Here is what others are reading about!

کچی فصلیں

ان کچی فصلوں کے نام جنہیں پکنے سے پہلے کاٹ دیا گیا ۔۔

امڑ آج  مجھے بھی لے چلونا ۔ساتھ میں نے اس دن ضد کا ہر پینترا آزمایا کیونکہ میرےپاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ میں نے وڈے شاہ جی کی سخاوت کے بارےمیں جو اتنا کچھ سن  رکھا تھا۔ وہ  زرینہ کو سنہری چوڑیاں بھی تو انہوں  نے ہی دی تھیں۔ زرینہ کا سن سولہ کا تھا مجھ سے آٹھ سال ہی  تو بڑی تھی وه۔ گاؤں کی ہر دوسری عورت شاہ جی کی سخاوت کا دم بھرتی تھی ۔۔امڑ نے مجھے ڈانٹ دیا اور میں دھاڑ دھاڑ رونے لگی جس پر امڑ کو مجبوراً مجھے ساتھ لے جانا ہی پڑا۔ میری امڑ شاہ جی کی حویلی میں کام کرتی تھی اور میرا بابا ان کی  زمینوں پر کام کرتا تھا۔  اس کے بدلے  میں ہمیں سال بھر کا اناج  ملتا تھا ۔

میں آج  بہت خوش تھی کے آج میں وہ  حویلی دیکھ ہی لو گی جس کا نام سنتے ہی گاؤں کی عورتوں  کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگتی ہے اور وہ اس پر قابو پانے کے لیے  شاہ جی کا دیا ہوا کوئی تحفہ دکھانے لگتی ہیں ۔۔۔۔حویلی کیا ایک بہت برا محل تھا  سامنے ایک شاندار پلنگ پر شاہ جی اور اس کی بیوی بیٹھے تھے ۔۔ایک بڑھی ہوئی بے ترتیب موچھوں  والا ایک کالا سیاہ ادھیڑ عمر آدمی اور اس کے ساتھ ایک ڈھلتی عمر کی عورت ۔۔میری امڑ نے اس کو سلام کیا۔پہلے تو وو اپنی نظریں میری امڑ کےجسم سے پھوٹنے والی روشنی سے خیرہ کرتا رہا  اور پھر میری طرف متوجہ ہوا۔ وڈے شاہ جی کی بیوی نے میرے سر  پر ہاتھ رکھا ،اور وڈے سائیں کا ہاتھ میرے سر سے پھسل کر  پورے جسم تک پھیلتا چلا گیااور میرے پورے وجود میں خوف کی ایک عجیب سی لہر ڈور گئی  ، اتنے میں  ہی وڈیری  نے مجھے  اپنی طرف کھنچ لیا۔یہ سب اتنی جلدی ہوا کے میں سمجھ ہی نہ سکی  کے میرے ساتھ ہوا کیا ہے ۔۔’’ فصل ابھی کچی ہے شاہ جی‘‘ وڈیری  نے سائیں کو آنکھیں  نکالیں۔ اور مجھ سے کہا کے میں اپنی امڑ کے پاس جاؤں۔  میں اپنے راستے چل دی۔ پیچھے سے شاہ جی نہ پھر بلایا اور مجھے سیب  کی پیشکش کی۔ میں نے تو سیب صرف اپنی  کتاب میں دیکھا تھا ،فوراً سیب کی طرف لپکی۔ اس بار تو  وڈیری اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی،اری سنا نہیں کمبخت  جا ماں کے پاس ۔۔۔  اس دن مجھے وڈیری  سے جو نفرت ہوئی اس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا ۔۔خیر دوسری عورتوں  کی طرح شاہ جی نے مجھے کوئی تحفہ نہیں دیا تھا  لیکن جو انہو ں نے سیب  کی پیشکش  کی تھی تو مجھے معلوم پڑ گیا  تھا کے وہ بھلے مانس ہیں میری امڑ صبح کام پر جاتی اور شام کو واپس گھر آجایا کرتی ۔۔             
ایک دن میری میری امڑ گھر نہیں آئی۔ شام ہو چکی تھی میں نے بابا سے کہا مگر اس نے میری بات کا جواب نہ دیا۔ میں ساتھ والی خالہ کے گھر گئی اسے کہا کہ میری امڑ کو وہاں کیوں  چھوڑ آئی تو کہنے لگی کیوں تری امڑ کیا انوکھی ہے ؟ایک تو وہ مجھے پہلے ہی زہر لگتی تھی دوسرا اس کی اس بات کا مطلب بھی مجھے سمجھ نہ آیا تو میری اس سے نفرت اور بڑھ گئی ۔ رات ہو چکی تھی میں نے امڑ کا بہت انظار کیا مگر وہ نہیں آئی ۔ میں  روتی روتی سو گئی صبح پھر مجھے امڑ نظر نہ آئی ۔ابھی میں نے رونا شروع  ہی کیا تھا کہ مجھے امڑ نظر آئی ۔وہ دروازے میں تھی  اس کےسر پر چادر نہیں تھی۔ ساری چادر زمین کو چھو رہی تھی۔  سر کے بل کھلے تھے اور وہ مریل  قدموں سے اندر آ رہی تھی ۔میں نے اپنی امڑ کو کبھی اس حالت میں نہیں دیکھا تھا۔ میں نے تو ہمیشہ اسے ہنستے مسکراتے  دیکھا تھا۔

’’جب بھی وه  اپنی شربتی آنکھوں میں کاجل ڈالنے کے لیےآئینہ دیکھتی  تو اپنے حسن سے خود ہی شرما جاتی اور کائنات  کے سارے گلال یکجا ہو کر اس کے رخساروں پر رقص کرنے لگتے ‘‘  میرا دل کرتا کے امڑ بیٹھی رہے اور میں اسے دیکھتی رہوں ۔۔۔ وہ مجھے مندروں میں  رکھی ہوئی کوئی حسین مورتی معلوم ہوتی جسے صرف پوجنے کے لیے رکھا جاتا ہے ۔۔۔۔               
لیکن آج ۔۔۔۔۔۔۔آج مجھے اپنی امڑ ایک کملایا ہوا پھول لگ رہی تھی ۔۔ جب برسات زیادہ  برس  جائے تو پھول کملا جایا کرتے ہیں انہیں تو بس مناسب سا پانی چاہئے ہوتا ہے  جو ان کی تازگی برقرار رکھنے کے لیے کافی ہو تا ہے ۔۔۔       
میرا بابا اپنی مونچھ سنوار رہا تھا۔۔ امڑ نے اس کا گریبان پکڑ لیا اور بولی،تو جانتا تھا کمینے ،بے شرم ۔ بابا نے اپنا  گریبان  چھڑوایا  اور کہا ہاں میں جانتا تھا۔ تو کیا چاہتی ہے کہ میں مر جاؤں ؟ مر جاؤں  نا تو تب بھی تیرا یہی مقدر تھا ۔اس گاؤں کی ہر دوسری عورت کا مقدر یہی  ہے ۔۔امڑ نے اس کے سر کی پگڑی اتار کر پھینک دی اور پھر مجھے کمرے سے نکال دیا گیا دروازہ  بند ہوگیا۔ کمرے کے اندر میری ماں کو پڑنے والے ہر تمانچے   کی تکلیف میں اپنے رخسار پر محسوس کر رہی تھی۔ اس دن کے بعد سے مجھے اپنے باپ سے نفرت ہوگئی تھی  کیونکہ اس دن بابا نے میری امڑ کو بہت پیٹا تھا ۔۔    
یہ مرد بھی کیا بھونڈی مخلوق ہے اپنی بےبسی کی قیمت بھی عورت سے ہی چکواتا ہے۔۔۔ زندگی پھر اسی طرح چل رہی تھی۔ ۔ میری ماں میرے اسرار پر بھی مجھے شاہ جی کی حویلی  نہیں جانے دیتی تھی ۔۔ادھر ایک ساولی تھی جو حویلی جانے لگی تھی۔ ارے مجھ سے 3سال ہی تو بڑی تھی۔  بس میں 13 کی تھی اور وہ 16 کی لیکن وو دن بدن پھیلتی جا رہی تھی۔ سردی کے موسم میں اگر آم  اگنے لگیں   تو کتنا عجیب معلوم ہو ۔۔۔۔۔۔!!!! کبھی کبھی وہ مجھے ایسی باتیں بھی بتاتی تھی  جن کو سن کر  وہی حویلی  والے دن جیسا  خوف میرے وجود کو  اپنی لپیٹ  میں لے لیتا اور میں وہاں سے بھاگ جاتی ۔۔مرد کی ذات پھپھوندی کی طرح ہوتی ہے   ایک بار جو عورت کو لگ جائے  تو اسے بھربھرٰا  کمزور اور باسی کر دیتی ہے۔۔  اب میں  بڑی  ہو رہی تھی  اور  چیزوں کو  سمجھنے  لگی تھی ۔ سانولی کو بھی پھپھوندی  لگ  چکی تھی ۔۔۔اب اگر گاؤں میں کوئی وڈے سائیں کے لیے دلچسپ  تھی تو وہ میں تھی ۔۔اور میں بھی ادھر اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے لیے تیار بیٹھی تھی ۔۔ ہمارا گاؤں ابھی تک قائم تھا کیونکہ عورت چپ تھی لیکن اب گاؤں کی تباہی قریب تھی ۔۔۔۔بن بیاہی دلہن کی طرح  سج سنور کے میں سائیں کے نا پاک  ہجرے میں گئی  یہ وہ جگہ تھی جہاں نا جانے کتنی  کلیوں  کو  کچلا گیا تھا ۔جہاں پتا نہیں  کتنے خوابوں  کا قتل ہوا تھا نا جانے کتنی انائیں دفن تھیں ۔۔          
شاہ جی جو نشے میں جھوم رہے تھے میں نے ان  کو اپنے ہاتھوں سے ایک اور پیگ  بنا کر دیا شاہ جی فاٹافٹ چڑھا گئے ۔۔پھر میں نے اپنے قدموں میں شاہ  جی کو سسک سسک  کر مرتے دیکھا۔۔ میں  بےحد خوش تھی ۔ میں  نے اپنی ماں کا بدلہ لے  لیا۔  میں نے  ساولی  کا بدلہ لے لیا ۔  نا جانے کتنی کچی فصلوں کا بدلہ لیا جن  کو پکنے سے پہلے اس جلاد نے  کاٹ ڈالا  تھا   ۔۔۔۔۔       
اس  دن مجھے یقین ہوا تھا کے عورت نہتی  نہیں ہوتی۔  وہ چاہے  تو کسی کو بھی پیچھاڑ کے رکھ دے ۔۔۔معاشرے کے آگے اپنی مردانگی جھاڑنے والے مردوں کو اکثر عورت کے آگے مردانہ کمزوریوں کا سامنا ہوتا ہے۔

(Visited 844 times, 1 visits today)

Fizzah Shah is a freelance writer based in Muzaffargarh. She usually writes abstracts on social and moral issues.

One Comment

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے