Here is what others are reading about!

فلسفہ شہادت

شہادت وہ عظیم مرتبہ ہے جو ہر انسان کے حصّے میں نہیں آتا ،اس رتبے کو حاصل کرنے کے لئے وہ کچھ کرنا پڑتا ہے جو کسی دنیاوی منزل کو پانے کے لئے نہیں کرنا پڑتا ۔ شہید ہونے کے لئے سب سے مشکل کام جسے گلے لگانا پڑتا ہے وہ ظاہری موت ہے ۔ شہادت وہ ہے جو موت سے بچاتی ہے مگر اس کو پانے کے لئے جسمانی موت کو گلے لگانا پڑتا ہے ۔ قومیں  شہیدوں کے نام کی وجہ سے  ہمیشہ زندہ رہتی ہیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ شہید ہے کون ؟شہید کہتے کسے ہیں ؟کیا کسی بھی بم دھماکے یا کسی فائرنگ کے نتیجے میں ظاہری موت پانے والا ہر آدمی شہید ہے بعض علماء کے نزدیک ہر عمومی حادثے کا شکار انسان شہید نہیں ہوتا اس بات پر پوری امّت متفق ہے کے کسی مسجد امام بارگاہ میں دھماکے یا فائرنگ کی موت میں بے گناہ مارے جانے والا ہر انسان شہید ہے مگر سوال یہ ہے کہ جو مار رہا ہے وہ بھی خود کو شہید کہہ رہا ہے یا اس کے ماننے والے یا اسی مکتب کے لوگ اسے شہید کہتے ہیں۔

شہادت کے فلسفے کو سمجھنا بہت ضروری ہے، ہم اس بات کو ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ مارنے والا یا شہید کرنے والا کس نیت سے شہید کر رہا ہے۔ ہم جب تک یہ تعین نہ کرلیں کہ مارنے والے کی نیت کیا ہے اس وقت تک کسی کو بھی شہید کا درجہ دینا، شہادت کے فلسفے کے ساتھ ذیادتی ہوگی۔ مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ  ہے کہ تعین کون کرے؟ تو میری رائے یہ ہے کہ انسان کو خدا پر چھوڑ دینا چاہیے کہ خدا بہترین فیصلہ کرنے والا  ہے۔  ہم صرف یہ دیکھ سکتے ہیں کہ شہادت کا زمان و مکان کیا ہے۔  اس بنیاد پر ہم کم سے کم کسی نا حق بہنے والے خون کا تعین کر سکتے ہیں کہ وہ شہید ہے۔پاکستان  میں اس کی سب سے بڑی مثال پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے بچوں کی شہادت  ہے۔اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی بربریت تھی  جس کی مثال نہیں ملتی۔ ان بچوں کو شہید نہ کہنا شہادت کے فلسفے کے منافی ہوگا۔ بے گناہ مارے جانے والے بچے نہ کسی مذہب کے خلاف پڑھ رہے تھے نہ ہی کسی مسلک کے خلاف ۔انھیں مار کر نہ ہی کسی اسلامی ریاست کا قیام ہو سکتا تھا اور نہ ہی مذہبی آزادی حاصل ہو سکتی تھی ۔ اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جہاں مظلوموں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیاجنہیں خود نہیں پتا تھا کہ انہیں کیوں مارا جا رہا ہے۔

پاکستان میں شہادت ایک ایسی چیز ہے جو ہر فیکٹری میں کوڑیوں کے دام بکتی ہے ۔یہاں کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو پاک فوج کے جوانوں کو شہید کرنے والے ظالمان کو بھی شہید کہتے ہیں اور انہیں کوئی روکنے والا نہیں ۔راہِ خدا میں جان دینے والا ہر وہ شہید آخرت کے دن اپنے خون کا حساب خدا سے مانگے گا کہ اس نے خدا کی راہ میں جان دی آیت ِ قرآنی کا مفہوم ہے کے تم میرا ذکر عام کرو جب تک تم باقی ہو ، میں تمہارا ذکر کروں گا جب تک میں ہوں ۔خدا تو لا محدود ہے اس ہی لئے کہا جاتا ہے کہ شہید کبھی مرتا نہیں شہید کا ذکر قیامت تک باقی رہے گا یہ خدا کا وعدہ ہے شہادت کے رتبے ہیں میدانِ جہاد میں راہِ خدا میں جان دینے والا عظیم المرتبت شہید ہے جو اپنے اہل و عیال ، مال، متاعِ دنیا سب کو چھوڑ کے راہ خدا میں میدانِ جہاد میں جان دینے کو تیّار ہو گیا ۔اس کا مرتبہ سب سے عظیم ہے جس کی سب سے بڑی مثال کربلا کا میدان ہے۔

 اس وقت مملکتِ خداداد پاکستان میں اپنے ملک کی بقاء کی جنگ لڑتے ہوئے ہزاروں فوجی اپنی جان کا نذرانہ دے چکے ان کا مقصد صرف ایک تھا کہ یہ ملک خوارج و ظالمین کے ہاتھوں میں نہ جائے بلکہ اس ملک کا باگ ڈور اعتدال پسند لوگوں کے ہاتھ میں رہے تا کہ یہ ملک حقیقی طور پر قائد کا پاکستان بن سکے کسی بھی عام انسان کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق راہِ خدا کا پرچار کرے ،علماء محققین موجود ہیں اس ملک میں عدلیہ موجود ہے جو صحیح اور غلط کا تعین کرے گی ہر راہ چلتے ہوئے کو شہید کہنا شہادت کی توہین ہے ہر قانون ہاتھ لینے والے کو شہید کہنا شہیدوں کے ساتھ نا انصافی ہے ۔

(Visited 523 times, 1 visits today)

Ghazanfer abbas is a seasoned banker and a freelance writer based in Dubai. His areas of interests are social and moral issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے