Here is what others are reading about!

ڈگریاں ردی کے ڈھیر

قلم   اٹھتا   ہے   تو سوچیں  بدل    جاتی    ہیں
ایک شخص کی محنت سے ملتیں تشکیل پاتی ہیں

علم کی طاقت تلوار سے بھی زیادہ طاقتور ہوتی ہے-علم حاصل کرنا ہر انسان پر فرض تو ہے لیکن ہمارے معاشرے کے بیشتر نوجوانوں کو معاشرے کے لوگ ہی علم کی دولت سے نوازدیتے ہیں کیوں کہ بعض بچوں کے والدین اسکولوں کالجوں کی فیسیں ادا نہیں کرسکتے اس لئے وہ ارد گرد کے ماحول سے ہی ڈگری لے لیتے ہیں-وہ اپنا قیمتی وقت اسکولوں کالجوں میں ضائع نہیں کرتے اور اپنے آپ کو ہنرمند بنانے اور معاشرے کا باوقار انسان بننے اور اپنے گھر کا خرچا چلانے،روزگار کمانے کے لئے ہنرمند بننا پسند کرتے ہیں کیونکہ ان کو اس بات کا ءلم و شعور ہوتا ہے کہ اس دور میں جہاں سفارش کا بول بالا ہو ہر طرف رشوت ہی رشوت ہو وہاں کیا پڑھائی اور کیا نوکری-آج کے دور میں علم حاصل کرنا غریبوں کے بس کی بات نہیں جہاں پر تعلیم حاصل کرنے کا تعلق ہے تو ایک غریب کے لئے بہت ہی مشکل ہے-کیونکہ تعلیم اب اس قدر مہنگی ہوتی جارہی ہے کہ ایک غریب اپنے بچوں کا پیٹ پالے یا ان کو اچھی تعلیم دلوائے دونوں کام ہی مشکل ہیں-اگر وہ اپنا پیٹ کاٹ کر ان کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر بھی دے تو ان کے مستقبل کو کون سہارا دے گا-جب کہ دیکھا جائے تو ان غریب بچوں کے اندر ہی ٹیلنٹ بھرا ہوتا ہے وہ بہت محنتی ہوتے ہیں لیکن افسوس نہ ہی ان کے ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے لایا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی فیسوں میں کمی کی جاتی ہے کہ وہ اچھی تعلیم حاصل کرسکیں۔  کچھ بن کر ابنے غریب والدین کا سہارا بن سکیں-اور اگر ایسا ہو بھی جائے تو ان کی محنت سے حاصل کی تعلیم کو کوئی اہمئیت نہیں دیتا ان کی ڈگریاں ردی کا ڈھیر بنجاتی ہیں کیونکہ اس معاشرے میں جعلی ڈگریوں کی تو بہت اہمیت ہے مگر محنت سے حاصل کی گئی ڈگری کو کوئی وقعت نہیں دی جاتی-    
میاں صاحب ہر وقت میرٹ پالیسی میرٹ پالیسی کرتے رہتے تھے کہاں گئی ان کی میرٹ پالیسی کہاں گئے ان کے عوام سے کئے وعدے؟ لوگوں کے ذہنوں  میں سوالیہ نشان!اگر ایسا ہی ہونا ہے تو بہتر ہے ہم پاکسانیوں کو ہی بییچ دیا جائے-کیوں ہمارے ملک کے محنتی نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے ان کا حق کیوں کسی دوسرے کو دیا جارہا ہے کیوں ان کو نوکری کی تلاش میں در در پھرنا پڑتا ہے-اس کی سب سے بڑی وجہ سفارش ہے جوکہ آج کے دور میں نہایت عام ہوچکی ہے -سفارش اور رشوت کے بغیر نوکری ملنا جیسے اب ناممکن سا ہوگیا ہے-حقیقت تو یہ ہے کہ روپیہ جتنا بھی گرجائے مگر اتنا کبھی نہیں گرپائے گا جتنا روپے کے لئے انسان گرچکا ہے۔ہمارے حکمران اور بڑے بڑے افسران معلوم نہیں کن لوگوں کو بڑے بڑے عہدوں پر فائز کردیتے ہیں جن کاکام صرف دولت بنانا ہی ہے ان ہی حکمران اور افسروں کے بچے اعلیٰ عہدوں پر فائز کر دیئے جاتے ہیں۔    
ہمارے حکمران تو ہر روز میرٹ پالیسی کے نعرے لگا رہے ہوتے تھے مگر پتہ نہیں ان کی میرٹ پالیسی ہے کیا ۔لگتا یہی ہے کہ میرٹ میں سب سے پہلے امیر اور سیاستدانوں کے بچے ان کے بعد کسی اور کو یہ حق مل سکے گا-ہمارے ملک کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈگریاں تو ہیں مگر ان کے پاس اچھی نوکری اور وسائل کی کمی ہے اور بعض تو ایسے لوگ ہیں جو اتنی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی نوکری سے محروم ہیں-ہماری حکومت کب ان کو وسائل میسر کرے گی کب ان کو ان کا حق مل سکے گا- ہمارے ملک میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ایسے نوجوان موجود ہیں جو مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں یہی مایوسی ان کو کچھ غلط کرنے پر مجبور کر رہی ہے اعلئ تحلیم یافتہ نوجوان مختلف جرائم کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔
ان کی ڈگریاں ردی کے ڈھیر بنی پڑی ہیں ان ڈگریوں کا کیا کیا جائے جن کو حاصل کرنے کے لئے ان کے والدین کا خون پسینہ لگا-آخر کب تک غریبوں کی محنت رائیگاں جائے گی کب ان کو وسائل ملیں گے اور کب امیروں اور سیاستدانوں کےبچوں کو ہی ترجیع دینا بند کیا جائے گا-     
اگر حالات اسی طرح رہے تو ہمارے ملک کے نوجوان تباہ و برباد ہو جائیں گے اور دہشتگرد اور چور ڈاکو بن کر ابھریں گے برائی پھیلے گی اور جرائم میں اضافہ ہوگا اور کسی بھی غریب کے گھر میں سکون نہیں ہوگا نہ ہی پیٹ پالنے کے لئے روزگار-آخر کب تک صرف غریب پسے گا اور امیر گھروں میں بیٹھ کر موجیں کریں گے-اگر مستقبل کے معیاروں کو بچانا ہے تو مساوی حقوق کی بنیاد رکھنی ہوگی امیر اور غریب کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہوگا ملک میں میرٹ کے نظام کو رائج کرکے اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا .

(Visited 434 times, 1 visits today)

Hira Hafeez is a freelance writer based in Karachi. Her areas of interests are social & general issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے