Here is what others are reading about!

  • Home
  • /
  • Pakistan
  • /
  • میں یہ کس کے نام لکھوں ؟

میں یہ کس کے نام لکھوں ؟

پاکستان 14 اگست 1947ء کو معرض وجود میں آیااور اسی دن سے مشکلات اور مسائل سے دوچار ہےآزاد ی کے وقت پاکستان میں سرکاری دفاتر تو نہیں تھے اور نہ ہی بنیادی ضروریات میز کرسی وغیرہ موجود تھے جو ضروریات پوری کر سکتے۔ اس وقت کے وزراء نے اپنی ذاتی رہائش گاہوں کو دفتر بنا لیا۔ سیکرٹری درختوں کے سائے تلے آفس بنا کر بیٹھنے لگے،کریٹوں اور بکسوں کو بیٹھنےکے لئے استعمال کیاگیا۔ خیر یہ تو تھا 1947ء کا پاکستان ۔اس وقت مشکلات اور تکالیف تو تھیں ہی لیکن ساتھ ساتھ ملک کو آگے بڑھانے، آزادی کو قائم رکھنے، لوگوں کو بنیادی ضروریات صحت اور تعلیم دینے اور لوگوں کی فلاح اورخوشحالی کے لئے کام کرنے کا جذبہ موجود تھا۔ لوگ خوشحال پاکستان دیکھنے کے دن رات محنت کرتے تھے۔ سرکاری ملازمین اپنی ملازمتوں میں دل لگا کراور ایمانداری سے کام کرتے تھے۔ اس وقت بجلی کا کوئی مناسب انتظام نہ تھا لیکن جہاں تھی وہاں مستقل موجود رہتی، ملک میں پولیس اور فوج کی کمی تھی لیکن اس کمی کے باوجود ملک میں افراتفری اور لاء اینڈ آرڈرجیسے مسائل پیدا نہیں ہوئے تھے، وزراء کے ساتھ پولیس اور کمانڈرز کے حفاظتی دستے نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی کوئی آج جیسا پروٹوکول تھا۔ لوگ وزراء اور سیکرٹریوں کے گھروں تک چلے جاتے تھے۔ جج عدالتوں میں انصاف مہیا کرتے تھے اوررشوت کا بازارگرم نہ تھا۔ خالص اور معیاری اشیاء سستے داموں بیچی جاتیں اور ملاوٹ سے پاک ہوتیں، لیڈرز پر کرپشن کرنا ، رشوت خوری اور اقرباپروری جیسے الزامات نہیں تھے۔ تقسیم ہند کے وقت پاکستان کے ساتھ ہر شعبہ زندگی میں ناانصافی کی گئی لیکن اس کے باوجود لوگ محنت سے کام کرتے،ملازمتیں کم لیکن میرٹ پر تھیں، ٹرینیں کم لیکن وقت کی پابند ی سے چلتی تھیں اور اربوں کے خسارے نہ تھے، جلسے جلوس ہوتے لیکن نازیبا الفاظ سے پاک تھے،ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں نہ ہوتی تھیں۔ سرکاری عمارات اور املاک کو نقصان پہنچانے کا تصور بھی نہ تھا۔ کوئی فسادنہیں ہوتا تھا، لوگ غریب تھے لیکن غربت کا قصور وار حکمرانوں کو نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن آج تقریبا 68 سالوں بعد ملک میں اعلی ترین سرکاری دفاتر ہیں جوجدید ضروریات سے آراستہ ہیں۔ سیکرٹری تک مہنگی ترین گاڑیوں پر سفر کرتےنظر آتے ہیں اور آگے پیچھے پولیس ،کمانڈوز اور رینجرز کے جھتے ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک کے مالیاتی ذخائر میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے اورخدا نے ضرورت کی ہرچیز قدرتی طور پر اس ملک کو مہیا کر رکھی ہے لیکن اس سے فائدہ اٹھانے والے دماغ ہمارے پاس موجود نہیں یا اگر موجود ہیں تو ہمیں ان کی قدر نہیں ۔لاکھوں کی فوج اور پولیس کا انتظام ہونے کے باوجود لاقانونیت اور فساد ہے۔ ملاوٹ ، ہیرا پھیری ،رشوت خوری ، چوری ،دھنگا فساد میں ہم ماضی کی  تمام تباہ شدہ اقوا م کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں ۔اقربا پروری عروج پر ہے اور میرٹ کا نام و نشان نہیں ، ماسٹر ز ڈگری ہولڈرز کہیں سموسے بیچتے نظر آتے ہیں تو کہیں ڈگریاں حاصل کرنے والوں کو نام نہاد اسلام کی پٹی پہنا کر جہادی بنایا جا رہا ہے۔کہیں بچہ برائے فروخت کے اشتہار نظر آتے ہیں تو کہیں گٹر یا ٹینکی میں مارے گئے بچہ کی لاش نظر آتی ہے۔ ہسپتال ہیں لیکن ڈاکٹرز نہیں اگر ہیں تو تنخواہ مانگتے نظر آتے ہیں۔ لوگوں کو حقیقی اسلام کا سبق دینے کے بجائے حوروں کی کیمیائی ترکیب بتاتے علماء لوگوں کو جنت کی ٹکٹیں تھوک کے حساب سے بیچتے ہیں، ایک گورنر کے قاتل کو ہیرواورنوبل انعام یافتہ ڈاکٹر صاحب کو ملک کا غدار بنایا جاتا ہے، نام نہاد اسلام کے ٹھیکیداروں کی طرف سےلگائی گئی نفرت کی آگ نے پاکستان میں سے امن کا نام و نشان مٹا دیا ہے۔ 1953 میں پاکستان کی سرزمین میں فرقہ واریت کےجوکڑوے بیج بوئےگئےتھے ،بعد کےسیاسی طالع آزماؤں نےان کی آبیاری کی اورآج یہ حال ہےکہ سارےملک میں فرقہ واریت کی خاردار جھاڑیاں پھیل گئی ہیں، جن سے لاکھوں افراد لہولہان ہوئے۔ اور ملک سے امن اور یکجہتی رخصت ہوگئے ہیں۔ قرآن کریم کی تعلیمات اورآنحضرتﷺ کا اسوہ حسنہ تو ہرفرد، معاشرہ، قوم اور بین الاقوامی سطح پرصلح و آشتی اور امن و سلامتی کی ضمانت دیتا تھا۔ آج اسی اسلام کے نام پر اس ملک میں انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے وہ اقلیتیں جنہوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیکر اس ملک کو حاصل کیا اور اپنے لہو سے اس پاک سرزمین کو سیراب کیا آج انہی اقلیتوں سے زندہ رہنے کا حق تک چھین لیا گیا ہے، مسجد جو امن کی علامت سمجھی جاتی ہے آج انہیں مساجد سے نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلائی جاتی ہے اور قتل و غارت پر اکسایا جاتا ہے اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں ۔ وہ لاہور جوزف کالونی کی مسیحی برادری ہو  یا احمدی بھائیوں کی فیکٹری ،وہ قصور کے مسیحی جوڑے کو زندہ جلانا ہو یا گوجرنوالہ کے 2 احمدی پھولوں کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دینا ہو، وہ لاہور میں 86 احمدیوں کو محض عقیدہ کی بناء پر بے دریغ قتل کرنا ہو یا پشاور میں 100 سے زائد معصوموں کے پاک خون سے ہولی کھیلنا ہو۔۔۔۔۔!!!

ان سب چیزوں میں گھرے پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ’’ہم نے آزادی کیوں لی تھی۔۔؟؟؟؟ کیا ہم نے آزادی صرف کلمہ پڑھنے ،آذان دینے ،نمازیں ادا کرنے روزہ رکھنے یا حج پر جانے کے لئے حاصل کی تھی؟ یہ فرائض توہم ہندوستا ن میں بھی کھلے عام ادا کرتے تھے، دنیا کے باقی ممالک میں بھی تمام مسلمان یہ فرائض سر انجام دے رہے ہیں بلکہ ہم سے بہترادا کررہے ہیں وہ لڑائی جھگڑا نہیں کرتے ایک دوسرے کا حق نہیں مارتے ،ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرتے، پاکستان بننے سے پہلے بھی یہ فرائض بلا روک ٹوک سر انجام دیتے تھے پھر ہم نے آزادی کیوں حاصل کی۔۔۔ ؟ کیا ہمارا مقصد کرپٹ حکمرانوں کو قانون سے بچانا تھا،حج کے دوران حاجیوں کو لوٹنا تھا ، خوراک میں ملاوٹ کرنا تھا اور ملک کی املاک کو نقصان پہنچانا تھا۔۔۔؟ اگر یہی مقصد تھا تو الحمد للہ ہم کامیاب ہیں ۔آج پاکستان کرپٹ ، بے ایمان اور دو نمبر لوگوں کا ملک بن چکا ہے۔ لوگ دوا سے بجلی تک تمام سہولیات کو ترس گئے ہیں ،اگر ہمارا مقصد کچھ اور تھا تو ماننا پڑے گا کہ ہم نے 68 سال بعد بھی اس طرف قدم نہیں اٹھایا ہم آزاد تو ہو گئے لیکن خود مختار نہ بن سکے ،آزادی توحاصل کر لی مگر اصولوں کی قربانی دے دی کاش گزرا وقت واپس آجائےکوئی ہم سے یہ سب لے لے اورہمیں پہلے دن کا پاکستان واپس دے دے جہاں جذبہ اور اصول تو تھے ! جس میں اتحاد اور ایمان تو تھا اور خوشحالی حاصل کرنے کی اور ترقی کرنے کی امید اور لگن تو تھی۔

(Visited 643 times, 1 visits today)

Shafiq ur Rehman Bajwa is a documentary producer and a freelance writer. He is associated with an England based private channel. His areas of interests are social and general issues.

Leave a Reply

Got It!

اس ویب سائٹ کا مواد بول پلاٹون کی آفیشل رائے کی عکاسی نہیں کرتا. مضامین میں ظاہر معلومات اور خیالات کی ذمہ داری مکمل طور پر اس کے مصنف کی ہے