دار یہ رویہ ہے جسے ہم ترک نہیں کرتے تو پھر ہمیں ان ماوں سے جھوٹی ہمدردی دکھانا بھی چھوڑ دینی چاھیے. ویسے بھی دنیا میں نہ تو کوئی لفظ ایسا تخلیق ہو سکا ہے جو کسی ماں کو اس کے لال کے ہمیشہ کیلئے چھن جانے پر صبر دے سکے اور نہ ہی کوئی ایسا مرہم جو ماوں کی سونی گودوں کے زخم پر مرہم رکھ سکے.اور پچھلے 69 برسوں سے ہم نے لفاظی کے علاوہ اور کیا بھی کیا ہے. سانحہ گلشن پارک کے جاں بحق بچوں عورتوں اور افراد کو ایسا کونسا دفاعی مذہبی بیانیہ یا سوچ ہے جو زندگی واپس دلوا سکے.ان کے لواحقین کے آنگنوں  کو کونسا ایسا میڈل یا انعام ہے جو دوبارہ سے ہنستا بستا اور زندگی کے قہقہوں سے پھر آباد کر سکے.لیکن ہمیں کیا فرق پڑتا ہے ہم بہت ہوا تو پھر سے کوئی نیا گانا بنا کر دشمن کو موسیقی کے میدان میں شکست فاش سے دوچار کر دیں گے.کچھ دن موم بتیاں جلا کر اور دعائیں کروا کر پھر سے اپنی معمولات زندگی میں مصروف ہو جائیں گے.پھر سے کافر کافر کھیلیں گے پھر سے دنیا کو نیست و نابود کرنے کے طریقے ڈھونڈے گے پھر سے اپنے بچوں کو اپنی ملک کی اقلیتوں اور دنیا کی غیر مسلم اقوام سے نفرت کرنا سکھاتے رہیں گے .ہمارا المیہ ہماری فکری سوچ اور دفاعی و مذہبی بیانیہ ہے جسے ہم تبدیل کرنے کو ہرگز بھی آمادہ نہیں.ہم آج سے کئی سو برس  پہلےکی دنیا میں جی کر خوش ہیں جہاں تلوار کے زور پر دنیا کی حاکمیت قائم ہوتی تھی.بدقسمتی سے دنیا اس وقت اکیسویں صدی میں جی رہی ہے نا کہ پچھلی صدیوں میں .اور بقول مرحوم جون ایلیا کہ ہمارے ہاں بیسویں صدی کبھی آئی ہی نہیں تو یہ تو پھر 21ویں صدی ہے جس کی رمز سے ہم سب ناآشنا اور نابلد دکھائی دیتے ہیں.

(Visited 541 times, 1 visits today)

Imad Zafar is a journalist based in Lahore. He is a regular Columnist/Commentator at Daily Ittehad, Resident Editor at Free Press Publications and Resident Editor at World Free Press. He is associated with TV channels, Radio, news papers,news agencies political, policies and media related think tanks and International NGOs.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے