Here is what others are reading about!

ڈیڑھ سو روپے

“یار بٹ ! اِس  کو بیٹھے بٹھائے یہ کیا سوجھی؟ اچھی بھلی یہاں ڈراموں میں کام کر رہی تھی۔ ایویں ای  انڈیا  کی فلم سائن کر لی اُس نے!”

ادھیڑ عمر کلرک نے اپنے سامنے والی میز پر بیٹھے قاسم بٹ کو اخبار دیتے ہوئے کہا۔

قاسم بٹ نے اپنے ساتھی کلرک کی بات کا جواب دینے کی بجائے اخبار کو اُلٹ پلٹ کر دیکھا، فلمی صفحہ  سامنے رکھ کر اطمینان سے سگریٹ جلایا اور پھر ٹھنڈی سانس بھر کر بولا، 

“سعید بھائی ! یہ تو وہی  بتا سکتی ہے کہ اُس نے ایسا کیوں کیا۔” یہ کہتے کہتے وہ غور سے ایک خبر پڑھنے لگا۔ 

سعید نے قاسم بٹ کو خبر میں گُم دیکھ کر حنیف سے بات کرنا چاہی۔ 

“خیر تو ہے حنیف ڈیئر ! آج کیا بات ہے میری جان ! بڑی چُپ چُپ سی ہیں سرکاریں!!” 

بیالیس سالہ حنیف نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو سعید اور قاسم بٹ دونوں اُسے جواب طلب نگاہوں سے گھور رہے تھے۔ حنیف نے دونوں کلرکوں کو اپنی طرف متوجہ پا کر جواب دینے میں ہی عافیت جانی۔ حالانکہ آج اُس کا کسی سے بھی بات کرنے کو دِل نہیں چاہ رہا تھا۔ 

” بس یار ! طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔” اُس نے ماتھے کو آہستہ آہستہ سہلاتے ہوئے کہا۔ 

” تو دفتر سے چھٹی کر لیتے !!” قاسم بٹ ناک پر رکھی ننھی مُنی عینک کے اوپر سے دیکھتے ہوئے بولا۔ 

“چھُٹی ؟ نہیں یار! آج تو صاحب کے ساتھ دورے پر جانا ہے۔”

“کوئی دوا لے لیتے؟ ” سعید کی آواز ہتھوڑا بن کے حنیف کے کانوں پر برسی۔ لیکن وہ مصنوعی مگر پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ صرف اتنا کہہ سکا، ” پون سٹان لی تھی صبح۔” 

“اچھا ۔۔ اچھا۔” سعید نے کہا اور پھر دوسرے کلرک کی طرف متوجہ ہو گیا۔ 

حنیف کو اس دفتر میں کام کرتے ہوئے ایک طویل عرصہ گزر چکا تھا۔ پندرہ بیس سال پہلے وہ ایک دراز قد، پتلے نقوش والا سانولا سا صحت مند نوجوان تھا۔ وہ پیدل دفتر آتا تھا اور اُس کے قہقہے سارا دن دفتر میں گونجتے تھے۔ مگر شادی کے بعد چار بچوں کی پیدائش اور اُن کے اخراجات نے گویا اُس کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔۔۔ اور اب جبکہ وہ گھر سے سائیکل پر دفتر آتا تھا تو اسکا سانس پھولنے لگا تھا۔ اس کے بال سفید ہونا شروع ہو گئے تھے اور آنکھوں میں عجیب سا پتھریلا پن اُتر آیا تھا۔ 

آج صبح اُس کی خاموشی کی وجہ بیوی سے لڑائی تھی۔ 

پچھلے ماہ بیوی کے رشتہ داروں میں ایک شادی کی وجہ سے اُسے کسی سے قرض لینا پڑ گیا تھا اور اِس ماہ کے آغاز میں ہی تنخواہ کا ایک بڑا حصّہ اُس قرضے کی ادائیگی کی نذر ہو چکا تھا۔ گھر کا سودا سلف بھی پورا نہ آ سکا تھا۔ چھوٹے بچے کے پھٹے ہوئے بوٹ اِس ماہ بھی مرمت کروا لئے گئے تھے۔ بڑی بیٹی کا یونیفارم بنوانا تھا اور مُنّی کے سکول کی فیس ادا کرنا تھی۔ محلے کے سکول کے پرنسپل نے کل شام مسجد سے نکلتے ہوئے اُسے فیس کے بارے میں یاد دلایا تھا۔۔۔ اُسے کس قدر کوفت اور شرمندگی ہوئی تھی۔ 

اور۔۔۔۔ آج صبح حمیدہ نے پھر وہی قصہ چھیڑ دیا تھا۔ 

” سُنیں ! اگر آج بھی منی کی فیس جمع نہ کروائی تو اُس کا نام کٹ جائے گا۔”

” تو کٹ جائے۔۔۔ میری بلا سے۔ اچھی بھلی باقی بچوں کی طرح سرکاری سکول میں پڑھ رہی تھی ۔۔۔ تمہیں ہی شوق تھا اسے انگریزی سکول میں پڑھانے کا۔” 

حنیف نے جلدی جلدی جرابیں پہنتے ہوئے غصے سے کہا تھا۔ دوسری جراب ایڑی کے قریب سے پھٹ گئی تھی اور پوری ایڑی جراب کے پھٹے ہوئے گول دائرے سے باہر جھانک رہی تھی۔ حنیف چلایا،

” اتنا تو تم سے ہو نہیں سکتا کہ میری جرابیں ہی رفو کر دیتی۔”

حمیدہ نے سُنی ان سُنی کرتے ہوئے کہا، “انھوں نے فیس بڑھا دی ہے۔”

“بہت اچھا کیا ہے اُنھوں نے۔” حنیف کی آواز بلند ہونے لگی۔” اِن گلی محلے کے سکولوں نے جو قیامت ڈھا رکھی ہے ۔۔  تم بھی جانتی ہو۔ پتہ ہے؟ اتنی فیس وصولنے کے بعد پڑھانے والوں کو کیا دیتے ہیں ۔۔۔ صرف تین ہزار روپے۔۔۔ اور دستخط کرواتے ہیں سات ہزار پر۔۔۔ اور اوپر سے پڑھائی کا معیار دیکھ لو۔۔۔ اور اب بیٹھے بٹھائے فیس بڑھا دی ہے۔” 

” صرف ڈیڑھ سو روپے ہی تو بڑھائے ہیں انھوں نے۔” حمیدہ روہانسی ہو رہی تھی۔ 

“ہاں۔۔۔ صرف۔۔۔ ڈیڑھ سو روپے۔” حنیف نے “صرف” پر زور دیتے ہوئے کہا۔ 

“ڈیڑھ سو ہوں  یا ڈیڑھ ہزار ۔۔ تمہیں کیا پروا۔۔۔ دن رات کی چکی میں تو مُجھے ہی پِسنا ہے ناں! وہ بھی اُس دُکھتی کمر کے ساتھ۔” 

” تو مُنی کی فیس ؟”حمیدہ گویا بات بڑھانے پر تُلی ہوئی تھی۔

” نہ بھیجو اُسے سکول آج ۔۔ کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔” 

” ہائے ہائے!  آپ بھی کمال کرتے ہیں ۔ بچی کی پڑھائی ضائع ہوگی ۔۔ اگلے مہینے سے امتحان شروع ہو رہے ہیں۔” 

” تو ہو جائیں شُروع۔ یوں بھی پڑھ لکھ کر یہ کیا بن جائیں گے۔” حنیف نے سائیکل سٹینڈ سے اتارتے ہوئے کہا۔ حمیدہ نے کھانے کا ڈبہ سائیکل کے ہینڈل پر لٹکا دیا۔ 

” اور ۔۔۔ آج ہر صورت میں کہیں سے پیسوں کا انتظام کر کے آئیے گا۔۔۔۔۔” اس قسمت کی ماری نے چلتے چلتے حنیف کو پھر آواز دے دی۔ 

سائیکل کا پہیہ وہیں رُک گیا۔ حنیف کا دماغ بھک سے اُڑ گیا تھا۔ پیسہ پیسہ کی مسلسل تکرار نے اُس کی سوچ کو مفلوج کر دیا تھا۔ غصے کی شدت میں نہ جانے دونوں اطراف سے کیا کچھ کہا گیا۔۔۔۔ محلے والوں نے کیا کچھ سُنا۔۔۔خلاصہ ساری بات کا کہ حنیف حسبِ عادت حمیدہ پر ہاتھ چھوڑ بیٹھا اور غصے سے پھنکارتا ہوا دفتر چلا آیا تھا۔ 

ساتھی کلرکوں کے ایک قہقہے سے وہ چونک کر دفتر کی دُنیا میں واپس آگیا۔ سعید اور قاسم بٹ کے درمیان کرکٹ پر گرما گرم بحث چل رہی تھی۔ 

“دیکھا۔۔۔۔ یہ میچ فکسڈ تھا۔” سعید با آوازِ بلند اعتماد سے بولا۔ 

“نئیں یار ۔۔ تم نے کل آخری اوور نہیں دیکھا۔ اگر میچ فکسڈ ہوتا تو آخری بال تک کھیل نہ جاتا۔۔۔ اور پھر آخری بال تک جس طرح دونوں کھلاڑی ڈٹے رہے ہیں ۔۔۔ ہائے ہائے ہائے۔۔ وہ تو۔۔۔” 

قاسم نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی کیونکہ چپڑاسی رمضان کمرے میں داخل ہو چکا تھا۔ یہ سب اُس کو صاحب کا ٹاوٹ کہتے تھے اور ان کے خیال میں وہ دفتر کی ہر بات صاحب تک پہنچاتا تھا۔ 

رمضان سیدھا حنیف کی میز کی طرف گیا۔ 

” صاحب آپ کو بُلا رہے ہیں۔ ” اُس نے حنیف سے مسکرا کر نظر ملائی۔ اُس کی آنکھوں میں شاید اپنی اہمیت کا اعتماد جھلک رہا تھا۔ 

حنیف نے جلدی سے گھڑی کی طرف دیکھا۔ سوا دس بج رہے تھے۔ اُسے دس بجے صاحب کے کمرے میں دورے کی فائل لے کر جانا تھا۔

” سر یہ فائل ۔۔” حنیف نے فائل میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ 

” اوہ ہاں ۔۔ایکسکیوز می ۔۔” صاحب نے اپنے کمرے میں موجود ایک خوش لباس شخص سے کہا جو سامنے صوفے پر بیٹھا تھا۔ صاحب کافی دیر سے اس سے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔  وہ دراصل صاحب کا دوست تھا جو ان سے کبھی کبھار ملنے کے لئے آ جاتا تھا۔ 

صاحب فائل کی ورق گردانی کرنے لگے۔ صاحب کے خوبصورت سگار سے خوشبودار تمباکو کمرے کے ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں ایک عجیب طرح کا تاثر گھول رہا تھا۔ حنیف کو ہلکی ہلکی سردی محسوس ہونے لگی۔

“ویل ! حنیف تُم ڈرائیور سے کہو کہ وہ گاڑی نکالے۔ یہ میرے دوست جو اسلام آباد سے آئے ہیں، ہمارے ساتھ ہی چلیں گے۔” 

صاحب آہستہ مگر گھمبیر آواز میں بولے۔ 

” رائیٹ سر !” حنیف کمرے سے باہر آ گیا۔ 

دو گھنٹے کا سفر خاصا طویل ہو گیا تھا۔سرکاری  کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے صاحب اور ان کے دوست کے قہقہے، ڈرائیور کے برابر بیٹھے حنیف  کے کانوں میں مسلسل  گونج رہے تھے۔ مگر وہ حمیدہ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ 

” کتنی خوبصورت ہوتی تھی وہ۔ پہلے بچے کی پیدائش تک اُس کی صحت قابلِ رشک تھی ۔۔ لیکن پھر وہ آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگی۔ اس کے ترو تازہ چہرے کی جلد جیسے جھلس سی گئی تھی۔ مزید تین بچوں کی پیدائش کے بعد تو اس کے گالوں کی ہڈیاں تک اُبھر آئی تھیں۔ کتنے دُکھ سکھ اس نے ساتھ گزارے تھے اور پھر حنیف کی سختیوں کے باوجود وہ اُسی کو اپنا اور اپنے بچوں کا سب کچھ سمجھتی تھی۔ حنیف کو حمیدہ پر بے طرح پیار آنے لگا۔ وہ اپنے کئے پر سخت نادم تھا۔ اسے حمیدہ کی سوجی ہوئی مگر خوبصورت آنکھیں یاد آنے لگیں۔ وہ سوچنے لگا ، ” آج میں ہر صورت حمیدہ کو جا کر منا لوں گا۔۔۔ اور ۔۔ اور اس سے معافی ۔۔  نہیں نہیں مرد عورت سے معافی مانگتے اچھے نہیں لگتے ۔۔ لیکن نہیں ۔۔ میاں بیوی تو گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں ۔  تو جب برابری ہے تو معافی مانگنے میں کیا ہے ۔۔ ہاں ٹھیک ہے اور واپسی پر میں اس کے لئے گجرے بھی لے کر جاؤں گا۔۔ آج تک میں نے اس بے چاری کو دیا بھی کیا ہے۔۔۔لیکن مُنّی کی فیس ۔۔۔۔۔” 

طمانیت کے چند لمحوں کے اختتام پر منی کی فیس کے خیال سے جیسے اس کا مونہہ کڑوا ہوگیا۔ 

اسکے صاحب کا ایک زور دار قہقہہ گاڑی میں گونجا۔ 

” شاہین صاحب کو تو میں نے مشورہ دیا تھا کہ یہ کھٹا رہ بیچ کر اب پری ایس ہائبریڈ لے لیں۔ ابھی چند دنوں کی ہی بات ہے کہ میرا اِفتی ضد کرنے لگا کہ ابّو ۔۔۔ مجھے نہیں پتہ ۔۔ میرے سارے دوستوں کے پاس آر ایکس ایٹ ہے ۔۔۔ میں بھی یہی کار لونگا۔۔۔ اچھا خاصا ہیوی بائیک تھا اس کے پاس ۔۔ ہا ہا ہا ۔۔  خود ہی ۔۔ بیچ آ یا جا کر ۔۔ یہ آجکل کے بچے بھی ۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔” 

حنیف کا دھیان اپنے سائیکل کی طرف گیا۔ پانچ سال پہلے اُس نے قسطوں پر یہ سائیکل لی تھی۔ ٹائر ٹیوب پھر گِھس گئے تھے اور روزانہ ” ہمیں بدل ڈالو” کی فریاد کرتے تھے۔ چین اس حد تک خراب تھی کہ کئی بار چلتے چلتے ایکسل اور پیڈل کی پکڑ سے آزاد ہو جاتی اور حنیف یوں  تیز تیز ٹانگیں ٹانگیں چلانے لگتا جیسے کسی نے فلم تیز چلا دی ہو۔ 

” تو لے کر دے دیں ناں اُسے سپورٹس کار۔۔زمینوں پر بھی تو آپ اِفتی کو ہی بھیجتے ہیں۔۔۔ یوں بھی بچے ہیں ہمارے۔۔ آخر انہی کے لئے تو کماتے ہیں۔”  صاحب کے دوست چہک کر بولے۔ 

” زمینیں ؟ توبہ کرو ۔۔ کہتاہے ابو جی بس گریجویشن مکمل کر لوں تو یو کے جاؤں گا۔۔۔ ہائر سٹڈیز کے لئے۔۔ تین ماہ میں ایک بار بھی زمینوں کا چکر لگا لے تو بڑی بات ہے۔۔۔ یہ جھنجٹ بھی مجھے ہی  دیکھنا ہوتے ہیں۔۔۔ اب پتہ ہے ۔۔ پچھلے ماہ کیا کہہ رہا تھا ؟ ۔۔۔ کھی کھی کھی ۔۔ ” صاحب مسلسل ہنس رہے تھے۔

” ۔۔۔۔ کہہ رہا تھا ۔۔ ابّو ۔۔ آپ ہی سارے کام کیا کریں۔۔۔ابھی تو آپ جوان ہیں ۔۔ ایک دم فِٹ ۔۔۔ کہتا ہے ۔۔۔ میرے دوست کہتے ہیں کہ تمہارے ابُو تو تمہارے بڑے بھائی لگتے ہیں ۔۔ شیطان کہیں کا ۔۔  ہا ہا ہا ۔۔ ہا ہا ہا۔۔ ” 

صاحب کے قہقہے پوری گاڑی میں پھیلے ہوئے تھے۔۔۔ڈیش بورڈ میں لگی اے سی کی جالیوں سے ، سیٹوں کے نیچے سے، چھت سے ، دروازوں سے ۔۔۔ ہر طرف سے قہقہے اُبل رہے تھے۔ 

حنیف کے سینے سے گرمی کی لہریں نکلنے لگیں حالانکہ گاڑی ٹھنڈی تھی۔ تپتی دوپہر میں اندر اور باہر کے ماحول میں زمین آسمان کا فرق تھا۔  

اُس نے کن اکھیوں سے ڈرائیور کو دیکھا۔ بوڑھا ڈرائیور ان سب باتوں سے بے نیاز گاڑی چلا رہا تھا۔ شاید وہ عادی ہو چکا تھا ان سب باتوں کا۔ 

کینال سائیٹ پر حنیف فائل اٹھائے صاحب کے ساتھ ساتھ پھرتا رہا۔ آخر دورے کا پہلا حصّہ مکمل ہوا۔ پروگرام کے مطابق صاحب لوگوں کا کھانا جنگلات کے ایک افسر نے ارینج کیا ہوا تھا۔ وہ بھی صاحب کے خاص دوستوں میں سے تھے۔ 

جنگلات والے صاحب کے کمرے کا دروازہ کھلتا اور بند ہوتا رہا۔ کمرے میں ہاٹ پاٹ، ڈونگے، پلیٹیں اور کولڈ ڈرنک جاتے رہے۔ حنیف کھانے کا ڈبہ دفتر میں ہی بھول آیا تھا۔ خُشک روٹی، دال اور اچار کی ایک پھانک ۔۔۔ وہ اکثر سوچا کرتا تھا کہ کیا وہ بھی کبھی اِس سے بہتر کھانا کھا سکے گا؟ لیکن آج اُسے وہ بھی نصیب نہ تھا۔ اُسے اپنے اوپر بے طرح غُصّہ آنے لگا۔ 

بوڑھے ڈرائیور نے کھانے کا ڈبہ نکالا اور کہتا رہا کہ “آؤ ۔۔ کھا لو ” مگر حنیف “نہیں ۔۔ شکریہ۔۔ مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔ میں دفتر سے کھا کر چلا تھا۔۔” وغیرہ کہہ کر ٹالتا رہا۔ 

کھانے کے بعد صاحب لوگ پھر سے کینال سائیٹ پر تھے۔ پراجیکٹ پر بحث کرتے اور کاغذات کے پلندے کھنگالتے انھوں نے چھے بجا دیے۔ واپسی کا  سفر بھی عذاب سےکم نہیں تھا۔ ۔۔۔ صاحب لوگوں کی باتوں اور بھوک کی وجہ سے سر۔۔۔ درد سے پھٹا جا رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ کمر کے درد نے بھی  اُسے بے جان کر رکھا تھا۔

صاحب کے قہقہے جاری تھے۔۔۔۔

” اب اکرام صاحب نے بیٹے کی شادی کی ہے۔۔ غضب خدا کا ۔۔ گوشت کی پانچ ڈشیں تھیں۔۔ خاصہ خرچہ ہو گیا بے چاروں کا۔ مہنگائی اتنی ہے کہ چیزوں کو تو گویا آگ لگی ہوئی ہے۔۔ چکن تو یہیں سے مل گیا تھا لیکن بکرے جا کر گاؤں سے لانے پڑے۔ پورے بیس بکرے لائے۔۔ ویسے شادی تھی بڑی شاندار۔۔۔۔۔ بارات اسلام آباد  گئی تھی۔۔ ہاں اسلام آباد سے یاد آیا وہ آپ کے اسلام آباد والے پلاٹ کا کیا ہوا؟ ” 

” ہونا کیا تھا۔۔۔ رِنگ روڈ گزرنے والی ہے وہاں سے ۔۔۔ قیمتیں آسمان پر چڑھ گئیں۔۔۔ مگر میں نے تو سستا ہی بیچ دیا ۔۔۔ صرف ڈیڑھ کروڑ میں۔” صاحب کے دوست کے لہجے میں تاسف تھا۔ پھر بولے، ” اور آپ کے بھانجے کو بھی تو کوئی پلاٹ ولاٹ چاہئے تھا ۔۔۔ کیا بنا؟ ” 

” ہاں چاہئے تو تھا لیکن میں نے اسے فنانس منسٹری میں لگوا دیا ہے۔۔۔ میں نے کہا کہ یہ پراپرٹی وراپر ٹی کے چکر سے نکلو۔۔۔ کوئی ڈھنگ کی جاب کرو۔۔۔ مانتا تو نہیں تھا لیکن آہستہ آہستہ جاب اُسے پسند آ ہی گئی ۔۔ ایک تو اس نئی پود کے مُوڈ کا پتہ نہیں چلتا۔” 

حنیف کا ایک بھانجا جس نے بی اے کر رکھا تھا۔۔۔ چار ماہ حنیف کے پاس شہر میں رہ کر ناکام و نامراد واپس چلا گیا تھا۔۔۔ حنیف نے کِس قدر پاپڑ بیلے تھے۔۔۔ کتنے صاحب لوگوں کی منتیں کی تھیں ۔۔۔ مگر اُس کے بھانجے کو نوکری نہ مل سکی تھی۔ 

” یہ سارے کھیل اوپر  کے ہیں ۔۔۔ اوپر کے گریڈ۔۔ اوپر کی آمدنی ۔۔۔اور  اوپر کا دباؤ  ۔۔۔ میری جان۔” سعید کلرک نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا تھا۔ 

” یہ جو اوپر والے لوگ ہوتے ہیں ناں۔۔۔ان پر اوپر والا بہت مہربان ہوتا ہے۔۔۔ ان کی  اپنے جیسوں سے بہت یاریاں ہوتی ہیں۔۔۔ یہ لوگ ایک دوسرے کے کام اپنے اپنے مفادات کو پیشِ نظر رکھ کر کرتے ہیں ۔۔۔۔میرے تیرے جیسوں سے ان لوگوں کو کیا فائدہ ۔۔۔ بہتر یہی ہے کہ اپنے بھانجے کو سمجھاؤ کہ وہ کوئی کاروبار وغیرہ کر لے۔” 

اب وہ غریب کاروبار کیا کرتا۔ باپ سر پر تھا نہیں۔ خدا خدا کرکے تو اس نے بی اے کیا تھا۔ بیوہ بہن کو بیٹے کی ناکام واپسی سے کس قدر تکلیف ہوئی تھی۔۔ حنیف کا گلا رُندھ گیا۔ درد کی ایک لہر اُس کی کمر سے ہوتی ہوئی دائیں ٹانگ تک چلی گئی۔

ڈرائیور نے پہلے صاحب لوگوں کو اُن کے بنگلے میں اتارا اور پھر جب حنیف کو دفتر چھوڑا تو رات کے آٹھ بج رہے تھے۔ 

دفتر پہنچ کر اُس نےفائل کو میز پر پٹخا اور سر جُھکاکر اپنی کُرسی پر بیٹھ گیا۔ دفتر میں روشنی کم  تھی۔ پنکھا چلنے سے اخبار کا فلمی صفحہ قاسم بٹ کی میز سے اُڑ کر اُسکے سامنے فرش پر آ گرا۔ ہلکی روشنی میں اسے اخبار میں چھپا کسی اداکارہ کا چہرہ انتہائی بھیانک دکھائی دیا۔ وہ دفتر سے فوراً نکل آیا اور سائیکل اٹھا کر جیسے تیسے گھر کے لئے روانہ ہوا۔ آج صبح سفر کے آغاز میں اُسے حمیدہ کے حوالے سے جس ندامت کا احساس تھا، وہ نہ جانے کب کا فضاؤں میں تحلیل ہو چکا تھا۔ بوجھل تاریکیوں میں وہ گھر کی طرف رواں دواں تھا۔ سڑک پر لگی سوڈیئم لائٹس اسکا مونہہ چڑا رہی تھیں۔ سائیکل کی چین ہر چند فرلانگ کے بعد پیڈل اور ایکسل کی بندشوں سے آزاد ہوکر اپنی آزادی کا گیت گانے لگتی اور جھٹکوں سے حنیف کی کمر پر بلڈوزر چلنے لگتے۔ 

” اتنے بڑے شہر میں میری کیا حیثیت ہے۔” گلی کا موڑ مُڑتے ہوئے اُس نے تلخی سے سوچا۔ 

دروازہ بڑی بیٹی نے کھولا۔ وہ تھکا ہارا، چُپ چاپ صحن میں بچھے تخت پوش پر گر گیا۔ پندرہ بیس منٹ گزر گئے۔ حمیدہ نہ آئی۔ وہ سوچنے لگا، ” یہ بھی کوئی زندگی ہے؟ ۔۔۔ سارا دِن مر کھپ کر ان لوگوں کے پیٹ کا دوزخ بھرتا ہوں اور یہاں ۔۔۔۔ کوئی پانی بھی پوچھنے والا نہیں ہے۔”

بڑی بیٹی صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھی سکول کا کام کر رہی تھی۔ 

” رابعہ ! ” اس نے بڑی بیٹی کو آواز دی۔ ” کہاں ہے تمہاری ماں؟ ” 

” اماں ۔۔ کاشف کے ساتھ عذرا خالہ کے گھر گئی ہیں ۔۔۔ مُنّی بھی ساتھ گئی ہے۔” 

” کیوں ؟ ” حنیف نے غصّے سے پھنکارتے ہوئے پوچھا۔ 

” پتہ نہیں۔ ” یہ کہہ کر وہ دوبارہ کچھ لکھنے لگی۔ 

سب سے چھوٹا بچہ صحن میں تین پہیوں والی سائیکل چلانے لگا۔ چیں چیں ۔۔ چک چک ۔۔ چیں چیں ۔۔ چک چک۔ 

سائیکل کی رفتار تیز ہونے پر اس نے بچے کو گھُور کر دیکھا۔ بچہ باپ کی آنکھیں دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس سے کوئی غلطی سرزد ہو رہی ہے۔ اس نے سہمی ہوئی بڑی بڑی آنکھوں سے باپ کو بغور دیکھتے ہوئے سائیکل کی رفتار بتدریج کم کر دی اور ایک لمبی سی چیں کے بعد سائیکل کا پہیہ رُک گیا۔ 

حنیف کچن میں داخل ہوا اور چولہے کے پاس پڑی خالی دیگچیاں، ڈھکنے ہٹا ہٹا کر دیکھنے لگا۔ 

” اماں آگئی۔۔” چھوٹا بچہ سائیکل چھوڑ کر ماں کی طرف بڑھا۔ حمیدہ دروازے سے داخل ہوتے ہوئے برقعہ اتار رہی تھی۔ 

” ارے آگئے آپ؟ ” وہ ایک دم سے آگے بڑھی اور پھر ٹھٹھک کر وہیں رُک گئی۔ شاید اُسے صبح والا منظر یاد آگیا تھا۔ 

” ہاں ۔۔۔ کہو تو واپس چلا جاؤں؟ تاکہ تمہاری آزادیوں میں مُخل نہ ہو سکوں۔۔۔ میں یہاں کھانے کے دو لُقمے تلاش کر رہا ہوں اور بیگم صاحبہ کو اپنے سیر سپاٹوں سے ہی فُرصت نہیں ۔۔” حنیف نے خالی ہنڈیا کو پٹخا۔ 

” ارے۔۔ ارے کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔ یہ ۔۔۔ اِس کی پالش اُتر جائے گی ۔۔۔ ایک ہی تو نشانی بچی ہے میرے جہیز کی ۔۔۔” حمیدہ نے سُنی ان سُنی کرتے ہوئے کہا۔ 

” اچھا۔۔ تو تمہیں اپنے جہیز کی بہت فکر ہے ۔۔۔ بہت مال لائی تھی ناں تُم اپنے ساتھ۔۔۔ یہ لو ۔۔۔۔” 

حنیف نے اُسی ہنڈیا کو زور سے فرش پر دے مارا۔ حمیدہ آگے بڑھی تو اُسے بھی بالوں سے پکڑ لیا۔ حمیدہ نے با آوازِ بلند چیخنا شروع کر دیا۔ حنیف نے جھٹکا دے کر بالوں کو چھوڑا اور ایک طرف پڑے شیشے کے دو پھولدار گلاسوں کو ہاتھ دے مارا۔ دونوں گلاس فرش پر جا گرے اور گرتے ہی چَکنا چُور ہو گئے۔

 بچے، جو دروازے میں کھڑے سب کُچھ دیکھ رہے تھے،   گھبرا کر زور زور سے رونے لگے۔ حنیف صحن میں سے ہوتا ہوا دروازے سے باہر گلی میں نکل گیا۔ اُسے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ بچوں کو اپنے سے لپٹائے، فرش پر بیٹھی، سسکیاں لیتی ہوئی حمیدہ ۔۔۔ اُس کی کمر کے درد کا نسخہ تیار کرنے کے لئے بہن سے ڈیڑھ سو روپے قرض لینے گئی تھی اور جاتے ہوئے کھانا تیار کرکے کمرے میں رکھ گئی تھی۔ 

(Visited 624 times, 1 visits today)

Dr. Sohail Ahmad is a freelance writer based in Islamabad. He’s a family physician, pharmacology teacher, broadcaster, fiction writer and a poet.

2 Comments

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے