Here is what others are reading about!

محرم یا مجرم؟

چند روز قبل ایک صاحب ملے۔ حال احوال سے جنم لینے والا مکالمہ ملکی حالات پر منتج ہؤا۔ بات نکلی تو  موضوع کارخ ممتاز قادری کی طرف ہو گیا۔ کہنے لگے: ’’  میں پیشے سے پروفیسر ہوں اور میں ممتاز قادری ہوں اور میں ممتاز قادری اس لئے ہوں کہ  میں ایک عاشق رسول ہوں۔میرے لئے یہ بات قطعاً حیرت انگیز نہیں تھی۔میں اس معاملے میں پروفیسر صاحب اور ممتاز قادری، دونوں کو معصوم سمجھتا ہوں۔ سچ پوچھئے تو میرے دل میں ممتاز قادری کے لیے ہمدردی  کے جذبات  بھی  موجودہیں۔ کیونکہ ان دونوں افراد کو عشق رسول کا وہ سبق پڑھایا گیا تھا جس میں کسی کی محبت میں جان لینا ، اس کی محبت  میں جینے اور مرنے سے برتر ہے۔

سوچتا ہوں کہ وہ کیا چیز تھی جس  نےاپنے  گھر کے واحد کفیل کو اپنے ہی آفسر کا قتل کرنے پر اکسایا؟وہ کیا چیز ہے جس کے باعث میرا دوست یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ ’’ ہاں میں دہشت گرد ہوں‘‘ تا کہ وہ ممتاز قادری کی حمایت کرسکے۔وہ کیا وجہ تھی جس کے باعث ایک قانون کو توڑنے اور ناحق جان کا قتل کرنے  والےپر وکلاء   گلاب کے پھول کی پتیاں اس پر پھنکتے ہوئے نظر آئے اور کیا وجہ ہے کہ ہزاروں لوگ ایک مجرم کے مارے جانے پر افسردہ ہیں۔

غور کرتا ہوں تو معلوم پڑتا ہے کہ ان میں سے بہتیرے لوگ اَسی کی دہائی کی پیداوار ہیں۔ وہ تاریک دور ، جس میں ریاستی دہشت گردی نے جنم لیا تھا جس کے ذریعہ سے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے جہاد بالسیف کو خوب ہوا دی گئی تھی۔جب آپ ایک ایسے معاشرے میں جنم لیں جہاں مذہب، جہاد اور بعث بعد الموت کو ہی ملمع سازی کرکے زندگی کا اوّلین مقصد دکھایا جائے تو  عدم برداشت اور تشدد کا جنم  لینا لازم و ملزوم ٹھہرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ناحق خون بہانے کو  عشق رسول کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ عشق رسول ﷺکے نام پر  قتل عام کیا جاتا ہے۔ معصوم انسانوں کو ذبح کرنا  رسول سے محبت کے اظہار کا  پیمانہ سمجھا جاتا ہے ۔عیسائیوں، ہندووں اور احمدیوں کو نبی کی غیرت کے نام پر زندہ جلادیا جاتا ہے۔اس قسم کی ذہنیت دن بہ دن پروان چڑھ رہی ہے ۔ وہ طالبان، القائدہ، بوکوحرم  یا الشہاب ہوں ایک ہی تھالی کے بینگن نظر آتے ہیں۔

جہاں تک مجھے یادپڑتا ہے، جہاں تک اس ناقص العقل کا مطالعہ ہے جو اسوہ رسولﷺ ہم بچپن سے پڑھتے اور سنتے آئے وہ  یہی  ہے کہ آپ ﷺ نے اس  بوڑھیا  کے حق میں بھی دعا کی جو آپ ﷺ پر کوڑا پھینکا کرتی تھی اور واقعات میں ملتا ہے کہ جب وہ بیمار ہوگئی ہے اور کوڑا نہ پھینک سکی تو آپﷺ خود اس کے گھر اس کی طبیعت معلوم کرنے تشریف لے گئے۔لیکن صد حیف کہ عفودرگزر، رحمدلی، انسانیت، یکجہتی اور سار ے حسن اخلاق  کو پس ِ پردہ ڈال کر ناحق، ناجائز خون بہانہ عشق رسول ﷺ کی سند بن جاتا ہے۔جس ہستی کے ہم ماننے والے ہیں، اس ہستی نے جانوروں کو انسان بنا دیا اور انسان سے اشرف المخلوقات، لیکن اسی نبی ﷺ کی جھوٹی محبت نےاس اشرف انسان کو جانور بنا دیا ۔وہ لوگ جو پاکستان کو  کافرستان سمجھتے تھے انہوں نے یہ سرزمین اپنے لئے پاک بنا لی۔پھر کیا تھا انہوں نے اسے پاکستان رہنے نہیں دیا ۔کافرستان کہتے تھے ،کافرستا ن ہی بنا ڈالا۔جس نے ان کے خلاف سر اٹھایا اس کا سر قلم کیا،جس نے خلاف بولنا چاہا ،اس پر فتوی لگایا اور اندر کیا۔جس نے نہیں  مانی وہ اگلے دن ملا نہیں۔اس پاکستانی انسان نے حیوان بننے کی ساری حدیں پار کر دی۔یہ وہ انسان ہے جس نے خدا کے بولنے پر بھی فتوی لگا دیئے۔یہ وہ انسان ہے جس نے خدا کے بارہ میں بھی کہہ دیا کہ اب وہ بھی نہیں بولتا ۔یہ وہ انسان ہے جو خدا بن گیا۔یہ وہ انسان  ہے جس نے باقیوں کا نطق چھینا ۔یہ وہ انسان ہے جس نے جو کہا، وہ نہ کیا اور جس سے روکا وہی کیا۔اس نے فتووں کی ایسی ایسی فیکٹریاں لگائیں کہ اس پاک وطن میں ایسا فساد برپا ہوا جو شاید ہی پہلے کبھی ہوا ہو ۔اس انسان نے انسانیت کو اتنا بدنام کر دیا کہ دنیا پاکستان کے نام سے ڈرنے لگی۔اس انسان نے لوگوں کو ترپایا،جلایا،مروایا۔یہ انسان یہود سے بھی بڑھ گیا عیسائیت کو اس نے پیچھے چھوڑ دیا۔ظلم و ستم کی ایسی ایسی داستانیں قائم کیں جس سے آنے والی انسانی نسلیں جتنی بھی لعنتیں ڈالیں کم ہیں۔اس نے انسان کو حیوان،مسلمان کو کافر ،شیعہ کو کافر،سنی کو کافر ،قادیانی کو کافر،شافعی کو کافر ،حنبلی کو کافر،غرض جس نے بات نہ مانی اس کو کافر کہہ کر قتل کروا دیا۔اس نے انسان کو نہیں انسانیت کو ہی روند ڈالا۔سچ کہتا ہے فیضؔ

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف ِ خدا گیا

وہ   پڑی   ہیں   روز   قیامتیں  کہ   خیالِ   روزِ  جزا   گیا

(Visited 738 times, 1 visits today)

Rauf Mubashir is a theologian and a freelance writer. His areas of interests are social issues, intolerance in the society and moral values.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے